تاریخی دن

SHOPPING
SHOPPING

تاریخی دن
طاہر یاسین طاہر
قصیدہ خواں ہوش و خرد کھو بیٹھے ہیں۔مفادات بڑی ظالم شے کا نام ہے۔ جس شخص کے مفادات جس” ان داتا “سے جڑے ہوئے ہیں ،وہی اس کے لیے “غوث ِ زماں” ہے۔مسلم لیگ نون کے سارے خیر خواہ اس بات پہ زور دیتے رہے کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے احتساب نہیں کیا جا رہا بلکہ ان سے انتقام لیا جا رہا ہے۔اب وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی کو جس طرح،یہ کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم، ان کا خاندان اور ساری مسلم لیگ نون ،قانون اور اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ یہ بجائے خود ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔
تاریخ کی کسی سے رشتے داری تو ہوتی نہیں، ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسی مسلم لیگ نون نےسپریم کورٹ پہ صرف اس لیے حملہ کر دیا تھا کہ وہاں وزیر اعظم کو بلایا گیا تھا؟ کیوں؟ کرپشن۔۔۔آج اگر وزیر اعظم صاحب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو انھیں پی ٹی آئی سے زیادہ ان کا اپنا خاندان اور ان کی اپنی ہوس زر یہاں تک لائی ہے۔سوال بنتا ہے کہ آج کے دن کو تاریخی دن کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟یہی کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی میں بغیر پروٹوکول کے پیش ہوئے اور وہاں انھیں گھنٹوں تحقیقات کے عمل سے گذرنا پڑا؟کیا سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا سپریم کورٹ میں پیش ہونا بھی تاریخی عمل تھا؟سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کا سپریم کورٹ میں پیش ہونا بھی کوئی تاریخی عمل تھا؟اس پہ بحث ضرورو ہونی چاہیے۔آخر الذکر وزرائے اعظم خود پہ لگے الزامات کے بجائے صدر مملکت کے دفاع میں پیش ہوتے رہے، جبکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب خود پہ اور اپنے خاندان پہ لگے کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ بات کیسے باعث ِ فخر ہو سکتی ہے کہ میاں خاندان جب سے سیاست میں آیا اس پہ کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کا تسلسل ہے۔صاحب جانے دیجیے۔۔ آج کا دن نہ تو جمہوریت کے لیے یادگار ہے نہ ہی جمہوری اداروں کے لیے۔نہ ہی تاریخی ہے۔ بس آج کا دن بھی ایک عام سا دن۔
ہر روز ملزمان عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، آج بھی وہی ہوا۔ بس جے آئی ٹی میں ایک “حاضر سروس” وزیر اعظم پیش ہوئے۔کیوں؟اصل میں یہ بات “تاریخی” ہے۔ورنہ آج کا دن عام سا دن، گرم دن اور ہمارے سماجی رویوں کی کج فہمی پہ نوحہ کناں دن ہے۔ آج کا دن اداروں کی بالادستی کے اعلان کا دن نہیں، بلکہ معاشرے میں حق پرستی کی کمیاب روایت کی ماتم کا دن ہے۔

SHOPPING

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *