• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • محبتوں اورالفتوں کامرکزومحور،ذاتِ مصطفیﷺ۔۔۔حافظ کریم اللہ چشتی

محبتوں اورالفتوں کامرکزومحور،ذاتِ مصطفیﷺ۔۔۔حافظ کریم اللہ چشتی

اللہ رب العزت نے نسل انسانیت کی رُشدوہدایت کے لئے اپنے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے۔تاکہ اپنے برگزیدہ ہستیوں کے واسطے سے بندوں تک اپنے احکام پہنچائے۔ تمام انبیاء ورسل نے اپنے اپنے دورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔ خالق کائنات اللہ رب العالمین کاکروڑوں ہاشُکرعظیم ہے کہ اس نے ہمیں انبیاء ورسل کے سردارجناب احمدمجتبیٰ محمدمصطفی رسول عربی ﷺکی امت میں پیداکیا۔آپ ﷺخاتم النبین ہیں اورہم آخری امت ہیں۔اس لئے آقائے دوجہاں سرورکون ومکانﷺکی محبت دین حق کی شرط اّول ہے۔
محمدﷺکی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے اسی میں ہواگر خامی توسب کچھ نامکمل ہے۔
محمدﷺکی محبت ہے سندآزادہونے کی خداکے دامنِ توحیدمیں آبادہونے کی

آپﷺکی ذات مبارکہ ہمارے ایمان کامرکزمحوراورحقیقی اساس ہے۔آپﷺکی ذات گرامیِ وجہ تخلیق کائنات اوردین کی اساس ہے۔آپؐ سمیت تمام انبیاء کرام علہیم السّلام کی تعظیم وتوقیربجالاناہرمسلمان پرفرض ہے۔ دین اسلام میں منصب رسالت کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔ منصب رسالت کی یہی مرکزیت اس امرکی متقاضی ہے کہ آپﷺ کی ذات گرامی ہر مسلمان کے لئے تمام محبتوں اورالفتوں کامرکزومحورقرارپائے۔ کیونکہ آپﷺکی محبت کے بغیرہماراایمان نامکمل ہے۔امتِ مسلمہ کی بقاء وسلامتی اورترقی کارازہی اسی امرپرمنحصر ہے۔شاعرمشرق ڈاکٹرعلامہ محمداقبالؒ نے کیاخوب کہا،
مغزقرآن،رُوح ایمان، جان دین ہست حُبِّ رحمۃ للعالمین

قرآن مجیدفرقان حمیدمیں بہت سے مقامات پرصراحتہً اوراشارۃ ًرسول اللہﷺسے محبت کرنیکاحکم دیاگیاہے۔ اورامت محمدیہ ؐکے ہرفردپر لازم کردیاکہ رسول اللہﷺکی پورے طریقے سے تعظیم وتوقیر بجالائیں کیونکہ یہ ایمان کی بنیادی شرط ہے۔توقیرنبیﷺمحض عام سی بات نہیں بلکہ یہ تو ایمانیات اوردین کی اساسیات میں داخل ہے۔”ہم پرلازم ہے کہ آپﷺکی تعظیم وتوقیرمددونصرت اورآپﷺ سے محبت کریں “۔شاعرمشرق علامہ محمداقبال ؒ بارگاہِ رسالت مآب ﷺمیں اپنی عقیدت ومحبت کااظہاریوں کرتے ہیں۔
کی محمدؐسے وفاتونے توہم تیرے ہیں یہ جہاں چیزہے کیالوح وقلم تیرے ہیں

ارشادباری تعالیٰ ہے۔”اے محبوبﷺتم فرمادو!کہ لوگواگرتم اللہ کودوست رکھتے ہوتومیرے فرمانبردارہوجاؤ۔اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔ اورتمہارے گناہ بخش دے گا۔اوراللہ بخشنے والامہربان ہے“۔سورہ اٰل عمران31

اس آیت کریمہ کے شانِ نزول کے بارے میں خزائن العرفان میں آتاہے کہ ایک بارنبی کریم ﷺنے مشرکین مکہ سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی تووہ بولے کہ ہم اللہ کی محبت میں ان کی پوجاکرتے ہیں۔تب اس آیت کریمہ کاشانِ نزول ہوا۔ یایہودِمدینہ کہاکرتے تھے کہ ہم کوحضورﷺکی اتباع کی ضرورت نہیں ہم تواللہ کے بیٹے اوراس کے پیارے ہیں تب یہ آیت کریمہ اُتری۔
صلح حدیبیہ کے دن حدیبیہ کے مقام پرجب حضورﷺنے حضرت سیدناعثمان غنی ؓکوقریش مکہ کی طرف مکہ معظمہ میں پیغام دے کربھیجاکہ وہ معززین مکہ کوجاکربتائیں کہ ہم لڑنے یاجنگ کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم توصرف اللہ پاک کے گھرکی زیارت اورطوافِ کعبہ کے لئے آئے ہیں۔ حضرت سیدناعثمان غنی ؓ آپﷺکایہ پیغام لیکربحیثیت قاصد قریش مکہ کی طرف چلے گئے۔جب آپ ؓمکہ معظمہ میں داخل ہوئے توآپکی ملاقات ابان بن سعیدبن العاص سے ہوئی۔آپؓ انکے ساتھ انکے گھرروانہ ہوگئے۔آپؓ نے ابان بن سعیدبن العاص کے ساتھ حضورﷺکاپیغام ابوسفیان اوردیگرمعززین مکہ کوجاکر سنایا۔اُس پیغام کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سال تومسلمانوں اورانکے آقا(ﷺ)کومکہ مکرمہ نہیں آنے دیں گے۔آپ ؓ سے انہوں نے کہاہاں اگرتم طواف کعبہ کرناچاہتے ہوتوتمہیں اجازت ہے قربان جاؤں سیدناعثمان غنیؓ آپؓ کے عشق رسولﷺ پر!آپؓ نے فرمایاکہ میں اسوقت تک کعبہ شریف کاطواف نہیں کروں گاجب تک میرے آقاﷺاوردیگرصحابہ کرامؓ طواف کعبہ شریف نہ کرلیں۔شاعرمشرق،مفکراسلام علامہ محمد اقبالؒ ربط رسالت اورمحبت امام الانبیاء خاتم الانبیاء کوتمام عبادات کی روح قراردیتے ہوئے بارگاہ رسالت مآبﷺ میں عرض کرتے ہیں۔
شوق تیراگرنہ ہومیری نمازکاامام میراقیام بھی حجاب میراسجودبھی حجاب

معززقارئین کرام!آج کے پُرفتن دورمیں ایک بہت بڑی سازش کے تحت یہودونصاری جوازل سے دین ِ اسلام اورمسلمانوں کے دشمن آرہے ہیں۔مسلمانوں کے جذبات ایمانی کوڈھیرکرنے اورامت مسلمہ کے دلوں سے روح ِ محمدﷺکونکالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔کیونکہ دشمنانِ اسلام پریہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ اگرمسلمانوں کوشکست دینی ہے توان کے دلوں سے روحِ محمدﷺ (العیاذباللہ)کونکالناہوگا۔کیونکہ مسلمانوں کویہی نسبت رسالت مآبﷺسے محبت کی قوت ان کوکسی میدان میں گرنے اورمرنے نہیں دیتی۔ڈاکٹرعلامہ اقبال ؒ نے کیاخوب کہا۔
یہ فاقہ کش جوموت سے ڈرتانہیں ذرا، روحِ محمدﷺاس کے بدن سے نکال دو

ارشادِباری تعالیٰ ہے۔”آپﷺفرمادیں اگرتمہارے باپ اورتمہارے بیٹے اورتمہارے بھائی اورتمہاری عورتیں اورتمہاراکنبہ اورتمہاری کمائی کے مال اوروہ سوداجس کے نقصان کاتمہیں ڈرہے اورتمہارے پسندکامکان یہ چیزیں اللہ اوراس کے رسول اوراس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں توراستہ دیکھویہاں تک کہ اللہ اپناحکم لائے اوراللہ فاسقوں کوراہ نہیں دیتا“۔(سورۃ التوبہ24)
اس آیت کریمہ میں اللہ پاک انسان نے کوآگاہ کردیاہے کہ اے انسان تیرے دل کہ اندرجووالدین،اولاد،بھائی،بیوی،خاندان،مال وزر، تجارت اورمکان وغیرہ سب چیزوں کی فطری محبت ہے۔پریادرکھ ان سب چیزوں کی محبت تیرے اندراگرمیری محبت اورمحبوب ﷺکی محبت سے بڑھ جائے توتُوسمجھ لے کہ خسارہ میں داخل ہوچکاہے۔اوربہت جلدہی میراغضب وعذاب تجھے اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ثابت یہ ہواکہ بندہ مومن کے لئے اللہ اوراس کے محبوب ﷺکی محبت نہ صرف فرض ہے بلکہ کائنات کی ہرچیزسے مقدم اور ہمارے ایمان کی بنیادہے۔شاعرمشرق علامہ محمداقبالؒ کی روح تڑپی اورپکاراُٹھے۔

قوت عشق سے ہرپست کوبالاکردے دہرمیں اسمِ محمدﷺسے اُجالاکردے
ارشادباری تعالیٰ ہے۔”یہ نبی مسلمانوں کاان کی جان سے زیادہ مالک ہے“۔سورۃ الاحزاب 6
حضرت انسؓ سے مروی ہے آپﷺنے ارشادفرمایا”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتاجب تک کہ میں اُسے اُ س کے والد (والدین)اس کی اولاداورتمام لوگوں سے محبوب ترنہ ہوجاؤں“۔(متفق علیہ)

حضرت عبدللہ بن حشام ؓ سے روایت ہے کہ”ہم نبی کریم ﷺکے ساتھ تھے۔ اورآپﷺنے حضرت عمربن خطابؓ کاہاتھ تھاماہواتھا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیایارسولﷺ!آپ مجھے اپنی جان کے سواہرایک چیزسے زیادہ محبوب ہیں اس پرآپﷺنے فرمایا”نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے(تم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے)یہاں تک کہ میں تمہیں اپنی جان سے بھی محبوب ترنہ ہوجاؤں۔حضرت عمرفاروقؓ نے عرض کیایارسول ﷺ!اللہ رب العزت کی قسم!اب آپﷺمجھے اپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں توآپﷺنے فرمایا!اے عمرؓ!اب تمہاری محبت کامل ہوئی۔(بخاری شریف،کتاب الایمان)
لگاتے ہیں نعرہ یہ ایمان والے محمدﷺہمارے بڑی شان والے

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپﷺنے ارشادفرمایا”اللہ تعالیٰ سے محبت کروان نعمتوں کی وجہ سے جواُس نے تمہیں عطافرمائیں اورمجھ سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے سبب محبت کرواورمیرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطرمحبت کرو“۔(ترمذی،الحاکم فی المستدرک)

اللہ کے محبوب ﷺسے صحابہ کرام علہیم الرضوان کوبے پناہ عشق ومحبت تھی۔محبت کاعالم یہ تھاکہ محبت مصطفیﷺمیں جان ومال اولادکی پرواہ تک نہ ہوتی بس رخِ مصطفیﷺکاجلوہ دیکھ کردنیاکی تمام مصیبتوں،پریشانیوں اورتکالیف کاازالہ کرتے تھے۔جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصرہے۔

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں جب غزوہ اُحدکادن تھاتواہل مدینہ سخت تنگی وپریشانی میں مبتلاہوگئے۔کیونکہ انہوں نے (غلط فہمی اورمنافقین کی افواہیں سن کر)سمجھاکہ محمدمصطفیﷺکو(العیاذباللہ)شہیدکردیاگیاہے۔یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں چیخ وپکارکرنیوالی عورتوں کی کثیرتعدادجمع ہوگئی۔یہاں تک کہ انصارکی ایک صحابیہ عورت پٹی باندھے ہوئے باہرنکلی اوراپنے بیٹے،باپ،خاونداوربھائی (کی لاشوں کے پاس)سے گزرے،راوی کہتے ہیں مجھے یادنہیں کہ اس نے سب سے پہلے کس کی لاش دیکھی پس جب وہ ان میں سے سب سے آخری لاش کے پاس سے گزری توپوچھنے لگی۔یہ کون ہے؟لوگوں نے کہاتمہارا،باپ،بھائی،خاونداورتمہارابیٹاہے۔(جوکہ شہیدہوچکے ہیں)وہ کہنے لگی (مجھے صرف یہ بتاؤکہ)رسول اللہﷺکس حال میں ہیں؟لوگ کہنے لگے آپﷺتمہارے سامنے موجودہیں۔ یہاں تک کہ اس عورت کوحضورﷺ تک پہنچادیاگیاتواُس عورت نے (شدتِ جذبات سے)آپﷺکے کرتہ مبارک کاپلوپکڑلیااورعرض کیایارسول اللہﷺ!میرے ماں باپ آپﷺپرقربان ہوں۔ جب آپ ﷺسلامت ہیں تومجھے اورکوئی دکھ نہیں۔(یعنی یارسول اللہﷺ!آپ پرمیراباپ،بھائی،خاونداوربیٹاسب کچھ قربان ہیں۔ایسی ہزاروں جانیں آپﷺکی ذاتِ مبارکہ پرنچھاورکردی جائیں توبھی کم ہیں)۔(طبرانی فی المعجم الاوسط)

کروں تیرے نام پہ جاں فدا،نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا

دوجہاں سے بھی نہیں جی بھراکروں کیاکروڑوں جہاں نہیں ۔

ام المومنین سیدتناعائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک صحابی آپﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوکر عرض کرنے لگا۔یارسول اللہﷺ!آپ مجھے میری جان،اہل وعیال اوراولادسے بھی زیادہ محبوب ہیں۔جب میں اپنے گھرمیں ہوتاہوں توبھی آپﷺکوہی یادکرتارہتاہوں اوراس وقت تک چین نہیں آتا۔جب تک حاضرہوکرآپﷺکی زیارت نہ کرلوں لیکن جب مجھے اپنی موت اورآپﷺکے وصال مبارک کاخیال آتاہے۔ توسوچتاہوں کہ آپﷺتوجنت میں انبیاء کرام علہیم السلام کے ساتھ بلندترین مقام پرجلوہ افروزہوں گے اورجب میں جنت میں داخل ہوں گاتواپنے درجے میں ہونگالہذامجھے خدشہ ہے کہ کہیں میں آپﷺکی زیارت سے محروم نہ ہوجاؤں۔ آپﷺنے اس صحابی کی اس بات پرسکوت فرمایا۔یہاں تک کہ جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیت مبارکہ لیکراُترے ”اورجواللہ اوراس کے رسولﷺکاحکم مانے تواُسے ان کاساتھ ملے گاجن پراللہ تعالیٰ نے فضل کیایعنی انبیاء،اورصدیق،اورشہیداور نیک لوگ یہ کیاہی اچھے ساتھی ہیں“پس آپﷺنے اس شخص کوبلایااوراُسے یہ آیت کریمہ پڑھ کرسنائی۔(سورۃ النساء69،طبرانی فی المعجم الاوسط،درِمنثور،تفسیرابنِ کثیر)

حضرت مسوربن مخرمہ اورمروانؓ سے روایت ہے کہ عُروہ بن مسعود(جب بارگاہ رسالت مآبﷺمیں کفارکاوکیل بن کرآیاتو)صحابہ کرام علہیم الرضوان کوبغوردیکھتارہاکہ جب بھی آپﷺاپنالعاب دہن پھینکتے توکوئی نہ کوئی صحابی اُسے اپنے ہاتھ پرلے لیتااوراُسے اپنے چہرے اوربدن پرمل لیتاہے۔جب آپﷺکسی بات کاحکم دیتے ہیں توفوراًتعمیل کی جاتی ہے۔جب آپﷺوضوفرماتے ہیں تولوگ آپﷺکے استعمال شدہ پانی کوحاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پرٹوٹ پڑتے ہیں۔جب آپﷺگفتگوفرماتے ہیں۔توصحابہ کرا علہیم الرضوان اپنی آوازوں کوپست کرلیتے ہیں اورانتہائی تعظیم کے باعث آپﷺکی طرف نظرجماکربھی نہیں دیکھتے۔اس کے بعدعُروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیااوران سے کہنے لگا۔اے قوم،اللہ کی قسم!میں (عظیم الشان)بادشاہوں کے درباروں میں وفدلے کرگیاہوں۔میں قیصروکسریٰ اورنجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضرہواہوں۔لیکن خداکی قسم!میں نے کوئی ایسابادشاہ نہیں دیکھاکہ اس کے درباری اس کی اسطرح تعظیم کرتے ہوں۔جیسے محمدﷺکے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔(بخاری شریف،مسنداحمدبن حنبل،ابن حبان)

حضرت قاسم بن محمدؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺکے اصحاب میں سے ایک صحابی کی بینائی (رسول اللہ ﷺکی جدائی میں)جاتی رہی تولوگ ان کی عیادت کے لئے گئے (جب ان کی بینائی ختم ہونے پرافسوس کااظہارکیا)توانہوں نے فرمایا۔میں ان آنکھوں کوفقط اس لئے پسندکرتاتھا۔کہ ان کے ذریعے مجھے میرے آقاﷺکادیدارنصیب ہوتاتھا۔اب چونکہ آپﷺکاوصال ہوگیاہے۔اس لئے اگرمجھے چشم غزال(ہرن کی آنکھیں)بھی مل جائیں توکوئی خوشی نہ ہوگی۔(کیونکہ اب دیدارِمحبوبﷺکے لئے مجھے ان ظاہری آنکھوں کی ضرورت نہیں)۔بخاری شریف،طبقات ابن سعد

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا”میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنیوالے وہ لو گ ہیں جومیرے بعدہوں گے۔ ان میں سے ایک شخص کی یہ آرزوہوگی کہ کاش وہ اپنے تمام اہل وعیال اورمال ودولت کوقربان کرکے میری زیارت کرلے۔(مسلم شریف،مسنداحمدبن حنبل)

امام ابن سیرین ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے حضرت عبیدہؓ کوبتایاکہ ہمارے پاس آپﷺکے کچھ موئے مبارک ہیں جنہیں ہم نے حضرت انسؓ سے یاحضرت انسؓ کے گھروالوں سے حاصل کیاہے۔حضرت عبیدہ ؓ نے فرمایا”اگران میں سے ایک موئے مبارک بھی میرے پاس ہوتاتووہ مجھے دنیاکی ساری نعمتوں سے کہیں زیادہ محبوب ہوتا۔(بخاری شریف)

انسان توانسان،حیوانات،چرند،پرند،درخت،پہاڑبلکہ کائنات کی ہرچیزاللہ کے محبوبﷺسے محبت اورآقا ﷺکی اطاعت کرتے۔ حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے حضورنبی کریم ﷺکی خدمت اقدس میں عرض کیا یارسول اللہﷺ! کیامیں آپ ﷺکے تشریف فرماہونے کے لئے کوئی چیز نہ بنوادوں؟کیونکہ میراغلام بڑھئی ہے آپ ﷺنے فرمایااگرتم چاہوتو(بنوادو)اس عورت نے آپ ﷺکے لئے ایک منبربنوادیاجمعہ کادن آیاتونبی کریم ﷺاسی منبرپرتشریف فرماہوئے جوتیارکیاگیاتھالیکن(حضورنبی اکرم ﷺکے منبرپر تشریف رکھنے کی وجہ سے)کھجورکاوہ تناجس سے ٹیک لگاکرآپ ﷺ خطبہ ارشادفرماتے تھے(ہجروفراق رسول ﷺمیں)چلا(کررو) پڑا یہاں تک کہ پھٹنے کے قریب ہوگیایہ دیکھ کرنبی کریم ﷺمنبرسے اترآئے اورکھجورکے ستون کوگلے سے لگالیا ستون اس بچہ کی طرح رونے لگاجسے جھپکی دے کرچپ کرایاجاتاہے یہاں تک کہ اسے سکون آگیا۔ (بخاری،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

آج ہم محبت رسولﷺکازبانی دعویٰ توکرتے ہیں۔لیکن سنت مصطفیﷺپرعمل پیرانہیں ہوتے۔حقوق اللہ اورحقوق العبادادانہیں کرتے۔جس کی وجہ سے ذلیل ورسواہورہے ہیں۔اللہ کے محبوب ﷺسے حقیقی عشق ومحبت کے عملی ثبوت کے لئے ہمیں سیرت مصطفیﷺکواپنااوڑھنابچھونابناناہوگا۔کسی شاعرنے کیاخوب کہا۔
عشق ِ سرکارﷺکی اک شمع جلالودل میں بعدمرنے کی لحدمیں بھی اُجالاہوگا۔
اللہ پاک ہمیں صراط مستقیم کے راستے پرچلنے اوراس پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔تاکہ ہم بروزقیامت نبی کریمﷺکی شفاعت اورتیری جنت کے حقداربن جائیں۔آمین

Avatar
حافظ کریم اللہ چشتی پائ خیل
مصنف، کالم نگار، اسلامی سیاست کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *