• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پتی پتنی اور پتایہ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 2 بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

پتی پتنی اور پتایہ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 2 بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

گزشتہ سے پیوستہ

آسٹریلیا اور برطانیہ کے ریٹائڑڈ بڈھے اپنے گریجیوٹی اور پنشن سےشارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم لیز پر بھی زنانہ ، مردانہ اور بہ صورت دیگر جنس کو ساتھ رکھتے ہیں اور ٹرافی کی  طرح لیے لیے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ تھائی جانور فلور کراسنگ اور یو ٹرن کے لیے بھی مشہور ہیں ، جس کے بارے میں یہاں مشہور ہے کہ یہ فن ملک عزیز کے چار مارش لاؤں کا مطالعہ کر نے کے بعد لوکل انڈسٹری نے اپنایا ہے ، مقامی اَن داتا اس فن کو پیار سے ’ کنٹرولڈ ڈیموکریسی ‘ کہتے ہیں ۔ کنٹرول انگریز ی کا لفظ ہے جس کی ادائیگی انگریزی اور پنجابی میں دو سلیبل سے کی جاتی ہے ۔ انگریزی سیکھنے کے خواہش مند کوشش کر دیکھیں، نتائج سے مصنف کو بھی آگاہ کریں ۔

پتی پتنی اور پتایہ ‘ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 1بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

دوسری قسط!
تھائی لینڈ میں شار ٹ ٹرم اور لانگ ٹرم لیز پر پارٹنر مل جاتی ہیں، جو لیسی یعنی لیز کنندہ کے ساتھ ہی رہتی ہیں اور جن کے ساتھ کھایا پیا اور بارہ آنے والا گلاس بھی توڑا جا سکتا ہے ۔ لیزڈ پراڈکٹ کے حقوق استعمال پر کوئی فطری پابندی نہیں ہوتی ، مذکورہ پراڈکٹ اوپن لیٹر پر چلتی ہیں ۔ گورے بالخصوص برطانوی اور آسٹریلین رٹائرمنٹ کے بعد اس ارینجمنٹ سے خوب فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ پنشن میں ملے تھوڑے سے پاؤنڈ ڈالر میں بہت سے بھات او ربھانت بھانت کے مزے مل جاتے ہیں ۔ ادھر چھ فٹے آسٹریلین  کے بغل میں دبی گٹکہ سائز کی تھائی دوشیزہ کو دیکھنا کوئی حیرت کی بات نہیں ۔
اسی قسم کا ارینجمنٹ ہمیں ایک دفعہ ایک ضرورت مند نے اُردن میں آفر کیا تھا، اس وقت ہمارے پاس نہ بڑھاپا تھا اور نہ ہی پنشن ، لہٰذا  سودے بازی اپنے  منطقی انجام یعنی ناکامی پر منتج ہوئی ۔ اور ہمارے بھرم کے ساتھ ساتھ بچائے گئے درہم کی بھی بچت ہوگئی ۔ بھرم اس لیے کہ ہم سوکر کے وہ پلیئر ہیں کہ اگر ہمیں بغیر گول کیپر خالی گول میں بھی پینالٹی کک مارنے کاموقع ملے تو بھی ہم اسے اوپر نیچے دائیں بائیں آئیں بائیں شائیں کر کے ضائع کر دیں گے ۔ مگر ہمیں آج بھی اس بڈھے انگریز سے جلن محسوس ہوتی ہے جس کے ہاتھ ٹرافی لگی تھی۔

چند دن پہلے ایک عمانی پر 55 ہزار بھات کا جرمانہ بھرنے میں ناکامی پر جیل کا سامنا تھا۔ قصہ بہت دلچسپ ہے ، اس عمانی نے لیز پر محبوبہ رکھی ہوئی تھی اور اسے کمر سے لٹکائے لیے لیے پھرتا تھا۔ ایک نائٹ کلب میں اس پر 55 ہزار بھات کی خمر کا بل بن گیا۔ اب معاملہ یہ ہوا کہ موصوف کہتے ہیں کہ میں نے تو ایک گھونٹ بھی حلق سے نیچے نہیں اُتارا تو یہ اتنا بھاری بِل کیسے بن گیا۔ نائٹ کلب والے کہتے ہیں کہ بِل بالکل درست ہے اور ساری خمر کا خرچہ اس سے ہی وصولا جائے گا۔ معاملہ پولیس تک پہنچ گیا ، تھانے میں عمانی اپنی صفائی دے دے کر تھک گیا کہ میں نے ایک گھونٹ بھی نہیں پیا ، یہ وصولی تو دھوکہ اور بدمعاشی ہے۔ پولیس نے جب پوچھ گچھ کی تو عقدہ کھلا کہ بھیا جی یار کو پہلو میں بٹھا کر کچھ اور کیا یا نہیں مگر کمال ضرور کیا ، وہ یوں کہ وقفے وقفے سے بار ٹیبل پر رکھی گھنٹی کو گھنٹا سمجھ کر بجاتے تھے ۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ کسی کی بھی خوامخواہ بجانے کے نتائج ٹکے کے دو روپے بھی ہوسکتے ہیں چاہے بجوائے جانے والا ووٹر ہو یا لُوٹر، چیخ سب کی نکلتی ہے ۔نائٹ کلب بار میں گھنٹی پر ہاتھ رکھنے کا مطلب لونڈیا پر نظر رکھنے سے مختلف ہوتا ہے ۔ لونڈیا پر نظر رکھی جائے تو کوئی ڈنڈ نہیں پڑتا مگر گھنٹی پر ہاتھ رکھنے کا مطلب ’کلب میں موجود ہر ایک کو مفت کی مئے‘ پلانا ہے جس کا بِل بجانے والے پر پڑتا ہے جو بالاخر بجانے اور بجوانے کے فرق کو جان ہی جاتا ہے ۔ یہ معصوم برادرِ عرب بھی اپنے بے قابو ہاتھوں کے ہاتھوں ہاتھ سے گیا لہٰذا  لیزڈ پراپرٹی کے علاوہ گھنٹی پر بھی دست شفقت پھیرتا رہا اور یوں ہر ٹرنگ ٹرنگ پر اگلے بھی مفت کی مئے کو منڈھ کر معدے میں اُتارتے رہے۔ قضیہ تو تب کھڑا ہو جب بار سے نکلتے سمے بھات مانگے گئے ۔ پولیس بھی نائٹ کلب کے موقف سے متفق ہے ، اس کا کہنا ہے کہ عمانی تھائی لینڈ کا ریگولر ٹریولر ہے اور اس کے ساتھ جو لڑکی ہے وہ تومقامی ہے تو پھر’بھولے بن جا ‘ کارڈ نہیں چلے گا، بھات تو دینے ہی پڑیں گے ورنہ تھائی جیل میں دال بھات کھانا پڑے گی ۔مرتا کیا نہ کرتا، کچھ دے دلا کر بغل میں لڑکی اور تھانے میں معاملہ دبایا ۔

پتایہ میں مجّو بھائی ملے ، بہت سادہ اور پُر خلوص آدمی ہیں، جو اندر سے ہیں ویسے ہی باہر سے بھی ہیں یعنی کھوکھلے اور کنگال۔ کئی برسوں سے پتایہ آنا زیادہ اور جانا کم کرتے ہیں ۔ دیس واپس جاکرجو کچھ بچا کھچا ملتا ہے وہ بیچ اور رہی سہی عزت کے بھرم پر ٹکٹ و ویزہ کے پیسے جمع کر کے دوبارہ ادھر آجاتے ہیں۔ جب تک بھات جیب بھاری رکھتے ہیں وہ خود کو ہلکا اور نیچے دابی نازک اندام تھائی بی بی کے پاؤں بھاری کرنے کی کوششوں میں جُتے رہتے ہیں  ۔ جیسے ہی بھات ختم ، ویسے ہی وہ چھوئی  مو ی بی بی  انہیں لات مار کر گلی میں نکال کر بات ختم کر دیتی ۔ دس برس ہو گئے ، یہ کھیل جاری ہے ۔ مجّو بھائی  تھائی  بیبیوں کی کاروباری ایمانداری کے بہت معترف تھے۔ وہ ہمیں بتانے لگے ’ دنیا ان ’ سدا سہاگن ‘ بیبیوں کے بارے میں کچھ بھی کہے ، مگر ایمانداری و پروفیشنل انٹگریٹی میں ان کا جواب نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پہلی بار میں نے تھائی اکونومی میں اپنا حصہ ڈالا تو پتہ چلا کہ سروس فیس کےلیے الگ کیے ہوئے پیسے پرس سے کہیں گر گئے ۔ مجّو بھائی آدمی بہت محتاط تھے لہٰذا لین دین کے سارے معاملے کمرے میں کنڈی بند کر کے ہی پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے۔ اس حفاظتی تدبیر کے بعد بھی پرس کا ہلکا ہو جانا طبعیت پر بھاری گزرتا ہے۔ مگر بھلا ہو اس نیک سیرت تھائی بی بی کا کہ اس نے نہ صرف یہ کہ اپنا سروس چارج معاف کردیا بلکہ سینہ بہ سینہ سینت سینت کر رکھے اتنے بھات کھلے دل سے انہیں دان کر دیے کہ ٹُک ٹُک رکشے میں بیٹھ کر اپنے ہوٹل پہنچ جائیں۔ وہ آج بھی اس بی بی کو ممنونیت سے یادکرتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ اتنی موٹی رقم اتنی چھوٹی تجوری میں کیسے سما سکتی ہے۔ اس ستی ساوتری کی سخاوت کا قصہ سن کر ہم بھی مرعوب ہوئے۔

ایک دن شام کو ایک لاہوری کے ہوٹل پر کھانا کھانے پہنچے تو گپ شپ لگ گئی۔ ہم نے شہر کی تعریف کی، ڈسپلن اور صاف ستھرائی کا  ذکر کیا تو لاہوری بولا ’ پائی  جان ، وہ جو چار گلیاں جن میں آپ ایک بار بھی نہیں گئے ، ان میں گھوم پھر کر مملکت خدادا کے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پورا تھائی لینڈ ہی شاہی بازار ہے یا کم ازکم پتایہ شہر ہی کرن جوہر ہے۔۔باتوں باتوں میں مجّو بھائی کا ذکر بھی آگیا، وہ بھی ان کو جانتا تھا۔ کہنے لگا کہ مجّو بھائی بھولی مج ہے ، جب پہلی بار کاروائی ڈالنے گیا تو، وہ جیسے یہ نیک پروین سمجھتے ہیں ، اس نے ان پر ایسا جادو چلایا کہ یہ ٹُن ہو گئے ،اور اسی دوران کھڑکی سے اس عورت کے پارٹنر نے ایک چھڑی کے  ذریعے کھونٹے سے ان کی قمیص اور پتلون اتاری اور پھر جیبیں اور بٹوا خالی کر کے اسی طرح واپس لٹکا دی۔ یہ بیچارے جب تک کنٹرول لائن کراس کرتے اس وقت تک اگلی پارٹی انہیں ڈبل کراس کر چکی تھی ۔اس کے بعد جو ہوا وہ ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی ۔ ۔ بقول شاعر
؏ کُنڈی مت کھٹکاؤ راجہ سیدھا اندر آؤ راجہ

اس واقعے میں ہمارے لیے قیمتی سبق یہ تھا کہ دروازے کے ساتھ کھڑکی بھی اندر سے بند کر لینی چاہیے۔ گو کہ ہم فاقے سے رہنے اور بارہ آنے والا گلاس توڑنے کے قائل ہیں بھلے کھائیں پئیں کچھ نہ۔ اور آپ لوگ جو ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں ، وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ ہمیں ’ سبق ‘ کبھی یاد نہیں ہوتا، اسی لیے ہر’ ایڑہ ، غیرہ ‘ ہم کو سبق سکھانے میں جُتا رہتا ہے۔
مجّو بھائی کی زندگی جَھنڈ تھی مگر پُر گھمنڈ تھی ، کسی سے نہ شکوہ نہ کوئی گِلہ ، بس چلے جارہے تھے سمے کی دھارا کے ساتھ ، کبھی ایک پری پر سوار تو کبھی دوسری کو خود پر کیے سوار ، اُڑے جارہے تھے ، بہے جا رہے تھے ۔

خیر تو جناب ، ائیرپورٹ کے راستے میں ایک جگہ ٹائلٹ استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی ، ہائی  وے پر ہی ہر کچھ کلومیٹر کے بعد استراحت کے لیے ریسٹ ایریاز قائم کیے گئے ہیں ، جدھر سیون الیون اسٹورز کی چین اور ساتھ ہی نہایت صاف ستھرے ٹائلٹ بنے ہوئے تھے ۔ جب طلب ہو ، رَسد اور وسیلہ بھی موجود ہو اور وہ بھی بالکل مفت تو طالب کو اور کیا چا ہیے ، بس شمالی علاقہ جات کے ٹور کے دوران بیس بیس روپے میں ٹین کی دیواروں سے بنے لیٹرین میں ’مُتا لے‘ کا شوق پورا کرنے کی اکیڈمک مشق کو یاد کر کے ہم وطنوں کی استقامت اور مجاہدے پر فخر سے سینہ تانے حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر بیس روپے بچنے کی خوشی میں پھولے نہ سماتے واپس سواری چڑھ گئے۔
راستے میں اچانک تیز بارش نے آلیا، بارش کیا تھی، کالے سیاہ بادل جیسے اُمڈے چلے آرہے تھے، دل چاہا کہ گنگنائیں ’ اے ابر کرم آج اتنا برس ۔۔۔۔ ‘ پھر شہر قائد کی بارش یاد آگئی ، دل دھک ہو گیا، فوراً ارادہ بدلا اور منتطر رہے کہ کب کونسا بجلی کا کھمبا کڑاکے مارے گا یا سڑک میں کون سا کھڈّا نمودار ہوگا جس میں کوئی اسکوٹی چلانے والا اچانک غائب ہو جانے کا کرتب دکھائے گا۔ ایسا تو کچھ نہ ہوا البتہ بادل برس برس کر پیا دیس سدھار گئے اور سڑک سے پانی یوں غائب ہوا جیسے شہرِقائد میں سڑکی واردات کے دوران قانون نافذ کرنے والے ’ارادے‘۔
سامنے بنکاک ائیر پورٹ کی شاندار عمارت نظر آرہی تھی۔۔۔

ہم جلد ہی چکن با جھٹکا اور بے جھٹکا کے چکر میں پھنسنے والے ہیں ، معاملہ کیا ہوا، یہ جاننے کے لیے تیسری اور آخری قسط پڑھیے ، اسٹے ٹیونڈ، سایو نار!

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *