کمسنی کی سب یادیں ذہین سے محو ہونے ہونے کے باوجود 1915 میں پندھارپور پیدا ہونے والے مقبول فدا حسین کو اپنا جنم دن کئی حوالوں سے بلاواسطہ طور پر ساری زندگی یاد رہا۔حسین صاحب کچھ ماہ کم ایک سال← مزید پڑھیے
تاریخی کتب ان باتوں یا واقعات سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں سیاست داں نے فلاں جنگ میں کیا رول ادا کیا، کیا اُس کی کوششوں سے جنگ رُک گئی اور کیا مزید جانیں تلف ہونے سے بچ گئیں، کس← مزید پڑھیے
سُون ضلع کونسل رہاڑہ (آزادجموں کشمیر) میں ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہا ں آج بھی گاڑی کی سانس پھول جاتی ہے، اس کی چُولیں ہل جاتی ہیں اور گوڈے آواز دینا شروع کر دیتے ہیں۔سواروں کی پسلیاں ایک دوسری← مزید پڑھیے
‘مظہر الاسلام’ کے قاری ایک خاص کیفیت سے خوب واقف ہیں جو اس نام اور قلم کے ساتھ جُڑی ہے۔ آپ نے پہلی کہانی سترہ سال کی عمر میں لکھی۔ وہ کون ہیں؟ انھیں پڑھنے والے اکثر اس تلاش میں← مزید پڑھیے
ہم سب نے بچپن میں ’’بھیڑیا آیا ،بھیڑیاآیا‘‘ کی کہانی سنی یا پڑھی ہے۔بعض جگہ بھیڑیے کی جگہ شیرہے۔ اسے ایک اخلاقی کہانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ ایک اخلاقی سبق کے علاوہ بھی بہت کچھ← مزید پڑھیے
جب بمباری سے آسمان پھٹ گیا جب زمین نے زندہ انسانوں کو نگل لیا جب پناہ گاہوں کے مکیں آگ کی نذر ہو گئے جب شہروں کو ملبہ بنا دیا گیا جب بستیوں کو نیست و نابود کر دیا گیا← مزید پڑھیے
رات کے 12 بج کر 45 منٹ ہوچکے تھے۔ اکتوبر کی 24 تاریخ ہوئے پورے 45 منٹ گزر گئے تھے ۔ میرے موبائل پر تہنیتی ایس ایم ایس ، وٹس ایپ میسجز ، وائس میسجز کا ایک سیلاب امنڈ آیا← مزید پڑھیے
محسن نقوی کی غزل کا یہ مصرع “میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں” میرے آج کے کالم کا عنوان ہے، یہ زیر تبصرہ غزل محسن نقوی کی ایک ایسی تخلیقی اور جذباتی پیشکش ہے جس میں شاعر← مزید پڑھیے
ملتان کی مٹی ہمیشہ سے کہانیوں اور رازوں کا بوجھ اٹھاتی آئی تھی۔ یہ وہ شہر تھا جہاں لفظوں کا دیوتا صدیوں سے اپنی کہانیاں لکھتا آیا تھا، جہاں عشق اور غم کی داستانیں گلیوں میں سرگوشیوں کی صورت بکھرتی← مزید پڑھیے
کتاب: پیلی بارش / مصنف: خولیو لیامازاریس مترجم: اجمل کمال تنہائی کی کئی شکلیں ہوتی ہیں؛ گہری، دھندلی، اور کاٹ دار۔ آدمی کا تنہائی سے کسی بھی جگہ سامنا ہو سکتا ہے؛ اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کرتے ہوئے، کسی← مزید پڑھیے
ڈولی چڑھن میری مجبوری ہا،پر اوکھے ذہن توں لہسو۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں کسی کام میں ہاتھ ڈالوں اور وہ سُکھ شانتی سے ہو جائے۔لندن سے پرواز بھرنے سے پہلے بھی قریب ڈیڑھ گھنٹے کا ڈرامہ ہوا← مزید پڑھیے
20دسمبر 1971کو سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ریڈیو اورٹیلی ویژن پراپنی پہلی تقریر میں اعلان کیا کہ انھوں نےپاکستانی فوج کے نصف درجن سے زائد ’موٹے اور← مزید پڑھیے
انگریزی ناول نگار ہربرٹ جے ویلز نے اس کو پہلی مرتبہ 1936 میں پبلش کیا گیا تھا اور آج بھی یہ پبلش ہورہا ہے۔ اس کہانی میں مصنف ہمیں ایک عجیب و غریب بیماری کے بارے میں بتاتا ہے۔ برف← مزید پڑھیے
سفر طویل ہو اور راستے میں گاڑی جُل دے جائے تو بھلا اس سے بڑی کلفت اور کیا ہو گی؟ ڈرائیور نے تپتے بونٹ کو دقتوں سے کھولا تو پتہ چلا کہ ریڈی ایٹر میں پانی ندارد اور گاڑی کی← مزید پڑھیے
میں نے جب ایم اے فلاسفی میں وائی وا دینے کی بجائے تحقیقی مقالہ لکھنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے شیخ ابن عربی کو چنا تو میرے استاد سعید عالم مرحوم نے مجھے مشورہ دیا کہ میں عربی← مزید پڑھیے
کوریائی مصنفہ ہان کانگ کے ناول “دا ویجیٹیرین ” کا انگریزی ترجمہ 2016ء میں ڈیبورا اسمتھ نے کیا تھا ، اور یوں انگریزی خواں طبقہ پہلی بار ہان کانگ سے واقف ہوا، ڈیبورا اسمتھ نے یہ ترجمہ ہان کانگ کی← مزید پڑھیے
میری آماجگاہ مانند شہر خموشاں دکھوں کی چادر سے سجی مسہری، آنسوؤں سے لبریز تکیہ تار عنکبوت کے ہالے جیسے چہار سو حزن آکاس بیل نما در و دیوار سے لپٹا۔ مزار نما خانقاہ میں بوقت تہجد مسجود گڑگڑاتے ہوئے← مزید پڑھیے
ہاسٹل کے کمرے سے خوش گپیوں اور قہقہوں کی گونج ساتھ والے کمروں سے دو تین لڑکیوں کو اس کے کمرے میں آنے پر مجبور کر چکی تھی۔ یہ اس کا پہلا دن تھا جب وہ اپنے گاؤں سے باہر← مزید پڑھیے
مظفر آباد سے پیر چناسی کا پُر سکون سفر شروع ہوا تو ایک بات سمجھ آئی کہ چھوٹا سا سہارا بھی انسان کو بڑا حوصلہ دیتا ہے ، عام طور پر پہاڑی راستوں کے دو جانب کا منظر یہی ہوتا← مزید پڑھیے
اپنے کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا،جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی: ”لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔“ ریتا← مزید پڑھیے