میں تیری آں، میں تیری آں۔۔ربیعہ سلیم مرزا

“سوہنیے، تیرے نال بنیا کیہہ “؟ قریب سے گزرتے ایک اوباش  نے آوازہ کسا ۔کچہری کی بھیڑ میں اس کی شکل نہ دیکھ  پائی۔
“او دو گلاں ساڈے نال وی کر لے”یہ کوئی دوسرا کمینہ تھا

اس قسم کے کتنے جملے اس کی سماعت سے  ٹکراتےرہتے ،مگر یہاں بھی؟
کبھی کبھی لگتا  ہے، عورت بنی ہی گالیوں کیلئے ہے۔۔
“او نکا پیس وی چنگا جے “اس نے مڑ کر دیکھا تو دوسرا نہیں تھا ، وہ دو کمینے تھے ۔اس نے سعدیہ کو قریب کر لیا ۔
سعدیہ نے گھبرا کر ماں کو دیکھا، وہ بارہ سال کی بچی ہی تو تھی۔عروج اس کے کندھے پہ سر رکھے سو رہی تھی۔
تبھی اسےظفر دور سے آتا دکھائی دیا ۔۔تو اس کی جان میں جان آئی۔
آج عدالت میں عروج کے سر پرست کا فیصلہ تھا،اور اس کے بعد نان  نفقے  کا معاملہ بھی تھا ۔
ظفر قریب آیا تو سعدیہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر پوچھا “کیا ہوا “؟
“آج میرے بابا کی برسی ہے ۔”سعدیہ سسک پڑی
ظفر نے ہچکچا تے ہوئے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔اس کے چہرے میں شفقت تھی جو بہت کچھ کہہ گئی
گن کر ڈیڑھ سال اور دس دن اسکی شادی رہی تھی۔ مہندی میلی نہ ہوئی ورنہ وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں دیکھ لیتی کہ شوہر کا سکھ اسکے نصیب میں نہیں ۔
پہلا مجازی خدا اسے سعد یہ کا تحفہ دے کر ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ خاندان اور برادری کے بدلتے رویے اوررنگ برنگی نظروں سے بچنے کے لیے رضوانہ دوسری بار شادی کی حامی بھرہی لی۔
سعدیہ بھی ساتھ تھی،مگر سکون کی زندگی فقط ایک ماہ بھی نہ چل سکی۔اسکے بعد نئی جگہ ایک نیا کھیل شروع ہوا۔
“ظفر! چائے کی پتی نہیں ہے “؟
“میں ٹی وی دیکھ  رہا ہوں۔تم جانا ذرا دکان سے پکڑ لانا ”
وہ بستر پہ لیٹے لیٹے راستہ بتا دیتا
“اور ظفر پیسے؟
“پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔جاؤ تم ۔۔کہنا بعد میں کر لیں گے۔”رضوانہ کی جان جاتی تھی، دکاندار کا، سامنا کرنے سے،کبھی پکانے کو کچھ نہ ہوتا۔
“جانا  ذرا سبزی والے کے پاس جانا ، اسے کہنا بعد میں کر لیں گے۔”
کیا کر لیں گے؟ اسے کچھ کچھ سوجھ رہا تھا۔مگر دل سہمے کبو تر کی طرح آنکھیں میچے  ہوئے تھا۔لین دار راستہ روک لیتے، سارے گلی محلے کے لوگ ہی تو تھے۔ ظفر تو گھر سے نکلنا بھول ہی گیا تھا ۔
دوسرے تیسرے دن فاقے کا چکر بھی لگنے لگا تھا ۔تکرار پہ گالیاں اورمار کٹائی بھی شروع ہو گئی ۔
“اتنا احسان کیا ہے تم دونوں پر۔تم اتنا بھی نہیں کر سکتی ہو ”
ظفر میں نجانے کیا دیکھ کر  رضوانہ کے باپ نے اس سے بیاہ دیا ۔ماں ہوتی تو چار دن رک کر، دیکھ بھال کر اس کی دوسری جگہ شادی کرتی ۔
دونوں ماں بیٹیاں اک دوسرے کے آنسو پونچھتیں  اور سر جھکا لیتیں۔
پھر اچانک ظفر کا موڈ اچھا ہونا شروع ہو گیا ۔تو اس نے بھی سکھ کا سانس لیا، اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔شاید یہ نئی روح کے آنے کی برکت ہے ۔
رزق بھی بڑھنے لگا تھا۔
” آج میرے دو دوست آ رہے ہیں ۔اچھا کھانا پکا لو”
“اچھی طرح حال احوال پوچھنا ” دو کمروں کے گھر میں، نہ پردہ رہتا نہ پردہ داری۔
پھر ہر دوسرے تیسرے دن حال احوال پو چھا جانے لگا۔
اب پیٹ بھر روٹی بھی مل رہی تھی ،مگر یہ تو گمان بھی نہ تھا،کہ یہ نئی رشتہ داریاں کس رخ جا رہی ہیں ۔
“ذرا وہ سرمئی سوٹ تو پہنو آج۔تمہیں گھمانے لے جاؤں گا۔ایک دوست کے گھر بھی جانا ہے ۔کئی دن سے وہ بلا رہا ہے”
ظفر کہیں سے موٹر سائیکل مانگ لایا تھا۔
لپک جھپک وہ تیار ہوئی ۔موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھ کر  شکر ادا کیا۔
“کبھی اپنی بھی تو ایسی ہوگی “؟
ظفر نے راستے میں اپنے دوست کے بارے میں بتا یا ۔وہ ظفر کو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کروا کر دینے لگا تھا ۔
“کام ہو گا تو روٹی بھی ہو گی،اور کل کو سعدیہ کو بھی تو بیاہنا ہے۔”کتنا سدھر گیا تھا وہ ،وہ دل ہی دل سوچ کر خوش ہو گئی ۔اس کا دوست گھر کے دروازے میں ہی کھڑا ان کا منتظر تھا ۔
رضوانہ موٹر سائیکل سے اُتر گئی مگر ظفر نہ اُترا، کہنے لگا۔۔
“چائے وائے پیو، میں تھوڑا کام کر آؤں ۔تم صبح فارغ ہو کر رکشے پہ آ جانا۔ “اور چل دیا
رضوانہ کی زمین گھومی کہ آسمان ۔۔اسے کچھ سمجھ نہ آئی۔وہ چلتی موٹر سائیکل کے ساتھ چل پڑی،
“ظفر! میں،میں ،”رضوانہ کو سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا کہے
“میں کیا؟”
“میں تو تمہاری بیوی ہوں۔میں تمہاری ہوں ظفر۔”وہ تقریباً رودی ۔اس کا دوست تھوڑاپیچھےہٹ کر کھڑا ہوگیا
آنکھوں سے آنسو نہیں، محبت برس رہی تھی۔
“اگر نہیں کرسکتی ہو تو رکشہ کرواؤ ۔اور باپ گھر چلی جاؤ “اتنا کہہ کر وہ چلا گیا ۔اس نے ایک نظر اس کے دوست پہ ڈالی اور اور ایسا ہی کیا ۔سعدیہ کو لے کر جب وہ میکے واپس آرہی تھی تو سارے رستے اسکے دماغ میں اپنی کہی بات کچوکے لگاتی رہی ۔
” میں تو تمہاری بیوی تھی۔میں تو تمہاری تھی۔”
“میکے آکر عروج پیدا ہوئی تو سعدیہ سمجھدار ہوگئی تھی، سوال نہیں کرتی مگر رضوانہ اسے کہتی
“تم ہو ،میں ہوں ،ہم مل کے عروج کو پال لیں گے ۔”
وقت مرہم ہے۔۔
اسکی جوانی کے رنگ پھیکے پڑے تو محلے کی عورتوں کو رنگ لگانے لگی۔ سلمیٰ ستارے کے دھاگوں سے روح کے زحم سلنے لگے تو بھوک کو بھی صبر آنے لگا۔
آج عروج کے نان نفقہ کا فیصلہ ہونا تھا۔
عدالت کے احاطے میں سرمئی سوٹ پہنے بےرنگ چہرے والی رضوانہ کو دیکھ کر ظفر کو جھٹکا لگا،
ہوسکتا ہے وقت نے اس بےغیرت کو محبت سکھادی ہو۔۔
عدالت کے فیصلہ کرنے میں شام ہو گئی ۔ وہ کچہری سے نکل کر باہر کھڑی تھی،کہ ظفر موٹر سائیکل لے کر آگیا۔
“کیا ہوا ، ابھی تک یہاں کیوں کھڑی ہو ؟ ظفر نے پوچھا
” ویگن نہیں آئی ابھی تک “وہ بات کرنا تو نہیں چاہتی تھی
“آؤ میں تمہیں چھوڈ دوں گا۔”ظفر نے کہا تو وہ اعتماد سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی ۔وہ انکار کرکے خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی

گھر سے کچھ پہلے ہی وہ اتر گئی ۔جلدی اترتے دیکھ کہ ظفر بولا۔۔
“کیا ہوا “؟
“کچھ نہیں، کچھ بھی تو نہیں ہوا “اس نے صرف سوچا ،کہا نہیں۔
وہ تھکے تھکے قدموں سے گلی کے اندر کی طرف چل دی۔
ظفر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔دل کا کوئی کونا سسک اٹھا۔یہ میری بیوی تھی ،یہ میری تھی ،صرف میری !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *