مذہب، سائینس اور صوفی ۔۔۔ معاذ بن محمود

 

دین کا معاملہ سیدھا ہے۔ ایک مخصوص فریم ورک ہے جس کے تحت زندگی بھر کے معاملات کو گزارنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ بنیاد ایمانیات پر ہے جن پر دل سے یقین رکھنا لازمی ہے اور پھر کئی قوانین یا احکامات عملی زندگی میں جن پر عمل درکار رہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر یوں ہو تو ایسا کرنا ہے یوں نہ ہو تو ویسا کرنا ہے قسم کے کئی قوانین مل کر مذہب کی تشکیل دیتے ہیں۔ ہم دین اسلام کی بات کریں تو اس فریم ورک کا بنیادی ڈھانچہ خاص کر ایمانیات قریب قریب تمام مسالک کے یہاں ایک جیسا ہے تاہم عملی احکامات میں کہیں کہیں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مختلف مسالک کی جانب سے وضع کردہ طور طریقے مخصوص ہیں۔ مثلاً دیوبندی طبقہ فکر کے تمام پیروکار تقریباً ایک ہی فکر رکھتے ہیں جبکہ تمام بریلوی ایک اور سوچ پر متفق ہیں۔ یاد رہے کہ مذہب میں ایمانیات والی بنیاد اہم ترین ہے۔ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ آپ نے یہ ماننا ہے اور دل سے ماننا ہے۔ صرف اسی صورت میں آپ مذہب اسلام کے ایمانِ وحدانیت خداوندی کا اقرار کرنے والے مانیں جائیں گے۔ نہ ماننے کی یا شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ دیگر ایمانیات جیسے ختم نبوت وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔

پھر آتی ہے سائینس۔ سائینس کی اساس اس اقرار پر کھڑی ہے کہ ہم ہر بات نہیں جانتے۔ جو ہم نہیں جانتے وہ ہم نے جاننا ہے۔ جو معلومات ہم جانتے ہیں انہیں ثابت کرنا ہے اور جو ثابت ہوجائے اس کے رد میں ثبوت ڈھونڈتے رہنا ہے تاکہ غلط ثابت ہونے پر نیا علم مل جائے۔ بنیادی طور پر سائینس بھی ایک واضح معلومات کا مجموعہ ہے جو اتنی آسانی سے بدلتی نہیں، کافی حد تک واضح ہے اور ہزاروں لاکھوں تجربات کی بنیاد پر ثابت ہے۔ مذہب کی طرح سائینس کے بیشتر اصول بھی طے شدہ ہیں تاہم مذہب کے برخلاف کئی مقامات پر ثابت شدہ ہیں۔

گویا مذہب اور سائینس دونوں well defined اور standard set of rules ہیں جو اریٹیریا سے ہانگ کانگ تک، روم سے مکہ تک تمام مقامات پر یکساں رہتے ہیں۔ پانی کا فارمولا ہر جگہ H2O ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں میں وائے کروموسوم جنس کا تعین کرتا ہے۔ عیسائیت جہاں بھی ہوگی یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا تسلیم کرنے کی تعلیم دے گی۔ اسلام جہاں بھی ہوگا خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت اور محمد عربی علیہ السلام کے خاتم النبییین ہونے کی تعلیم دے گا۔

تصوف کا معاملہ کچھ الگ ہے۔ صوفی کے لیے قرب الہی کا طریقہ کوئی سٹینڈرڈ نہیں ہوا کرتا۔ مذہب کے فریم ورک میں صوفی ازم کی کوئی واضح جگہ متعین نہیں۔ تصوف میں مروجہ کئی افکار کے تحت معرفت اوپر والے کے انتخاب پر منحصر ہوتی ہے۔ یعنی عبادات، حقوق العباد، گوشہ نشینی جو چاہیں اختیار کر لیں، کوئی مخصوص طریقہ کار گارنٹی نہیں دیتا کہ آپ کو صوفی بنا سکے گا۔ پھر صوفی کے صوفی ہونے کو بھی کوئی لٹمس ٹیسٹ نہیں۔ آج تک بلھے شاہ کو صوفی سمجھتے آئے، پھر ایک ایسی نسل دیکھی جو بابا جی کو بھی صوفی ماننے سے انکاری ہے۔

مذہب جن ایمانیات پر کھڑا ہوتا ہے وہ تمام کی تمام خدا کی ذات سے منسلک ہوتے ہیں، یا ماضی میں ہوئے واقعات پر یا پھر مستقبل کی پیشگوئیوں پر۔ جیسے خدا ایک ہے یہ خدا کی ذات سے متعلق ایک ایمان ہے۔ کائنات کی تخلیق میں سات دن اور سات راتیں لگیں یہ ماضی کا ایک قصہ ہے۔ قیامت آئے گی یہ مستقبل کی پیشینگوئی ہے۔ تمام ما بعد از طبیعات خدا کی ذات سے وابستہ ہیں۔ موجودہ انسان کے پاس کسی قسم کی سپر پاورز مذہب ماننے سے انکاری ہے۔ اس کی نسبت تصوف صوفی کے ایسے تجربات کو زیربحث لاتا ہے جو حاضر وقت میں وقوع پذیر ہورہے ہوں اور جن کا محض دعوی ہی کیا جا سکے، ثبوت کوئی نہ ہو۔ طاہر القادر صاحب جانے کتنا عرصہ عالم رویا میں ابو حنیفہ کی شاگردی میں رہے ہیں۔ یہ دعوی مذہب اور سائینس دونوں کے وضع کیے گئے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہی معاملہ منصور حلاج کے واقعے کے بارے میں بھی ہے۔

ایسے میں تصوف کو ذاتی تجربات پر مبنی ایک علم یا ولایت کو اللہ رب العزت کی جانب سے منتخب کردہ ایک انعام تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن اسے کسی صورت اس درجے کا سٹینڈرڈ نہیں بنایا جا سکتا کہ جسے ثابت کرنے کے لیے انسان اپنی انا کو بیچ میں لے آئے۔ خدا موجود ہے اور وہ یکتا ہے۔ یہ ایمان ہے۔ سیدھا سادہ ایمان۔ کوئی سائینسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ صوفی کی کیا اہلیت ہوتی ہے اور کیا نہیں یہ ایک پچیدہ اور نان سٹینڈرڈ سوال ہے۔

پھر کسی کو تصوف کا تصور دنیا کو باور کرانے کے لیے سائینس کی ٹانگ توڑنے کی کیا ضرورت؟ اور اگر توڑ بھی رہے ہیں تو کم سے کم اتنا ظرف ضرور رکھنا چاہئے کہ اپنی پیش کردہ کسی تھیوری پر اختلاف سن سکیں خاص کر جب اس میں سنجیدہ قسم کے سقم کی نشاندہی کی جائے۔ صوفی عاجز اور منکسر المزاج طبیعت کا مالک ہوتا کے ناکہ تارا مسیح کا ہارڈ وئیر رکھتے ہوئے رنجیت سنگھ والے سافٹوئیر کا حامل۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے تصوف میں کوئی سنگ میل حاصل کر لیا تو بھیا کم سے کم اپنے قریب ترین دوستوں سے صلاح مشورہ کر لیں۔ اگر کوئی سائینسی حوالہ دینا ہے تو کسی سائینسدان یا انجینئر سے ایک بار اپنے سائینسی حوالہ جات کی بابت بات تو کیجئے۔ آپ خود کو ماہر تصوف سمجھتے ہیں یہاں تک آپ کا استحقاق ہے، تاہم آپ تصوف پر مبنی نظریے کی مشہوری کے لیے سائینس کے کان مروڑیں گے تو تنقید تو ہوگی سو ہوگی، تصوف کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔

اصل صوفی ہمیشہ low profile میں رہ کر اپنا تصوف جاری رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ولی اللہ آج بھی دنیا میں نادر ہیں۔ عجز و انکساری صوفی کا خاصہ ہوا کرتے ہیں۔ اگر آپ کا پالا زور زور سے بجتے کسی خالی برتن سے پڑا ہو جو تصوف کا دفاع کرتے ہوئے خود اپنے اس راہ پر گامزن ہونے اور مستقبل کے صوفی ہونے کے اشارے دے رہا ہو، تو سمجھ لیجیے وہ صاحب سب کچھ ہو سکتے ہیں الا صوفی۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *