بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط9)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ قسط:

باوا وقار شاہ کی حلیم طبع، شفقت ۔ صلہ رحمی، رشتوں کا احترام اپنی جگہ مسلم سہی لیکن خاندانی جاہ  و جلال بدرجہ اُتم موجود تھا، وہ روحانی طور پر بہت بالیدہ شخصیت تھے، ساتھ زیرک اتنے کہ دو جملوں میں بڑے سے بڑے مسئلے نپٹا دیتے، وہ بہت سکون سے میجر صاحب کی باتیں سنتے رہے،  میجر صاحب کے دلائل مکمل ہوئے تو بولے ۔۔۔
“ میرے بھائی  میں اللہ کی رضا پہ  راضی ہوں، جب تک زندہ ہوں یہی بندوبست بدستور رہے گا “
اس پہ  میجر صاحب سمجھ گئے کہ یہ کیس داخل دفتر ہو گیا۔۔
اصغر شاہ واپس پہنچ گئے، وہ  ساتھ بیکری سے بچوں کے لئے تازہ چکن پیٹیز ، بسکٹ اور کیک رس لائے سب کے لئے چائے بن کے آ گئی، اب محفل برخاست کا ٹائم ہو گیا۔
باوا جی نے منشی کو حکم دیا کہ ایک ڈول میں تازہ دودھ، مکئی گندم اور باجرے کے مکس آٹے کا توڑا، گُڑ کا توڑا،میجر صاحب کی گاڑی میں رکھوائے، انکی بیگم اور بچوں کو شاپنگ کے لئے پیسے پکڑائے ، باوا جی اور اصغر نے گیٹ سے باہر آ کے انہیں رخصت کیا، تو بیگم نے دعاؤں کی فرمائش کے ساتھ اگلے ہفتے باوا جی اور اصغر شاہ کو دعوت دی کہ کرنل صاحب زیارات سے آ رہے ہیں ، آفیسر میس میں فیملی گٹ ٹوگیدر ہو گا، کار میں بیٹھتے بیگم صاحبہ نے اصغر کو بہت پیار سے آنے کی تاکید کی، باوا جی کے چہرے پر خاص مسکراہٹ آئی  جیسے وہ ممکنہ اصل بات سمجھ گئے تھے ۔۔۔ظاہر ہے اصغر شاہ کی جس طرح رونمائی  ہو رہی تھی، لڑکیوں والوں کی دلچسپی لازم تھی!

نئی قسط

باوا وقار شاہ جب سے گاؤں سے آئے تو واقعات کی رفتار ہنگامہ خیز رہی، وہ ذہنی طور پر تھک چکے تھے، اصغر شاہ نے معاملات کو بہت مہارت سے چلایا لیکن باوا جی اتنی برق رفتاری کے لئے تیار نہیں  تھے۔ ان کے ذہن میں بیٹے کی تعلیم ،کیریئر ، شادی، اور گھر بسانے کے خاکے ضرور تھے، اتنی تیز سپیڈ ہر گز نہیں  تھی۔ کرنل کزن کا مشورہ کہ ماحول ہر حال میں دوستانہ رہے اپنی جگہ صائب تھا پر اتنی کایا پلٹ سے ذہن بوجھل سا ہو گیا۔

اگلا ہفتہ انہوں نے اصغر کو کالج جانے، داخلہ بھجوانے امتحان کی تیاری پر توجہ دینے کا مشورہ ذرا پدری حکم کے طور دیا۔۔جسے اصغر نے من و عن تسلیم کیا، چار دن مسلسل وہ صبح کالج جاتا ، کلاسیں اٹینڈ کرتا، ٹیوشن پڑھتا، بعد دوپہر واپس آتا اور رات گئے تک نوٹس تیار کرتا، اس دوران باوا جی سے ہلکی پھلکی گپ شپ ہوتی رہتی۔
ویک اینڈ پر  چھٹی تھی ، باوا جی اور وہ دن گزارنے چَک چلے گئے،شاہ پور والی میں ڈاکخانہ اور ٹیلی گراف آفس تو بہت پرانے تھے، خطوط کے ساتھ ٹیلی گرام رابطے کا واسطہ تھے۔چار سو لائن کا ٹیلیفون ایکسچینج کب کا منظور ہو چکا تھا، ڈاکخانے سے ملحق عمارت بن چکی تھی، تنصیبات بھی لگ چکی تھیں ،مسئلہ کینٹ ایریا سے گزار کے مین لائین سے کنکشن کا تھا، جھال کے ساتھ سڑک بننے سے یہ رکاوٹ دور ہوئی  تو چک میں بھی ٹیلیفون کے کھمبے اور لائنیں لگ گئیں، زیادہ نمبر تو آڑھت منڈی میں لگے،باوا جی کے نام گاؤں سے بڑے بیٹے اکبر شاہ کا خط شیخ جی کی آڑھت کے پتے پر آیا ہوا تھا، باوا جی نے خط پڑھا ۔
اس میں خیر خیریت تھی، بس ان کی شہر والی ٹیچر بھتیجی کی بیٹی جو اصغر سے منسوب سمجھی جاتی تھی اس کے آئے رشتہ کا تذکرہ تھا۔ مقصد ان کا عندیہ مطلوب تھا۔ باوا جی نے خط پڑھ کے تہہ کرتے جیب میں رکھا اور اصغر کو سب کی طرف سے سلام دعا کا پیغام بتا دیا۔
اصغر کے دوست ذیشان کے ماموں ایک نجی بنک میں ملتان ریجن کے وائس پریذیڈنٹ تھے، ناظر صاحب کے گھر ان سے اصغر کی کئی بار ملاقات ہوتی تھی، ڈاکخانے کے پاس بنک کی جیپ سے انہیں اترتے دیکھ کے اصغر نے باوا جی کو بتایا اور اجازت لے کر ان سے جا کے ملا، وہ بہت خوش ہوئے، پیار کیا، اصغر نے باوا جی کا بتایا تو وہ شیخ جی کی آڑھت پہ  آ گئے، باوا جی سے بڑے ادب سے ملے، غائبانہ ذکر سن چکے تھے، بنک والے دونوں افسر جو ہمراہ تھے وہ بھی ادھر آ گئے، شیخ جی نے فوری طور نشستیں لگوائیں ۔ وہ لوگ منڈی میں برانچ کھولنے کے لئے سروے پر آئے تھے۔ باوا جی نے شیخ جی کو مہمانوں کے لئے چائے پانی لانے کا کہا۔ باتوں میں جب وی پی صاحب کو پتہ چلا کہ یہ شیخ جی آڑھت اور ساتھ والی دکان بشمول گودام جو غلہ منڈی کے داخلی راستے کے ساتھ واقع تھیں سامنے کھلا گراؤنڈ اور عقب میں چک کی سڑک تھی باوا جی کی ملکیت ہیں تو وہ پر جوش ہو گئے، افسروں کے ساتھ سائیٹ کا جائزہ لیا۔

باہم مشاورت کے بعد پوچھا کہ کیا باوا جی یہ ساری جگہ بنک کو دے سکتے ہیں ۔ باوا جی نے سرسری طور جواب دیا کہ یہ ممکن تو ہے لیکن بنک کی آفر ہو تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
چائے پینے کے بعد بنک والوں نے پوری منڈی کا راؤنڈ لگایا ۔ اصغر انکے ہمراہ رہا ۔ انکی انکوائری اور سوالات کے جواب بھی دیتا رہا۔ منڈی میں ہل چل مچ گئی، وی پی نے باوا جی سے علیحدہ ہو کے دو دن بعد بنک میں ملاقات کی درخواست کی، باوا جی نے اصغر کو بلا کے کہا کہ وہ میٹنگ بارے طے کر لے، سوموار کو بنک میں لنچ پہ  ملاقات فائنل ہو گئی، وہ لوگ رخصت ہوئے، تو باوا جی نے شیخ جی کے فون سے گاؤں میں اکبر شاہ کے گھر والے نمبر پے کال بُک کرائی۔
شیخ جی اب ستر سال کے پیٹے میں تھے،بیٹوں نے شہر میں اپنے کاروبار سیٹ کر لئے تھے گاؤں میں بوڑھی بوڑھا رہتے۔بچے آتے جاتے تھے، باوا جی نے صاف پوچھ لیا کہ دکانیں اگر خالی کرنی ہوں تو کتنا وقت درکار ہو گا؟۔۔۔
شیخ جی کائیاں تھے، ڈپلو میٹک جواب دیا، مُرشد ہم تو آپ کے حکم کے غلام ہیں ، موجودہ سٹاک آج بک جائے ،مُول میں نقصان نہ ہو تو ابھی اُٹھ جاؤں گا ، باوا جی رمز پہچان گئے، پوچھا مال کتنے کا ہے ؟
شیخ جی نے تھوڑا سوچ کے کہا، لین دین چھوڑ کے پچاس ہزار کی راس ہو گی۔۔ باقی آپ جیسے حکم دیں گے۔
ایک حیاتی آپکی جگہ پہ  رزق کمایا ہے، آپ نے کبھی کوئی  مطالبہ نہیں  کیا، کرایہ جب دیا جتنا دیا آپ نے ہمیشہ احسان کیا، آپ کا بنک سے معاملہ ہو جائے ، میں حاضر، بس ایک مہربانی کیجیے گا، میرا پوتا بی اے ہے اسے بنک میں لگوا دیں۔
وہ یہاں آ جائے تو ہمارے ساتھ بھی رہنے والا تو کوئی  ہو جائے گا۔۔
باوا جی نے اصغر کو دیکھا جو سر جھکائے باتیں سن رہا تھا، شیخ سے کہا، چلو دعا کرتے ہیں مؤلا بھلی کریسی ،فون کی بزر بول اٹھی، اصغر نے بھاگ کے تھڑے پر پڑے فون کا ریسیور اٹھایا، بھائی  کو سلام کیا، سب کی خیریت پوچھی ، باوا جی اٹھ کے آئے، ریسیور انہیں تھما کے اصغر وہاں سے ہٹ گیا۔ باوا جی نے مختصر بات کی۔
حال احوال پوچھ کے خط ملنے کا بتایا، بھتیجی کے لئے پیغام دیا کہ دعا کرتے ہیں توکل پہ  رشتہ کر دے، ہم ابھی دو تین سال تک نہیں  پہنچ پائیں گے، گاؤں واپسی میں دو تین ہفتے اور لگ سکتے ہیں، کال تین منٹ پورے ہونے پر کٹ گئی۔
اس ایک فون کال نے یوں لگا کہ باوا وقار شاہ کے ذہن سے کوئی بھاری بوجھ اتار پھینکا۔

وہ خاندان اور قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی پر بہت حساس تھے، جہاں ان کے ایک اشارہ ابرُو سے پوری برادری میں بچوں کے رشتے طے ہو جاتے ہوں وہاں ان کے اپنے بیٹے کی نسبت چاہے فرضی اور غیر اعلانیہ ہی کیوں نہ ہو ان کے مقام اور ذات کے لئے بہت زیادہ اہم تھی، اصغر شاہ کی منگنی تو دور کی بات ان کی بیوہ بھتیجی کی بیٹی سے رشتہ پر بات تک نہیں  ہوئی  تھی لیکن خاندان میں یہ تاثر موجود تھا، اصغر کی بدن بولی سے عیاں تھا کہ وہ ایسی کسی نسبت پر راضی نہیں  ہو گا۔ جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے، قدرت نے اس سے چھٹکارا دلا دیا،باوا جی بہت پر سکون ہو گئے۔

منڈی سے رخصت ہوتے شیخ جی کو تلقین کی کہ بنک برانچ بارے بات ہو بھی تو ڈیل ہونے تک اقرار نہیں  کرنا۔
اسے تسلی دیتے فرمایا، کہ شیخ جی بنک یہاں کھلے یا کہیں ساتھ میں، آپکے پوتے کی نوکری انشااللہ پکی ہو گی،پوسٹ آفس کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے جمع ہیں کہ بنک کو ڈیپازٹ دے کے بھی نوکری لی جا سکتی ہے۔
یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ بتدریج اپنے سٹاک کم کرنے کی کوشش کریں ، تا کہ یکمشت سیل نہ کرنے پڑیں ۔
اصغر اندر کی بات سے بے خبر باوا جی کے مزاج میں اچانک در آئی  خوش مزاجی سے محظوظ ہو رہا تھا۔

باپ بیٹا واپس ڈیرے پر پہنچے، منشی کو کھانا لانے کا کہہ کے باوا جی  نے ظہر   پڑھی ۔ کھانا کھا کے ، دوائیں لیں اور بیٹھک کے اندر سونے چلے گئے ۔ اصغر اور منشی کو تاکید کی کہ انہیں ڈسٹرب نہیں  کرنا۔
یہاں آ کے آج پہلی بار باوا جی اتنی گہری اور گھُٹ نیند سوئے کہ چک کی مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر مغرب کی آذان سُن کے جاگے۔ برآمدے میں شام کی چائے پڑے ٹھنڈی ہو چکی تھی، منشی تازہ بنا کے لایا، چائے پی مغربین پڑھی  اور تسبیح پڑھتے اصغر اور منشی کے ہمراہ واک کرتے راجباہ کی پلی تک چکر لگا کے آئے، موڈ خوشگوار تھا دونوں سے ہلکی پھلکی عام امور پر گپ  شپ ہوتی رہی، منشی سے کپاس کی فصل بارے اور اصغر سے بی اے کے امتحان پر انٹرویو کیے۔

بڑھاپا تو ایک تصنع ہے، گزرے سالوں کے تجربات اور مشاہدے بندے کو مصلحت اندیش کیے دیتے ہیں ،باوا جی کو تکلم کے لئے سامع درکار تھا، رات تہجد کے بعد دعا اور گریہ زاری کی تو خود کلامی نصیب ہو گئی۔اصغر کی خاندان میں نسبت از خود ختم ہو گئی تو اس کی شادی کا باب ابھی تو بند ہو گیا، ہاں یہ سوچ آئی  کہ  اسے ازدواجی مسائل پر آگاہی دینی مناسب ہو گی کہ کہیں غلط جگہ پھنس نہ جائے، گاؤں کے معاملات واپس گاؤں جا کے دیکھ لئے جائیں گے، سر ِدست تو یہاں کے مسئلے نپٹانے ہیں، لیکن ان کی تاریں پھر گاؤں کی جائیداد سے جڑی ہیں۔
فجر کی نماز کے بعد ذہن کافی مرتکز تھا، اصغر کی فہم و فراست پر بھروسہ رکھتے اسے اعتماد میں لیا جا سکتا ہے۔جزئیات بارے منشی مانے سے مشاورت ہو سکتی ہے کہ وہ پرانا نمک خوار اور واقف احوال ہے۔
ترجیح یہی موزوں بنی کہ گھر کی بات گھر میں رہے، تو باوا جی اپنا علم،حلم تجربہ اور شرف بتدریج اصغر شاہ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، بڑے بیٹے اور بیٹیاں تو اب اپنی اولاد کے ریفرنس سے ہر شے کو دیکھتے ہیں۔
اصغر کا ذہن ابھی ان الجھنوں اور آلائشوں سے خالی ہے،اسے خوف تو نہیں  کہیں گے، خدشہ کہہ سکتے ہیں کہ اکبر شاہ کے بعد گدی کی جانشینی بھی کسی نے سنبھالنی تو ہو گی،گاؤں میں دربار کی زمین، شاملات اور ملکیت موقع  پر جب اور جیسے ضرورت کی بنیاد پہ  خاندان میں تقسیم ہوتی آ رہی تھی، محکمہ مال کے کاغذات میں بدستور کھاتہ مشترکہ میں متوفی کے نام نکل جاتے اور مولود شامل ہو جاتے،
باوا جی نے ان سب پہلوؤں کا اپنے ذہن میں احاطہ کرنے کے بعد یہ طے کر لیا کہ اصغر شاہ کو بطور منتظم ٹرینڈ کیا جانا ضروری ہے۔

اس کی ترتیب بھی تصور کر لی، یہ بھی سوچ لیا کہ اصغر امتحان دے لے تو اگلے چار چھ ہفتے گاؤں میں اسے ساتھ رکھا جائے، ابھی یہاں کے کام سمیٹے جائیں ۔سر فہرست بنک والوں سے میٹنگ تھی ۔ باوا جی اب پر سکون ہو گئے۔شام کو منشی کو حکم دیا کہ دونوں گھوڑیاں زین ڈال کے تیار کی جائیں ۔
باپ بیٹا دونوں سوار ہو کر نکلے، اپنی زمینوں کا چکر لگایا، پھر راجباہ کی  طرف گئے، وہاں بنے کچے راستے پر دونوں نے ریس لگائی ، چک کے چوک سے واپسی بھی گھوڑیاں دُڑکی چال میں آئیں ، اصغر نے کہیں بھی آگے نکلنے کی سعی نہ کی۔ڈیرے پہ  جب منشی نے باوا جی کو گھوڑی سے اتارا تو بے اختیار کہہ اٹھا۔۔۔“ مُرشد خیر ہووے ، تساں تے انج ای شاہسوار ہو ہجے تک ۔ ماشااللّہ “
باوا جی گھوڑی کی رال تھپتھپائی  ۔ گھوڑی نے پیار سے سر جھکایا۔ جیسے دعا دے رہی ہو، جو ہر گھوڑا اپنے سوار کو سواری کرنے پہ دیتا ہے، یوں لگا کہ بیٹے کے ہمراہ گھڑسواری سے باوا جی کی عمر دس سال کم ہوتے جوانی لوٹ آئی۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *