ایک اتری ہوئی شلوار اور صحافت ۔۔۔عامر عثمان عادل

کل سے سوشل میڈیا پر ایک ایف آئی  آر گردش کر رہی ہے، جس کے مطابق درخواست گزار کا موقف ہے  کہ وہ اپنی بیوی کو لے کر گجرات کے ایک مشہور ترین الٹرا ساؤنڈ سپیشلسٹ کے پاس لے کر گیا ۔ جہاں اس کی بیوی کا الٹرا ساؤنڈ ہونا تھا جب اس نے دیکھا کہ کوئی  خاتون نرس بیوی کے ساتھ اندر نہیں گئی، تو وہ خود الٹرا ساؤنڈ روم میں چلا گیا جب وہ اندر داخل ہوا تو بیوی گھبرا کے کانپ رہی تھی اس کی شلوار سائیڈ پر پڑی تھی اور مرد کمپاؤنڈر میری بیوی کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔

اس واقعے میں کس قدر صداقت ہے اس کا تعین تو پولیس نے کرنا ہے، ہسپتالوں میں ایسے نجانے کتنے واقعات پیش آتے ہیں جن کی کوئی  خبر باہر کی دنیا کو نہیں ہوتی۔اس موضوع پر الگ سے ایک تفصیلی آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔۔۔ابھی تو صحافت کو سلام پیش کرنا ہے۔

tripako tours pakistan

ہوا یوں کہ کسی طرح اس واقعے کی ایف آئی  آر صحافتی عقابوں کے ہاتھ لگ گئی، بس پھر کیا تھا ایک پل میں سارے جہان میں پھیل گئی، اور پھیلی بھی اس طرح کہ متاثرہ خاتون کا پتہ اور شجرہ نسب کا اشتہار ہر فیس بک کی دیوار پر چسپاں کر دیا گیا۔کوئی  شرم ہوتی ہے کوئی  حیا ہوتی ہے۔۔۔مگر ان کو کیا خبر کہ یہ کیا ہوتی ہے۔

صحافتی اقدار کا تقاضا تھا کہ اگر اس ایف آئی  آر کو مشتہر کرنا ہی تھا تو کم از کم خاتون کے ایڈریس کو ظاہر نہ کیا جاتا۔اگر تو یہ واقعہ سچا ہے اور خاوند نے ہمت کر کے اس سراسر زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کر لی اور ایسے گھناؤنے عناصر کو بے نقاب کرنے کی ٹھان ہی لی تو یار لوگوں نے اس کا نام پتہ عام کر کے اس کو زمانے بھر میں رسوا کرنے میں کیا کسر چھوڑی ہے؟

بھلے وقتوں میں پرنٹ میڈیا کے ایڈیٹرز اور ذمہ داران اتنا تو خیال کر لیتے تھے کہ خبر میں جہاں خاتون کا نام آیا اس کی شناخت ظاہر کرنا گو درکنار اس کا نام بھی پورا نہیں لکھتے تھے۔۔

ش کھیتوں میں اکیلی جا رہی تھی کہ اوباش کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بن گئی۔۔
نامعلوم افراد نے جواں سالہ ن کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا

لیکن اب تو جو طوفان بدتمیزی بپا ہے الامان و الحفیظ۔فیس بک اور سوشل میڈیا گویا بندر کے ہاتھ استرا آ گیا اب اسے تو اپنی فنکاری دکھانا ہے، بھلے اس سے کسی کی عزت کی چادر تار تار ہوتی ہے یا گلا کٹتا ہے۔کہاں کی صحافت کہاں کے اخلاقی ضابطے، کہاں کی انسانیت، یہ سارے لفظ ہماری ڈکشنری سے ایک اک کر کے مٹتے چلے جا رہے ہیں۔ہے ناں رونے کا مقام۔۔؟

کسی مردار کو نوچتے  ہوئے   ان صحافتی گِدھوں کو کیا خبر کہ خبر کے تقاضے کیا ہوتے ہیں، خبر کو کس انداز میں نشر کیا جاتا ہے، آپ کی اس مکروہ صحافت سے کتنے خاندان متاثر ہوتے ہیں کتنے بچے بچیاں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔
اس کمپاونڈر نے تو بند کمرے میں ایک غیر اخلاقی حرکت سے اس خاتون کو ہراساں کیا، مگر آپ نے تو فیس بک پر اس کی اتری ہوئی  شلوار کو سارے زمانے میں نشر کر دیا۔
پھر زیادہ کمینی حرکت کس کی ہے اس کی یا آپ کی ؟ اس خاندان کو آپ نے جینے کے لائق چھوڑا؟
بس صاحب!
آپ کی بلا سے کچھ بھی ہو آپ کو تو اپنی وال کو بھرنا ہے، چاہے سارے زمانے کا گند ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
حیف صد حیف
ایسا نہ ہو کسی روز خود بھی مکافات عمل کا شکار ہو جاؤ،اور اپنی ہی اتری ہوئی  شلوار ڈھونڈتے پھرو۔
کوئی  شرم ہوتی ہے ،کوئی  حیا ہوتی ہے !

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *