وادی غذر، یاسین ویلی کا ایک انوکھاسفر۔۔امیر جان حقانی/سفرنامہ

اقسامِ سفر!

سفر دو قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ جو تفریح کی غرض سے کیا جاتا ہے اور دوسرا وہ جو کسی ضرورت اور مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہم نے یاسین ویلی کا جو سفر کیا وہ نہ سیر و سیا حت کی غرض سے کیا اور نہ کسی نجی و ذاتی ضرورت کے تحت۔ ہمار ا یہ سفریاسین محض ایک مقدس مشن کی پکار تھی اور ایک دینی فریضہ کی تکمیل تھی اور جب کسی سفر کا محرک یہ مقدس و پاک جذبہ ہو تو مسافر اس کی صعوبتوں،مشکلات اور آزمائشوں کو خاطر میں نہیں لاتا   اور مشن اورفرض کی بطریق احسن ادائیگی خود اپنا صلہ بن جاتی ہے۔

وادی یاسین کی دل فریبی

وادی یاسین جانے کا انتظام مکمل تھا اوراس وادی کا میرا پہلا سفر تھا،رفیقانِ سفر کافی سارے تھے۔ کچھ مختلف الطبع اور کچھ ہم خیال۔ میرے دل و دماغ میں اس خوبصورت وادی کے بارے میں جو مناظرتھے ا س سے کئی گنا یہ وادی حسین و جمیل اور دلکش و جاذ ب النظر لگی۔ سفر سے واپسی پر وادی یاسین اور اس کے مضافاتی گاؤں کے بارے میں میرے خیالات کچھ یوں ہیںکہ جو بھی سیاح سر زمین غذر بالخصوص وادی یاسین میں داخل ہوتاہے تو وہ ضرور کہتا ہوگا کہ یہاں مذاق سلیم رکھنے والے کچھ لوگ ضرور گزرے ہونگے جنہیں کچھ اور ملا ہو یا نہ ملا ہو ، لیکن ذوقِ جمال، رعنائیِ خیال،قوتِ آزادی،سلیقہ مندی،جرأت مندی ضرورملی ہوگی۔ اس سیاح نے وادی یاسین اور اس کے مضافات میں گھومنے پھرنے کے بعد یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا ہوگا کہ یہاں محبت،آشتی، قدرتی خوبصورتی، خوداری، احساس و جذبہ اور فن تعمیر، ذوقِ سلیم اور ہمدردی اور مہربانی کے کتنے نمونے گزرے ہونگے۔

کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی

ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہوگا

گلگت سے روانگی

٢٢ اکتوبر ٢٠١١ء کو دن ٢ بجے ایک بڑا قافلہ جامعہ نصرة الاسلام سے وای یاسین کی طرف پا برکاب ہوا۔اس سفر میں کئی گاڑیاں تھی جن میں کافی سارے پیر و جواں عازم ِسفر تھے۔مجھے ہدایت دی گئی کی میں قاضی نثار احمد صاحب حفظ اللہ کی گاڑی میں بیٹھ جاؤں۔ اور ہماری معیت میں میرے دوست مولانا اویس صاحب بھی تھے جو بہت بڑے خاموش طبع انسان ہیں’ بہت کم ہی کھلتے ہیں اور کبھی کبھی کھِل بھی جاتے ہیں۔قاضی نثار احمد صاحب درمیانی نشست میں بیٹھے اور ہم ان  کے اطراف  میں۔ جب سفر شروع ہو ا تو قاضی صاحب نے وظیفے پڑھنے شروع کئے اور پڑھتے گئے۔ میرے استفسار پر بتایا کہ  حقانیؔ! میں جب بھی سفر پر نکلتا ہوں تو جان ہتھیلی پر لے کر نکلتا ہوں۔کچھ وظائف جو قرآن حدیث میں مذکور ہیں ان کو پڑھتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ سفری دشواریوں اور مصائب و آلام سے محفوظ فرمائیں۔ہماری گاڑیاں بسین کراس کر گئی تھی اور ہم سفری امور پر گپ شپ کر رہے تھے۔مولانا اویس صاحب ایک شریف النفس انسان ہیں۔نپی  تلی باتیں کرتے ہیں۔ وہ ہمیں سفری امور بتا رہے تھے اور آگے کے انتظامات سے بھی آگا ہ کرا رہے تھے۔پلک جھپکنے میں ہم شکیوٹ پہنچ گئے اور وہاں مسجد کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا،پھر آگے چل دیے اور چند لمحوں میں گلاپور پہنچ گئے جہاں بھی قاضی صاحب نے حسب سابق گلگت پولیس کو پانچ کلو انگور خرید کردیے اور آگے کے سیکورٹی کے انتظامات غذر پولیس نے سنبھال لیے ۔

دارالعلوم غذر میں

گاڑیاں فراٹے بھرتی ہوئی ضلع غذرکے کیپیٹل ایریا کاہگوچ میں واقع دارالعلوم غذر میں جاپہنچی اور سب سے پہلے نماز عصر ادا کی گئی۔دارالعلوم غذر کا مؤسس و بانی مبانی مولانا مفتی شیر زمان صاحب ہیں۔ مفتی شیرزمان صاحب ایک نیک دل اور فطرت ِسلیم رکھنے والے انسان ہیں،ضلع غذر یہاں شرک و بدعات اور اسلام بیزاری عروج پر ہے اور دین دار طبقوں کو رجعت پسند سمجھا جاتا ہے اور کم سے کم میرا مشاہدہ یہ ہے کہ دینی امور ضلع غذر میںانتہائی ہوشیاری اور مکمل سوچ بچار سے انجام دینے چاہیے، ہلکی سی غلطی بھی بڑے نقصان کاسبب بن سکتی ہے ‘ یا د رہے کہ کھبی ایک نقطۂ ”محرم” کو” مجرم” بنا دیتا ہے ایک ہلکی سی لغزش پوری قوم کے سفینے کو غرق کردینے کے لیے کافی ہوتی ہے، ہمارے کچھ نادان دوست اوٹ پٹانگ حرکتیں کرکے اخلاص و للہیت اور حکمت و بصیرت سے کام کرنے والوں کے لیے دشواریاں پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔اہلسنت اقلیت کے باوجود اکثریت کا روپ دھاری ہوئی ہے۔اہل سنت اور اسماعیلی برادری میں بڑی اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ کوئی بھی معاملہ درپیش ہو’ بڑی سی بڑی چپقلش پیداہوجائے تو فریقین کے نامور اور ذمہ دار اشخاص گفت و شندی اور مذاکرات کے ذریعے نمٹاتے ہیں، یہی اسلامی تعلیمات بھی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری مکی و مدنی زندگی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ بہرصورت باسیانِ غذر محبت اور رواداری کی زبان زیادہ سمجھتے ہیں بہ نسبت تشدد اور کرختگی اور سخت لہجے کے، اور یہی انداز اپنانا آج بہت مشکل ہو چکا ہے۔ تاہم مجھے اس سفر میں اندازہ وہوا کہ ضلع غذر کے علماء محبت اور رواداری کا انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ کم سے کم مفتی شیر زمان صاحب حفظہ اللہ اور اس کے رفقاء اس کی واضح مثال ہیں۔ہمارے دوست شاہ صاحب بھی تھے۔ جو ابوطلحہ کے نام سے سوشل میڈیا میں بڑے سرگرم ہیں۔ ان کے ساتھ اچھی دوستانہ ہے۔ میگزین کے لیے کالم بھی لکھتے ہیں۔

مدارس دینیہ کی بدقسمتی

بدقسمتی سے ہمارے ہاں دینی مدارس و جامعات کو شئی متروکہ سمجھا جاتاہے اور دینی مدارس و جامعات کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں ۔ مغربی ممالک میں دینی مدارس کا جو امیج پیش کیا جاتا ہے وہ عموما حقائق سے کوسوں دور ہوتا ہے اور وہ اسلام دشمنی میں کررہے ہیں اور مکمل پلاننگ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ مغربی میڈیا اور ان کے اسکالرز اور ان کے تھینک ٹینک خوب جانتے ہیں کہ یہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں جہاں سے دین کی ہر فیکٹری کو مال مہیا کیا جاتاہے۔ اہل جہاد کی صدائیں بلند کرنے والے ہوں یا دعوت و تبلیغ کاعَلم بلند کرنے والے ہوں یا لاکھوں مساجد و مکاتیب میںاللہ اکبر اور مسلمانوں کو خداسے جوڑنے والے یہی مدارس کے تربیت یافتہ ہیں۔ مغرب اسلام دشمنی میں اپنا کام کر رہا ہے مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارے اربابِ اقتدار اور اصحابِ قلم بھی ان کی لے میں لے ملاکر ان مدارس کو بدنا م کرنے کو ششوں میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو ملیامیٹ کرنے کے مذموم جال بنتے ہیں اور ان کی عمارتوں کو قبضہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ ان بیچاروں کو کیا معلوم ہے کہ مدرسہ کس چیزکانام ہے۔مجھے مفتی محمود علیہ الرحمہ کے الفاظ یا د آرہے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ: ”مدرسہ عمارت کا نام نہیں بلکہ مدرسہ استاد شاگردا ور کتاب کے تعلق کا نام ہے۔ اگر حکومت نے مٹی اور گارے سے بنی عمارتوں کو قبضہ کرلیا توہم درختوں کے سائے میںچٹائیاں بچھا کر تشنگانِ علومِ اسلامیہ کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کریں گے۔” حضر ت مولانا محمدیوسف بنوری سے پوچھا گیا کہ حضرت! اگر اربابِ اقتدار علماء کرام سے مدارس چھین لئے تو آپ لوگ کیا کریں گے؟ تو حضرت نے برجستہ بہت ہی خوبصورت جواب دیا کہ ” میں کسی دیہات میں ویران اور بند مسجد کو کھلوا کرجھاڑو لگاؤ ں گا۔ اذان اور باجماعت نماز کا اہتمام کرونگا اور اہل محلہ سے درخواست کروں گا اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے بھیجیں” یہ ہے مدرسہ کی حقیقت لہذا اہل اقتدار اور مدرسہ بیزار لوگوں کو اس قسم کی بھونڈی کوششوں سے گریز کرنا چاہیے۔

ہم دارالعلوم غذر میں داخل ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مدرسہ کے تمام اساتذہ اور طلبہ ہمارا انتظار میں کھڑے تھے۔ گاڑیوں سے اترے،یخ پانی سے وضوکیا ،نماز عصر ادا کی اور قاضی نثار صاحب نے طلبہ سے مختصر خطاب کیا اور اس کے بعد چائے کا دور چلا۔ مہمان اور میزبان مل کر چائے کی چسکیاں لے رہے تھے اور میں مدرسے کے لان میں کھڑا مدرسے کا جائزہ لے رہا تھا۔مدرسے کے تعمیراتی کام اور تزئین و آرائش اور صفائی دل و دماغ کومعطر کررہے تھے۔میں خیالات کی دنیا میں چلا گیا۔ مدارس اسلامیہ کا جاندار ماضی یاد آنے لگا۔ اچانک کسی نے آواز دی کہ حقانی میاں! چائے ٹھنڈی ہورہی ہے پہلے چائے نوش کرلو بعد میں مدرسہ کا جائزہ لو۔ میں مہمانوں کے درمیان بیٹھ گیا ایک کپ چائے پی لی۔ اس وقت چائے کی بڑی طلب تھی مگر سچی بات یہ ہے کہ چائے معیاری نہیں تھی۔ویسے بھی میرا چائے کا نشہ ہے ، نشہ اور طلب ساتھ ہوں اور چائے بھی کمزور ہو تو طبعیت مضمحل ہو جاتی ہے، چائے نوشی کے بعد قاضی نثار احمد مفتی شیرزمان کے ساتھ مدرسے کے مختلف امور اور تعمیراتی کاموں اورمختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لے رہے تھے اور دوسرے احباب ٹولیاں بنا کر ادھر اُدھر جھانک رہے تھے۔ میں بھی مدرسے کے حوالے سے کچھ چیزیں نوٹ کرنے بیٹھ گیا۔ دارالعلوم غذر میں حفظ و ناظرہ کے ساتھ درس نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس دارالعلوم میں لڑکیوںکا بھی بہترین نظام ہے جہاں درجہ حفظ وناظرہ سے لیکر دورہ حدیث تک کی مکمل تعلیم گزشتہ کئی سالوں سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ دی جاتی ہے۔ مولوی عبدالرزاق استاد دارالعلوم غذر بتارہے تھے کہ اس سال(٢٠١٢ء) ٢٣٠ طالبات او ر١٥٠ طلبہ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں ۔ ان میں اکثر اقامتی طلبہ و طالبات ہیں جن کے طعام و قیام اور دیگر ضروریات مدرسہ پوری کرتا ہے اور ٢٢ اساتذہ ہیں جو تعلیم و تربیت پر مامور ہیں۔اسی دوران ایک طرف سے قاضی نثاراور مفتی شیرزمان وارد ہوئے ، مفتی صاحب میرا ہاتھ تھا م کر کہ رہے تھے ”کہ بھائی آپ تو کبھی کبھار آیا کریں نا ، ویسے بھی تم قلم کار لوگ سیر و سیاحت کے شوقین ہوتے ہو”۔میں نے عرض کیا کہ مفتی صاحب ! ضرور آئیں گے،بڑے شوق سے آئیں گے۔ بہر صورت اپنے میزبانوں سے رخصت ہوکر ہمارا قافلہ چل نکلا۔ مفتی شیرزمان بتا رہے تھے کہ کل ہم بھی پروگرام کے لئے آئیں گے۔

گاؤں معالم کی تباہ حالی

معالم گاہکوچ سے تھوڑا آگے ایک گاؤں ہے جہاں سے ہم گزر رہے تھے، مغرب کا وقت تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ یہاں سیلاب نے اتنی تباہی مچائی ہے۔ بہت زیادہ زرعی زمینیں متاثر ہوئی ہیں اور اب تک ریکنسٹرکشن کا کام شروع نہیں کیا جا سکا۔یہاں سخت سردی محسوس ہو رہی تھی۔پت جھڑ کا موسم عروج پر تھا۔

گوپس میں ہمارے قافلے کا استقبال

یاسین ، گوپس اور دیگر مضافات کے علماء و طلبا اور عوام کا ایک جم غفیر گوپس میں جمع ہوا تھا جو اپنے معزز مہمانوں کے انتظار میں تھے۔یوں ہی قافلہ گوپس میں پہنچا تو ہزاروں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے نعرے بازی شروع کی۔ میں مبہوت یہ والہانہ انداز محبت کو دیکھ رہا تھا اور دیکھتا جاتا تھا۔ قاضی نثار احمد صاحب گاڑی سے اترے اور تمام علماء سے فرداََ فرداََ معانقہ کیا ، نوجوان اور بوڑھے بھی اپنے امیر سے ملنے کے لئے مسابقہ کر رہے تھے۔یہاں قاضی صاحب نے اپنے معزز میزبانوں سے کہا کہ تفصیلی بات آگے چل کر ہوگی۔ اب مغرب کا وقت قریب ہے ہمیں سفر جاری رکھنا چاہیے تاکہ بروقت ہم منز ل تک پہنچ پائے۔ یو ں ایک دفعہ پھر ہم مائل بہ سفر ہوئے۔ نوجوانوں نے سینکڑوں موٹرسائیکلوں کی ایک لائن بنائی اور چلنا شروع کیا ۔ ہم درمیان میں تھے اور آخر میں گوپس اور یاسین والوں کی گاڑیاں تھی۔ مجھے ان کا نظم وضبط دیکھ کر جماعت اسلامی کے جلسے اور احتجاجی مظاہرے یاد آنے لگے۔جماعت اسلامی کے پاس افرادی قوت بہت کم ہے مگر ان کا نظم و ضبط بالخصوص مظاہروں، ہڑتالوں اور کانفرنسوں میں جو ترتیب و تنظیم دیکھنے میں آتی ہے وہ بے حد بھلی لگتی ہے۔ بعض دفعہ تو وہ سینکڑوں کے مجموعے کو لاکھوں کا مجموعہ بنادیتے ہیں۔یہاں بھی ایسا لگ رہا تھا کہ بس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ایک دریا ہے جو پورے گلگت بلتستان سے اُمڈ آیا ہے۔

گوپس سے ایک راستہ پھنڈر کو نکلتا ہے جو آگے جا کر چترال سے ملتا ہے اور ایک راستہ یاسین کا ہے۔ گوپس اور یاسین کو ملانے کے لئے ایک پل بنائی گئی ہے جو نہایت خوبصورت ہے ۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ چین نے بنوائی ہے۔ فن تعمیر میں اہل چین کو ید طولٰی حاصل ہے۔انہوں یہاں جو بھی کام کیا ہے وہ پائیدار اور مضبوط ہے۔ کاش ہمارے انجنیئر بھی ان کی طرح سوچتے ، کرپشن سے بعض آتے۔، ملک و ملت کی ترقی کا سوچتے اورتعمیراتی کاموں میں خردبرد سے گریز کرتے یا کم سے کم حکومت ایسے ٹھیکیداروں اور انجینیروں کو کیفرکردار تک پہنچاتی جو کھربوں کے بڑے بڑے پراجیکٹس کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ وہ کیونکر ایسا کریں کیونکہ کمیشن میں وہ بچارے بھی تو حصہ دار ہوتے ہیں۔ سچ پوچھا جائے تو اس ملک کی تباہی و بربادی میں کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ چور ٹھیکیدار اور ان کے ناقص کاموں کی منظوری دینے والے تمام انجینئرز بھی شامل ہیں۔ ۔

ہمیں گوپس سے یاسین تک پہنچنے میں کافی وقت لگا کیونکہ موٹرسائیکل والے خرامے خرامے چل رہے تھے اور وہ بھی لائن لگا کر۔ ایک دوسروں سے مسابقت کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ مزے کی بات یہ کہ رات کے اس وقت میں بھی لوگ روڈ کے کناروں میں استقبال کے لئے کھڑے تھے اور ہاتھ ہلا ہلا کر اظہار محبت کرتے تھے۔

پھولوں اورپھلوں کے گھر میں اقامت

گاڑیوں کا قافلہ سیدھا مولاناارشاد صاحب کے گھر میں جا پہنچا۔مولانا ارشاد مدینہ یونیورسٹی کے فاضل ہیں اور خوش اخلاق انسان ہیں، روانی سے عربی بولتے ہیں۔ وہاں اہل یاسین والے بڑی تعداد میں جمع تھے۔ وہ تمام مہمانوں سے انتہائی خوش دلی سے ملے۔ بہترین تواضع کیا۔ اگلے دن کے مختلف امورکے بارے میں صلاح مشورے ہونے لگے۔ میں دن بھر کے احوال کو نوٹ کرنے بیٹھ گیا۔یاران قافلہ بھی سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ رات کو جب ہم یاسین پہنچے تو کچھ سرکاری فرشتے بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔مجھے کچھ دوستوں نے باخبر کیا تھا کہ ان ” سرکاری فرشتوں” سے ہوشیارو محتاط رہوں۔رات عافیت سے گزر گئی اور سویرے جاگ گئے، فجر کی نماز باجماعت پڑھی اور علماء ، طلباء اور عمائدین یاسین کی ایک مجلس جم گئی اور روز مرہ کے مختلف احوال پر زور وشور سے مکالمہ شروع ہوا۔ میں کھسک کر یارانِ محفل سے باہر نکل گیا۔مولانا ارشاد صاحب کا بڑا خوبصورت گھر تھا، مہمان خانہ الگ اور اندرون خانہ الگ۔ مہمان خانے کے ساتھ ایک بڑا صحن تھا جہاں ہر قسم کے درخت تھے اور سیپ کے درخت کثرت سے تھے، کئی اقسام کے سیپ تھے جن سے ایک ایک توڑ کر ذائقہ چکھ لیا۔ قدرت خداوندی بھی عجیب ہے کہ ہر سیپ کا ذائقہ دوسرے سے مختلف تھا۔درختوں سے پتے چھم چھم گررہے تھے، پت جھڑ کے موسم میں بادِ صبا نے ذوق لطیف پیدا کیا تھا ۔یاسین میں سردی کی شروعات تھی اور میںسویرے سویرے باد خزاں کے تھپیڑوں کا سامنا کررہا تھا ۔ اکتوبر کے آواخر کے ایام تھے ۔ دائیں بائیں نظریں دوڑائیں تو یاسین کے کالے پہاڑ اپنی آن و شان کے ساتھ کھڑے تھے ، ان پر برف کی سفید تہہ ہلکی سی جمی تھی، موسم بڑا خنک تھا’ میں خیالوں و خوابوں کی دنیا میں کھو گیا۔ دل دھک سے رہ گیا،دل و دماغ کے خوابیدہ خوف جاگنے لگے، کیفیت عجیب تھی، ایک لحظہ خوف اور ایک لحظہ خوشی و طمانیت’ دائیں بائیں دیکھتا توامنگوں کے مرغزار اور آرزوؤں کے اور خواہشوں کی کونپلیں پھوٹتیں، یہ ننھے ننھے درخت اور پر خوبصورت پھول اور ان کے ساتھ کانٹے اور کونپلیں، اور یہ ہری بھری کیاریاں، سچی بات یہ ہے کہ دل میں کسی بے نام و گمنام گزند کا خیال و خواب سانپ کے پھن کی طرح لہرانے لگا۔ ارشاد صاحب کے صحن نما باغ کے ایک طرف پانی نظر آیا، شفاف پانی’ وادی یاسین کی ندی نالوں میں شفاف پانی بہتا دکھائی دے رہا تھا۔ یہ شفاف پانی اپنی پاکیزگی، شریں و عذبیت اور رنگت میں چاندنی کی طرح چمک رہا تھا اور آسمان کو بھی شرماتا جاتا تھا۔ کہی سورج کی کرنیں درختوں پر پڑھ رہی تھیں اور ایک خوبصورت سماں بندھا جارہا تھا۔ یکایک سامنے چیری کے درخت پر دو کبوتر نظر آئے اور پھدک پھدک کرایک دوسرے سے سرگوشیاںکرنے لگیں۔ ان دونوں کے دل دھڑکے، اضطراب و خوف کا حسین منظر، میں خاموشی سے دیکھ رہا تھا اور اس خاموشی میں ایک بہترین قسم کا ترنم تھا۔ ایک پھولوں کے اس گھر میں جابجا پھول آگائے گئے تھے۔پت جھڑ کے موسم میں وہ مرجھائے ہوئے تھے’ ایسا لگ رہا تھا کہ کافی عرصے سے ان کو پانی نہیں دیا گیا ہے حالانکہ زمین شبنم سے تر تھی، گھاس میں بھی زردی غالب تھی۔ میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور اپنے خیال میں یاسین کی معاشرتی و تمدنی ترقی و تغیر کا نقشہ کھینچ رہا تھااتنے میں کہی دور سے مولانا منیر اور قاضی صاحب آتے دکھائی دیے۔جب ان کے پاس پہنچا تو وہ بتارہے تھے کہ نسیمِ صبح سے دلدوز ہونے کے لئے نکلے ہیں، مولانا منیر صاحب لان میں ٹہلتے ہوئے ضلع غذر کی تعریفوں میں قلابازیاں لگارہے تھے اور پت جھڑ کے موسم کی خصوصیات و افادیت پر لیکچر دے رہے تھے اور ضلع غذر کے لوگوںکی خوش اخلاقی اور تزئین اور آرائش کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے اور میں ان کے لیکچر سے اکتا کر موضوع بدلنا چاہتا مگر وہ کہاں جان چھوڑنے والے تھے۔مولانا صاحب باتیں بڑے وجد میں آکر کرتے ہیں، انداز ہی کچھ نرالا ہے۔منیر صاحب کے لیکچر سے میں نے یہ محسوس کیا کہ سرزمین غذر کے پھول، آسمانوں کے تارے اور چاند’ ہواؤں کے بادل اور باسیان غذر کلیوں کی طرح کِھلتے ہیں اور پریمی گیتوں کی طرح بلند ہوتے ہیں اور ہر جگہ پھیل جاتے ہیں۔ اور یہ حسین مناظر اورپاکیزہ جذبات محبت و مودت اور مسکراہٹ کے منتظر ہوتے ہیں۔ سو ہے کوئی ان نرم ہواؤں اور سرخ رخساروں میں لطیف جھونکے اور مقدس لمس ڈھونڈے؟۔

یاسین پر ایک طائرانہ نظر

یاسین بے حد خوبصور ت وادی ہے ، یاسین کے لوگ ملنسار ہیں’ ہوشیار ہیں اور حسین وجمیل بھی ہیں۔ وادی یاسین سیر و سیاحت کی غرض سے کوئی بھی پاکیزہ ذوق اور شگفتہ مزاج رکھناوالا انسان دیار غیر سے یہاں قدم رکھتاہے تو وہ وادی یاسین کے بارے میں یہ ضروخیال کرتا ہوگا ”کہ وادیِ یاسین میں مذاق سلیم رکھنے والے کچھ لوگ ضرور گزرے ہونگے جنہیں کچھ اور ملا یا نہ ملا ہو ، لیکن ذوق جمال، رعنائی خیال،قوت آزادی،سلیقہ مندی،جرأت مندی ملی ہوگی۔ اس سیاح نے وادی یاسین اور اس کے مضافات میں گھومنے پھرنے کے بعد یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا ہوگا کہ یہاں محبت،آشتی، قدرتی خوبصورتی، خوداری، احساس و جذبہ اور فن تعمیر، ذوق سلیم اور ہمدردی اور مہربانی کے کتنے نمونے گزرے ہونگے”۔

کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی

ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہوگا

میں بھی انہی جذبات سے معمور لوٹا اور اپنے جذبات و خیالات کو نوک قلم کے ذریعے آپ سے شیئر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ میں اس میں کامیاب ہوبھی رہا ہوںکہ نہیں مگر کیا کروں مجبور ہوں، لہذا پ ایک دیار غیر سے وارد ہونے والے نوآموز قلم کار کے تاثرات پڑھتے جائیں او ر محظوظ ہوتے جائیں۔

ناشتہ کے بعد شیڈول کے مطابق مہمانوں سمیت میزبانوں کا ایک بڑا قافلہ ہندور روانہ ہوا۔ ہندورجانے کا شوق بہت پہلے سے دل میںانگڑائی لے چکا تھا اور آج خوش قسمتی سے یہ شوق بھی پورہو رہا تھا۔راستے میں قاضی نثار صاحب بتارہے تھے کہ ” ١٩٩٩ء کو ہم مولانا یوسف لدھیانوی کی معیت میں یہاں آئے تھے یہاں ہم نے اقراء روضة الاطفال کے سکول کا افتتاح کیا اوریہاںحضرت والا کا بیان بھی ہوا،علاقے میں کافی گھومے پھرے” ۔یاسین میں اقراء روضة الاطفال کا بہترین سکول ہے جہاں دینی و عصری دونوں تعلیم اعلی معیا ر پردی جاتی ہے،قراقرم بورڈ اور فیڈرل بورڈ میں بھی اقراء اسکول کے طلبہ و طالبات کو پوزیشنیں آتیں رہتیں ہیں۔ ٢٠١١ء میں قراقرم بورڈ میں میڑک کی تینوں پوزیشنیں اقراء روضة الاطفال یاسین برانچ کی تھی۔ بورڈمیں پوزیشن لینے والی طالبات کا تعلق بھی یاسین اور اسکے مضافات سے تھا۔ یاسین میں اقراء اسکول نے سینکڑوں حفاظ پیدا کئے۔ علماء اور دین دار طبقوں پر تبرا کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے کہ ان کے زیرانتظام و اہتمام چلنے والے سکول و مدارس کے طلبہ و طالبات سرکاری و عصری اداروں تعلیم حاصل کرنے والوں پر سبقت لے جاتے ہیں۔

راستے میں یاسین اور اس کے ملحقہ گاؤں کا جائزہ لیتا رہا۔ سپیدہ کے درختوں کا بہتات تھا۔یاسین ضلع غذر کے دیگر علاقوںسے بہت زیادہ وسیع اور پھیلا ہوا ہے ،یاسین کے مشہور گاؤں طاؤس، سندھی،سلطان آباد ہیں۔ضلع غذر کا سب سے بڑا گاؤں شیر قلعہ ہے اور دوسرا بڑا گاؤں سندھی ہے۔یاسین میں بھی دریا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے، یاسین کا آخری گاؤں درگت ہے اس کے بعد پامیر کا علاقہ شروع ہوجاتاہے ۔پامیر کو ایک راستہ ہنزہ سے جاتاہے اور ایک یاسین سے، پامیر کا سن کرمجھے اپنے دوست نور محمد گوجالی یاد آگئے جو آن لائن میگزین پامیر ٹائم کا چیف ایڈیٹر ہیں۔ پامیر ٹائم میں میرے مضامین گزشتہ کئی عرصے سے مسلسل شائع ہورہے ہیں اور اہل ذوق کا اچھا فیڈ بیک بھی موصول ہوتا ہے۔ قاضی صاحب ہندور جاتے ہوئے راستے میں آنے والی بستیوں کے نام اور خصوصیات بھی بتاتے جارہے تھے۔ قاضی صاحب مرحوم گوہرآمان کے بڑے شیدائی ہیں ان کو موحد اور مجاہد کہتے ہیں۔ یاسین میں نوجوان مغربی لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں جب کہ بوڑھے دیسی اور علاقائی لباس کے ساتھ علاقائی ثقافت اور تہذیب کو زندہ کئے ہوئے تھے ، ایسا لگ رہا تھا کہ یاسین کا اپنا کلچر، تہذیب و تمدن اور روایات سمندر کے کنارے کھڑی ہیں اور سمندر بُرد ہونے کو ہیں ، اسکے مقابلے میں مغربی لباس و خیال نے نوجوانوں کو بری طرح آ دبوچا ہے۔ بس نگلنے کو ہے۔ دل سے دعا ہے کہ خدا مسلمانوں کو بالخصوص نوجوانوں کو مغربی خرافات اور ان کے ٹشو ایبل کلچر سے محفوظ و مامون رکھے۔

لالک جان کے مزار میں

گاڑیوں کا قافلہ بالآخر جاکر حولدار لالک جان کے مزار پر رُکا۔ حولدار لالک جان ١٢ ۔این۔ ایل۔ ائی رجمنٹ گلگت بلتستان کا وہ عظیم سپوت ہے جس نے ٧جولائی١٩٩٩ء کو کارگل وار میں ملک عزیز کی خاطر اپنی پیاری جان جان آفریں کے سپر د کی اور عظمت و بہادری کے جھنڈے گاڑ دیے، انہیں گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے نشان حیدر کا تمغہ ملا۔ حولدار لالک جان گلگت بلتستان کے واحد فوجی ہے جنہیں یہ عظیم اعزاز ملا۔لاریب کہ اس پہاڑوں کے بیٹے نے پوری قوم کا نام فخر سے بلند کردیا۔ قافلہ کے تمام احباب نے مزار کا نظارہ کیا ۔ میں سیدھا جاکر قبر کے ساتھ بنے مینارے کے پاس کھڑا ہوا ، دیر تک سوچتا رہا۔ دل میں خیالات کا ایک دریاموجیں مارنے لگا، مجھے نام کمانے والے ان نامور لوگوں کے نام یاد آنے لگے جنہوں نے قوم و ملت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا۔دنیا ،دنیا ،دنیا یعنی اس وادی دل فریب میں زندہ رہنے کے لئے آخری حدوں کو چھو گئے، کوئی قلم کی بدولت زندہ رہا، کوئی تقویٰ و زُہد کی وجہ سے تابندہ رہا، کوئی جرأت و بہادری کی وجہ سے صدیوں سے موضوع بحث بنا ہوا ہے ، کوئی حاتم طائی بن کر لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا رہا، کوئی محبتوں کا درس عام کرتے ہوئے انبوہ عام میں اپنے لئے مقام و محبت سمیٹتا رہا، اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس ملک و ملت کو دینے کے لئے کچھ نہ تھا بس خدا تعالی کی دی ہوئی جان کو جان آفریں کردیا اور رہتی دنیا تک اپنا نام چھوڑ گئے اور تاریخ کو مجبور کیا کہ وہ ان کا تذکرہ ضرور کرے۔لالک جان کے مزار میں قبرکے ساتھ بنا مینارے کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے آنکھیں بند کردی اور سوچنا شروع کیا، میرے دماغ نے مجھے سمجھانا شروع کیا کہ یہ دنیا بظاہر سرسبز و شاداب اور ہریالی کھیتی سے بھی زیادہ دلکش ہے ‘ جاذب النظر ہے ،مگر اے حقانی! تیرے لئے ایک مرجھایا ہواگلاب ،کملایا ہوا پھول جس میں نہ رنگ ہے نہ خوشبو، یہ دنیا ایک دلفریب وادی ہے اور تبسم سے بڑھ کر حسین وجمیل، جہاں چاند اپنی پوری شوخی سے چمکتا ہے اور ستارے اس کے اردگرد رقص کرتے ہیںاور یہ عمل صدیوں سے جاری و ساری ہے، تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ اور خدا کی ذات کے بغیر اس میں کوئی تغیر نہیں کرسکتامگر سچی بات یہ ہے کہ یہ ایک وادی پُر فریب ہے’ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اے ناداں انسان ! یہ ایک جُرعہ ہلاہل ہے یعنی ایک کڑوا گھونٹ جسے محض چھونا ہی سینکڑوں مصائب کا پیش خیمہ ہے۔ اور عجب بات تھی کہ میرے دماغ کے اس فلسفیانہ لیکچر کو میرا دل تسلیم کر رہاتھا بلکہ سرارہا تھا۔اچانک میرا دل اور دماغ ایک ساتھ رب رحمن کے حضور دست بدعا تھے کہ اے مالک ارض و سمائ’ اے خدائے رحیم وکریم!……….کیا اس وادی شوریدہ اور جائے دریدہ میں کوئی ایسا نغمہ ‘ کوئی ایسی لَے ‘ کوئی ایسی سُر یا کوئی ایسا گیت’ پریمی گیت’ محبت و مودت و اخوت و بھائی چارگی پر مبنی گیت نہیں ہے جو آپ اپنے خزانہِ غیب سے مجھے خصوصیت سے عطا فرمائے؟ جو میرے قلبِ حزیں اور دلِ درماندہ کو ایک لحظہ و ساعت سکون دے سکے اور مضطرب دل و بے کل دماغ اور کبیدہ جگر کو مکمل طمانیت ۔ ایسی طمانیت جس کا ذکر آپ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلمکے دلِ انوار میں بذریعے وحی اترا ہے کہ” یأیتھا النفس المطمئنة”” بے شک اس نفس مطمئن کا وعدہ تو روز جزا کے وقت ہے اور دنیا دارالجزاء نہیں دارالعمل ہے لیکن تیری قدرت تو اس سے بڑھ کر ہے، تو اگر نوازنا چاہیے تو دارالعمل میں بھی ممکن ہے۔ اور یا اللہ! عطا کر مجھ فقیر کو ‘ اس وادیِ دلفریب میں ایسی عظمت و سطوت اور عزت و مرتبت جو مجھے صدیوں زندہ و تابندہ رکھے۔ یا پھر اس دنیا و مافیہا سے مجھے بے خبر کردے۔ بس اس وادیِ دلفریب میں میرا رَن نغمہ ہی اور ہو’ سب سے نرالا ہو’ جس طرح روز محشر میرے آقا محمدرسول اللہ ﷺ کا ساری مخلوقات سے رَن نغمہ اور ہوگا۔ ہر ایک” نفسی نفسی” پکارے گا اور پیارے آقا ”امتی امتی”۔

لالک جان کا مزار صاف ستھرا تھااور خوبصورت بھی۔ میں نے مزار کے ساتھ تصویریں بنوائی اور ارگرد کا خوب اچھی طرح جائزہ لیا۔ دوسرے احباب مزار کا نظارہ کرنے کے بعد گیٹ سے باہر نکلے تھے، میں بھی ان کی تابعیت میں اس نامور انسان کو سیلوٹ کرتے ہوئے باہر نکلا، ساتھ ہی اسکا گھر ہے۔ دائیں بائیں نظریں دوڑائیں تو علاقہ بڑا پیارا لگا۔کالے پتھروں میں گرا ہندور میں منظر بڑا دلکش تھا، مزار کا کوئی محافظ اور چوکیدار نظر نہیں آیا۔ ایک مقامی آدمی قاضی صاحب کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ اصرار کررہا تھا کہ ان کے گھر میں ایک کپ چائے پی لیا جائے مگر ترتیب کے مطابق ہمیں ٹھیک وقت پر دوبارہ یاسین جلسہ گاہ میں پہنچنا تھا اس لئے اس سے معذرت کرنی پڑی، مجھے آج تک یہ بات سمجھ ہی نہ آسکی کہ اسماعیلی برادری کے لوگ قاضی نثار احمد کو اتنا کیوں پسند کرتے ہیں، بظاہر قاضی صاحب کے ان سے اتنے کوئی تعلقات بھی نہیں، نہ ہی کوئی ایسے معاملات ہیں، ضلع غذر کے اسماعیلی برادری سے آج تک قاضی صاحب کے بارے میں تذکرہ خیر ہی سننے کو ملا، ان کے اس تذکرے میں کوئی تصنع اور بناوٹ بھی نہیں، شاید ایں سعادت بزور بازو نیست۔

راجہ گوہر آمان کے قبرپر حاضری

قاضی نثار احمد کو راجہ گوہر آمان سے کچھ زیادہ ہی عقیدت ہے ۔وہ ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں ، انہیں سید احمد شہید کے پیروکار کہتے ہیں ۔شیڈول کے مطابق لالک جان کے مزار سے سیدھا راجہ گوہر آمان مرحوم کی قبر میں حاضر ہونا تھا، یوں ہم نے ہندور سے وہاں کی طرف رخت سفر باندھ دیا اوروہاں پہنچ گئے۔ راجہ گوہر آمان گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک معروف نام ہے۔راجہ گوہرآمان نے یاسین سے حملہ آور ہوکر شاہ سکندر کو قتل کردیاتھا اور گلگت ایجنسی پر اپنی حکومت قائم کی تھی،ایک روایت کے مطابق غضنفر جان راجہ ہنزہ اور جعفر علی راجہ نگر بھی راجہ گوہرآمان کے اتحادی تھے۔ان تمام راجاؤں نے ڈوگرہ کے خلاف مختلف اوقات میں لڑائیاں کی، صلاح ہوئی، اقوام داریل بھی راجہ گوہرآمان کے اہم اتحادی اور جنگی معاونین تھے۔ایک اور روایت کے مطابق 1852ء کو راجہ گوہرآمان نے ڈوگروں کو قتل کرکے گلگت پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔ بہرصورت تاریخی روایات مختلف ہیں۔لیکن یہ بات متفقہ ہے کہ راجہ گوہرآمان ایک نڈر اور بہادر انسان تھے۔ انہوں نے اپنے علاقوں میں بیرونی طاقتوں کو کھبی بھی قبول نہیں کیا۔ ہمیشہ ان کے ساتھ نبردآزما رہا۔ اس حوالے سے وہ گلگت بلتستان میں قائم اس وقت کے مختلف راجاؤں سے سفارتی تعلقات بھی قائم کرتے رہے۔

راجہ کی قبر پر یارانِ قافلہ کی دعا و فاتحہ خوانی

راجہ گوہر آمان کی قبر ان کے قلعے سے تھوڑی پیدل مسافت پر اس پار ایک پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔ ساتھ ہی نالہ بہتا ہے جہاں شفاف پانی ہے۔ ہم ان کی قبر تک نالہ عبور کرکے گئے،یہاں نالہ کراس کرنے کے لئے سفیدہ کے سالم درختوں سے عارضی گزر گاہ بنائی گئی تھی۔ شاید گزشتہ سیلاب نے جو راستہ یا پرانا پل تھا بہا لے گیا ہوگا۔جب ان کی قبر پر پہنچے تو ساتھ کئی اور قبریں نظرآئیں۔راجہ گوہر آمان کی قبرپرانے طرز کی ہے اورکچی بھی ہے، کوئی بناوٹ اور تعمیر نہیں کروائی گئی ہے۔اسلام کا بھی یہی درس ہے۔اگر راجہ مرحوم کی قبر کو مزار کا شکل دیا جائے تو بعید نہیں کہ ایک مدت کے بعد وہ قبر نہ رہے بلکہ خرافات و بدعات اور فاحشات کا گڑھ بن جائے۔سمجھ دار ہیں راجہ مرحوم کی اولاد کہ انہوں نے اس بدعت کا راستہ روک رکھا ہے۔راجہ مرحوم کی آرام گاہ کے ساتھ ایک اور بڑی قبر ہے ۔ مقامی لوگوں کا بتانا ہے کہ یہ قبر اس زمانے کے مشہور پہلوان کی ہے، نام معلوم نہ ہوسکا۔ پہلوان کے بارے میں بھی مقامی لوگوں کا خیال اچھا تھا ۔ قاضی صاحب راجہ کی قبر پر ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنے لگے، ہم نے بھی اپنی بساط کے مطابق دعا کی اور جلد ہی ادھر اُدھر کے نظاروں میں مصروف ہوگے۔ یہاں سے منظر بڑا پیارا دکھائی دیتا تھا، سامنے دریائے یاسین اپنی آب و تاب سے بہہ رہا تھا، اور پشت کی طرف ایک پہاڑی تھی، ایک جانب درختوں کا جھنڈ تھا اور ساتھ ہی شفاف پانی کا نالہ اپنی خوبصورتی کا احساس دلا رہا تھا۔ جب قاضی صاحب فاتحہ خوانی سے فارغ ہوئے تو ہم نے چل دیے۔

راجہ کے قلعے اور مسجد کی زیارت

واپسی پر ہم لوگ راجہ گوہرآمان کی تعمیر کردہ مسجد میں گئے،یہاں دو مسجدیں ہیں، ایک مسجد راجہ کے زمانے کی ہے، جو اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ پرانی مسجد کا دروازہ اور چھت انتہائی خوبصورتی سے بنائے گئے ہیں، اعلی قسم کی لکڑیوں پر بہترین نقش نگاری کی گئی ہے۔ مسجد کے متصل ایک حجرہ بھی اپنی پرانی حالت میں موجود ہے اور ساتھ ہی راجہ گوہرآمان کا قلعہ بھی ہے، حجرہ اور قلعہ اپنی اصلی کیفیت میں باقی ہے، حجرہ تین سو سال پرانا ہے اور عجیب و غریب طرز تعمیر کا یہ عظیم شاہکار بڑا دلفریب لگ رہا ہے۔ اس حجرے میں سات بڑے بڑے ستون انتہائی نقش و نگار اور اعلی کشیدہ کاری کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتا یا کہ راجہ نے یعنی کہ راجہ دستگیر مرحوم نے تین شرائط کے ساتھ یہ قلعہ، پرانی مسجد کے ساتھ متصل زمین اور حجرہ، یاسین کے مسلمانوں کے لئے وقف کیاہے۔

١۔یہ عید گاہ ہی رہی گی ۔

٢۔ پرانی مسجد اور دفتر کو اپنی اصلی حالت میں برقرار رکھا جائے گا۔

٣۔ کہیں سے بھی پرانی دیوار کو نہیں گرایا جائے گا۔

پرانی مسجد کے ساتھ متصل ایک نئی مسجد امِ عبداللہ کے نام سے بنوائی گئی ہے تاہم اب بھی یہ مسجد قلعہ والی مسجد کے نام سے معروف ہے۔ راجہ کی اجازت سے یاسین کے مقامی علماء کرام نے تنظیم اہل سنت والجماعت کی دفتر بھی یہاں قائم کی ہے۔پاک فوج کے ریٹائرڈ خطیب مولانا عبدالرحیم( فاضل علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) بتارہے تھے کہ اہل سنت کے اکثر معاملات یعنی نماز جمعہ، نماز عید وغیرہ یہی پہ سرانجام دیے جاتے ہیں۔ اس مسجد کے ساتھ ایک چنار کا درخت ہے، بقول محمد نواز صاحب (جنرل سکریٹری تنظیم اہل سنت والجماعت گلگت بلتستان) کے’ یہ درخت عمر اورتنے کے اعتبار سے گلگت بلتستان میں چنار کاسب سے بڑا درخت ہے۔ اس کی موٹائی یقینا دیکھنے کے قابل ہے۔موٹا تنا رکھنے والا یہ درخت اب بھی موجود ہے۔ پرانی مسجد میں ‘ میں اور قاضی صاحب داخل ہوئے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ دو رکعت پڑھو، اور خود بھی پڑھنے لگے۔ میں نے دو رکعت پڑھ کر اس پرانی مسجد کی چند تصویریں لی اور باہر نکل گیا۔قلعہ ،نئی مسجد، عید گاہ، حجرہ اور دیگر چیزوں کا تفصیلی جائزہ لے کر دوبارہ پرانی مسجد میں داخل ہوا تو قاضی صاحب ابھی تک دعا میں مصروف تھے۔ میں نے کہا کہ حضرت اتنا کافی ہے، انہوں نے دعا ختم کی اور مجھے کچھ احوال بتانے لگے۔ مجھے یہی یاد پڑھتا ہے کہ اس پرانی مسجد کو ابھی قرآن کی درسگاہ بنایا گیا ہے۔ قافلہ کے دوسرے احباب اور سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکار باہر کھڑے تھے۔خیر اپنے اکابر و اسلاف کی ان یاد گاروںپر حسرت بھری ایک نظر ڈال کر دوبارہ آنے کا قصد لیے باہر نکلے ۔

طاؤس میں دارالعلوم یاسین کا افتتاح

راجہ گوہرآمان کے قلعے اور مسجد سے واپسی پر Y.Y.S.O (یاسین یوتھ اسٹوڈنٹ آرگنائیزیشن) کے عہدہ داروں کے ساتھ میں اور قاضی نثار صاحب کی ایک خاص نشست کرائی گئی۔ اس کے بعد موٹر سائیکلوں کے جلوے میں مرکزی شاہراہ طاؤس میںہم منعقدہ جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔پہلی نشست سے مقامی علماء کرام نے بیانات کئے۔ دوسری نشست ١١ بجے شروع ہوئی ، تلاوت قرآن اور حمدیہ و نعتیہ کلام سے خوب محظوظ ہوئے۔بعض مقامی علماء کی تقریریں اور خطبات بڑے اچھے لگے۔ اپنے دوست برادرم مولوی عرفان صاحب ،صاحب المنصّہ (اسٹیج سیکریٹری)کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ خوب بولتے ہیں، زمانہ طالب علمی سے یہ کام بڑے ذوق سے کرتے آرہے ہیں۔ایک ڈائری میں مخصوص اشعار اور ضرب الامثال و محاورے نوٹ کرلیے ہیں۔ اور کچھ اشعار یاد بھی ہیں۔ ان کو اکثر محفلوںاور جلسوں میں قند مکرر کے طور پر سناتے رہتے ہیں۔ جب ہم جلسہ گاہ میںپہنچے تو ہزاروں لوگ موجود تھے۔روڈ کے بربلب مدرسہ کے پلاٹ میں افتتاحی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔٢٣ اکتوبر اتوار کا دن تھا، پہلی نشست سے مقامی علماء بات کر چکے تھے۔دوسری نشست سے گلگت اور دارالعلوم گاہکوچ سے آئے ہوئے علماء نے بیانات کرنے تھے۔ بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔ تنظیم اہل سنت والجماعت کے جنرل سیکریٹری جناب محمدنواز صاحب نے حالات حاضرہ پر بے حد شگفتہ گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز جلسہ گاہ میں معلق ایک بینر پر مرقوم اس شعر سے کی۔

کسی بھی گُل کی حق تلفی نہ ہوگی اس گلستان میں

ملے گی خشک پتوں تک بھی شبنم دیکھتے رہنا

محمدنواز صاحب نے اہل سنت اور اسماعیلی برادری سے گزارش کی کہ ایک دوسروں سے شفقت و ہمدردی والا معاملہ کریں۔ آپ کی برادریاںایک ہیں، رشتہ داریاں بھی ہیں۔ لہذا امن و محبت سے رہیں۔ تاہم ہم یہ بتلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی کو ہمارے اکابر اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر انگلی اُٹھانے کی کوئی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسے خبث باطن رکھنے والوں سے نمٹنا ہم خوب جانتے ہیں۔ اس کے بعد ناچیز کا بیان تھا تاہم اچانک موسم ابرآلود ہوا۔ ہلکی پھلکی بونداباندی شروع ہوئی۔ مگر کوئی سامع اپنی نشست سے نہیں اٹھا۔بوڑھے جوان اور بچے سبھی شامل تھے، اپنے مہمانوں پر محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کررہے تھے۔ اہلیان یاسین نے سیکورٹی کے بڑا مؤثر انتظام کررکھا تھا ۔تمام سرکاری اور پرائیوٹ اداروں کے ملازمین موجود تھے۔ پولیس کی ایک بڑی نفری بھی موجود تھی بلکہ تمام پولیس اہلکار جلسہ گاہ میں اہتمام سے بیٹھ کر علماء کرام کے خطبات سن رہے تھے۔ میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے۔اگلے دن کی اخبارات میں پروگرام کی بڑی بڑی تصاویر کے ساتھ خبریں لگی تھی۔ دل کی بات یہ ہے کہ ابھی تک مجھے پورے گلگت بلتستان میں اتنے منظم انتظامات اور نظم و ضبط کی پاپندی کسی بھی منقعدہ دینی پروگرام میں دیکھنے کو نہیں ملی جو اہل یاسین کے ہاں نظر آئی۔قاضی نثار احمد کا خطاب ہوا’چونکہ جلسہ کا بنیادی عنصر دینی ادارے کی بنیاد تھا اس لیے قاضی صاحب اصحاب صفہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تاریخ وسیرت بیان کررہے تھے۔ آسمان سے بارش ہورہی تھی’ لوگ اپنے امیر کی باتیں سن رہے تھے۔مجال ہو کہ اس سردی اور بارش میں کوئی بچہ بھی اپنی نشست سے سرک گیا ہو’ پہاڑوں پر اولے برسنے شروع ہوچکے تھے۔ بہت سے مہمان علماء کرام کو بیانات کرنے تھے’ جو نہ ہوسکے۔ عوام کا ایک جم غفیر تھا’ دارالعلوم غذر سے مفتی شیرزمان صاحب علماء کی ایک پوری ٹیم لے کر آئے تھے۔آخر میں دارالعلوم یاسین کی بنیاد رکھی گئی ۔دراصل دارالعلوم یاسین وہاں کے مقامی علماء کے اتحاد و اتفاق کا مظہر ہے۔ یاسین کے علماء و قراء اور بزرگان دین نے مل کر اتحاد ویلفیئر کے نام سے ایک ٹرسٹ بنائی ہے، اور دارالعلوم یاسین اسی ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔ ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے آپس کی مشاورت سے دارالعلوم یاسین کی ذمہ داریاں’مفتی حسین شاہ صاحب کو سونپی ہیں۔ مفتی صاحب جامعہ فاروقیہ کے تربیت یافتہ ہیں۔ خدا مفتی صاحب اور ادارے کو سلامت رکھے۔ ہم نے بھی اکابر کے ساتھ بنیادی اینٹ رکھ دی، شاید اللہ اسی بہانے مغفرت کا سامان کردے۔اگرچہ ہم اس قابل نہیں۔بہترین طعام کا بندوبست تھا۔اس کے فوراََ بعد گلگت کی راہ لی۔ عصر کی نماز بستی نوح میں مولانا شریف والی مسجد میں ادا کی گئی۔اور یہاں بھی ایک مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔ناچیز کو تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل ہوا۔حضرت قاضی صاحب اور میں نے ایک بڑا پتھر اٹھا کر مسجد کی بنیاد رکھ دی۔ساتھ ہی ایک تگاری بھی۔پھر دیگر علماء اور مہمانوں نے بھی اپنے اپنے حصے کا پتھر رکھ دیا۔یہاں لوگوں نے دیسی گھی اور گرم چائے سے تواضع کی۔اور حضرت قاضی صاحب پر پھولوں کی مالا چڑھائی اور گلاب کی پتیاں نچھاور کی۔ ایک تفصیلی دعا کے بعدمیزبانوں سے اجازت لی اور رخت سفر باندھ لیا۔ گلمتی میں اپنے دوست مولانا غفران صاحب کے دولت کدے میں خشک فروٹ اور چائے سے شکم پروری کی۔بہر صورت یہ سفر خالص دینی و اصلاحی اور فکری نوعیت کا تھا۔ بڑوں کے ساتھ رہ کر بغیر سیکھے بھی بہت کچھ سیکھا جا تا ہے۔ سو ہمیں بھی اپنی وسعت کے مطابق بہت نہیں تو کچھ کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔قلیلک لا یقال لہ قلیل کے مصداق۔

اسماعیلی اور اہل سنت برادری’ کچھ توقعات و مشاہدات

مجھے ضلع غذر کے اکثر وادیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے ، ضلع غذر میں اکثریت اسماعیلی برادری کی ہے۔ اور گلگت بلتستان کے اسماعیلی برادری کے سرکردہ احباب اور دوسرے عام لوگوں اور اہل قلم سے بھی مل ملاپ کا سلسلہ کافی عرصے سے ہے۔سچی بات یہ ہے کہ ان میں روادری اور اخوت کا بڑا اچھا جذبہ پایا جاتا ہے، وہ اپنے ہمسائیوں اور علاقہ کے لوگوں سے پیار محبت سے رہنا پسند کرتے ہیں، شاید ان کے مذہبی پیشوا یعنی پرنس کریم آغاخان کی بھی یہی ہدایات ہیں۔میں نے ضلع غذر میں گھومنے پھرنے کے بعد یہ اندازہ لگایا کہ اہل سنت اور اسماعیلی برادری آپس میں بڑے پیار وسلیقہ اور امن و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔یہ بات واضح رہے کہ اہل سنت اور اسماعیلوں کے اعتقادات اور دینی امور میں اختلافات صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔بہت ہی کم چیزوں پر دونوں مکاتب فکر کا اتفاق ہے، مگرمشاہدہ اور زمینی حقائق یہ بتلاتے ہیں کہ اہل سنت اور اسماعیلوں میں یہاں کبھی کشید گی نہیں ہوتی ہے۔ اگرجانبین سے کوئی اس قسم کی کوشش کرتا بھی ہے تو علاقے کے عمائدین اس کا فوری نوٹس لے کر معاملہ رفع دفع کرتے ہیں۔ہلکے پھلکے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں مگر کھبی بھی باقاعدہ تصادم ہوکر دیگر علاقوں کی طرح انسانی جانوں کا ضیاع اور املاک کا برباد ہونا اور نفرت کی لکیریں نہیں کھنچی گئی ہیں۔ کم سے کم مجھے یہی لگتا ہے کہ ضلع غذر اور گلگت بلتستان کے دوسرے علاقوں میں اسماعیلی مکتبہ فکر کے لوگ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران دوسروں کو ایذا رسانی پہنچانے اور دوسرے کے عقائد کے ساتھ چھیڑنے کی مذموم کوششیں نہیں کرتے ہیں، بالخصوص دوسروں کے اکابر پر سب و شتم اور تضحیک کرنے سے پرہیز کرتے ہیں، اگر کوئی ناہنجار اس قسم کی غلیظ کوشش کرتابھی ہے تو اسماعیلی مکتبہ فکرکے سرکردہ لیڈران فوری اس سے برأت کا اظہارکرتے ہیں، گذشتہ سالوں کی تاریخ پر نظریں دوڑائی جائے تو اس طرح کو کافی ساری مثالیں مل جائیں گی۔ضلع غذر کے اسماعیلی اور اہل سنت کے اکثر افراد رواداری کے قائل ہیں اور ان کا عملی مظاہرہ بھی ہے ، بہت ہی کم لوگ شرپسندی کرتے ہیں مگر ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔دونوں مکتبہ فکر کے لوگ آزادی سے اپنے اپنے مذہبی امور انجام دیتے ہیں۔ضلع غذرکے اسفار میں مجھے اندازہ ہوا کہ اسماعیلی برادری کے لوگ اہل سنت کے مذہبی پروگراموں میں تشریف لاتے ہیں، اہل سنت علماء کے ساتھ محبت سے ملتے ہیں۔ ان کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں،میں اہل سنت اور اسماعیلی برادری کے احباب سے گزارش کرتا ہوں کو اس عمدہ اورمعاشرتی رواداری کے ماحول کو زندہ و تابندہ رکھیں۔ اس میں دونوں کی سلامتی ہے۔تشدد سے ایک دوسروں کو قائل کرنے کے بجائے اپنے کردار ، اخلاق، رواداری،محبت اور حسن سلوک سے قائل کریں، اور جو اس طرح دلوں کو فتح کریں وہی فاتح عالم ہے۔آپ ہادی دو عالم ۖ کی سیرت و اُسوہ کی روشنی میں کردار ادا کریں، آپ محبت سے اپنا پیغام پہنچائے اور سلامتی کی دعوت دیں، ایک اہم وضاحت یہ کہ تبلیغی احباب کے لئے ضلع غذر کی سرزمین بے حد زرخیز ہے، تھوڑی سے تخم ریزی سے کئی پھلدار باغ وجود میں آسکتے ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ اگر ان باغوں کے مالی ان کو شفاف پانی سے سینچے اور کھاد کا استعمال بھی بروقت مناسب طریقے سے کریں تو کوئی بات نہیں کہ یہاں محبت و مودت اوراسلام کی بہاریں دیکھنے کو نہ ملیں، کئی لوگوں سے ملنے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ اہل تبلیغ کی کاؤشوں کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں مگر افسوس کہ ان کی یہ کوششیں اور کاؤشیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں بالخصوص ضلع گلگت میں اس طرح کا ماحول پیدا نہیں کیا جا سکتا ہے؟ ۔کیا اس طرح کا کوئی عمرانی معاہدہ ممکن نہیں ہے؟ شاید جواب نفی میں ہو کیونکہ اس کے لئے دوسروں کے مذہبی اعتقادات و عبادات کا مکمل احترام اور معاشرتی اقدار و روایات کی پاسداری ضروری ہے جو یہاں دور دور بھی نظر نہیں آتی ہیں۔امن کے علمبرداروں اور حکومتی اہلکاروں کو گلگت کو قتل گاہ بننے سے بچانا چاہئے، ان عناصر پر ہاتھ ڈالنا چاہیے جو امن کو تاراج کرتے ہیں اور کسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟۔ چند ٹکوں کی خاطر دھرتی ماں اور دین کو بیچنے والوں کو چوراہے پر لٹکائے بغیر امن کے خواب دیکھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن اسطرح قائم نہیں ہوتا ہے جس طرح تم قائم کرنا چاہتے ہو۔معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ تم راہ مستقیم سے دور ہو ، بہت ہی دور۔

امن و آمان اور رواں زندگی کی وجوہات

گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع جہاںمختلف مذہبی مکتبہ فکر کے لوگ رہتے ہیں ‘ ان تمام اضلاع سے ضلع غذر میںبہتر امن و آمان اور رواں دواں زندگی پائی جاتی ہے۔دیگر اضلاع کے مقابے میں جہاں کے لوگ سکون اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔اگرچہ یہاں بھی دو مختلف الخیال و فکر اور عقیدے کے لوگ صدیوں سے بستے ہیں ۔ وہ کون سی باتیں ہیں جن کی وجہ سے یہاں کا سکون اور معاشرتی زندگی برباد اور تاراج نہیں ہوئی ہے۔میرے ناقص خیال کے مطابق اس کی چند وجوہات ہیں جن کا مشاہدہ وادیِ غذر کے بار بار کے اسفار میں ہوا۔ یہاں اہل سنت او ر اسماعیلی برادری کے لوگ رہتے ہیں مگر چند چیزوں سے مکمل اجتناب کرتے ہیں۔

١۔ مختلف مذہبی ایام اور ثقافتی و علاقائی تہواروں میں ایک دوسروں کے اکابر اور بزرگوں کا مکمل احترام کرتے ہوئے فریق مخالف کے بڑوں کے خلاف زبان درازیاں’ لعن و طعن اور شب و شتم سے اجتناب کرتے ہیں۔بالخصوص صحابہ کرام اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے مکمل احترام پایا جاتا ہے۔

٢۔ ایک دوسروں کے مذہبی مقامات کا مکمل احترام کرتے ہیں اور اپنے اپنے عبادات اور رسومات اپنے مذہبی معبدوں میں ہی انجام دیتے ہیں۔

٣۔ فریق مخالف کے خلاف کوئی کیسٹ’ کتاب’ پمفلٹ’ جو اشتعال انگیزی پر مبنی ہو ‘ کی تقسیم سے گریز کرتے ہیں۔

٤۔ ا یک دوسروں کو حراساں کرنا’ نوگو ایریاز بنانا’ غیر موزوں اور مشتعل کرنے والے نعروں کی چاکنگ سے پرہیز کرنا۔

٥۔ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے اپنے اعمال و افعال میں لگے رہنا’ دوسروں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے ‘ اور پگڑیاں اچھالنے سے گریز کرنا یعنی” لکم دینکم ولی دین” کا عملی پرتو۔

ان جیسی بے شمار روایات و معاشرتی عادات ہیں جنہوں نے وادیِ غذر کی سوشل لائف کو ابھی تک ڈسٹرب نہیں کیا۔ہمارے ہاں تو اس وقت تک مذہبی پروگرام حتیٰ کہ اکابرین کی یاد میں منعقد کی جانے والی بابرکات محفلیں بھی اس وقت تک کامل نہیں سمجھی جا سکتی ہیں جب تلک فریق مخالف کے بڑوں حتی کہ صحابہ کرام تک کو لعن طعن نہیںکیا جاتاہے۔مہذب اور غیر مہذب لوگوں اورمعاشروں میں یہ خطہ امتیاز ہے۔تو پھر کیا ہم مہذب لوگ ہیں یا ہمارا معاشرہ مہذب ہے؟۔ قطعاََ نہیں۔

یہاں ایک بات ذہن میں رہے کہ گلگت بلتستان میں رہنے والے مختلف الخیال و فکر اور عقیدہ کے لوگ نہ پہلے ایک تھے نہ اب ایک ہوسکتے ہیںنہ آئندہ ہونے کا امکان ہے۔یک دم ایسا ناممکن ہے کیونکہ ہر ایک کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ضابطہ حیات ہے۔دلائل و براہین ہیں۔اعتقادات و نظریات ہیں۔لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایک دوسروں کے گلے کاٹے جائے۔لعن و طعن کا بازار گرم کیا جائے۔اور ایک دوسروں کو مباح الدم سمجھا جائے۔اپنے مخالف کو ہر جائز و ناجائز نقصان پہنچانے کو دینداری سمجھا جائے۔غیروں کا آلہ کار بلکہ کارندہ بن کر اپنوں کا خون کیا جائے۔باہر کے اشاروں پر ناچا جائے۔معاشرے کو تہس نہس کیا جائے۔نوگو ایریاز بنائے جائے۔شعوری اور لاشعوری طور پر دین و دنیا کے لیے سوہان روح بن جائے۔دانستہ اور نادانستہ طور پر اپنے آپ کوافضل و اعلیٰ اور مدمقابل کو حیوانوں سے بھی بدتر خیال کیا جائے۔مثبت ڈائیلاگ کو فروغ دینے کے بجائے تلواری کلچر کی آبیاری کی جائے۔ٹیبل ٹاک کے بجائے اسلحہ ٹاک کو رواج دیا جائے۔ظلم کرنا اپنا حق سمجھا جائے بلکہ مذہبی فریضہ۔بہر صورت ایک عمرانی معاہدے کے ذریعے پُرسکون زندگی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔مگر اس کے لیے کوئی تیار نہیں۔نہ کوئی سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔امن معاہدے اور ضابطے اخلاق بنتے ہیں اور ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے جاتے ہیں۔ امریکہ’ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں کفار اور مسلمان ایک مثالی معاشرتی زندگی گزار سکتے ہیں تو ایک خدا اور رسول کو ماننے والے ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔جب ذات خدا اور محمد بھی آپ کو ایک معاشرے میں سکون سے رہنے کے لیے تیار نہیں کرسکتی تو تمہارا اللہ ہی حافظ ہے۔

حسین یادیں

میں جب بھی محبتوں کی سرزمین وادیِ غذر میں داخل ہوتا ہوں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور یقین نہیں آتا کہ ہمارے ہاں بھی اتنی خوبصورت وادیاں’ سرسبز شاداب علاقے ‘ کالے پہاڑ’ شفاف پانی کی آبشاریں’ درختوں کے جھنڈ اوربے شمار دل لبھانے والے خطے بھی ہوسکتے ہیں ۔اہلیان غذر کے لیے ویسے بھی میرے دل میں محبت کی فراونی ہے۔ نرم گوشہ ہے کیونکہ یہ امن اور سکون سے رہ لینے والے لوگ ہیں’ یہاں محبت عام ہے۔ایذارسانی سے اجتناب ہے۔آپس کا احترام ہے۔ زبان میں لطافت و شیرینی ہے۔لوگ خوش اخلاقی کے پرتو ہیں۔ وادیِ غذر کا عمیق مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کے لوگوں نے مجاہدین اہلِ حق کے لیے جان و مال اور دل و دماغ کے دریچے واہ کیے ہوئے تھے۔یہاں کے بہادر لوگوں کی کڑیاں سید احمد شہید اور شاہ ابدالی مرحوم سے بھی جاملتی ہیں۔یہ حسین یادیں جو ذہن کے دریچوں سے جھانک کر مجھے روزانہ بے کل کر دیتی ہیں اس لیے آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہوں کہ شاید واقعات’ مشاہدات’ تجربات اور تاثرات پر مبنی یہ چند ٹوٹی پھوٹی باتیں کسی کو بھالیں ۔وگرنہ من آنم کہ من دانم۔

وادی غذر کے سفر کے دوران مجھے خیال آیا کہ مجھ جیسا حقیر فقیر اور بے مایہ وبے سہارا انسان کو وقت کی نامور شخصیات اور رجال کارکیساتھ گھومنے پھرنے اور تجربات و مشاہدات اور تعلیم و تعلم کا نادر موقع مل رہا ہے تو دل بے اختیار آبدیدہ ہوگیا ‘ ”لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید”کا وِرد کیا اور زبان پریہ اشعار اگئے۔

نشیلی فضا ذ ہن پر چھا رہی ہے

کَلی میرے دل کی کھلی جارہی ہے

میں شاداب ہوں ایک جوئے رواں سے

مِری کشتِ ہستی نمو پارہی ہے

راستے میں بہت کچھ کا مشاہدہ کیا۔روڈ کی حالت خستہ تھی۔ سیاحوں کے کچھ قافلے بھی دیکھے۔دریائے غذر کے لہروں اور موجوں کی شوریدہ سری اور شور بھی کم ہوتا جارہا تھا کیونکہ آگے موسم سرما کی آمد آمد تھی۔ ہمیں ضلع غذر میں سکون بھی نظر آیا اور بے کلی بھی۔ سادگی بھی نظر آئی اور فیشن ایبل کلچر کی بربادی بھی، حسن فطرت کی بے ساختگی بھی اور تصنع اور بناوٹ کی بے ہودگی بھی،پھل دار درختوں کی زیادتی بھی اور بے پھل پودوں کی فراوانی بھی۔سبزہ اور مرغزار بھی اور بنجر اراضی بے آباد بھی۔بارش اور اولوں کی برسات بھی اور چاند و سورج کی یلغار بھی۔ضلع غذر کے مختلف اسفار سے مایوسی بھی ہوئی اور اطمنان بھی۔مایوسی اس طرح کے نوجوان اپنی تہذیب و ثقافت اور رہن و سہن اور علاقائی کلچر کو خیرآباد کہہ کر مغربی کلچر کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ ان کا لباس، طرز تکلم،چال چلن اور معاشرتی زندگی مغرب کا ٹشو ایبل کلچر کی غمازی کرتا ہے اور خیالات کا بھی یہی حال ہے۔ اور بوڑھے اپنی سادگی اور تہذیب و ثقافت کے مکمل پرتو نظر آتے ہیں۔وہی دیسی ٹوپی اور چغہ(شوکا) اور رس بھری گفتگو اور مہمان نوازی کے نرالے ڈھنگ۔وادی غذر کے درو دیوار’ کالے پہاڑ اور نیلے پانی اور قدیم مکینوںکوزبانِ حال سے نوحہ کناں پایا’ ماتم کرتے دیکھا’روتے بسورتے پایا کہ ہم کیا تھے اور کیا بن گئے۔خدا کا فرمان ہے کہ وتلک الایام نداولہا بین الناس۔

اسلام کی بہاریں اور شیطانی قوتیں

افسوس ہم میں اسلام تو رہا مگر روح اسلام کی شدت سے کمی ہے، یہ اٹل ہے کہ بہت جلد اسلام کی روحانی بہاریں دنیا کو نصیب ہونگیں، کیونکہ یہ خدا کا وعدہ ہے، آنے کو ہے بہار، اور بہت جلد ہی آنے کو ہے، مسلمان خزاں کے موسموں میں دن گزار گزار کر تنگ آچکے ہیں، جلد یا بدیر خدائے ذوالجلال اسلامی بہاریں اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی رونقیںدکھلائیں گے۔یہ ہمارا وجدان اور عقیدہ ہے اور اس میں دو رائے نہیں۔ دعایہ کرو کہ ہماری مختصر سی زندگی میں ہی بہار کی یہ رُتیں آجائیں۔کتب حدیث بالخصوص وہ احوال جن کے بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے کیا ہے اور موجودہ حالات و اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ و مشاہدہ یہ بتلاتا ہے کہ بے حیائی کو مٹنا ہے، ظلم و ستم کو ختم ہونا ہے،کفر اور الحاد نے صفحۂ ہستی سے نیست و نابود ہونا ہے، دجالی قوتوں اور شیطانی طاقتوں نے اپنی موت آپ مرنا ہے ۔ ان کو کون مٹائے گا ؟ کون نیست بابود کریگا؟ کون آئیگا اس کو ختم کرنے کے لئے؟ کوئی نہیں کوئی نہیں، میرا اللہ، صرف اور صرف میرا اللہ، اللہ آئیگا اللہ ۔اللہ کفر کو مہلت دیتاہے مگر ظلم کو نہیں، سود کو نہیں، شرک کو نہیں، تشدد کو نہیں،نا انصافی کو نہیں، بربریت کو نہیں، چنگیزیت کو نہیں ۔ دجالیت و شیطنیت کو نہیں۔پرویزیت کو نہیں، زرداریت کو نہیں۔اور نہ ہی میرے اللہ بے حیائی کو مہلت دیتا ہے۔ رحمانی اور شیطانی تصادم کے بعد بالآخر فتح و کامرانی اہل ایمان اور رحمانی قوتوں کو نصیب ہوگی اور اہل دنیا کو اسلام کی بہاریں اور رونقیں نصیب ہونگیں۔

میں موضوع سے ہٹ کر کہیں دور جاچکاہوں’ خیر یہ قلم کارستانی ہی سمجھو! وادی غذر میں بار بار جانے کا موقع ملا۔علماء کرام کے ساتھ بھی اور اپنے کالج کے پروفیسروں کے ساتھ بھی۔ اور اکیلے بھی۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ دل نہیں بھرا۔بتھریت اور شندور کی سیاحت سے محروم ہوں’ نہ جانے کب موقع ملے۔یہ زمیں ہی ایسی ہے کہ ہر آنے والے کو دوبارہ آنے پر مجبور کرتی ہے۔ بلکہ اپنی محبوب اداؤں سے دعوت دیتی ہے۔ یہاں کے پانی’بادل’ ژالہ باری، اولے’ برف’ نہریں’ندیاں’ جھیلیں’ آبشار’نیلا پانی’ پانی میں تیرتی مچھلیاں،پانی کی شیرینی اور مٹھاس’ شفافیت ‘ آبِ مصفیٰ کی ٹروٹ مچھلیاں’ پھول’ پھولوں کی اقسام اور ان کی رنگت اور شکلیں،رنگ برنگ بیل بوٹے اور ان کی خوشبو’ پہاڑ اور ان کا کالا پن اور بلندیاں’ اور ان میں موجود ہیرے کی موتیاںاور لعل و جواہر’ پہاڑی راستوں کے نشیب و فراز،گلیشیر اور گلیشیروں سے بہتا ہوا نیلا پانی، گھاس اور سبزے کے میدان پھل اور پھلوں کی اقسام اور ان کا ذائقہ ‘ غرض کس کس چیز کا ذکر کیا جائے۔میری رب سے دعا ہے کہ وہ مجھے بھر پور سیاحت کا موقع دیں۔ اگرچہ سیر و سیاحت کے لیے ہزاروں رکاوٹیں ہیں اور ہزاروں آسانیاں بھی۔ سمندراور صحرا ء حائل ہیں اور پھر ان سمندروں پر بنے پل اور صحراء پر بنے روڈ’ ان مشکلات کا حل بھی ہیں۔رب کی عجیب رنگینیاں ہیں’سو رب ہی جانے۔ زندگی رہی تو اگلی دفعہ کسی اور سفر میں ملاقات ہوگی۔وماعلینا الا البلاغ

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے2010 سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *