میری دھرتی میرے ہی لمس سے اکتا چکی ہے۔۔اسد مفتی

SHOPPING

ان دنوں “اہلِ زمین”کے لیے سیاست سے زیادہ زمین کا ماحولیاتی نطام اہم ہورہا ہے،یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ کے ماہر ماحولیات نے عالمی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ “ہم ایک ایسی دنیا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو غریبی کے روگ میں مبتلا ہے،غیر مساو ی دولت کی تقسیم کے عذاب جھیل رہی ہے،اور ہر دن جس کی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے”۔
زمین کے ماحول کو مغربی ممالک اور امریکہ کی اندھا دھند صنعتی مہم بازی اور بے لگام منافع خوری کی وجہ سے جو نقصان پہنچا،اسکی “مرمت”کی تمام تر ذمہ داری مغرب پر ہی عائد ہوتی ہے۔
ایک طرف تو کائنات کے واحدمسکن کرہ ارض کو ناقابل رہائش بنایا جارہا ہے،تو دوسری طرف ایشیائی اور افریقی ملکوں ے باشندے اس صنعتی جبر کی قیمت اپنی صحت اور زندگی سے ادا کررہے ہیں،جب امیر اور متمول ملکوں کو اپنی ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، تو ان کی تلافی کے لیے مالی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں،کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نکاسی کی سب سے بڑی وجہ مغرب میں استعمال ہونے والی کاروں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد ہے،ایک اندازے کے مطابق اکیلے امریکہ میں موٹر کاروں کی تعداد اس ملک کی آبادی سے دوگنا زیادہ ہے،گویا امریکہ کی سڑکوں پر دوڑنے والی کاروں کی تعداد 50کروڑ سے زیادہ ہے۔ان 50کروڑ کے سیاہ دھویں کی وجہ سے فضائی کرّہ گلوبل وارمنگ کی بیماری میں مبتلا ہے،اور قطب شمالی کی برف کے ساتھ ساتھ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہمالیہ کی پانچ کروڑ سال سے سلسلہ وار جمی ہوئی برف بھی پگھلنے لگی ہے۔(نہیں پگھلی تو پاک و ہند کے حکمرانوں پر نفرت کی جمی برف نہیں پگھلی)سیلاب بیشتر ملکوں کا مقدر بن چکے ہیں۔۔
خود یورپ کے بارہ ممالک برترین سیلاب کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔
حال ہی میں آنے والے سیلاب سے یورپی ملکوں کو 20بلین یورو کا نقصان ہوچکا ہے،ایشیاء میں بھی موسموں کی گردش اس قدر بگڑ چکی ہے، کہ مون سون ایک بے اعتبار موسم بن گیا ہے،ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں قحط معمول بن گئے ہیں،فضائی آلودگی کے ساتھ قلتِ آ ب نے زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے،قدرت کی بنائی ہوئی کروڑہا سال کی متوازن فضا اور ماحول کو مغرب نے دوسال کی چیرہ دستیوں سے پارہ پارہ کردیا ہے،افریقہ میں کروڑوں لوگ بھوکوں مررہے ہیں،کہ وہاں کال پڑا ہے،دوسری طرف ایشیا کے نیلے آسمانوں پر زہریلی گیسوں کے بھورے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
جب 1947کے کیوٹو معاہدے کے تحت امریکہ سے کہا گیا کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نکاسیوں پر پابندی عائد کرے تو اپنے تجارتی مفادات کے پیش نظر اس نے صاف انکار کردیا کہ بہتر ماحول کی بحالی کیلئے امدادی رقوم دینا چاہتا ہے،اور نہ ہی زمین کے صحت مند مستقبل کے لیے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری کے لیے تیار ہے،حد تو یہ ہے کہ جس عالمی کانفرنس میں زمین کے مقدر پر گفتگو ہورہی ہو،امریکہ کے صدر باراک اوبامہ اس میں شرکت کرنے سے قاصر رہے،وسیع پیمانے پر زمین کے قدرتی ماحول میں پیدا ہونے والی خرابی کے علاوہ صنعتی آلودگی نے بھی بڑے المیوں کو جنم دیا ہے۔ یہ صنعتی آلودگی مغربی ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دین ہے،جو اس دنیا میں زمین کے چپے چپے کو نفع خوری کے لیے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں،لیکن اس کے نتیجے میں پچھلے سال دنیا بھر میں صا ف پانی کی فراہمی اور صفائی کی صورتحال کے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں اس سلسلے میں کی جانیوالی کوششوں اور معیاری انتظامات اور 1.2بلین افراد صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی سے محروم ہیں،یونیسف کے اس عالمی جائزے کے مطابق حالات دنیا کچھ یوں ہیں۔
ترقی پذیر ملکوں کے 4.8بلین افراد کی پہنچ محفوظ پانی کے وسائل تک نہیں ہے۔
یہ دنیا کے 4.9بلین افراد کے گھر اور صحن میں صاف پانی کے نل لگے ہوئے نہیں ہیں۔دنیا میں ہر سال 4بلین افراد ہیضے میں مبتلا ہوتے ہیں،ان میں سے 2.2ملین ہلاک ہوجاتے ہیں،جن میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اکثریت ہوتی ہے۔ایشیا میں صرف 35فیصد گندا پانی صاف کیا اور ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔لاطینی امریکہ میں یہ شرح 14فیصد صاف پانی شہریوں تک نہیں پہنچا۔پانی کے اس ضیاع اور جمع ہونے سے صحت و صفائی کی سہولتیں بہت ہی کم ہیں۔
ان حالات میں بہت سے ترقی پذیر ممالک سمجھتے ہیں کہ گزشتہ دنوں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس امیر،متمول اور بڑے ملکوں کی طرف سے اکیسویں صدی میں نوآبادیای نظام کا ایک فورم ہے،ایسے فورم سے کسی کو خیر کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔؟
مجھے میرا ہی ایک شعر یاد آرہا ہے
اگر پیدا کیا ہے یہ جہاں میرے لیے اُس نے
تو پھر کیوں مجھ کو اپنے طور پر جینے نہیں دینا؟

SHOPPING

Avatar