آدم خور ! ایک سچی کہانی۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ محترم احباب!
آدم خور کی کہانیاں آپ نے سنی، پڑھی یا دیکھی ہوں گی۔ آدم خور عام طور پر ان جانوروں کو کہا جاتا ہے جو کسی وجہ سے انسان کا شکار کر کے اسے کھا بیٹھتے ہیں اور ان کے منہ کو انسان کا خون لگ جاتا ہے اور پھر وہ ڈھونڈ کر انسان کا شکار کرتے ہیں۔ اس صنف میں سب سے مشہور شیر ہے۔ آدم خور شیروں پر بننے والی ایک انگلش فلم جس کا نام The Ghost and the Darkness ہے کو بہت شہرت حاصل ہوئی تھی۔ عام طور پر شیر کو ہی سب سے بڑا و خوفناک آدم خور تصور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے ۔۔ مکروہ ترین آدم خور ہونے کا اعزاز امریکہ کے پاس ہے۔ آج 6 اگست کو امریکہ کی آدم خوری کی عالمی طور پر مذمت کرنے کا دن ہے۔ جو لوگ امریکہ کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ سیاہ فام غلاموں کے خون سے امریکہ کی آبیاری کرنے سے پہلے غاصب امریکیوں نے امریکہ کے اصل عوام “ریڈ ایڈینز” کا قتل عام کر کے ان کے خون اور لاشوں سے امریکہ کی زرخیزی بڑھائی تھی۔ امریکہ کی موجودہ آبادکاری کے منہ کو شروع سے ہی انسانی خون لگ گیا تھا جس کی پیاس دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ البتہ اگست 1945ء میں آج ہی کی تاریخ کو آدم خور امریکہ نے انسانیت پر پہلا ایٹم بم گرایا تھا- امریکہ کا اپنا وجود ان جرائم پیشہ و ناپسندیدہ افراد پر مشتمل ہے جنہیں یورپ سے سزا کے طور پر امریکہ بھیجا گیا۔

آدم خور امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان پر ایٹم بم گرا کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ کوئی چوہتر سال پہلے آج ہی کے دن جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے دُنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا جس نے ہیروشیما کو خس و خاشاک میں بدل دیا اور ایک لاکھ سے زائد زندہ انسان جل کر بھیانک ترین موت کا شکار ہو گئے۔ ہزاروں انسان لاپتہ ہو گئے جو شاید ایٹم بم کے دھماکے و تابکاری کی شدت سے ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گئے۔ جو معدودے چند انسان زندہ بچ پائے ان کی جسمانی حالت ایسی تھی کہ ان کی کھال نے ان کے جسموں کو چھوڑ دیا، کپڑے جھلسے ہوئے جسموں کے ساتھ ہی بھسم ہو گئے، پلکیں، بھنویں، گال، ناک سب غائب ہو گئے اور ناک کی جگہ دو سوراخ اور گالوں کی کھال اور گوشت جھڑ جانے کی وجہ سے اندر سے جبڑے دکھائی دیتے تھے۔ امریکہ کے اس ایٹمی حملے کے بعد جو قیامت برپا ہوئی اس میں ایٹم بم کے دھماکے کی آواز نے صور اسرافیل کا کام کیا جس کے بعد ہیروشیما میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ بچنے والے جھلسے ہوئے انسان اس قیامت کی ہولناک تباہی اور غارت گری سے سکتے کے عالم میں تھے، ان کے حواس شل اور کانوں کے پردے پھٹ چکے تھے۔ ایٹم بم کے دھماکے کی آواز سے پورا جاپان لرز گیا اور ایسی چمک پیدا ہوئی جس کے سامنے کچھ دیر کے لئے سورج کی روشنی بھی ماند پڑ گئی اور سینکڑوں افراد اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔ آگ اور دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف یوں لپک رہے تھے جیسے ایٹم بم دھماکے میں اجتماعی موت مرنے والے انسانوں کی روحیں آسمان کی طرف جوق در جوق محو پرواز ہوں۔ ہیروشیما کی زمینوں پر اتنا برا تابکاری اثر پڑا کہ اب تک وہ بنجر ہیں ۔۔۔۔۔۔ آدم خور امریکہ نے جاپان ہی نہیں ویت نام، لیبیا، عراق، مصر، الجزائر، افغانستان، شام، اور پاکستان جی ہاں پاکستان کا بھی خون پیا ہے اور مسلسل پی رہا ہے۔
امریکہ مردہ باد کے نعرے کے ساتھ دکھی دل سے اجازت کا طلبگار شاہد محمود

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *