جرمِ یاس۔۔۔۔محمد خان چوہدری

آبائی  گاؤں کی برادری میں ہر بندےسے شلوار کے پائنچوں جیسی رشتہ داری ہوتی ہے جیسے وہ نیفے تک جا کے ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اسی طرح برادری کا ہر مرد کسی نہ کسی طرح آپ کا تایا، چاچا، ماما یا بھائیا ہوتا ہے اور ہر عورت خالہ، پھُپھی ،چاچی، مامی، تائی  یا آپاں ہوتی ہے، اور خالہ  نیاز بی بی ہماری ایسی ہی خالہ تھی،لیکن وہ آپاں بلوانے پہ  بضد رہتی تھی۔

یونیورسٹی میں چھٹیاں تھیں اور ہم گھر آئے  ہوئے تھے کہ ایک دن صبح سویرے  آ دھمکی، ہم اپنے کمرے میں آل انڈیا ریڈیو سے آپ کی فرمائش پروگرام سن رہے تھے، برآمدے میں اس کی آواز سن کے باہر نکلے تو وہ اپنا شٹل کاک برقعہ  تہہ کر کے رکھ چکی تھی، ہم نے سلام کیا تو لپک کےسر پہ ہاتھ پھیرا اور پیشانی پہ  بوسہ دیا، ہم اس ناگہانی جسمانی حملے سے ابھی سنبھل نہ پائے  تھے کہ زبانی فائر شروع ہو گیا، میں تمہاری خالہ ہوں، قسم سے روز دعا کرتی ہوں کہ تم امتحان میں، فشٹ، آؤ، اچھا جتنے دن  یہاں ہو میری بیٹی کو وہ  کم بخت کو کیا کہتے ہیں جو تم پڑھ رہے ہو، ہاں اکنومس، وہ پڑھانا، اسے میں بھیجا کروں  گی ۔۔

ہم نے اپنے گھر والوں کے چہرے دیکھے تو سخت ناگواری کے تاثرات تھے۔
ہم نے بھی بھیجا استعمال کر کے جواب دیا،نہیں  خالہ میں آپ کے گھر کا چکر لگا لوں گا، اور میدان چھوڑ کے کمرے میں واپس آ گئے  ، جہاں کشور کمار کے گانے میرے محبوب قیامت ہو گی، کا”تیری گلی میں آتا صنم” بول  چل رہا تھا۔

اگلے دن ہم گھر والوں سے نظر بچا کے،پینٹ بشرٹ، میں پرفیوم خوب چھڑک کے جوابی وار کے لئے خالہ نیاز بی بی کے گھر جا پہنچے،ان سے ملاقات ڈیوڑھی میں ہی ہو گئی ، اتنے پیار اور خلوص سے ملی کہ ہمارے پسینے چھوٹ گئے ۔۔
وہیں سے آواز لگائی ، ساجدہ باہر آ، یہ دیکھ کون آیا ہے، برآمدے میں کرسی بچھا، جلدی کر، ہم خالہ کے ہمراہ  صحن عبور کر کے برآمدے میں پہنچے تو ساجدہ کرسی کے ساتھ میز جس پہ  کڑھائی  کیا ہو ا میز پوش بچھا تھا رکھ چکی تھی، ہم نے ساجدہ کو دیکھا اور اس نے ہمارا جائزہ لیا، اور دو جوانیوں کا میچ شروع ہو گیا، ہم نے پہلا گول یہ کہہ کے کیا” اوئے  ہوئے  تم اتنی جلدی اتنی بڑی ہو گئی  ہو”۔۔

اس نے جواب میں خاموش عضلاتی جواب دیا، دوپٹّے کو سر پہ  سیدھا کیا، سینہ پہ  پھیلایا، نظریں جھکائیں، سر جھکایا،اور ہمارے قریب آ کے خود بھی جھک گئی ، ہم نے اس کے سر پہ  ہاتھ پھیرا تو اس کے بدن کی کپکپاہٹ  ہم نے بھی محسوس کی۔۔

وہ اکنامکس کی کتاب اٹھا لائی ، ہم نے اسے طلب و رسد، اور افادہ مختتم  اور مارکیٹ میں قیمت کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں بتایا اور اس نے ہمیں  طالب و مطلوب، محب و محبوب کا سبق سینے کے اتار چڑھاؤ سے پڑھا دیا۔۔
آنے والے  دنوں میں ہماری حاضری کا دورانیہ بڑھا، تو کلاس برآمدے سے کمرے میں اور پھر بیرونی بیٹھک میں منتقل ہو گئی ۔۔ہماری چھٹی ختم ہونے سے پہلے معاشیات کی معیشت اور حالات کی نوعیت خطرے کے نشان سے بہت اوپر جا چکی تھیں، اور برادری میں چہ میگویاں تو عروج پر  پہنچ چکی تھیں، ہمارے گھر میں بھی اس کی بو باس موجود تھی۔
ایسے معاملات میں فیصلے کی گھڑی، گھڑی بھر انتظار نہیں  کرتی۔۔
ہماری واپسی میں ابھی دو دن باقی تھے کہ خالہ نے ہمیں ڈیوڑھی میں روک لیا، اور عجیب لہجے میں کہنے لگی اگر اپنے گھر میں تمہاری بات منوانے کی حیثیت نہیں  تھی، تو تم نے میری بیٹی کا ہاتھ کیوں تھاما، میں نے تمہیں  اکنومس پڑھانے کا کہا تھا، تم نے اسے بانس پہ  چڑھا دیا، تم اتنے ننھے کاکے تو نہیں  ہو، جاؤ اپنے گھر جاؤ، تم اپنے گھر والوں کو سنبھالو، اپنی بیٹی میں  خود سنبھال لوں گی، جاؤ چلے جاؤ۔۔۔

ہم اسی رات یونیورسٹی واپس آ گئے ، لیکن اس کے بعد نجانے کیوں  آبائی  شہر اور   اپنی برادری ہمیں پسند نہیں  رہے ، ہم وہاں نہیں  رہے، شاید  اس خوف سے کہ ہم کسی اور ساجدہ کو مایوس نہ کر بیٹھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *