ہم ، احساس برتری بمقابلہ ہم اور احساس کمتری

کب ہم اپنے مسلمان ہونے کے احساس برتری اور اسلام کے ظاہر وباطن کے احساس کمتری سے نکلیں گے؟ معلوم نہیں!
لیکن ہم شائد اس یہودی سے پرے ہیں جو ڈٹ کے سبت کو روزہ رکھتا ہے۔۔۔
اور اس پر کمتری نہیں محسوس کرتا!
داڑھی رکھتا ہے اور موسی علیہ السلام کی سنت میں رکھتا ہے اور پھر بھی ساری دنیا کی معاشیات کو کنٹرول کرکے غائبانہ حکومت کرتا ہے۔ اور اپنےخلاف بننے والے لطائف سے تنگ نہیں پڑتا۔
جبکہ ہماری بحث ابھی اسلامی حلیے سے باہر نہیں آتی۔
حتی کہ داڑھی رکھنے والا یقنینا سوچتا ہے کہ غلطی کی داڑھی رکھ لی۔
یہ کلام کل بھی صادق تھا اب بھی ہے ؎
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو
حق را بسجودے ، صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھا دو
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

کیا کیا جائے؟
کوئی سکھانے والا ہی نہیں
اور سیکھنے والا بھی نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *