محبت کے رنگ۔۔ رابعہ الرباء

SHOPPING

اس نے مجھے محبت کے ایسے رنگ سیکھائے ہیں
دشمن بھی میرے لوٹ کے پھر سے آئے ہیں

اس نے میری بغض کی راہوں میں
پانی سے گلزار بنائے ہیں

اس نے مجھے محبت کے وہ ڈھنگ سیکھائے ہیں
امن کے پر سفید پھول ساتھ لائے ہیں

اس نے مجھے
محبت ہی محبت کر دیا ہے

نفرت کے بیج سے محبت کے  پودے اگائے ہیں
اس نے مجھے محنت کے نئے رنگ سیکھائے ہیں

حسد کی آگ میں ابلتے مزاج کو
چشموں سے آشنا کرتے ہوئے
میٹھے پانی کے ذائقے بھی بتائے ہیں

اس نے محبت کے ایسے رنگ سیکھائے ہیں
ایسے رنگ بتائے ہیں کہ میری زندگی مقابلے کے پل صراط سے اتر کر
عاجری کی ندی کے چشمے تلاشنے لگی ہے
انسانیت کی خیر مانگنے لگی ہے

اس نے مجھے

اس نے مجھے فرد واحد کے عشق سے نکال کر
انسانیت کے عشق میں کیا ہے مبتلا
اس مبتلاء کیف نے
آسماں کی سیر کرائی ہے
میں نے اک نئی زندگی پائی ہے
جس کو محبت کہتے ہیں

جس کو محبت کہتے ہیں
وہ سارے رنگ اس کے ہیں
وہ سارے ڈھنگ ‘
وہ ست رنگ
وہ قوس قزاح
وہ چودھویں کا چاند
پتھر سے پھوٹتے رنگین چشمے
وہ سب کے سب
اس کے ہیں
جو سر تاپا خیر ہے
جو سر پا محبت ہے
جو محبت کی پیامبر بھی ہے
جو عشق کا سمندر بھی ہے
جس سے سب سیر ہو کے لوٹتے ہیں
وہ چالیس چراغ عشق کے

وہ ایسا کوئی جادو ہے
وہ ایسی کوئی سحر ہے
کہ
جو سب پہ طاری ہو جائے

وہ ایسا کوءی فیض ہے
جو اک بار جاری ہو جائے
تو ہو جائے

SHOPPING

جس نے مجھے محبت کی وسعت بتائی ہے
جس نے مجھے محبت کرنا سیکھائی!

SHOPPING

Avatar