سکوت کا شور۔۔۔پارس جان/بُک ریویو

مابعدجدیت کے بارے میں اردو میں بھی بہت کچھ لکھا، پڑھا اور ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ یہاں اس موضوع پرکسی قسم کی تفصیلی بحث سے گریز کرتے ہوئے محض یہ کہنا کافی ہو گا کہ اس مابعدجدیدیت کا بنیادی خاصہ ادب اور سیاست دونوں سے نظریے کا ببانگِ دہل انخلا ہے۔ دنیا بھر کے ادب اور سیاسی تحریکوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو بالخصوص گزشتہ نصف صدی اسی مابعد جدیدیت  یا غیر نظریاتی ادب اور سیاست کی منظر کشی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم اگر اردو شاعری کی بات کریں تو علامہ اقبال سے لے کر جون ایلیا تک کے تخلیقی سفر میں نظریات نے ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ادب کو سیاست پر یہ فوقیت بھی حاصل رہی ہے کہ جب بھی ترقی تعمیر اور تخلیقی اُبھار کا ایک عہد زوال پذیر ہونا شروع ہوتا ہے تو سیاست میں اس زوال کا اظہار سب سے پہلے نظر آتا ہے اور مزاحمت کرنے والا آخری سپاہی ادب ہی ہوتا ہے۔ اور جب ایک نئے روشن، امکانات سے بھرپور اور انقلابی عہد کا آغاز ہوتا ہے تو ادب ہی سب سے پہلے ماضی کے خلاف مستقبل کا علم تھامے ہوئے میدان میں کود پڑتا ہے۔

حقیقی زندہ اور پائیدار ادب اُسے ہی قرار دیا جا سکتا ہے جو سماجی تعلقات کی نوعیت اور تضادات کی درست نمائندگی اور توضیح کرنے کا اہل ہو۔
مابعد جدیدیت کی غیر نظریاتی یلغار کی وقتی فتح کے نتیجے میں تخلیق کیے جانے والے ادب کی سماجی حقیقتوں اور معروضی سچائیوں سے لاتعلقی کے باعث تخلیق کار کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ خیالات اور نظریات کے بجائے اپنی انفرادیت کو ثابت کرنے کے لیے تکنیکی تجربات پر انحصار کرے۔
جلد از جلد زیادہ سے زیادہ کمانے اور شہرت اور دولت کی ہوس نے اُردو ادب کو اپنے آہنی پنجوں میں جکڑ لیا تھا۔ الفاظ اور خیال کے مابین بعد پیدا کر کے لایعنیت اور بے معنویت کو جدت کا نام دے کر ایک ایسا ادب تخلیق کیا گیا جو ادب کی تعریف پر بھی پورا نہیں اُترتا۔ ایسے شاعروں اور ادیبوں کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا مگر ہر سال بیسیوں نئی کتابوں کی اشاعت ہوتی رہی۔ گزشتہ دس سالوں کے اس رجحان کے خلاف ایک مزاحمت اُبھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ مزاحمت ادب کے ارتقا میں ایک عبوری دور کی غمازی کرتی ہے۔

”ادب برائے ادب“ اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ ”ادب برائے زندگی“ کا احیا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔ مگر اس کا مطلب ستر کی دہائی سے قبل کے ادب کا ہو بہو اسی شکل میں واپس آ جانا نہیں ہے۔ ایسی بیہودہ نقالی کو کسی طور بھی پائیدار اور حقیقی ادب قرار نہیں دیا جا سکتا۔تاریخی عمل یہ سکھاتا ہے کہ ہر بار جب ایک سیاسی یا جمالیاتی رجحان تاریخ کے مخصوص مرحلے پر دوبارہ نمودار ہوتا ہے تو وہ بلند پیمانے اور معیار کے ساتھ وارد ہوتا ہے۔
ایسے ہی ترقی پسند تحریک کا یہ احیا ادیبوں کی ایک ایسی نسل کو سامنے لائے گا جو فیض، ساحر اور جوش کے قیمتی ورثے کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے،معروضی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ایسا ادب تخلیق کریں گے جس کی تاریخ سے شاید ہی کوئی مثال تلاش کی جا سکے۔

مظہر حسین سیّد نے اس نئی نسل کے لیے راستے کو ہموار اور سازگار کرنے کا کام پوری دلجمعی، ریاضت اور جانفشانی سے کرتا ہوا ادبی منظر نامے میں داخل ہوا ہے۔ اور اس کی موجودگی خود بھی ادبی منظر نامے میں تبدیلی کی ایک واضح دلیل ہے۔

مظہر حسین سیّد کے ہاں اپنے عہد کے مسائل اور المیوں کی نہ صرف درست نشاندہی اور ادراک موجود ہے بلکہ نئی نسل کے فکری ارتقا پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی بدرجہء اتم موجود ہے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ اپنے اس تاریخی فریضے کی ادائیگی میں جمالیاتی پیمانوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔اس نے کسی بھی قیمت پر شعر کو نعرہ نہیں بننے دیا۔وہ جانتا ہے کہ ہر معروضی حقیقت ادبی سچائی نہیں ہوتی۔ وہ سچ بولتا ہے مگر معروضی حقائق میں سے عمومی نفسیات کی عکاسی کے لیے ایسے حقائق کا انتخاب کرتا ہے جو انسانی احساسات کی اجتماعیت کو ہر قاری کے احساسات سے ایسے منسلک کردے کہ اسے وہ اپنا ہی کرب اور روداد معلوم ہو۔

پھر وی ان انسانی المیوں کی اس وضع سے جمالیاتی تشکیل کرتا ہے کہ ہر ذی شعور اس سے محظوظ ہو سکے۔ ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

یہ لوگ عہد غلامی میں جی رہے ہیں ابھی
انھیں تو یہ بھی بتانا ہے زندگی کیا ہے

یہ بات غور طلب ہے مسافروں کے لیے
کہ ان کی ناؤ سے دریا کی دشمنی کیا ہے

سوال سنتے ہی اک شخص مر گیا مظہر
سوال میں نے کیا تھا کہ خامشی کیا ہے

مظہرحسین سیّد نے ادب کی اس روایت کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت عمدہ ادب کی بنیادی صفت ہی یہ قرار دے دی گئی تھی کہ جو عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہو وہی بڑا اور عمدہ ادب ہے۔ادب بنیادی طور پر انسانی محسوسات کی ترسیل کا عمدہ ترین ذریعہ ہے۔ اگر وہ عام لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر وہ سماج کی اسی طفیلی اقلیتی پرت کی عیاشی اور تفریح کا سامان بن کر رہ جاتا ہے۔ جس نے آبادی کی وسیع تر اکثریت کو جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔

مظہر حسین سیّد نے مشکل تراکیب اور استعاروں کے استعمال سے شعوری طور پر گریز کیا ہے۔ اور چھوٹی بحروں میں سہلِ ممتنع میں طبع آزمائی کی ہے۔ چند اور اشعار ملاحظہ کیجیے۔

اس لیے روشنی ہے رگ رگ میں
دھوپ کا سامنا کیا میں نے

جو مزہ آتا تھا اک باغ لگانے میں مجھے
وہ مشینوں چلانے میں نہیں آتا تھا

کھل کے سچائی کا اظہار نہیں کر سکتے
ہم جو کرتے ہیں وہ اخبار نہیں کر سکتے

چڑھائے اس پہ نہیں میں نے صنعتوں کے غلاف
کہ سچ کو شعر میں باندھا نہیں کہا میں نے

جدت کے تصنع میں گرفتار اکثریت سے بے نیاز ہو کر مظہر حسین سیّد اپنے موضوعات کو دیانت داری سے نبھاتا چلا جاتا ہے۔ اس نے جہاں انتہائی اہم اور نئے موضوعات کا اضافہ کیا ہے وہیں پرانے موضوعات کو بھی بالکل اس انداز پیش کیا ہے کہ وہ نئے معلوم ہوتے ہیں۔
مخبوط الحواس دانشوروں کی ذہنی اختراعوں کے برعکس کچھ بھی سو فیصد نیا نہیں ہو سکتا۔ انسانی عقل اپنی تجریدی صلاحیتوں کو پہلے سے موجود مواد پر انحصار کرتے ہوئے بروئے کار لا سکتی ہے۔
ارسطو نے کہا تھا کہ انسان سماجی حیوان ہے۔ لیکن ہیگل نے اس بات کو آگے بڑھایا ہے کہ انسانی تاریخی حیوان ہے، یعنی ماضی کے بغیر کوئی مستقبل ممکن ہی نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محض مستعمل استعاروں اور خیالات کو ہی دہرایا جاتا رہے۔ بلکہ روایت سے رشتہ برقرار رکھتے ہوئے ،آئندہ نسلوں کے لیے فکری اور جمالیاتی اثاثہ تخلیق کیا جا نا چاہیے۔ مظہر حسین سیّد نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔

غالب کا ایک شعر جو میرے پسندیدہ اشعار میں سے ایک ہے:

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

اسی بات کو مظہر حسین سیّد نے اس انداز میں کہا ہے:

اک تڑپ، اک لگن، اک جنوں چاہیے
وہ بھی کیا آدمی جو نرا آدمی

حال ہی میں ادبی حلقوں میں ایک اور بحث سننے میں آئی ہے کہ غزل متروک اور فرسودہ ہو چکی ہے ، یہ نئے موضوعات کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اب ہم جدید نظم یا نثری اور آزاد نظم کے عہد میں جی رہے ہیں۔ اگرچہ میں کوئی قدامت پسند شخص نہیں ہوں اور یہ بخوبی سمجھتا ہوں کہ ادب اور آرٹ کی مختلف اصناف معدوم بھی ہوتی رہی ہیں۔ مگر میں اس بیانیے سے قطعی طور پر متفق نہیں ہوں۔

نیو لبرل نفسیات کی مخصوص آزاد روش کو بھی ایک عمومی اصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔غزل پر پہلے بھی اس طرح کے اعتراضات اُٹھائے جاتے رہے ہیں مگر غزل لکھنے والوں نے ہمیشہ کڑے سے کڑے امتحان میں غزل کو سرخرو کر کے دکھایا ہے۔ اور اب مظہر حسین سیّد کی شکل میں غزل کے وکلاء کی فہرست میں ایک اور اہم اور معتبر نام کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک ایسا نام جو خودپسندی، ناموری اور تکنیکی استصنام سے بالا تر ہو کر اپنی ہی دھن میں آنے والے نے ادیبوں کے راستے کے کانٹے صاف کرتا ہوا اس کاروان کو مقداری اور معیاری حوالے سے تقویت دینے میں مگن ہے۔

مظہر حسین سیّد کی یہ غزل ملاحظہ کیجیے۔

یہاں افتاد یہ کیسی پڑی ہے
جسے دیکھو اسے اپنی پڑی ہے

ہم اس کو بیچ بھی سکتے نہیں ہیں
ہمیں یہ زندگی مہنگی پڑی ہے

ہمارا جرم تھا نغمہ سرائی
ہمیں ہر موڑ پر گالی پڑی ہے

بنے گا کیا اگر تصویر میری
تمہاری میز پر الٹی پڑی ہے

ہمارا خواب کب کا مر چکا ہے
تمہاری گود بھی خالی پڑی ہے

ہم آدھی عمر کاٹ آئے ہیں مظہر
ہماری زندگی پوری پڑی ہے

یہ اور اس طرح کی دیگر غزلیں پڑھ کر یہ یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ غزل کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *