تاریخ مٹانے کا خبط۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

تاریخ ایک ارتقائی عمل کا نام ہے جس کے دوران اقوام عروج و زوال کا شکارہوتی رہتی ھیں.تاریخ عالم گواہ ہے کہ تہذیبی و تمدنی عروج حاصل کرنے والی اقوام اخلاقی تباہی کے پاتال میں گریں جب کہ اندھیروں میں غرق گروہ قوم بن کر اٹھے اور نظام عالم کے رہبر بن گئے۔بابل مصرایران یونان ہندوستان ایران روم نے زمانہ قدیم میں عروج و زوال کا سفر طے کیا اور اپنے پیش روؤں کے لیے قابل تقلید اور باعث عبرت نمونے چھوڑے۔ہندوستان ہمیشہ اپنی تمام تر زرخیزی کے ساتھ کشش کا باعث رہا ہے۔اور اسکی تاریخ مذہبی روایات جغرافيائی تنوع اور طرز زندگی نے اس خطے کو ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔وادی سندھ کی قدیم تہذیب دراوڑ قبائل کے حوالے سے مشہور ہے جنہوں نے مختلف تہذیبی مدارج طے کیے لیکن وسط ایشیا سے آنے والے آریائی گروہوں کے ہاتهوں مغلوب ہوئے۔دلچسپی کی بات ہے کہ باہر سے آنے والی اقوام کو ہندوستانی تاریخ کے حوالے سے غیر ملکی اور حملہ آور تصور کیا جاتا ہے مگر جنوبی ایشیا سے متعلق محققین کا ایک طبقہ آریاؤں کو ہندوستانی تہذیب کا حقیقی وارث تصور کرتا ہے۔آریا سماج کو ابتدائی نظام زندگی اور ہندوستانی پہچان کے ساتھ نسبت دی جاتی ہے۔حقيقت تو یہ ہے کہ نہ صرف آریائی بلکہ دراوڑ بھی قدیم زمانوں میں مختلف علاقوں سے ہجرت کرتے ہوئے اس بر عظيم میں آ کر آباد ہوئے۔غیر ملکی ہونے کا طعنہ دینا اور اس فطری عمل کو تعصب کی بھینٹ چڑھانا انتہا درجے کی جہالت ہے۔بھارتی سماج اور حکومت آج اسی خبط میں مبتلا ہے اور برصغیر کی گزشتہ ہزار سالہ تاریخ سے منسلک ہر علامت کو مٹانے کے درپے ہے۔تاریخ کو از سر نو مرتب کرنے کی لگن میں معاشرے کو انتہا پسندانہ خواب دکھاۓ جا رہے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی جس نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی کوکھ سے جنم لیا،مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کی تاریخ کو بحر ہند میں غرق کرنے کی سعی لا حاصل میں جتی ہوئی ہے۔اس قدر احمقانہ طرز عمل اپنانے کے لیے جہالت بہترین ساتھی ہے جو کہ بھاجپا کے پاس واقر مقدار میں موجود ہے۔ بھاچپا اور مودی سرکار ھندوستانی تاریخ کے بدترین ڈیڑھ سو سال جو بحیثیت نوآبادی گزرے اس سے صرف نظر کرتے ہوۓ مسلمانوں کے اقتدار کی نشانیوں کے پیچھے پڑے ہیں۔مسلمانوں کی ہندوستان آمد اسلام کے ابتدائی زمانے میں ہوئی  لیکن عرب اقوام نے ہندوستان کو اپنا مستقر نہ بنایا۔ہندوستان پر حکومت کرنے والوں کی نسبت وسط ایشیا،افغانستان اور ایران سے رہا ہے۔اس دور کو حملہ آوروں سے  نسبت دینے اور نوآبادیات کی شکل قرار دینے والے یہ بھول جاتے ھیں کہ جن لوگوں نے ہندوستان پر حکومت کی،وہ اپنی اولادوں کے ساتھ اسی مٹی میں دفن ہوئے ۔مسلمانوں کا دور حکومت ہی ہندوستان کی تاریخ کا خوشحال اور پر امن دور تھا اور اس ثروت کا نمونہ ہمیں برصغیر میں موجود فن تعمیر کے شاہکاروں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ہمیں سولہویں صدی کے انگریز شاعر اور ڈرامہ نگار کرسٹوفر مارلو کےمشہور زمانہ کھیل ڈاکٹر  فاسٹس میں شاعر کے ہندوستان کی دولت و ثروت کے بارے میں خیالات سے سابقہ پڑتا ہے۔یہ مسلمانوں کا ہی دور حکومت تھا جب پوری دنیا کی دولت کا تقریباً  ایک تہائی برصغیر میں پیدا ہوتا تھا۔مسلمان بادشاہ انگریزوں کی طرح برصغیر کو تاراج کر کے کسی اور سر زمین کو سجانےاور سنوارنے والے نہیں تھے بلکہ انہوں نے اسی سرزمين کو اپنایا۔اس قدر طویل دور اقتدار کے باوجود مسلمان آج بھی برصغیر میں اقلیت اور ہندو اکثریت میں ہیں۔یہ اس مذہبی رواداری اور وطن پرستی کا ثمر تھا کہ ان کا اقتدار ایک ہزار سال تک قائم رہا۔اس کےبر عکس انگریزوں نے اپنی فوج اور سرکاری نوکروں کےذریعے اس ملک کو لوٹا اور اس سونےکی چڑیا کے بل پر نہ صرف انگلستان میں صنعتی انقلاب برپا کیا بلکہ یہ دولت دوسری اقوام کو غلام بنانے کے لیے استعمال ہوئی ۔انگریزوں کو یہ خطہ دنیا کے خوشحال ترین ملک کی صورت میں ملا اور انہوں نے اسے ایک مفلوج قحط زدہ کھنڈر کی صورت چھوڑا۔آج بھاجپا کی جنگ ہر اس شخص ہے جو سنگھ پریوار کے بیانیے اور رام راج کے تصور سے اتفاق نہیں کرتا۔بھاجپا یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہے  کہ جس آریہ سماج کا خواب وہ دیکھ رہے ہیں وہ بھی ترکوں افغانوں اور منگولوں کی طرح درہ خیبر کے راستے ہی وادی سندھ پہنچا۔مودی سرکار کی جنگ گاندھی اور نہرو کی اقدار سے بھی اسی قدر شدت سے جاری ہے۔ہندوتوا کی علمبردار ان جماعتوں کے کارکن گوڈسے کے فلسفہ عمل کے حامی اور زبردست مداح ہیں۔حال ہی میں کانگریس کے سخت گیر رہنما سردار ولبھ بھائی  پٹیل کے عظيم الشان مجسمے کا افتتاح کیا گیا ہے۔اس منصوبے کی خاطر ہزاروں کسانوں کا مستقبل داؤ  پر لگا دیا گیا ہے۔یہ منصوبہ جسکی لاگت کھربوں ہندوستانی روپیہ ہے گاندھی اور نہرو کے مرتبےکو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔کانگریس ،لبرل حلقے،اقلیتیں اور کمیونسٹ اس ساری صورتحال کو لے کر سیخ پا ہیں۔بھاجپا حکومتی سطح پر اس میدان میں تن من دھن سے مصروف عمل ہے اور سماجی سطح پر بہت بڑا طبقہ اس کا حامی ہے۔حکومتی سر پرستی میں برصغیر کی تاریخ کے گمنام کرداروں کو سامنے لا کر بھرپور نمائش کی جا رہی ہے۔حال ہی میں بننے والی دو کامیاب فلموں پدماوت اور باجی راؤ  مستانی میں رانی پدماوتی اور باجی راؤ  کو ہندوستان کے عظيم سپوت جب کہ مسلمان بادشاھوں کو وحشی حملہ آور دکھایا گیا ھے۔ان فلموں کی شاندار کامیابی بی جے پی اور ہندوتوا کے حامیوں کی کوششوں کا ثمر بھی ہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایک دفعہ پھر اس رجحان میں شدت آ چکی ہے۔آگرہ کے بعد لکھنو کو ایک نئی  شناخت اور نام دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔علی گڑھ یونیورسٹی کے استاد اور معروف تاریخ دان عرفان حبیب نے حکومت کو بھاجپا کے سربراہ امیت شاہ کو نام بدلنے کا مشورہ دیتے ہوۓ کہا کہ انہیں اپنے نام پر پڑے ایرانی اثرات کو مٹانے کا بندوبست بھی کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر ششی تھرور کی دانش اور تاریخ دانی ادیتہ ناتھ یوگی کے سامنے بے زبان لونڈی کی طرح ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ جنون اور وحشت سے بے حال یہ سماج تاریخ مٹانے چلا ہے مگرتاریخ ایک بحر بے کراں ہے۔تاریخ مٹانے والے ہمیشہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اور یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔

Aurangzeb Watto
Aurangzeb Watto
زندگی اس قدر پہیلیوں بھری ہےکہ صرف قبروں میں لیٹے ہوۓ انسان ہی ہر راز جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *