ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 177 )

کاوہ آہن گر (نظم)۔۔۔۔۔۔ مشتاق علی شان

ایک ضحاک کے کاندھوں پر بیٹھے ہیں دو اجگر جانے کب سے چاٹ رہے ہیں ذہنوں کا جوہر اس بستی میں کب اترے گا کاوہ آہن گر “باغی” ہیں بازار کی زینت بیچ چکے لشکر شاعر کے سب شبد بکاؤ←  مزید پڑھیے

افسانہ (ف)۔۔۔۔۔ شکیل احمد چوہان

’’ف سے فرض۔۔۔ ف سے فائدہ۔۔۔ ف سے فلک۔۔۔ ف سے فیصلہ۔۔۔جی ہاں۔۔۔! فیصلہ غلط اور  صحیح  کا۔۔۔ اچھائی اور برائی کا۔۔۔ حیا اور بے حیائی کا۔‘‘ فاطمہ لغاری نے اپنی چادر اتارتے ہوئے کہا، پسینے کی وجہ سے اُس←  مزید پڑھیے

گناہ ٹیکس ۔۔۔ مہر ساجد شاد

آج خوشی ہوئی کہ گناہ بخشوانے کی ذمہ داری اب پادری اور مولوی صاحب کے ساتھ حکومت نے بھی اٹھا لی ہے۔ ابتدائی طور ہر تمباکو نوشی کا گناہ معاف کرانے کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔ آپ بس گناہ ٹیکس ادا کریں اور مزے سے دھویں کے مرغوبے ہوا میں اڑائیں۔←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 10۔۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

“آپ بہت عجیب گفتگو کرتے ہیں بائی  دا وے” “مطلب کیسے” “مجھے لگتا ہے کہ آپ کے آرگومنٹس بہت چھوٹے اور عجیب طرح کے ہوتے ہیں” “چلیں کوئی مثال ہی دے دیں حضور” “مثال کیا دوں سب کچھ آپ کے←  مزید پڑھیے

ایک جھوٹ اور سہی۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری عبدالمنان

کتنا میٹھا لہجہ تھا اُسکا ۔۔ بالکل شہد کے جیسا اور بالکل ویسا جو کانوں میں رس گھول دے ۔۔ پھر میں اُسکی باتیں سُنتے سُنتے محو سا ہوجاتا تھا ۔۔ دُنیا و مافیہا سے بے خبر ۔۔ حالانکہ مُجھے←  مزید پڑھیے

سائینس اور مذہب: کیا ضد ضروری ہے؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ذاتی حیثیت میں کم سے کم میں سائینس اور مذہب کو ٹکراؤ میں نہیں پاتا۔ سائینس جستجو کا نام ہے۔ مذہب ایمان باالغیب کا۔ جستجو کا حکم مذہب کی طرف سے دیا گیا ہے جبکہ جستجو بذات خود یقین کی جانب سفر کی تحریک ہے۔ آج ہم سائینس کے دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم علم کامل کے حامل نہیں لیکن اس کے حصول میں لگے رہیں گے تاکہ ہر نئے علم کو بنی نوع انسان کی خدمت میں استعمال کیا جاسکے۔←  مزید پڑھیے

درویشوں کا ڈیرہ -خواب نامے۔۔۔ تبصرہ:روبینہ یاسمین

کتاب پڑھنے کا صحیح لطف ایک نشست میں پڑھنے میں ہی آتا ہے .یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ ہی کتابیں پڑھنے والے کو اپنے آپ سے ایسا جوڑتی ہیں کہ کتاب مکمل پڑھنے کے بعد ایک اداسی سی ہوتی←  مزید پڑھیے

نامرد۔۔۔۔۔ حسن کرتار

ہاں بھئ تو سناؤ پھر آج اتنے عرصے بعد میں کیسے یاد آیا یار کاروبار سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایک پاؤں ادھر کبھی ایک پاؤں اودھر۔ پر آج میں تمہارے پاس پارٹی کا موڈ بنا کر آیا ہوں۔ کیسی←  مزید پڑھیے

محبت کی چوتھی کہانی۔۔۔۔۔مریم مجید ڈار

میں  صبح جب ایک بے خواب نیند سے بیدار ہوئی تو فضا میں کچھ انوکھا پن تھا۔ ہوا بوجھل تھی اور دور پہاڑوں پر سنہرے ہوتے گھاس اور زرد، سرخ،  آتشیں خزاں رسیدہ پیڑوں کے باعث منظر ایک ایسی پینٹنگ←  مزید پڑھیے

برہمچاری۔۔۔۔ دیوندر ستیارتھی /افسانہ

پنج ترنی کی وہ رات مجھے کبھی نہ بھولے گی، نہ پہلے کسی پڑاؤ پر سورج کماری نے اِتنا سنگار کیا تھا، نہ پہلے وہ گیس کا لیمپ جلایا گیا تھا۔ اس روشنی میں سورج کماری کا عروسی لباس کتنا←  مزید پڑھیے

فرعون کے دوبدو: حصہ چہارم ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

قدیم مصری تاریخ سےباقی دنیا کو غرض ہوگی لیکن ہم پاکستانی عوام جس سحر میں صدیوں سے مبتلا ہیں وہ حسن مصر ہے۔ مصر میں اترتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اگر یورپ نہیں تو اسلامی یورپ ضرور ہے جہاں سر ڈھانپ کر باقی اثاثہ جات سے لاتعلق ہوجانا یہاں کی خواتین کا سٹائیل ہے۔←  مزید پڑھیے

ایک جائزہ کتاب لبِ گویا کا۔۔۔عامر کاکازئی

دو سال پہلے اتفاق سے سوشل میڈیا پر ایک کتاب “زمین” پر نظر پڑی۔ جب پتہ چلا کہ یہ تو رئیل سٹیٹ اور اس سے منسلک بزنس کے اوپر  لکھی گئی  کتاب ہے تو تجسس پیدا ہوا کہ کس نے←  مزید پڑھیے

توہین۔۔۔۔۔مظفر عباس نقوی

عشرہ توہین زبانیں توہین زدہ قرار دے کر کھینچ لی گئیں آنکھیں کاروکاری کی نظر ہو چکیں کان غیرت کے نام پر کاٹ لیے گئے ہونٹ حکم عدولی کے سبب سی دیے گئے مدد کو بڑھتے ہاتھ ہتھکڑیوں میں جکڑے←  مزید پڑھیے

عوامی احتجاج۔۔۔۔خالد سہیل

اب عوام تنگ آ کر ظلمتوں سے گھبرا کر آ گئے ہیں سڑکوں پر لے کے شمعیں ہاتھوں میں اپنے اپنے خوابوں کی لے کے آس آنکھوں میں اپنی اپنی صبحوں کی خوش گماں بہت خوش ہیں بد گماں ڈراتے←  مزید پڑھیے

بوتل بھریا دل ۔۔۔۔۔۔کرشن چندر

(ایہہ شبد چتر منٹو دی موت دی خبر سن کے کرشن چندر نے لکھیا سی ) اک انوکھی گھٹنا واپری ہے-منٹو مر گیا ہے۔ انج تاں اوہ اک عرصے دا مر رہا سی-کدی سنیاں، اوہ پاگلخانے وچ ہے ؛ کدی←  مزید پڑھیے

انکشاف۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

  انکشاف کا لمحہ اک حسین لمحہ تھا بادلوں کے پیچھے سے جیسے چاند ا بھرا تھا خامشی کے آنگن میں جیسے شعر اترا تھا ٍٍٍ انکشاف کا لمحہ اک حسین لمحہ تھا اور وہ حسیں لمحہ ڈھل گیا ہے←  مزید پڑھیے

نعتِ در بارگاہِ رحمت للعالمین از طرفِ احقرالعباد۔۔۔۔۔۔ محمد علی جعفری

منقبت ایک ہے، مدحِ شہِ  صفدر   ہوجائے، پاک محفل ہے ذرا نعرہِ حیدر ہوجائے ہم ثنا خوانِ ہیں ،ذکرِ شہ  ِداور ہوجائے آؤ جبریل ذرا نعتِ پیمبر ہوجائے والضحی ضو ہے تمہاری تو غنی وصف تیرا، مالکِ کُل کے←  مزید پڑھیے

قرة العین طاہرہ۔۔۔۔۔ شبیر سومرو

وہ انیسویں صدی کے وسط کی ایسی مثالی شاعرہ، مبلغہ اور عالمہ تھیں جن کے حسن، تخلیقی عشقیہ، شاعری، مذہب کے مختلف موضوعات پر عملی مہارت اور عورتوں کی آزادی کے حوالے سے عملی جدوجہد کے باعث انہیں آج بھی←  مزید پڑھیے

مذہب، سائینس اور صوفی ۔۔۔ معاذ بن محمود

گویا مذہب اور سائینس دونوں well defined اور standard set of rules ہیں جو اریٹیریا سے ہانگ کانگ تک، روم سے مکہ تک تمام مقامات پر یکساں رہتے ہیں۔ پانی کا فارمولا ہر جگہ H2O ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں میں وائے کروموسوم جنس کا تعین کرتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 9۔۔۔فاروق بلوچ

مجھے تین سال سے مفت کھانے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ اب تردد کرنے کو جی نہیں چاہ رہا. وزیر وہ بھی سینئر وزیر کے ساتھ رہتے ہوئے اتنا کما لیتا ہوں کہ گھر کا خرچ کھلے ہاتھ سے←  مزید پڑھیے