• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ارنسٹ ہیمنگوے : مابعد جنگ عظیم اول کا مہم جو اور گمشدہ نسل کا ادیب اور فکشن نگار۔۔۔۔احمد سہیل

ارنسٹ ہیمنگوے : مابعد جنگ عظیم اول کا مہم جو اور گمشدہ نسل کا ادیب اور فکشن نگار۔۔۔۔احمد سہیل

“ذہین لوگوں میں خوشی سب سے کم ترچیزہوتی ہے جو میں جانتا ہوں “

 ” کتاب سے وفادار کوئی اور دوست نہیں ہوتا”(ہیمنگوے کے دو اقوال)

ارنسٹ ہیمنگوے21جولائی1899ء کو شکاگو کے مضافات اوک پارک میں پیدا ہوئے ،ان کے والد گریس ہال ہیمنگوے ایک دیہاتی ڈاکٹر تھے۔ وہ ارنسٹ ہیمنگوے کی پیدائش پر اتنا خوش ہوا کہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر بگل بجا کر اعلان کیا کہ اس کی بیوی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ -ہیمنگوے کو شکار اور مچھلی پکڑنے کا شوق تھا۔ جنگلوں میں جا کر کیمپ لگانا اور خطرناک جانوروں کو دیکھنا اس کا مشغلہ تھا۔ اس کے باپ کا ولوں (Walloon) جھیل کے پاس ایک گھر تھا۔ ارنسٹ زیادہ وقت وہیں گزارتا۔ دور دراز گنجان جنگلوں میں جا کر رہنا اسے بہت پسند تھا۔ فطرت کے اس قُرب نے اس کی تحریروں میں بڑی جگہ پائی ہے۔ سکول کے زمانے میں اس نے سکول کے میگزین اور اخبار کو سنبھالا۔ یہ تجربہ اس کے بہت کام آیا۔ جب وہ سکول سے گریجوایشن کرکے فارغ ہوا تو اسے کنساس کے ایک اخبار” کینساس سٹی اسٹار” میں رپورٹر کی ملازمت مل گئی۔ یہ نوکری اسے اپنے چچا کے توسط سے ملی جو چیف ایڈیٹر کا دوست تھا، ان کا خیال تھا کہ جس طرح مارک ٹوین، سٹیفن کرین ناول نگار بننے سے پہلے صحافی تھے۔ ارنسٹ کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے یہاں صرف چھ ماہ نوکری کی مگر یہاں اس نے اچھی نثر لکھنے کے سنہری اصول سیکھے –

1926ء میں ارنسٹ ہیمنگوے کا پہلا ناولThe Sun Also Rises چھپا۔ یہ ناول ارنسٹ کو مقبولیت دلوانے میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ ناول کی کہانی ہیروجیک بارنس کے اردگرد گھومتی ہے، جسے جنگ نے بہت بڑا زخم دیا ہے اور وہ زخم ہے اس کی مردانہ صلاحیت سے محرومی۔ اسے نہ نیند آتی ہے، نہ چین، بس روتا رہتا ہے۔ اسے سماج اور سوسائٹی کی ہر چیز سے نفرت ہو چکی ہے۔ وہ پیرس جا کر ایک ایسے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس کی ساری سرگرمیاں بے مقصد ہیں۔ ان میں ہر شخص جنگ کا زخم خوردہ ہے -اسی سبب ایذرا پاؤنڈ اور اس کے ہم خیال ادیبوں نے اس تحریک اور رویے  کو ” گمشدہ نسل” (Lost Generation) کا نام دیا تھا۔ -ہیمنگوے کے ناول’’ اے فیئر ویل ٹو آرمز‘‘ کا ترجمہ’’ و داع جنگ‘‘ کے نام سے اُردو میں ہو چکا ہے اور اسکی متعدد کہانیاں بھی اردو میں ڈھل چکی ہیں۔ سمندر اور بوڑھا (The old man and the sea) ہیمنگوئے کا وہ شہر ہ آفاق ناول ہے جو اس نے کیوبا میں 1951 میں لکھا ۔ یہ ناول ایک بوڑھے مچھیرے کی کہانی ہے جو کافی دن مچھلی پکڑنے میں ناکام رہتاہے۔ کبھی کاسانتیاگو چیمپئن اب لوگوں کی نظر میں بس ’’ سلاؤ‘‘ بن کے رہ گیا ،جو بدقسمتی کی بدترین مثال ہے۔

ارنسٹ ہیمنگوے نے اپنی کتاب’ ڈیتھ ان دی آفٹرنون‘ میں بُل یا بھینسےسے مقابلہ کرنے والے کو آرٹسٹ یا فنکار قرار دیا تھا۔ سپین میں جنرل فرانکو کے آمرانہ دور میں بل فائٹنگ کو قومی یک جہتی کے لئے بھی فروغ دیا گیا تھا۔ اُسی دور میں اِس کی مقبولیت کے قومی سطح پر بڑے بڑے پلان بنائے گئے تھے۔

حتیٰ کہ اس کے واحد شاگرد کے ماں باپ بھی اپنے لڑکے کو اسے ملنے سے منع کرتے ہیں۔ اور پھر وہ دن بھی آتاہے جب سانتیاگو سمندر اور اس کی تمام تر ہولناکیوں سے بھڑ جاتاہے۔ ۔یقیناً آپ اس خوبصورت ناول کوپڑھتے ہوئے اس کی ہرسطر کا خوب مزہ لیں گے۔ یہ وہ آخری اہم ترین ادبی تخلیق تھی جو ہیمنگوئے کی زندگی میں ہی شائع ہوئی۔ناول کی کہانی انسان کے عزم و ہمت کی داستان ہے۔ وداع جنگ کی اشاعت کے بعد دس برس تک اس کا کوئی اہم تخلیقی کام نہیں  آسکا۔ ایک عشرے پر محیط اس تخلیقی  بنجر پن کے دور کے بعد جب اس کا ناول Across the river and into the trees شائع ہوا تو نقادوں نے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کتاب میں ہیمنگوئے نے دوسری جنگ عظیم میں اخباری نمائندہ کے طور پر حاصل ہونے والے تجربات کو اس انداز میں جس طرح کہ اس نے جنگ اول اور اسپین کی خانہ جنگی سے حاصل ہونے والے تجربات کو ناول کی صورت میں کامیابی سے ڈھالا تھا اس کو ناکامی ہوئی۔ بوڑھا اور سمندر کو عدیم النظیر پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1953 میں اسے اسی ناول کی بنیاد پر اسے Pulitzer priz جبکہ اگلے برس ادب کے نوبیل انعام سے نوازا ،ایک انقلابی تھا، ایک روشن خیال ترقی پسند شخص تھا ،اس کا تذکرہ نہیں کیا۔وہ قطعی طورپر ایک خصوصی مزاج کارجعت پسند امریکی نہ تھا، اس نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران آمرفرانکو کے خلاف جدوجہد کرتے بائیں بازو کے انقلابیوں کا ساتھ دیا جہاں سے ان کے ناول’’ فار ہوم بیل ٹولز‘‘ نے جنم لیا اور اس نے اپنی آخری عمر کیوبا میں بسر کی۔

امریکہ دوسری جنگ عظیم میں آٹھ دسمبر 1941ء کو شریک ہوا۔ ہیمنگوئے اس جنگ کی کوریج کے لیے کویر میگزین کی طرف سے یورپ گیا۔ جنگ کے بعد ہیمنگوئے’’The garden of eden‘‘لکھنے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کا یہ تصنیفی منصوبہ برسوں بعد نہایت مختصر شکل میں 1986ء میں شائع ہوا۔ ایک موقع پر نہایت ہی مختصر شکل میں 1986ء میں شائع۔ ہسپانوی سول جنگ کی نارتھ امریکن نیوز پیپرز الائنس کی طرف سے رپورٹنگ کے لیے وہ 1937ء میں سپین گیا، اس جنگ نے اس کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ہیمنگوئے جو اپنی بیوی پالیون سے شادی کے وقت کیتھولک ہوچکا تھا اب مذہب کے بارے میں تشکک کا شکار ہوا اور چرچ سے باغی ہو گیا۔ اس کی بیوی کیھتولک ازم کی پرجوش حامی تھی اس لیے وہ فرانکو کی فاشٹ حکومت کی حمایت کر رہی تھی اس کے برخلاف ہیمنگوئے ری پبلیکن حکومت کی حمایت کرتا تھا۔ اس زمانے میں اس نے’’The Denunciation‘‘ لکھا جس کا چرچا بہت کم ہی ہوا اس کی اشاعت بھی 1969ء میں ممکن ہوئی جب اس کو ہیمنگوئے کی کہانیوں کے مجموعے میں شامل کیا گیا۔

’’ اولڈ مین اینڈ دے سی‘‘ میں ناول لکھا، جس کی بنیاد پر اسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس ناول کو شاہد حمید نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ہیمنگوےایک طرف تو مسیحی اخلاقیات سے متاثر تھے ان کےمزاج میں ایک انقلابی چھپا ہوا تھا۔ ، ایک روشن خیال ترقی پسند اور روشن خیال شخص تھے ۔ انہیں  قطعی طورپر ایک خصوصی مزاج کا رجعت پسند امریکی نہیں کہا جاسکتا ۔ ، مگر ہیمگوے کا روایت پسند مذہبی رجحان ان کی  تحریروں میں دکھائی دیتا ہے ۔ انھوں نے نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران آمرفرانکو کے خلاف جدوجہد کرتے بائیں بازو کے انقلابیوں کا ساتھ دیا جن میں ژان پال سارتر اور کئی ادبا انکے ساتھ شریک تھے۔ جہاں سے اس کے ناول’’ فار ہوم بیل ٹولز‘‘ نے جنم لیا اور اس نے اپنی آخری عمر کیوبا میں بسر کی اور ’’ اولڈ مین اینڈ دی  سی‘‘ میں ناول لکھا، اس ناول اور ” بوڑھا اور سمندر ” پر اسے ۱۹۵۴ میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے اپنی عادات کے کے متلعق بھی لکھا ہے۔ ’’میں ہر صبح لکھتا ہوں۔‘‘۔ 1959ء میں جب وہ کیوبا میں مقیم تھا انقلاب آیا اور بتیسٹا کی حکومت ختم ہوئی تو بدستور کیوبا میں ہی مقیم رہا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ کاسترو کا حمایتی ہے اور اس کے برپا کیے ہوئے انقلاب کے لیے اس نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد ایف بی آئی اس کی نگرانی کرتی رہی کیونکہ اس کے بارے میں شبہ کیا جاتا تھا کہ اس کا ہسپانوی سول وار کے دنوں میں جن مارکسی سوچ کے حامل افراد کے ساتھ اس کا تعلق استوار ہوا، وہ اس زمانے میں کیوبا میں دوبارہ سرگرم تھے۔ 1960ء میں اس نے کیوبا کو خیرآباد کہا۔

جارج پلمٹن کو انٹرویو دیتے ہوئے ہیمنگوے نے اپنے روزمرہ معمولات یو ں بیان کیے۔’’جب مجھے کسی کتاب یا کہانی پر کام کرنا ہوتا ہے تو میں صبح پوپھوٹتے ہی کام شروع کر دیتا ہوں۔ یہ ایسا وقت ہے جس میں کوئی بھی  آپ کے کام میں خلل انداز نہیں ہوتا اور اس طرح بہت سہولت سے آپ اپنا کام کر لیتے ہیں۔ اپنا لکھا ہوا دوبارہ پڑھئے۔ یہ آپ کی تحریر میں نکھار لانے کا سبب بنے گا۔‘‘ ہیمنگوے کا کہنا تھا کہ”شراب انسان کی اچھی دوست ہوتی ہے”۔ 2 جولائی 1961 میں امریکی ریاست ” ایوڈا” کے شہر ” کچھمم” میں ان کا انتقال ہوا ۔ ایک کیتھولک راہب کا کہنا تھا کی ان کی موت ” حادثادتی” تھی۔ جب کی ہیمنگوے کی بیوی نے اپنے ایک خباری مصاحبے میں کہا تھا کی انھوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کی تھی۔ اس کو وجہ اعصابی تناؤ اور کثرت شراب نوشی تھی۔

ان کی چند مشہور تصانیف یہ ہیں۔

“Indian Camp” (1924)

The Sun Also Rises (1926)

A Farewell to Arms (1929)

Death in the Afternoon (1932)

Green Hills of Africa (1935)

For Whom the Bell Tolls (1940)

The Old Man and the Sea (1951)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *