قال محمد الغزالي : انا لا اخشى على الانسان الذي يفكر وان ضل لانه سيعود الي الحق ، ولكن اخشى على الانسان الذي لا يفكر وان اهتدى لانه سيكون كالقشه في مهب الريح ۔ مجھے سوچنے سمجھنے والے گمراہ انسان← مزید پڑھیے
سال پہلے کے لفظ بوسیدہ ہو گئے ہیں اور معانی نے اپنا رستہ بدل لیا ہے۔۔۔ وہ لفظ تراشتا تھا اور معانی کا انبار اس کی ہئیت بےمزہ کر دیتا تھا۔پھر اس نے معانی تراشنے شروع کئے۔۔۔لفظ قطار در قطار← مزید پڑھیے
چچا موچی کو اسلام آباد دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ کئی مرتبہ اسے مشکل سے روکا ۔ اس دفعہ عین روانگی کے وقت ، گاڑی میں آ بیٹھا میں بھی انکار نہیں کرسکا۔ اسلام آباد وہ دیر تک سویا رہا۔← مزید پڑھیے
اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر ( میں یہ اندازہ لگا سکا ہوں کہ وہ ویانا یونیورسٹی میں پڑھتا ہوگا، لیکن یہ صرف اندازہ ہی ہے) ایک طالبعلم نے مجھے بتایا کہ اس نے سگمنڈ فرائیڈ کی ایک ایسی← مزید پڑھیے
مجھے تو ان لوگوں سے بات کرنی ہے جو پنجاب کی تقسیم کے مخالف ہیں مانا کہ یہ غلط ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیئے مگر دوستو آپ لوگ ان لوگوں کی بات سنو اور یہ تو کہو کہ ہم← مزید پڑھیے
سڑک کے اطراف سفیدے کے درخت بہت بھلے لگ رھے تھے۔آج کافی عرصے بعد اسے سورج کی ہلکی ہلکی دھوپ اچھی لگ رہی تھی۔جب وہ نسبتا گنجان گلی میں داخل ھوا تو ھوٹل کے باہر بیٹھے فقیر، سکول جاتے بچے،← مزید پڑھیے
۲۳ مارچ کے موقع پر یونیورسٹی میں ایک بہت بارونق محفلِ کا اہتمام کیا گیا۔ ایک شخص کو سٹیج پر بلایا گیا، بتایا گیا وہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کے موقع پہ وہاں موجود تھا۔ اس کی سرخ ہوتی آنکھیں بتا← مزید پڑھیے
کمرے کے وسط میں پڑی میز پر ایک گلدان، کیلنڈر اور ایش ٹرے پڑی ہے۔ دروازے کے دائیں جانب پلنگ ہے جس کے اوپر کھڑکی ہے۔۔ دروازے کے سامنے ایک صوفہ ہے جس پر پرانے میگزین بکھرے پڑے ہیں۔صوفے کے← مزید پڑھیے
پاکستانی جس علاقے میں ہے اس کی غالب شناخت گندھارا تہذیب ہے۔ اگر ہم اس شناخت کو اپنا لیں تو افغانستان اور وسط ایشیا سے ہمارے تعلق کو ازسر نو دریافت کیا جا سکتا ہے، ان دانشوروں میں پروفیسر دانی← مزید پڑھیے
اس کہانی کا ہیرو ہر وہ شخص ہے جو اسے پڑھتا ہے۔۔ اس کا آغاز وہاں سے ہو گا جہاں آپ سمجھیں اس کا اختتام ہے۔ ایک دن اس نے اپنے کمرے میں ماچس کی ایک ڈبیہ دیکھی، جس کے← مزید پڑھیے
ایک نوجوان، ۔سینہ چوڑا، دل کشادہ نیک چلن ،سادہ، پست کم اور لمبا زیادہ، گورا بدن، شیریں دہن، سلکی بال، آسودہ حال لازوال، باکمال، بلند خیال، حسن کا دلداہ، شادی پر آمادہ ذات پات سے انکاری، اپنی سواری، اعلیٰ خاندان،← مزید پڑھیے
روشن خیال تعبیر والے دوستوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مذہب کو ریاست کی طاقت کے بغیر سماج میں رواج دینے کی ضرورت ہے یہ سماجی اقدار اور تزکیہ نفس کے علاوہ انفرادی اور اجتماعی اخلاقیات کی تشکیل کرنے← مزید پڑھیے
وہ گڈریا ہے۔۔۔میں ادیب! میں کتابوں کی دنیا سے اکتا جاتا ہوں جب اسکی دنیا دیکھتا ہوں۔بکریاں ہانکتا بے نیاز، پرسکون چرواہا۔۔ میں اس کی آنکھوں میں رشک دیکھتا ہوں۔۔۔مجھ جیسا بننے کا شوق گڈریے کی آنکھ میں زندہ ہے← مزید پڑھیے
ہمیں لفظ خوشامد کی سمجھ اس وقت تک نہیں آئی جب تک کہ ہم نے اپنی نصابی کتاب میں سرسید احمد خان کا مضون ” کتے”نہیں پڑھ لیا۔اس مضمون میں خوشامد،اس کی اقسام اور اس کے مضمرات پر کچھ اس انداز← مزید پڑھیے
آپ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور میز پر ماچس کی ایک ڈبی پڑی ہوئی دیکھتے ہیں. آپ سگریٹ نہیں پیتے اور آپ لکھاری بھی نہیں کہ گوگول کی طرح اپنی تحریروں کو جلاتے پھریں. آپ کے کسی دوست← مزید پڑھیے
یہ کہانی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ ایک رومانوی کہانی ہے. ایک لائبریری کے اندر ایک ناول کو تاریخ کی ایک کتاب سے پیار ہو گیا. وہ اس خاندان کی دیگر کتابوں کو بھی جانتا تھا اور یہ کافی← مزید پڑھیے
اس کہانی کی ابتداء اور اختتام فطری سا ہے۔۔ اس کے کردار روایتی ہیں۔ اس کا راوی ایک موڑ ہے۔۔ میں وہی موڑ ہوں، اگر آئیو آنڈرچ زندہ ہوتے تو شاید میرا محل وقوع زیادہ اچھا بیان کر سکتے۔۔ دو← مزید پڑھیے
وہ ایک سرکاری ہسپتال میں دل کے شعبے کا انچارج تھا ۔ اسے رات اچانک ہی دل کی تکلیف محسوس ہوئی تھی گھر والے اسے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے کر آئے تھے ۔ جونیئر ڈاکٹرز نے اسکی← مزید پڑھیے
صاحب اٹلی سے آنے والے مہنگے تحفے رے بین عینک کا ذکر ہر میٹنگ میں کر رہے تھے۔ عینک کے آنے سے پہلے ہی اس نے چوری کا مکمل منصوبہ بنا لیا تھا ۔ آج صاحب ایک نئی عینک لگا← مزید پڑھیے
بورخیس نے کہا اپنا مقابلہ اپنے بڑوں سے کرو. ڈرامہ میں شیکسپئیر اور برنارڈ شا سے، ناول میں ٹالسٹائی اور ڈکنز سے، افسانے میں او ہنری اور موپاساں سے. میں نے تین دن پہلے" ایک متوازی سی زندگی" نام کی← مزید پڑھیے