مولانا کی پھر ناکامی۔۔۔منور حیات سرگانہ

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

مولانا کے آزادی مارچ کا میڈیا کے مخصوص حلقوں کی جانب سے بنایا گیا ‘ہَوّا’،بالآخر ہوا بھرا غبارہ ثابت ہوا۔حکومت نے شروع دن سے اس مظاہرے کو روکنے کے لئے طاقت کے استعمال سے گریز کیا،جس کے نتیجے میں ٹکراؤ پر آمادہ مولانا اپنی ہی جھونک میں زمین پر گر گئے۔

مولانا کے دھرنے،اور مارچ کے مقاصد میں،ان کے کہنے کے مطابق وزیراعظم کا استعفیٰ سب سے بڑا مطالبہ تھا،جو کہ ظاہر ہے پورا نہیں ہوا،اس لحاظ سے تو مولانا کو ناکام ہی سمجھا جائے گا،ہاں اگر در پردہ مقاصد میں اپنے دیرینہ مہربانوں،نواز شریف اور آصف علی ذرداری کو کچھ رعائتیں دلانا مقصود تھا،تو اس میں مولانا کامیاب رہے،دونوں کو کچھ وقت کے لئے جیل سے رہائی نصیب ہو گئی،امید ہے ایک کا ٹھکانہ ہسپتال اور دوسرے کا مستقل پڑاؤ اب لندن ہی رہے گا،مولانا کو غلیل دے کر جس باجرے کی راکھی پر بٹھا گیا تھا،اس کے پکنے پر اب ان کو اطلاع کردی گئی ہو گی کہ،اب آپ کی ضرورت یہاں باقی نہیں رہی،آگے کے معاملات دونوں پارٹیاں اپنے اپنے طور پر حکومت اور طاقتور حلقوں سے طے کرنے میں مصروف ہیں۔اس دھرنے اور مارچ میں دونوں بڑی پارٹیوں نے عملی طور پر شرکت سے گریز کیا،لیکن ان کے رہنما شہیدوں میں نام لکھوانے کے لئے برابر پہنچتے رہے۔نیز اپنے اپنے ہم خیال لبرلز کے ذریعے سے مولانا کو مقوی ادویہ اور طاقت کے انجکشن لگانے کا کام وقتاً فوقتاً جاری رکھا گیا،لیکن دھرنے کے آخر میں مولانامنظور مینگل کی مولانا طارق جمیل کی ذات کے خلاف کی جانے والی لن ترانیوں نے بالآخر دھرنے کے لئے جلاب آور دوا کا کام کیا،اور رہے سہے لوگ بھی آہستہ آہستہ دھرنے سے کھسکنے لگے۔نامور صحافی حامد میر اور سلیم صافی بھی حاضریاں لگواتے رہے،لیکن قبلہ حامد میر کی ‘قربانیاں بھی رائیگاں گئیں۔اوپر سے سردی اور بارش نے مہمیز دی،اور شرکاء میں سے کافی لوگ جن کے ٹھہرانے اور علاج معالجے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا،بیمار پڑنے لگے۔اگرچہ حکومت کی طبی امداد دینے والی ٹیموں نے اپنی سی کوشش کی ،مگر زیادہ تر شرکاء بے زاری کا شکار ہو گئے،اور گھروں کو روانہ ہونے لگے۔اور اس طرح مولانا کے پاس اپنے لشکر کی بے دلی کے بعد ہتھیار پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

البتہ ان کچھ دنوں میں مدرسوں کے طلباء اور دور دراز کے علاقوں سے آنے والے مولانا کے عقیدت مند جھولوں سے لطف اندوز ہوتے رہے،قلابازیاں لگاتے رہے،اور خوب موج مستی کرتے رہے،جبکہ جاتے جاتے سی ڈی اے والوں کے لئے مصروفیت کا سامان بھی کر گئے۔
یہ دھرنا پہلے ہی عوامی حمایت سے محروم اور ایک خاص مکتبہ فکر کے لوگوں کی نمائندگی کر رہا تھا،جبکہ خواتین کو بھی شمولیت سے سختی سے روک دیا گیا تھا۔اس لئے شروع سے ہی اندازہ لگانا دشوار نہیں تھا،کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *