میں چاہتی ہوں۔۔سلمیٰ سیّد

میں چاہتی ہوں
کہ نظم ایسی کوئی تراشوں
کہ جس میں مجھ سے
کوئی وضاحت کوئی صفائی
کوئی وکالت کوئی دہائی
کسی محبت کی کج ادائی
سفر میں رہتے ہوئے بھی منزل سے نارسائی
سوال نامے کی لاش چوکھٹ پہ رکھ کے
پھر سے نہ پوچھی جائے
میں سوچتی ہوں
کہ تم کو نظموں میں لے کر آؤں
تمھیں دکھاؤں کہ میرے جذبوں کا باکرہ پن
تخیلاتی حدوں کو چھوتا چٹخ رہا ہے
میں انتہاؤں پہ آگئی ہوں
تو اب تمھارا یہ فرض ہے کہ
مجھے پگھلتی ہوئی رتوں میں
نقطئہ انجماد دے دو
سسک رہے ہیں جو بیج مجھ میں
نمو کی چاہت میں جل نہ جائیں
انھیں سہارے کا یا گزارے کا
ٹوٹا پھوٹا ساخواب دے دو
میں چاہتی ہوں
کہ آسماں سے کوئی صحیفہ تو ایسا آئے
جو یہ بتائے کہ ضبط کرتی
تمام روحوں کو کیا ملے گا
جو اپنی فطرت کی سرحدوں پہ
خود اپنے دل کی جواں امنگوں کی جان لے لے
تو ایسے شہداء کا کیا بنے گا ؟
میں چاہتی ہوں
کہ ایسا کوئی امام آئے
جو جاں کنی کا عذاب سہتی
شکستہ دنیا کو یہ بتائے
کہ چاہنا اور چاہے جانا غلط نہیں ہے
کسی ادھورے وجود میں بھی
کسی شگوفے کا سر اٹھانا گناہ نہیں ہے
میں چاہتی ہوں
تمھیں میں اپنی اکیلی دنیا میں لے کے آؤں
میں بھول کر اس جہاں کے فتوے
سمندروں میں دیئے جلاؤں
میں مسکراؤں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *