گندھارا شناخت

پاکستانی جس علاقے میں ہے اس کی غالب شناخت گندھارا تہذیب ہے۔ اگر ہم اس شناخت کو اپنا لیں تو افغانستان اور وسط ایشیا سے ہمارے تعلق کو ازسر نو دریافت کیا جا سکتا ہے، ان دانشوروں میں پروفیسر دانی جیسے معتبر محقق شامل رہے ہیں۔ یہ لوگ کئی تہ در تہ باتیں کرتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت بھی اسی کا تسلسل ہے، میں اس بات کی وکالت نہیں کرتا کہ ہم اسلام آباد کو نیو ٹیسکسلا کا نام دیں یا پاکستان کا نام یونائیٹڈ اسٹیٹس آف گندھارا تجویز کریں اورنہ ہی اس تاریخ کا تجزیہ کرنے کے حق میں ہوں کہ فورٹ ولیم کالج ایک سامراجی اور استبدادی مقصد کے لئے بنا تھا یعنی برصغیر کے مسلمانوں کا تعلق وسط ایشیا خصوصا ازبک، تاجک ماضی سے ختم کرنا۔ اسی لئے اس میں یوپی میں مسلمانوں کی برج بھاشا کو فروغ دے کر اردو کی موجودہ شکل میں تیار کیا گیا جو مسلمانوں کی تمدنی اور تہزیبی زبان تاجک اور ازبک طرز کی فارسی کو ختم کر دے تاکہ یہ تہذیبی تعلق ختم کیا جائے۔ اور نہ ہی اس موقف کے حق میں دلیل دیتا ہوں کہ آزادی کے بعد تو ضروری تھا کہ ہم اس سامراجی ورثے سے جان چھڑا لیتے کہ فارسی نہ صرف ہمارے لئے ایک غیر جانبدار زبان تھی بلکہ اقبال غالب سمیت ہمارے خطے کے شاعروں نے اس زبان کو اپنا میڈیم بنایا تھا اور یہ ہمیں اپنے خطے کے لوگون سے جوڑتی تھی۔ مگر ہم نے اس زبان کو جاری رکھا جو کہ ہمیں اپنے نوزائیدہ دشمن سے جوڑتی تھی۔ اور جس نے ہمارے ملک میں لسانی اور تہذیبی اختلاف کی بنیاد ڈالی۔ اگر ہم فارسی کو جاری رکھ لیتے تو ہم اپنے مشاہیر اقبال وغیرہ کو بھی اسی شدت سے نہ صرف اپناتے بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی پیش کرتے۔ اور اس طرح ایک مضبوط ثقافتی اور لسانی بندھن میں بندھ جاتے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان باتوں سے انتشار بڑھے گا اس لئے ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیئے تاہم میں اس بات کے حق میں ضرور ہوں کہ ہم اپنی گندھارا شناخت پر فخر کریں اور اس کو فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں ہمیں اپنے بدھ مت کے ماضی پر فخر ہونا چاہیئے کہ اسلام سے پہلے بھی یہ خطہ ایک اعلی مذہب کا پیروکار تھا۔ جیسے اسلام اور قرآن میں موسی اور یہودیت کی تعریف کی گئی ہے اسی روایت اور جذبے کے تحت ہمیں مہاتما بدھ کی سچائی اور بدھ مت کے ماضی پر فخر کو اپنانا چاہیئے۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *