مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
لاہور کے بارہ دروازوں میں سے ایک دروازہ ٹیکسالی گیٹ ہے جس کے اندر شاہی محلہ یا عرف عام میں ہیرا منڈی واقع ہے۔ اس بازار سے پہلا تعارف لڑکپن میں ہوا جب سکول سے پھُٹہ لگا کر اسے دیکھنے← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) ( قسط نمبر16) آج جو کتابیں والد صاحب میرے پڑھنے کے لیے لائے ہیں اُن میں مزدور(مارکسی) لکھاری قمر یورش صاحب کی تصا نیف بھی شامل ہیں۔ ایک کتاب ہے ’’قمر← مزید پڑھیے
کمشنر پنڈی کا تذکرہ ن لیگ کے احمق ترین سیاستدان بڑے عجیب پیرائے میں کررہے ہیں۔ ضروری نہیں سیاستدان ہی ترجمان ہو۔کبھی دیکھا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا ترجمان عطا تارڑ جیسا انسان ہو؟ دو تین پڑھے لکھے لوگ پے← مزید پڑھیے
اس وقت پاکستان کا ٹوٹل بیرونی قرضہ 131 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد صاحب کے دسمبر 2023ء میں دیئے گئے ایک بیان کے مطابق جون 2024ء کے آخر تک ہم نے 24.6← مزید پڑھیے
کراچی سے سکھر جانے کے لیے پی آئی اے کی فلائٹ لی۔ ایئرپورٹ پہنچے، ڈپارچر لاؤنج میں ایک فیملی بیٹھی تھی مرد کی گود میں ایک نومولود بچی تھی۔ وہ روئے جا رہی تھی ، اس کا باپ زور دار← مزید پڑھیے
ہماری سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ ہم کوئی بھی کام پلاننگ، منصوبہ بندی سے نہیں کرتے بلکہ سب کچھ اٹکل پچو پہ چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے اچھے اور کارآمد منصوبوں سے بھی مطلوبہ نتائج← مزید پڑھیے
میاں صاحب کی سیاسی ولادتِ باسعادت جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کی عسکری چھتری تلے ہوئی ، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قسمت کے دھنی ہیں ، اقتدار کی راہداریوں سے بار بار نکالے جانے← مزید پڑھیے
اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اے آر ڈی میں بیٹھ سکتے ہیں، دونوں کے درمیان میثاق جمہوریت ہوسکتا ہے، پی ڈی ایم میں اکٹھے ہوسکتے ہیں تو پھر تحریک انصاف کے وفد کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں← مزید پڑھیے
بابا جی اپنے کنبے سمیت تمام شعبوں میں اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ملک کے طول و عرض میں ان کے متاثرین و مریدین موجود تھے۔مذہبی ٹچ سے لے کر صحت کے مسائل اور کھانا پکانے سے خیراتی اداروں کی معیشت← مزید پڑھیے
گزشتہ دو اڑھائی ہفتوں کے دوران بہت سارے احباب اور قارئین نے تسلسل کے ساتھ کالم نہ لکھنے کی بابت دریافت کیا۔ عرض کیا کہ کوشش کررہا ہوں کہ خود کو سمیٹ کر پھر سے زندگی کے لگے بندھے معمولات← مزید پڑھیے
کچھ عرصہ قبل ایک ڈاکٹر صاحب کی وڈیو سامنے آئی جس نے مجھے چونکا دیا، کئی بار سوچا یہ بات آپ احباب سے شیئر کروں مگر جانے کیوں کر نہ سکی۔ آج پھر سے ذہن کے پردے پہ ابھری تو← مزید پڑھیے
نوٹ یہ ایک بالغانہ اور لبرل تحریر ہے! نیک لوگ اس سے اجتناب کریں اور یوم حیا منائیں۔ ایک بار پھر محبت بھرے دلوں کے ملنے کا موسم آگیا۔ آجکل پاکستان میں بھی انگریزوں کی طرح “ڈیٹنگ” یا “ آر← مزید پڑھیے
کچھ لوگوں کی خواہشات کے برعکس بالآخر الیکشن 2024 کا انعقاد ہو ہی گیا لیکن اس الیکشن کے نتائج ملک کی تاریخ کے سب سے متنازع نتائج کہے جاسکتے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آزاد امیدوار سیاسی جماعتوں← مزید پڑھیے
میں نہ مفکر ہوں، نہ راہنما، نہ دانشور، نہ اہل علم۔ میں بس طالب علم ہوں۔ لاک ڈاؤن میں جب دنیا تھم گئی تو فرصت کے لمحات میں ایک بزرگ دوست کے ساتھ بیٹھا اور بیٹھے بٹھائے ایک عدد کتاب← مزید پڑھیے
اس الیکشن سے چند روز پہلے مجھے میسجز ملے کہ سعد رفیق ملنا چاہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سے میں یہ میل ملاقات ترک کر چکا تھا جس کی جو وجوہات ہیں وہ میں یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ میں← مزید پڑھیے
جب روایتی اور سوشل میڈیا پر کوئی بھی بیانیہ چل رہا ہوتا ہے، تو میں اس کا موازنہ اپنی تحصیل نوشہرہ ورکاں، اس کے دیہات کی سیاست اور گلی محلے کے عام لوگوں کی سوچ سے کرتا ہوں۔ اس سے← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 15 پاکستان میں انتخابات کا موسم اُترا ہوا ہے۔ گھروں، دکانوں، گلیوں، بازاروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رنگا رنگ جھنڈے لہلہا رہے ہیں۔ شام ڈھلے چھوٹے چھوٹے← مزید پڑھیے
میں اس اُصول پر کھڑا ہوں کہ عوام کے ووٹ کو عزت دی جانی چاہیے کہ یہی جمہوری رویہ ہے۔ جمہوریت یہی ہے کہ آپکا مخالف اگر جیت جائے تو اسے قبول کیا جائے کہ عوام یہی چاہتی ہے۔ چاہے← مزید پڑھیے
الیکشن ایک ایسا موڑ ہوتا ہے، جہاں یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں اب کم از کم دو سال آرام سکون سے گزر جائیں گے۔ سیاست اور ملک میں استحکام پیدا ہوگا، اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئے← مزید پڑھیے
عربی زبان میں ایک لفظ رائج ہے جسے “مکتوب” کہتے ہیں، دیگر معنوں کے علاوہ مکتوب کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہر چیز لکھی ہوئی اور وقت متعین میں طے شدہ امر ہے۔ نہ وقت سے پہلے نہ← مزید پڑھیے