کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط 18

ڈاکٹر ٹامس گرےؔ سے میری پہلی ملاقات انڈیا میں ہوئی تھی۔ یہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لائے تھے، جہاں میں بھی ہندوستانی شرکاء کے ساتھ شامل تھا۔ اتفاق سے ہم دونوں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ساتھ ساتھ کمروں میں ٹھہرے تھے۔ پروگرام تو صرف تین دنوں کا تھا، لیکن میرے اصرار پر انہوں نے حامی بھر لی تھی کہ وہ میرے ساتھ چندی گڑھ یونیورسٹی چلیں گے جس کے بارے میں انہوں نے بہت کچھ سن رکھا تھا، بشرطیکہ میں ایک دن کے لیے ٹیکسی پر تاج محل دیکھنے کے لیے ان کے ساتھ آگرہ چلوں۔میں فوراً تیار ہو گیا، ا س لیے بھی کہ آگرہ میں بیسیوں بار جا چکا تھا کیونکہ میری بہن وہاں رہتی تھیں اور ا س لیے بھی کہ میری ایک old flame ہر برس میرے آنے کی راہ دیکھتی تھی۔

ٹامس گرے میرے ساتھ ایک ہفتہ رہے لیکن اس ایک ہفتے میں ایک ایسی دوستی کی بنیاد پڑی، جسے ہم دونوں نے تا عمر نبھانا تھا۔
جب میں واشنگٹن ڈی سی میں مختلف زبانوں کے میل جول کے ساتھ تقابلی اد ب کا کام کر رہا تھا، تو وہ ایک وفاقی تعلیمی ادارے کے سربراہ کے طور پر ایک نئی حیثیت میں مجھ سے ملنے آئے اور انہوں نے ایک پراجیکٹ کی پیشکش کی، جس کی فنڈنگ ان کا ادارہ کرنا چاہتا تھا، لیکن تین دیگر سکالرز کے ساتھ کام مجھے کرنا تھا۔ یہ کام بر صغیر کی تین بڑی زبانوں، ہندی، بنگالی اور اردو کے شعری ادب کے مطالعے، موازنے اور تجزیے کا تھا، جس میں تاریخی، ثقافتی، لسّانی اور سیاسی حد بندیوں کے حوالے سے یہ دیکھنا مطلوب تھا کہ کیا وجہ ہے یہ زبانیں اتنی بڑی ہوتے ہوئے بھی اس حد تک ترقی پذیر نہیں ہو سکیں جس کی توقع کی جا سکتی تھی۔۔۔اس پراجیکٹ  کی غرض و غائیت چاہے امریکی حکومت کی کسی پالیسی کے تحت ہو، اس سے مجھے کوئی علاقہ نہیں تھا۔ پراجیکٹ میری مرضی کے عین مطابق تھا، اور میں نے فوراً کانٹریکٹ پر دستخط کر دیے۔

دو برسوں تک اس پراجیکٹ کے تحت کام کرنے کے بعد اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اور اس کے اختتامی اجلاس کے وقت ڈاکٹر ٹامس گرے نے میرا جو انٹرویو لیا،وہ کئی جرائد میں جگہ پا چکا ہے، لیکن ڈاکٹر اے عبداللہ کی مرتب کی ہوئی کتاب ”ستیہ پال آنند کی نظم نگاری“ میں بھی اس کا انگریزی متن موجود ہے۔ اس رپورٹ میں دیگر امور کے علاوہ اردو کے حوالے سے صنف غزل کے ساتھ اس کے شعری سرمائے کی  وابستگی کے بارے میں (جو چار صدیوں تک کسی بھی دوسری صنف ِشعر کے لیے سم ِ قاتل ثابت ہوتی رہی ہے) بحث ہے۔ فیض احمد فیض کی شاعری میں ترقی پسند تحریک کی روشن شمع کے باوجود اس کا کلیتاً انحصار صنف غزل سے مستعار استعاروں اور مضامین کے ذو جہتی معانی پر سیر حاصل تبصرہ ہے۔ فیض کے بارے میں ان سے میری آخری ملاقات کا ذکر ہے اور اس ملاقات کے فوراً بعدخلق ہوئی میری نظم ”ایک نادار ملک کا شاعر“ جوں کی توں موجود ہے۔ یہ اسی رپورٹ کی بنا پر تھا کہ کچھ یونورسٹیوں میں میرے مرتب کیے گئے کمپیریٹو لٹریچر کے کورسز میں غزل (بشمولیت میرؔ اور غالبؔ) کو جزوی اور قلیل تر حیثیت میں جگہ فراہم ہوئی کہ ان کے ایک ایک شعر کے فرداً فردا ً تراجم یا تو بالکل ناقص تھے، یا ان اشعار میں (خصوصی طور پرغالبؔ میں) مدوریت اور ملفوفیت کا عنصرشعر کے’ظرف‘ سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک ایک شعر کے ترجمہ کے لیے یا تو ایک ایک صفحہ درکار تھا، یا حواشی ضروری تھے، جو ’انڈر گریجویٹ‘ سطح پر تین کریڈٹس کے ان کورسز میں اردو کے حصے (بر صغیر کی تین زبانوں کے حصے کا ایک تہائی) پر بوجھ بن جاتے اور جیسا کہ طلبہ کا قاعدہ ہے، وہ اس پل ِصراط کو عبور کرنے کے بجائے دوسرے حصص یعنی ہندی یا بنگالی کے شعرا پر توجہ مبذول کر کے اپنا کام پورا کر لیتے۔

یہ بھی اسی رپورٹ کی وجہ سے ہوا کہ ہم لوگ (پراجیکٹ کے رفقائے کار) اردو نظم کی بے حد سست رفتار ترقی پراس کی وجوہات تلاش کرنے کے بعد اظہار خیال کرسکے۔ ایک حاشیہ نوشت Marginal Note جو لکھا گیا، اسے بجنسہ نقل کر کے میں یہ سمجھوں گاکہ اس فرض سے میں مبرا ہو گیا ہوں، لیکن یہ خود نوشت سوانح اس کی اہل یقیناً  نہیں ہے کہ پوری رپورٹ یا اس کا وہ حصہ ہی جو نظم کے بارے میں ہے، یہاں اقتباس کی صورت میں دے دیا جائے۔دونوں باتیں ممکن نہیں ہیں۔
یہاں میں وہ’حاشیہ نوشت‘ درج کر رہا ہوں جو اس رپورٹ کا ایک حصہ تھی اور میرے ذاتی انحرافی تبصرے کی صورت میں شامل کی گئی تھی۔۔

(اقتباس)آج اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اختتام سے پیچھے مُڑ کر اگر دیکھیں تو ہمیں انیسویں صدی کے دوسرے نصف حصّے کے شروع ہونے کے بعد سے ہی نظم کے حوالے سے کچھ نام ایسے ملتے ہیں جن کی بدولت یہ صنف کروٹیں بدلتی رہی ہے، لیکن اس تبدیلی کا احساس شاید اس لیے کسی کو نہیں ہو کہ اوّل تو یہ تبدیلی بے حد آہستگی سے وقوع پذیر ہوتی رہی ہے اور دوئم یہ کہ ہر اُس منظوم کلام کو نظم کا نام دے دیا گیا جو صنف ِ غزل کے دائرے سے خارج تھی۔ اس طرح نذیر، حالی اور آزاد سے شروع کرتے ہوئے اقبال، اختر شیرانی، جوش اور حفیظ جالندھری تک چہ آنکہ نظم اپنا نک سک درست کرتی رہی ہے، لیکن یہ تبدیلی اس لیے چشم داشت نہ ہو سکی کہ یہ اسی روایت کے خول میں بند رہی جو ہمارے دیرینہ شعری ورثے کا حصہ تھی۔ عظمت اللہ خان نے ہندوی چھندوں کے فیضان سے گیت نُما نظمیں لکھیں۔ قوافی کو اضافی سمجھ کر شرر نے بے قافیہ نظمیں لکھیں۔ اختر شیرانی کے علاوہ اختر جونا گڑھی نے سانیٹ لکھے۔تبدیلی کا یہ عمل اس قدر سست رو تھا، قدامت اور روایت سے وابستگی اس قدر مضبوط تھی، اور بیسویں صدی کے پہلی چار دہائیوں تک اردو شعرا مغرب میں نظم کے حوالے سے رو نما ہو رہی تبدیلیوں سے اس قدر نا بلد تھے، کہ آج جب ہم ایک نگاہ ِباز آفرین ان پر ڈالتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شعری تخلیقات کو کلام ِ منظوم تو کہا جا سکتا ہے، نظم نہیں۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ اقبال، اپنے مشرقی تاریخی شعور اور شعری حسیّت سے مملو، اس زمانے میں جرمنی میں مقیم تھے جب انگلستان میں امیجسٹ شاعروں کی پہلی پود پروان چڑھ رہی تھی۔ ایذرا پاؤنڈ اور اس کے زیر اثر لکھنے والے Richard Aldington, T.E. Hulme, F.S. Flint, E.E.Cummings اور دوسرے کئی شعرا ٹی۔ایس۔ایلیٹ اور امیجسٹ شعرا کی دوسری نسل کے لیے راستہ ہموارکر رہے تھے۔خود جرمنی میں انیسویں صدی کے آخری برسوں میں ہی سمبلزم اور ایکسپریشن ازم کی تحاریک اپنی جگہ بنا چکی تھیں۔ کچھ نام جو دونوں فہرستوں میں شامل کیے جا سکتے ہیں ان میں Georg Trakl, Georg Heym, Gothifried Benn, August Stramm اور کئی دوسرے تھے۔ اگر فرانس اور اٹلی کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا جائے تو بین الاقوامی شہرت رکھنے والے جو نام ملتے ہیں ان میں Williers de Auguste, Stephane Mallarme, Arthur Rimbaud, Emile Verhaeren, Jean Moreas, Jules Lafourgue, Maurice Maeterlinck, Paul Valery, Renee Vivien وغیرہ نام شامل ہیں۔ (ان میں سے کچھ لوگ بیسویں صدی کے وسط تک زندہ رہے)

ایک جائز سوال جو اٹھتا ہو وہ یہ ہے کہ کیا علامہ اقبال کی نظرمیں اس وقت کی ان تحاریک کے مینی فیسٹو نہیں آئے ہوں گے؟ حیرت یہ ہے کہ اقبال کی تحریروں میں کہیں بھی اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا کہ وہ سمبلزم سے واقف تھے۔ ان کی شاعری میں بھی جہاں نیتشے اور مسولینی کا ذکر ایک مختلف تناظر میں ملتا ہے کہیں بھی سمبلزم یا ایکسپریشن ازم کی تائید یا تردید نہیں ملتی۔اس سے یہ نتیجہ اگر اخذ کر لیا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اقبال جدید شاعری میں وقوع پذیر ہونے والے لسّانی، معروضی، جمالیاتی اور اسلوبیاتی تجربوں سے جیسے کورے کے کورے گئے تھے ویسے ہی واپس آ گئے۔اقبال سے یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے (کہ ”اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں: نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے!کے بمصداق) وہ اپنے ”ذہن“ کی رسائی کو اس قسم کے ’گندے‘ یورپی اثرات سے ”پاک“ رکھنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

یہ تھا تو ایک جملہء  معترضہ ہی لیکن اس جملے کے حوالے سے یہ نتیجہ نکالنے میں مجھے کوئی پس و پیش نہیں کہ اس خاص صنف کو، جسے (نظمیہ کلام سے مختلف) ”نظم“کہا جا سکتا ہے، بد قسمتی سے اردو میں وارد ہونے میں کچھ دہائیاں اور لگ گئیں اور ”جب تک اختر شیرانی کی بیمار رومانی حسیّت کے کیچڑ سے رینگ کر ن۔م۔راشد اور میرا جی باہر نہیں آ گئے، یہ صنف اردو میں متعارف نہیں ہوئی۔“

اس دور میں نظم نگار شعرا کی روایت سے وابستگی اس حد تک راسخ رہی کہ کسی بھی قماش کی گہرائی یا پیچیدگی کو،جو نظم کی ترسیل میں رتّی برابر بھی مانع ہو، برداشت نہیں کیا گیا۔ مثلاً نظم کا عنوان ہی بیشتر حالتوں میں وہ آیئنہ تھا جس میں نظم کے موضوع کی ہی نہیں، بلکہ مضمون کی شکل بھی دیکھ کر پہچانی جا سکتی تھی۔ہیّت اور اسلوب ِ بیان بھی،جو اس وقت مروّج تھے، شاعر کو اس بات سے دور رکھتے تھے کہ وہ کسی ذہنی ضرورت کے تحت ان سے انحراف کرے۔ اکہری نظم اس حد تک صریح اور شفّاف تھی کہ اس کا، ارسطوکے Poetics میں پیش کردہ قول کے مطابق، ڈرامے کی صنف سے مختلف ہوتے ہوئے بھی،آغاز، وسط اور انجام، A definite beginning, a definite middle and a definte endکو دور سے ہی دیکھ کر پہچانا جا سکتا تھا۔ ایک براہ راست مساوی الزاویہ، منطق و استدلال کی رو سے ٹھونک بجا کر پرکھی ہوئی نظم، ہی اس پیمانے پر پوری اترتی تھی جس سے شاعر کے موضوع، احساس اور تجربے کو ماپا جا سکتا تھا۔
میرا جی اورن۔م۔راشد نے جو اثرات مغربی شعرا سے قبول کیے ان میں سر ِ فہرست پابند نظم کو آزاد نظم کی صورت میں ڈھالنا تھا اور یہ تبھی ممکن تھا اگر نظم کے مصارع کو ”مصرعے“ نہ سمجھ کر اسی طرح ہی”سطریں“ مان لیا جائے جس طرح نثر میں تسلیم کیا جاتا ہے، اور ان سطروں کو بڑی اور چھوٹی اکائیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ نفس ِ مضمون بھی قائم رہے اور مروّجہ بحر کے ارکان بھی قربان نہ ہوں۔ ان ارکان کو بڑا اور چھوٹا کرنے کے عمل میں بھی یہ یقینی بنایا جائے کہ بحر سے انحراف نہ ہو۔

یہ تبدیلی خود میں ہی کوئی ایسا انقلاب نہیں تھی جس سے نظم کی شکل و شباہت کے علاوہ اس کی روح تک ہی بدل جاتی۔ یہ درست ہے کہ اس سے نظم کی مروجہ ظاہری شبییہ میں کچھ رد و قدح بھی ہوئی اوررد و بدل بھی ہوا، لیکن اس کے باوجود اس کا آہنگ اپنی اصلی حالت اور آخری لفظ تک ایسے ہی قائم رہا جیسے فارسی عروض کے مطابق پہلے سے ہی جاری و ساری تھا۔ اردو میں اس سے پیشتر جو ’آزاد نظم‘ گاہے بگاہے دیکھنے کو ملتی تھی اس میں مصارع کو چھوٹا بڑا کرنے کا ہنر شامل تھا۔ شرر ؔسے چلتے ہوئے تصدق حسین خالدؔ تک پہنچتے پہنچتے کچھ رسائل میں ایسی نظمیں دیکھنے کو مل جاتی تھیں۔ لیکن نظم ابھی تک اس بیانیے کے شکنجے سے باہر نہیں نکلی تھی جس میں ہر واقعہ پہلے واقعے سے منسلک ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک ایسی زنجیر متشکل ہوتی ہے جس میں کہیں کہیں کچھ غیر اہم حصے صرف خانہ پُری کی غرض سے ہی قاری کے اپنے تخیل کی کارکردگی پر چھوڑ دیے  جاتے تھے۔

اس دور کی نظم کے اکہرے پن کے بارے میں موضوع کی مضمون تک اور پھر وہاں سے نظم کے متن تک یک سمتی سبک گامی کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اس سیاق و سباق میں کچھ بنیادی باتوں پر غور کر لیا جائے۔ ان مبادیات میں سر فہرست یہ مغالطہ یاسہو ِ تنقید ہے کہ موضوع کسی بھی نگارش کا اہم ترین جزو ہے اور اس کی ہم آہنگی کسی بھی نثری یا شعری فن پارے کی کامیابی کی شرط ِ اولیں ہے۔علامہ اقبال کے دور میں یہ خیال نہ صرف جاگزیں ہوا بلکہ اسے تقویت بھی ملی کہ نظم کی ہیّت، اور شاعر کے انداز ِ بیان یعنی tone and tenor میں جس نسبت سے ہم آہنگ عوامل کار فرما ہوں گے،اسی نسبت سے ترسیل کی سطح پر موضوع کو کامیابی ملے گی۔ اس fallacy of the theory of criticism میں جو ذہنی بطلان ہے اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اول یہ کہ فن کا کوئی قائم بالذات، خود میں ہی مکمل اور خود پر ہی حاوی یاغیر مطیع وجود نہیں ہے۔ اس کی حقیقت خود کفیل نہیں ہے۔اپنی صداقت کو تسلیم کروانے کے لیے فن ۱یسے ہی خارجی عوامل کا دست نگر ہے، جیسے سائنس او رٹیکنالوجی ہیں۔ اس لحاظ سے فن ایک ذریعہ ہے جسے مقصدیت کی سطح پر کسی سماجی، معاثرتی، سیاسی، مذہبی یا معاشی نصب العین تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوئم یہ کہ خّلاقیت کی قیمت پر بھی اگر ترسیل میں کامیابی ہو تو یہ قیمت ادا کر دینا چاہیے۔ پہلی سطح پر نظم کی اس تحریک جس سے ن۔م۔راشد اور میرا جی اور ان دونوں کے بعدآدھ درجن کے قریب شعرا نے اثر قبول کیا،یہ ثابت کر دکھایا کہ اگر سائنس خارجی عوامل سے بشر اور کائنات کے تعین میں امداد لے سکتی ہے تو فلسفے کی طرح فن بھی ’فلسفے اور سائنس کے متوازی ایک ایسی کائنات متشکل کر سکتا ہے اور اس کے لیے اسے خارجی عوامل کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ:اقتباس القط)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *