کی تحاریر

آذربائیجان کی فتح: ایک نئے ورلڈ آرڈر کی نوید۔۔افتخار گیلانی

آذربائیجان کی فوجیں پچھلے ہفتے جب نگورنوکاراباخ کے اہم شہر شوشا میں داخل ہوگئیں ، تو ترکی کے دارلحکومت انقرہ کے نواح میں رہنے والی ایک ضعیف العمر آذربائیجانی خاتون زلیخا شاناراوف نے گھر کے اسٹور سے ایک پرانا زنگ←  مزید پڑھیے

پاکستان ، اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کرتا؟۔۔نعیم اختر ربانی

عالمی منظر نامہ بسنت کا روپ سجائے ہوئے تمام مفکرین کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔ اس منظرنامے میں ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ڈور ہے اور اس کے سرے پر باندھا ہوا مفادات کا مجموعہ غبارے کی←  مزید پڑھیے

آئین و قانون کی پاسداری۔۔زین سہیل وارثی

فورس کسی بھی ملک کی ہو نظم و ضبط کی پابند ہوتی ہے، پولیس ہو، شہری دفاع، خفیہ پولیس، فوج ہو یا رینجرز۔ آپ کسی بھی ملک کی فورس کو دیکھیں، ان میں ملک سے لڑنے کا جذبہ اسی شدت←  مزید پڑھیے

دا ہینڈ آف گاڈ۔۔عارف نیس

یہ زندگی ہے ہی کیا؟ یہ بس خدا کے ہاتھوں سے آنے سے خدا کے ہاتھوں میں جانے تک کا درمیانی وقفہ ہے۔ بس مرتے دم تک انسان کو ضرور زندہ رہنا چاہیے۔ یہ 22 جون 1986 کی بات تھی۔←  مزید پڑھیے

بی ہائنڈ دا سین۔۔عارف انیس

زندگی رقص ہے، وجد یے، لے ہے، تال ہے،عید ہے، شب برات ہے، قہقہے، پھلجھڑیاں. سٹیج پر دیکھو تو یہی لگتا ہے. زندگی رکاوٹوں کی دوڑ ہے، درد ہے، کھوج ہے، کسک ہے، سسک ہے، جان لیوا ہے. سٹیج کے←  مزید پڑھیے

کنکریٹ۔۔وہاراامباکر

تقریباً پندرہ سال پہلے میکسیکو میں پیسو فرمی کے سوشل پروگرام کے تحت غریب خاندانوں کو ایک عجیب چیز بانٹی گئی۔ یہ ڈیڑھ سو ڈالر مالیت کی ریڈی مکسڈ کنکریٹ تھی۔ مزدور اپنے مکسر لے کر غریب آبادیوں میں چلے←  مزید پڑھیے

لوٹ کے گڈو گھر کو آئے۔۔ربیعہ سلیم مرزا

کرونا کی وجہ سے اسکول بند تھے ۔آمنہ اورگڈو گلی کے بچوں کے ساتھ پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے۔ کبھی کبھار کسی بچے کی اماں اسے آواز دیتیں تو کھیل کچھ دیر کے لیےرک جاتا۔تھوڑا جھنجھلانے کے بعد سب بچے←  مزید پڑھیے

خالد جاوید کا ناول ” موت کی کتاب”: ایذا رسانی کی کتاب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔فیصل اقبال اعوان

اس کتاب میں ایک بہت ہی رکیک اور بساندھ مارتی زندگی پیش کی گئی ہے۔ بیان بے حد مریضانہ اور کراہت انگیز ہے۔ اگر اس کی علامتی یا تمثیلی تعبیر کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ زندگی←  مزید پڑھیے

خالد جاوید کا ناول ” موت کی کتاب”: ایذا رسانی کی کتاب(حصّہ اوّل)۔۔فیصل اقبال اعوان

خالد جاوید کا ناول” موت کی کتاب” پڑھ کر امریکی ادیب سٹیفن کنگ کا یہ قول شدت سے یاد آتا ہے: ” بری تحریر، زبان و کلام کی خرابی اور مشاہدے کے عیوب ہی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بری تحریر،←  مزید پڑھیے

سازشی نظریہ + پروپیگنڈہ = ایک۔۔۔قیصر عباس فاطمی

ہم سب جانتے ہیں صفر جمع صفر ایک نہیں ہوتا۔ مگر ہم سب یہ نہیں جانتے کے سازشی نظریات جھوٹ ہوتے ہیں اور پروپیگنڈا ایسی ٹیکنیک ہے جس میں جھوٹ کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کہ وہ سچ لگنے←  مزید پڑھیے

کاغذ کے نوٹ۔۔وہاراامباکر

مارکو پولو نے 750 سال پہلے اپنی کتاب “دنیا کے عجائب” میں چین کے سفر کے بارے میں لکھا ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں لکھی گئیں جو مارکوپولو کو غیرمعمولی لگیں لیکن ایک تو اتنی زیادہ کہ نوجوان مارکو←  مزید پڑھیے

دنیا کی بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کا نیا مرحلہ۔۔محمد سلمان مہدی

یوں تو دنیا میں کئی ممالک کا ریجنل اور عالمی کلاؤٹ دیگر کی نسبت بہت زیادہ مستحکم اور موثر ہے، لیکن بنیادی طور پر اقوام متحدہ کی مرکزیت اور بین الاقوامی قانون (انٹرنیشنل لاء) کے تحت بین الاقوامی یا بین←  مزید پڑھیے

محبت کے رنگ۔۔ رابعہ الرباء

اس نے مجھے محبت کے ایسے رنگ سیکھائے ہیں دشمن بھی میرے لوٹ کے پھر سے آئے ہیں اس نے میری بغض کی راہوں میں پانی سے گلزار بنائے ہیں اس نے مجھے محبت کے وہ ڈھنگ سیکھائے ہیں امن←  مزید پڑھیے

مرد اور عورت میں فرق: اسلام اور جدید علومِ سائنس۔۔سجاد عثمانی

اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے مرد و عورت کے الگ الگ احکامات کیوں بیان کئے ہیں، جبکہ مرد اور عورت کے احکامات ایک جیسے ہونے چاہیے تھے۔ دونوں انسان اور برابر ہیں تو ان میں←  مزید پڑھیے

میری دھرتی میرے ہی لمس سے اکتا چکی ہے۔۔اسد مفتی

ان دنوں “اہلِ زمین”کے لیے سیاست سے زیادہ زمین کا ماحولیاتی نطام اہم ہورہا ہے،یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ کے ماہر ماحولیات نے عالمی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ “ہم ایک ایسی دنیا←  مزید پڑھیے

تمہاری کتاب کہاں ہے؟۔۔عارف انیس

یہ سوال میں تقریباً ہر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس سے ملاقات ہوتی ہے۔ کسی سفیر سے، وزیر سے، صحافی سے، مدبر سے، معالج سے، مریض سے، استاد سے، طالبعلم سے، کہانی کار سے، کوہ پیما دے، ریاستی کارندے←  مزید پڑھیے

کچھ علاج ہی سہی۔۔رابعہ احسن

کبھی کبھی اتنی بُری ساری خبروں میں کوئی چھوٹی سی اچھی خبر اس اطمینان کا باعث ہوتی ہے کہ کہیں کہیں انسانیت کی بچی کھچی سانسیں ابھی بھی جاری ہیں ۔برائی پہ کڑھنا زندہ رہنے کی علامت ہے لیکن اس←  مزید پڑھیے

مرد”ناول سے ماخوذ اقتباس۔۔۔عارف خٹک

“کتے کے بچے، کتنی بار تجھے کہا ہے کہ جب کسی کام کا بولوں تو غور سے سنا کرو۔ مجنون کی طرح میرا منہ تکنے لگ جاتے ہو، بدذات نسل”۔ پاس والے کمرے میں گل مینہ اپنے نو سالہ بچے←  مزید پڑھیے

مینٹل ہیلتھ/‘ٹراما’ کلچر، موٹیویشنل سپیکر اور ہم (قسط دوم)۔۔۔ڈاکٹر عزیر سرویہ

اب دلچسپ چیز یہ ہے کہ یہ سب مندرجہ بالا لوازمات کہ جن کے بغیر انسان ترقی نہ کر پائے، بچے ڈھنگ کے نہ پال پائے، رشتے نہ نباہ پائے، کام نہ کر سکے، یہ تو چند دہائیاں بھی بمشکل←  مزید پڑھیے

کراچی : نفرتوں کی دھول میں اٹا شہر(حصّہ اوّل)۔ناصر منصور

پاکستان میں اربنائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے لیکن یہ عمل عمومی طور پر غیرمنظم اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے جاری ہے۔ گو اسلام آباد پاکستان کا نیا آباد کیا جانے والا جدید ترین منصوبہ بند شہر تھا←  مزید پڑھیے