salmasyed کی تحاریر

زندگی سفر میں ہے۔۔سلمیٰ سیّد

زندگی سفر میں ہے اور اس کے پاؤں میں آبلے پڑے ہیں جو ان سے رس رہا پانی دشتِ نارسائی کو دے رہا ہے سیلا پن قہقہوں میں سسکی ہے اور جینا رسکی ہے پھر بھی لب ہنسیں گے اورآنکھ←  مزید پڑھیے

گزارش۔۔سلمیٰ سیّد

یہ کس نے عکسِ گلاب کو کسی تازہ تازہ شباب کو کیا قید اپنی نگاہ میں رہے چاہتوں کی پناہ میں کہ یہ نیم بازی ء  چشم نم رہے فتنہ ساز چلے جامِ جم نہ رہیں خداراسہم سہم کریں بے←  مزید پڑھیے

میں چاہتی ہوں۔۔سلمیٰ سیّد

میں چاہتی ہوں کہ نظم ایسی کوئی تراشوں کہ جس میں مجھ سے کوئی وضاحت کوئی صفائی کوئی وکالت کوئی دہائی کسی محبت کی کج ادائی سفر میں رہتے ہوئے بھی منزل سے نارسائی سوال نامے کی لاش چوکھٹ پہ←  مزید پڑھیے

عہدِ وفا۔۔سلمیٰ سیّد

رب نے ہی خواب دکھایا ، رب نے ہی تعبیر کیا تھاجو خوابوں میں محل اس نے ہی تعمیر کیا عصمتیں کتنی لُٹیں کتنی ہوئی بربادی سر کٹائے کئی تب جا کے ملی آزادی پاؤں جمنے بھی نہ پائے کہ←  مزید پڑھیے

تمھیں پتا ہے ؟۔۔سلمیٰ سیّد

تمھیں پتا ہے تمھارے ہونٹوں پہ پھیلتی یہ خوشی کی خوشبو بہار کے سب گلوں کے غنچوں میں معتبر ہے تمھیں خبر ہے ؟ تمھارے گالوں پہ پڑتا چھوٹا سا ایک نکتہ ہمارے دل کو نگل گیا ہے تمام منظر←  مزید پڑھیے

غزل۔۔سلمیٰ سیّد

مجھ پہ بہتان لگاؤ گے، چلے جاؤگے تم بھی طوفان اٹھاؤ گے، چلے جاؤگے تم جو آئے ہو تو آؤ گے ، چلے جاؤگے درد اس دل کا بڑھاؤ گے، چلے جاؤگے تم کو جانا ہی ضروری ہے کہاں سوچا←  مزید پڑھیے

غزل۔۔سلمیٰ سید

مجھ کو تنہائی میں ملو ایسے اپنی خوشبو سے مشکبار کرو ہاں مجھے آسمان چھونا ہے بادلوں پہ مجھے سوار کرو اپنی آغوش میں چھپالو تم میری دھڑکن کو بیقرار کرو شب ڈھلے آج یوں ملو مجھ سے بے خودی←  مزید پڑھیے

سو مت جانا۔۔سلمیٰ سیّد

سو مت جانا ایک لمحے کی دوری پیچھے کتنے اوس میں بھیگے پنچھی آنکھوں نے آزاد کیے خواب سفر کے سارے جذبے دل میں روشن ہوتی خوشبو پل پل رنگ میں لپٹی بارش اندیشوں کی بیل سے اُلجھے خیال سب←  مزید پڑھیے

میں عورت ذات ہوں۔۔سلمیٰ سیّد

اوہ مجھے کیوں اور کیسے جگایا گیا ؟؟ میں تو سوئی تھی تیری ہی آغوش میں ، قبل اپنی اس ممکنہ تخلیق سے ، اوہو اچھا تمھیں تھی ضرورت مری ؟ تم نے خواہش ہی کی اور کُن کہہ دیا،←  مزید پڑھیے

غزل۔۔سلمیٰ سیّد

‏جس کے گرد قائم وہ چاہتوں کا گھیرا تھا اس کی کالی آنکھوں میں چیختا اندھیرا تھا تم جو آج آئے ہو سرخوشی کا عالم ہے کل یہیں اسی گھر میں درد کا بسیرا تھا اس کے خیمہء ابرو اپنے←  مزید پڑھیے

نظم۔۔سلمیٰ سیّد

میں اس کو جب بھی چھوتا ہوں میرے ہاتھوں میں جیسے نور کا ریشم پھسلتا ہے میں اس کی ریشمی بانہوں میں بانہیں ڈال کے جس راہ چلتا ہوں وہاں تارے برستے ہیں میں ان آنکھوں میں جھانکوں تو نگاہوں←  مزید پڑھیے

جوگن کا خواب۔۔سلمیٰ سیّد

یہیں کچھ دور ۔۔ ایک بازار کے آخری سِرے پر وہ اکثر آتی۔ کبھی اکیلی کبھی سکھیوں کے سنگ ،ہنستی گاتی مجمع لگاتی۔ اپنے سارے درد چھپا کے گھر رکھ آتی ۔۔۔کتنے ہی لوگوں کی نظریں اس کی خاطر گھات←  مزید پڑھیے

غزل۔۔سلمیٰ سیّد

دل مجاور ہے اسکی چوکھٹ کا غیر کی چاکری نہیں ہوگی اس کی آنکھوں کو آج دیکھ لیا مجھ سے اب شاعری نہیں ہوگی کیسری رنگ مجھ پہ ڈالا گیا اب کہیں حاضری نہیں ہوگی سونے پیپل کی نرم چھاؤں←  مزید پڑھیے