ایکلویہ۔۔۔(10)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایکلویہ مہا بھارت کا ایک اچھوت کردار ہے۔اُسے پانڈووں کے راج گرو درون آچارؔیہ نے اچھوت ہونے کی وجہ سے شکھشا دینے سے انکار کیا ، کہا کہ وہ تو صرف شہزادوں کو تیر اندازی کی تربیت دے سکتے ہیں۔ دہلی سے کچھ فاصلے پر جنگل میں گرو درون آچاریہ کا آشرم تھا۔ اس جگہ کا نام “گُرو گرام” (یعنی گرو کا گائوں ) رکھا گیا جو بگڑ کر آج کل “گڑگاؤں ” میں بدل گیا۔ (اب دوبارہ ہند کی حکومت نے اس کا پرانا نام “گرو گرام” بحال کر دیا ہے۔) ایک لوؔیہ کو جب گرو درون آچاریہ نے شاگردی میں لینے سے انکار کیا ، تو اس نے گرو کی مورتی خود بنائی اور ایک درخت پر اس مورتی کو لٹکا کر، ہر صبح پرنام کرنے کے بعد، گرو کی مورتی سے اجازت لے کر تیر اندازی کی مشق شروع کی اور اس فن میں یکتائے زمانہ ہو گیا ۔ جب درون آچاریہ کو پتہ چلا تو اسے یہ خطرہ لا حق ہوا کہ ایکلویہ جنگ میں اس کے شاگرد اور پانڈووں کے راجکمار ارجن کو ہرا دے گا۔ تب اس نے جا کر ایکلویہ سے پوچھ ا کہ اس کا گرو کون ہے۔ ایکلویہ نے بتایا کہ وہ تو اسی کی مورتی سامنے رکھ کر اور دل سے اسے ہی گرو م تسلیم کر کے کر مشق کرتا رہا ہے۔ تب درون آچاریہ نے اس سے گرو دکھشنا (گرو کا نذرانہ ) طلب کی اور کہا کہ اس کا انگوٹھا ہی دکھشنا ہو گی اس لیے وہ اپنا انگوٹھا کاٹ کر اسے پیش کر دے۔ شاگرد انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے اسی وقت اپنا انگوٹھا کاٹ کر دے دیا۔ اس طرح ارجن کو جو خطرہ لا حق تھا، وہ رفع ہو گیا۔( ستیہ پال آنند)

والدین نے نام رکھا تھا ۔۔ایکلویہؔ
یعنی “ایک ہی”ٗ۔صرف ایک ہی ۔۔
اکلوتا بیٹا تھا اُن کا
ذات کا ایک اچھوت۔۔۔
نہ جانے کس یُگ سے اِس چھوا چھوت کی ذات پات کے
چکی میں پِستے یہ لوگ بھی ہند کے ہی آدی باسی تھے ۔۔۔
جن کا چھو جانا نا پاک کہا جاتا تھا
(دو)
کورؤوں، پانڈوؤں کی دِلی سے کچھ دوری پر
گرو “درون آچاریہ”کی کٹیا تھی
ایک آشرم جو مرکز تھا تیر اندازی کی شکھشا کا
اس کے چاروں سمت گھنے جنگل میں
شہزادوں، راجاؤں کے رہنے کی کٹیائیں تھیں
جن میں ٹھہر کر
راجے، راجکمار، کھشتری سرداروں کے بیٹے پوتے
تیر اندازی کی تربیت لے کر
دھنش بان ویرکہلاتے۔

(تین)
ایکلویہ بھی پیڑوں کے پیچھے چھپ چھپ کر
ان کی ہر اک چال دیکھتا ۔۔۔اور گھر جا کر
سرکنڈوں سے بنی کمانوں سے اپنی تربیت کرتا
بارہ برس کی عمر میں ، دیکھ دیکھ کر
تیر اندازی کے کچھ کرتب سیکھ گیا وہ
پھر اک دن وہ آ ہی پہنچا گرو گرام میں

ایکلویہؔ ہے نام مرا “، اس نے پرنام کیا اور بولا
“آپ کی شرن میں آیا ہوں میں ودیا لینے”

“کون ذات ہو؟”

“میں اچھوت ہوں ۔۔۔۔لیکن، گرو ور ،
تیر اندازی میں مشّاق ہوں ”

وہ کیسے؟ گرو ور نے پوچھا

دیکھ دیکھ کر، شہزادوں کو
آپ کی شکھشا کے سب پہلو سمجھ سمجھ کر ۔
میری پریکھشا لے کر دیکھیں

گرو درون آچاریہ تو خود دُبدھا میں تھے
کیسے ایک اچھوت کو شہزادوں کی سنگت میں شکھشا دیں

بولے گرو ور : دیکھو ، لڑکے
یہ تو ممکن نہیں ہے، لیکن
تم پیڑوں کے پیچھے سے سب کچھ دیکھو
اور خود ہی سیکھو۔

“اچھا، گرو ور ”

ٍ (چار)
بیت گئے چھ  سات برس
ہاں، بیت گئے چھ سات برس تو
دلی کے شاہی کنبے میں
دادا پوتے بھائی ،یعنی
پانڈو کورو راج چھیننے کی خاطر میداں میں نکلے
دونوں فوجیں،جنگ و حرب کے ساز و ساماں
تیر و تفنگ ، تلواریں، نیزے
کرچ، گرز، ترشول ، کلہاڑے، سب کچھ لے کر
کرو کشیتر کی رن بھومی میں صف بستہ تیاـر ہو گئیں
تب تک گرو گرام سے پانچوں
پانڈو شہزادے بھی پہنچ گئے تھے
صف آرا تھیں دونوں فوجیں

(پانچ)
گرو گرام میں خبر یہ پھیلی
کورو بھائیوں کے ایلچی
ایکلویہ کی کٹیا کے چکر پر چکر کاٹ رہے ہیں
تا کہ اس کو اپنے تیر انداز وں میں شامل کر لیں
پانڈو راجکمار ارجنؔ کی ٹکـر کا یا
اُس سے بھی بہتر “رن ویر “اگر کوئی تھا
تو وہ کیول ایکلویہؔ تھا ۔
گرو درونا چاریہ تو خود جوڑ توڑ کے ماہر تھے ہی
اپنے چیلوں کی سنگت میں
ایکلویہ کی کٹیا تک وہ
خود پیدل چل کر پہنچے

پوچھا، ” تیرا گُرو کون ہے ؟”

ایکلویہ نے سر کو جھکایا ۔۔ اور کہا
“میرے گُرو تو آپ ہیں، گرو ور”

وہ کیسے؟ حیرت سے پوچھا، میں نے تو
تم کو شاگردبنانے سے انکار کیا تھا

ایکلویہؔ نے اب اپنا سر اونچا کیا
میں نے، گرو ور، آپ کی مورت اپنے آپ بنائی
اپنے سامنے رکھ کر، اُس سے اجازت لے کر
روزانہ تیر اندازی کے سارے کرتب
اپنے آپ ہی سیکھ سیکھ کر اب میں اک ماہر
تیر انداز ہوں، لیکن
اس میں، گرو ور، آپ کی شکھشا بھی شامل ہے

(چھ)

درون آچاریہ، ایک براہمن
صدیوں کی حکمت، عیاری، چالاکی کا ایک مرقع
ایک ہی پل میں سمجھ گیا ۔۔۔۔یہ نوجوان تو
جنگ میں ارجنؔ سے بہتر ثابت ہو گا ۔۔۔تو
اس کو تو ہر حال میں اس رستے سے دور ہٹا نا ہو گا

بولےگرو ور، “اچھا تو تم میرے ہی شاگرد ہو، لیکن
‘ّگرو دکھشنا ّ تو دو مجھ کو

شرمایا کچھ، بھولا بھالا نوجوان ، سوچا
میں کتنا خوش قسمت ہوں مجھ سے خود
گرو دکھشنا مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔
بولا
گرو ور، آپ ہی خود ارشاد کریں۔کیا پیش کروں
مال و زر تو کچھ بھی نہیں ہے
جسم، جان ہے، وہ حاضر ہے
جو کچھ مانگوں، دو گے کیا ؟پوچھا استاد نے۔
جی ہاں، گرو ور
پہلے سوچ لو۔۔۔ پھر پوچھا براہمن استاد نے اس اچھوت سے
سوچنا کیا ہے ! آپ گرو ہیں، میں چیلا ہوں۔۔۔
جو کچھ بھی ارشاد کریں گے، میرے پاس اگر ہو گا تو
میں حاضر کر دوں گا، گرو ور

یہ لو خنجر ۔۔۔اس سے اپنا
دایاں انگوٹھا کاٹو ۔۔۔مجھ کو پیش کرو
یہی تمہاری گرو دکھشنا ہو گی ، لڑکے ۔۔۔

(سات)
اک لمحہ ہی، بس اک پل چھِن
ایکلویہ توؔ ٹوٹ گیا ۔۔پر ریزہ ریزہ ہو کر بھی
اس نے جھٹ اپنے
بائیں ہاتھ میں خنجر پکڑا
مضبوطی سے
پھر اپنا دایاں انگوٹھا
ایک ہی وار میں کاٹ دیا ۔۔۔پھر
سر کو جھکایا۔۔۔کٹا ہوا انگوٹھا اپنا پیش کیا

پھربولا
میں اب تیر چلا سکنے کے قابل نہیں رہا ہوں، گرو ور
یہی تھی آپ کی خواہش نا؟
آپ کے چیلے ارجنؔ کو اب مجھ سے خطرہ کوئی نہیں ہے

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *