جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/5

SHOPPING

تنہا گھر:
دروش کے کسی گاؤں میں ہم نماز کے لیے رکے۔وضو کیا تو طبعیت ترو تازہ ہو گئی۔نماز اَدا کی اَور آگے چل پڑے۔گاڑی میں گفتگو،باہر کے مناظرپر تبصرے تھے یا پھر شاہد حفیظ کو ہدایات تھیں۔علاوہ رستے کی دشواریوں پر باتیں ہو رہی تھیں۔
ہمارے بائیں طرف پہاڑ پر،ایک تنہا گھر کے برآمدے میں آگ جل رہی تھی۔مٹی کے چولھے میں خشک لکڑی کی شاخیں جل رہی تھیں۔اس گھر کے گردا گرد دُور تک کوئی اَور گھر نہ تھا۔زندگی کی ساری تنہائیاں،انجمنیں،دُکھ سکھ اَور پڑو س سبھی کچھ یہ گھر خود تھا۔اس تنہا گھر کو دیکھ کر یہ اشعار ذہن میں اُترنے لگے۔
اِک گھر اَور اَکیلی زندگی
کب بھلا آساں ہے بندگی
ذات کی تنہائیاں،افسردگی
گر نہ ہو تو،انجمن ہے زندگی
مٹی اَور کنکریٹ کا ڈھانچہ بھی اک گھر ہے اَور گوشت کا دھڑکتا لوتھڑا بھی اک گھر ہے۔گوشت کا یہ لوتھڑا آباد ہے تو خلوت میں بھی جلوت ہے۔اِنسان پر سب سے مشکل وقت وہ تھا جب پہلی بار اُسے اس بے آب و گیاہ سیارے سے واسطہ پڑا ہو گا۔مٹی کا یہ کچا گھر اک چھوٹی سی صوفیانہ واردات دے کر پیچھے رہ گیا۔
آگے رستے میں ہی ایک مقام ایسا آیا جہاں سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔پتا لگا ایک راستا پشاور کو جاتا ہے اَور دوسرا چترال کو۔وقاص جمیل نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اَور گاڑی چترال والی سڑک پر ڈال دی۔اَب ایک گدلا دریا ہمارے بائیں طرف تھا۔اس کے ہر قطرے میں،قطرے کی استطاعت سے زیادہ مٹی تھی۔ایک اژدھے کی طرح پھنکارتایہ ہمارے متوازی مگر مخالف سمت کو دوڑ رہا تھا۔شام جو دیر سے،ڈیرا ڈالنے آرہی تھی۔اب پوری تیاری کے ساتھ اس وادی میں پہنچ گئی تھی۔ہم مسلسل اس شام میں چترال کو دوڑ رہے تھے۔دریا کے بائیں طرف نگر گاؤں ہے تو، نگر کے اس طرف لب دریا جست کا ایک قلعہ،جو دریا کی ہیبت ناکی سے لاپراہ کھڑا ہے۔صدیوں سے،توپیں،شاہی اصطبل،شاہی لب ولہجے فاخرانہ لباس،شاہی خاندان اَور اس کا ماحول رہے ہوں گے۔ نہ جانے صدیوں سے یہ کتنی ہی شہنشاہیوں کو پال پال کر تھک چکا ہے۔اَور اب اک تھکا ہوا دن اس کے آنگن میں بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا۔سیاہ تاریک چادر نے،قلعے اور وادی دونوں کو ڈھانپ لیا تھا۔پانی اِس کی بنیادوں کو چھو رہا تھا اَور یہ دریا کی طرف پشت کیے اس سے بے نیاز،لاپروا اَور خاموش کھڑا تھا۔ہیبت ناکی اَگر دریا میں ہے تو اس کا جلال بھی کم نہیں۔دریا گدلا سہی مگر اس کے گدلے پانیوں میں گاؤں اَور قلعے کی روشنیاں ڈھلک رہی تھیں۔

گروش چوکی:
گروش چترال سے ۵۳ کلومیٹر پیچھے ہے۔یہاں پھر ایک چوکی پر پڑتال ہوئی۔چوکی پر خوش اَخلاق رویے کے مالک سپاہی نے اشارہ کیا تو گاڑی کے شیشے نیچے اتار لیے گئے۔سوال و جواب شروع ہوگئے۔جیسے استاد بچوں سے سوال پوچھتا ہے۔
پہلا سوال: کہاں سے آئے ہو۔؟
آزادکشمیر سے۔
کتنے لوگ ہیں۔؟
چھ لوگ ہیں۔
گاڑی نمبر کیاہے۔؟
گاڑی نمبر بتایا گیا۔
ایک بندہ شناختی کارڈ دکھائے۔
کارڈ دکھایا گیا۔
اچھا سب لوگ ٹھیک ہیں نا۔؟(اپنائیت سے)
جی ہاں ٹھیک ہیں۔(سب بولے)
آزادکشمیر کہاں سے آئے ہیں۔؟
راولاکوٹ سے۔
اچھا آگے جاؤ۔چوکی پر نمبر درج کراؤ۔
نمبر درج کرایا اَور آگے چل دیے۔

چترال شہر میں رات:
ساڑھے نو بجے چترال پہنچے۔پہلا مسلہ رہائش کا تھا۔ایک مہمان سراے میں گئے تو اَمیر سفر کو وہ اچھی نہ لگی۔وہاں کی چادریں میلی اَور تکیے گندے تھے۔لِہٰذامسترد کر دی گئی۔شہر چودہ اگست کی تیاریوں میں لگا تھا۔ایک اُونچی جگہ پر پاکستان کاپرچم جھل مل کر رہا تھا۔برقی قمقموں سے بنا یہ جھنڈا دُورسے بل کہ شہر کی ہر جگہ سے نظر آر ہا تھا۔رات تھی اَور بانسری کی آواز کہیں سے آرہی تھی۔شہر کا نظارہ رات میں ادھورا تھا۔کوئی بھی سراے ہمارے اَمیر کو پسند نہ تھی۔دریائے چترال رات کی تاریکی میں بہہ رہا تھااَور ہم اس کے کنارے کنارے،آرپار رہائش کی تلاش میں تھے۔اِس کے بائیں کنارے پر آبادی خوب جگ مگ کر رہی تھی۔بانسری کی آوازکبھی ڈوبتی کبھی اُبھرتی۔
وقاص نے تجویز دی۔جو سب کو پسند آئی کہ پہلے کھانا،کھانا چاہیے۔آخر ایک شنواری ہوٹل نے سب کا دل اپنی طرف کھینچ لیا۔دوسری منزل پر رُونق تھی۔ چھ نشستوں پر ہم بیٹھے۔سب سے پوچھا گیا کسے کیا پسند ہے۔آخر باہم مشورے سے ایک دم پخت،ایک یخنی اَورایک دال منگوائی گئی۔کھانا بہت ہی لذیذ لگا۔عرفان اَشرف نے یخنی پینے کے بعد،بچی ہوئی کوکاکولا کی بڑی بوتل آدھی پی لی۔بقول اُن کے یہ اُن کے لیے ضروری ہے۔ہوٹل سفیدروشنیوں میں جگ مگ کر رہا تھا۔
شنواری اَور اِس سے متعلقہ کھانے ثقافتی ہیں۔ ہندوکُش کے ایک وسیع رقبے پر یہ ثقافت تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔یہاں کی لمبی روٹی جس میں،گوشت،سبزی اَور مرچ اِسی کے اندر پکی ہوتی ہے۔بغیر سالن کے کھائی جاتی ہے۔یہ بہت ہی لذت دار اَورطاقت ور سمجھی جاتی ہے۔علاوہ گول بڑی چپاتیاں،روغنی نان،خمیری روٹیاں کھانے والے صرف تنومند پٹھان ہی نہیں بلکہ پورا ہندوکش اَپنے دامن میں یہ خوب صورت ثقافت بسائے ہوئے ہے۔اس ثقافت کا کچھ حصہ اس وقت ہمارے ہوٹل میں سمٹ آیا تھا۔سےّاح اَور مقامی لوگ،یہاں کے ثقافتی کھانے کھا رہے تھے۔میر اَمن نے اپنے قصے میں جن جن کھانوں کاذکر کیا ہے۔اُن میں ایک دم پخت بھی ہے۔شاید انہی ہندوکُش کی وادیوں سے یہ کھانا دلی گیاہو۔آخر وسط ایشیا اَور ہندوکُش سے کتنے ہی لوگ اَپنی ثقافت سمیت دلی میں آتے رہے۔
عرفان اَشرف کی کچی نوخیز گفتگوپر،وقاص جمیل نے انھیں جھاڑ دیا۔مگراَیسے کہ خود لفظوں کو بھی خبر نہ ہوئی۔عرفان اَشرف سنبھل گئے۔شاہد حفیظ مجھے ستانے کے لیے ایک دو جملے کس دیتا۔منصور اسماعیل نے تو،پورے سفر میں اس کام کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔بعد معلو م ہوا بے چارے کو اس کام کی مزدوری بھی نہ ملی۔ہوٹل میں فرش پر نشتوں کے علاوہ،بالکونیوں میں بھی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔یہ فرش سے اُونچی مسندیں ہیں،اِن پر سرخ قالین بچھے تھے اَور گاؤ تکیے لگے تھے۔نشست کا یہ اَنداز یہاں کے ہر اچھے ہوٹل میں ملتاہے۔
یہاں صفائی کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔چھت اَور دیواروں سے لگی سفید روشنیوں کا عکس جودروازوں اَور کھڑکیوں کے شیشوں میں آتا تھا،ماحول کو زیادہ دلکش بنا رہا تھا۔عرفان جو کافی دیر سے خاموش تھے۔اَب پھر سے اَپنے قد کاٹھ،صورت و سیرت کے بارے میں مختلف زاویوں سے سمجھانے پر تُلے بیٹھے تھے۔اَیسے میں عمران رزاق کی شدت سے کمی محسوس ہوئی۔عمران کااَنداز لنگوٹیائی محفل میں بھی سلجھا ہوا ہوتا ہے۔مزاح اَور مذاقِ گفتگو میں بھی آداب مجلس کاخیا ل نہیں جاتا۔وقاص جمیل اَب ایک امیر نہیں صر ف خامو ش تماشائی بنے ہوے تھے۔منصور اسماعیل عرفان اَور شاہد کی اس بازاری اَور بارانی آگ پر اَور تیل ڈالتے جاتے۔عرفان اشرف محفل میں مسلسل سوقیانہ پن بھر ے جارہے تھے۔

رہائش:
کھانا کھانے کے بعد رہا ئش کی پھر تلاش شروع ہوئی۔ہمارا قافلہ ہنگامی زندگی کا حامل ہے۔اسے سب منصوبے طے نہیں کرنے پڑتے بل کہ یہ خود بہ خود حادثاتی طور پر طے ہوجاتے ہیں۔لِہٰذارہائش کے لیے کسی خاص سراے کو پہلے سے آگاہ نہیں کیاگیا تھا۔آخر کار اَلجبران گیسٹ ہاوس ٹھہرنے کے لیے بہترین جگہ ٹھہری۔دو کمرے لیے گئے۔اس کی تین منزلیں ہیں اَور یہ تینوں اس وقت سےّاحوں سے بھری تھیں۔
تیسری منزل پر ایک سیاح گو شت کی بھری بالٹی اپنے سامنے رکھے اسے تیارکر رہے تھے۔میرے سامنے انھوں نے سرخ مرچوں کا ایک بڑا بنڈل بالٹی میں انڈیل دیا،مزید مصالحے ڈالے اور آمیزہ بنانے لگے۔سرخ مرچیں لگا،یہ کھاجا جو ابھی سے سوں سوں کر رہا تھا،کل کسی سیاحتی مقام پر پکنے کے لے تیار ہو رہا تھا۔
رات ساڑھے بارہ بجے کے بعد سوئے،چترال شہر گر م جگہ ہے۔مگر پنکھے گرمی کااَحساس نہیں ہونے دے رہے تھے۔درّہ ِ لواری 10230 فٹ بلند ہے۔وہاں تک مسلسل چڑھائی ہے،پھر مسلسل اترائیاں اَور ان اترائیوں کے پیندے میں چترال شہرآباد ہے۔
دس ضر ب دس کے ان کمروں میں دو چارپائیاں،ایک میز رکھی تھی۔تیسرے آدمی کے لیے دروازہ بند کیجیے اَور ایک پتلی کمر جیسا گدا،جو یہاں دستیاب ہے بچھا دیجیے۔ہم میں سے ہر تیسرے نے اَپنے کمرے میں یہ گدا بچھایا۔اَپنے کمرے میں منصور اِسماعیل اَور شفقت کے ساتھ میں تیسرا تھا۔صبح نماز کے لیے شفقت اَور منصور اِسماعیل اُٹھے۔مَیں سورج نکلے جاگا۔قضا فجر پڑھی پھر سو گئے۔

ناشتا،چترال میڈیکل سٹور اَور سہمی ہوئی اُردو:
تقریباً گھنٹے بھر بعد جاگے تیار ہو کر نیچے آے اَور ناشتاکرنے کے لیے ایک گلی میں داخل ہوگئے۔سادہ سا ہوٹل بھی ثقافتی رنگ لیے ہوئے تھا۔وقاص جمیل کے نادرا کے ساتھی یہاں بھی آن پہنچے۔ضیاالدین صاحب چترال نادرا میں سپروائزر ہیں۔چترال میں کون سی جگہیں دیکھنے لائق ہیں۔؟کِس مقام تک کتنا وقت لگے گا۔؟پہلے کون سی جگہ دیکھیں۔؟کون سا مقام نزدیک ہے۔؟ کون سا دور ہے۔؟اِن سب معلومات کے ساتھ ضیاالدین صاحب نے بتایا دریاے چترال کے کنارے مارخور عصر کے وقت آکر پانی پیتے ہیں۔انھیں مارنے کی اجازت نہیں۔بس آپ قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔کیلاش میں جناح گیسٹ ہاؤس اِن کے بھائی چلا رہے تھے۔لِہٰذا ہم نے جناح گیسٹ ہاؤ س کے منیجر اَور ضیاالدین صاحب کے بھائی کا نمبر لے لیا۔دوسرا ضیاالدین صاحب نے فون کر کے انھیں اطلاع کر دی تھی کہ میرے مہمان آ رہے ہیں۔
ناشتے کے بعد مَیں اکیلا ہی باہر نکل آیا۔کسی میڈیکل سٹور کی تلاش تھی۔جہاں سے معدے کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مناسب ادویات مل سکیں۔چترال کا ہسپتال گلیوں کے بیچوں بیچ گزر کر آخری نکڑ پرآتا ہے۔اس کا باقی حدود اربعہ بَس یہی ہے کہ یہ شہر کے اَندر ہے۔مجھے معدے سے متعلق ایک سیرپ چاہیے تھا۔مگر وہ اس بھرے بازار میں نہیں تھا۔یہ ایک ہربل مشروب تھا۔
ہسپتال اَبھی نہیں کھلا تھا۔ہسپتال کے باہر ایک گلی میں میڈیکل سٹور ایک نہیں تین چار تھے۔اِنہی میں،ایک پر سے متبادل دوائی لی اَور واپس چلا آیا۔گلیوں میں پنساری اَور پتھر فروش بیٹھے تھے۔سارے اَصلی پتھر اَور اَصلی سلاجیت اِنہی کے پاس تھی۔رستے میں شہر کا ہائی سکول پڑتا ہے۔چار دیواری کے َاندر اَسمبلی ہورہی تھی۔ڈھول بھی کچھ دیر بعد بجنے لگا۔شاید یہ بھی اسمبلی کا حصہ ہو گا۔درو دیوار انگریزی تحریروں سے مزین تھے اَور قومی زبان کا منہ  چڑا رہے تھے
نواب صرالدین،والیِ چترال نے اِس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔یہاں انگریزی ذریعہ تعلیم ہے۔چترال میں شرح تعلیم حوصلہ اَفزا ہے۔مگران نیم اَنگریزی درس گاہوں کی وجہ سے قومی زبان ڈیریشن کا شکار ہے۔یہاں تک کہ مملکت پاکستان میں ہر قومی شناخت زیر زمین ہونے کا سوچ رہی ہے۔مارخور،ہاکی اَور اُردو اِس کی ایک آدھ مثالیں ہیں۔
چترال میں آٹھ ماہ قبل بجلی کی آنکھ مچولی ہوا کرتی تھی مگر اَب حالت ٹھیک ہے۔خیبر پختون خواہ خصوصاً چترال اَور کیلاش میں ندی نالوں کی بہتات ہے جو اِنتہائی بلندی سے نشیب کو بہتے ہیں۔اِن کی تیز روی بے بہا بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سوات،پنچ کوڑا،کونَر،چترال اَور دیگر کئی چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کاپانی بجلی پیدا کرنے کو تڑپتا پھرتا ہے۔بس کوئی سویا ہے تو اِس ملک کا دماغ،اِس کے پیروجواں۔پاکستان بجلی کے لیے ملکی وسائل پر بھروسا کر سکتا ہے۔یہاں تک کے اُسے کسی دوسرے پانی کے سہارے کی ضرورت نہیں اَگر حکمت اَور منصوبہ بندی سے کام کیا جاے تو اس ملک کے وسائل کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں ہیں۔ لواری سرنگ مشرف دورمیں تعمیر ہوئی تھی اَگرچہ اس کا منصوبہ کافی پرانا ہے۔اِس سرنگ کی تعمیر کے بعد سیاحت نے کافی زور پکڑا ہے۔

روانگی،ترچ میر کااُجلا منظر:
11:00 بجے ہم کیلا ش کی طرف روانہ ہوئے۔وادی کیلاش کے بارے میں میرا تجسس کئی سال پرانا ہے۔شہر سے لگے پُل سے بائیں طرف دیکھا تو ایک سفید چوٹی کادُھلا دُھلا منظر تھا۔یہ ترچ میر تھی۔ہندوکُش کی سب سے بُلند اَور پیار ی چوٹی۔
اِس کے عقب میں دائیں اَور بائیں نیلگوں آسمان تھا۔جیسے کسی نے شفاف رنگ کے پس منظر میں ایک سفید مقدس گنبد بنا دیا ہو۔یہ مقدس گنبد اُوپر سے قدرے بیضوی ہو گیا تھا۔میں اَو ر عرفان اَشرف اِس گنبد کی تصویر لینے کے لیے گاڑی سے اُتر آے۔صبح کا وقت تھا اِس لیے ترچ میر کا منظر واضح تھا۔دریاے چترال ترچ میر کی طرف سے آتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔تصویریں لینے کے بعد ہم واپس گاڑی میں سوار ہو گئے۔

جاری ہے

SHOPPING

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *