ٹوٹے دلوں کی محفل۔۔۔۔۔سانول عباسی

١٣ جون ٢٠١٩ بروز جمعرات ” مسعید پاکستانی کمیونٹی” کے زیرِ انتظام و انصرام عید کی مناسبت سے “البانوش کلب مسعید” میں ایک شاندار “عید ملن پارٹی” کا انعقاد کیا گیا۔تقریب انتظامی حوالے سے اپنے اندر انفرادیت سمیٹے ہوئے تھی جس میں تمام معزز دوست مہمانِ خصوصی و مہمانِ اعزازی تھے اور اس تقریب میں الخور، دخان، دوحہ اور مسعید کے تمام دوستوں کی شرکت نے محفل کا رنگ دوبالا کر دیا۔

تقریب کی نظامت مسعید کمیونٹی کی ہردلعزیز شخصیت جناب فرقان احمد پراچہ نے کی ۔باقاعدہ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔حافظ حماد احمد نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی جناب فرقان احمد پراچہ صاحب جو اپنی ذات میں کثیرالجہت شخصیت ہیں جہاں وہ کسی بھی تقریب کے بہترین ناظم ہیں وہاں وہ ایک بہترین نفیس قسم کے نظم گو شاعر بھی ہیں جو احساس و جذبات کو اس خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں کہ سامعین جذبات کی رو میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ بےاختیار داد دینے لگتے ہیں انہوں نے اپنی ایک خوبصورت نظم سے آنے والے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔

خوش آمدید مرے دوستو

مرے کارواں سے جڑے رہو

ہے یہ موسموں کا چلن یہاں

جو رتیں بدلتی ہیں پیرہن

نئے پھول شاخ پہ آتے ہیں

لئے سات رنگوں کے قافلے

مرے کارواں سے جڑے رہو

خوش آمدید مرے دوستو خوش آمدید

اس کے بعد جناب سید وسیم عباس صاحب نے آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ظرافت سے بھرپور خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صنعتی حوالے سے مختلف فیکٹریوں سے منسلک احباب کرام کی شخصی جہتوں پہ روشنی ڈالی جس سے سامعین بہت محظوظ ہوئے اور خوب داد دی۔

ان کے بعد آنے والے معزز مہمانوں نے فرداً فرداً اپنی اپنی کمیونٹیز کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

جناب ریاض احمد بقالی صاحب نے تعلیم کی اہمیت اور سماجی ضرورت کے مطابق اسکے مناسب اطلاق کی اہمیت پر سیرحاصل گفتگو کی انہوں نے کہا کہ اگر ہم بحیثیت قوم دنیا میں اپنا آپ منوانا چاہتے ہیں تو اپنے علمی معیار کے ساتھ ساتھ اس کے عملی اطلاق کو جدید دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پہ خاص توجہ دینی ہو گی تبھی ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں اپنا مقام پیدا کر سکیں گے وگرنہ اسپِ زمانہ ہمیں کچل کے آگے نکل جائے گا اور تیرگی میں ہاتھ ملتے رہ جائیں گےآخر میں انہوں نے مسعید کمیونٹی کو اتنی خوبصورت محفل کے انعقاد پہ مبارکباد دی۔

جناب محمد سلیم بلوچ صاحب چیئرمین “سوہنی دھرتی الخور کمیونٹی” نے اظہارخیال کرتے ہوئے الخور سے آنے والے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کیا اورمسعید کمیونٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی محافل ہمیں جوڑے رکھتی ہیں انہوں نے “سوھنی دھرتی الخور” کمیونٹی کے چیرمین کی حیثیت سے دوحہ، مسعید اور دخان سے آئے ہوئے دوستو  کو آنے والے الخور مینگو فیسٹیول کی دعوت دی جو ہر سال آموں کے موسم کی آمد پہ الخور میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

جناب انور علی رانا صاحب نے مائیک سنبھالا اور مسعید کمیونٹی کی مہمان نوازی کی اعلی روایات کو بہت زیادہ سراہتے ہوئے کہا کہ میری باقی پاکستانی کمیونٹیز سے بھی گزارش ہے کہ مسعید کمیونٹی کی اعلی مہمان نوازانہ خصوصیات کو اپنائیں اور زیادہ سے زیادہ ایسی محفلوں کا انعقاد ہو اور قطر میں مقیم پاکستانی ایک دوسرے سے قریب سے قریب تر ہو سکیں تاکہ ان کے درمیان ایک خاندان کا سا احتمال ہو۔

جناب ڈاکٹر مسعود صاحب نے “دخان کمیونٹی” کی طرف سے مسعید کمیونٹی کی انتھک کاوشوں کی بہت تعریف کی انہوں نے کہا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد کتنی جانفشانی و محنت طلب ہے اس کا انہیں بخوبی اندازہ ہے۔ انہوں نے مسعید کمیونٹی کے آرگنائزنگ کمیٹی کے تمام ممبران کو اس خوبصورت محفل کے انعقاد پہ خراج تحسین پیش کیا۔

محمد اجمل چوہدری صاحب نے دوحہ کمیونٹی کی طرف سے مسعید کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا انہوں نے محفل کے روح رواں جناب فرقان احمد پراچہ کے شخصی خصائص پر سیر حاصل مضمون پیش کیا انہوں  نے پراچہ صاحب سے اپنے دیرینہ تعلقات کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ پراچہ صاحب کی شخصیت کسی مقناطیس کی ماند ہے یہ جہاں بھی ہوں اپنے خلوص و محبت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور ایک دنیا آباد کر لیتے ہیں جس کی زندہ مثال آج کی یہ محفل ہے۔

ان کے بعد قطر کی جانی مانی شخصیت، صحافی جناب محمد اشرف صدیقی صاحب نے اپنے خیالات کے اظہار میں قطر کی ناکہ بندی سے متعلق گفتگو فرمائی اور انہوں نے مسعید کمیونٹی کے روح رواں جناب فرقان احمد پراچہ صاحب کی خدمت میں محبت کے اظہار کے طور پہ اپنی کتاب “قطر کی ناکہ بندی” کا تحفہ پیش کیا جسے پراچہ صاحب نے خاص شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔

جناب جاوید بھٹی صاحب نے جناب فرقان احمد پراچہ صاحب کے ساتھ ملکر مہمانوں کی ظرافت طبع کے لئے انتہائی شستہ، شگفتہ، ظرافت آمیز خاکہ پیش کیا جسے معزز مہمانوں نے بہت سراہا اور خوب داد دی۔

جناب زاہد صاحب نے بطور مزاحیہ شاعر کسی مشّاق بذلہ باز کی طرح بذلہ گفتاری کے خوب جوہر دکھائے انہوں نے پروین شاکر کی غزل “کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی” کی پیروڈی “کو بہ کو پھیل گئی بیٹی تھی حلوائی کی” کی اور سامعین سے خوب داد وصول کی۔

راقم (ساؔنول عباسی) نے لفظوں کے موتیوں سے پردیسیوں کی قلبی کیفیات کو شاعرانہ پیراہن میں جب بیان کیا تو محفل اشکبار ہو گئی نظم کا کچھ حصہ پیشِ خدمت ہے!

سنو اہلِ وطن پردیس میں

اُس وقت دل پر جو گزرتی ہے

بیاں بھی ہو نہیں سکتا

اچانک جب خبر آئے تمہاری منتظر آنکھیں

ابھی ہیں موند ہونے کو

ذرا جلدی سے آنا تم

کہیں اب دیر نہ کرنا

تو تب پھر درد کی ٹیسیں جو دل کا حال کرتی ہیں

سمجھ میں کچھ نہیں آتا

جو سینے میں دھڑکتا ہے

اچھل کر حَلْق میں آ کر دھڑکتا ہے

کلیجہ منہ کو آتا ہے

خدایا خیر ہو سب کی

مگر پردیس میں مجبور بے چارے

پہنچتے ہیں جنازوں پر

کبھی وہ بھی نہیں ملتے

عشائیے سے پہلے مسعید کمیونٹی نے پہلی مرتبہ قطر میں اس طرح کسی پروگرام میں سرائیکی ثقافتی جھومر پیش کیا اور تمام مہمانوں کے لئے بھی دعوت عام تھی بہت سے دوست بنفس نفیس شامل بھی ہوئے بلکہ دل کھول کر ساتھ دیا جس سے نا صرف  محفل کی رونق دوبالا ہوئی بلکہ سارے مہمانوں کے چہروں پہ گرمجوشی و خوشی دیدنی تھی۔

اس کے بعد ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا اور تمام مہمانوں نے جہاں پرتکلف عشائیے کا لطف اٹھایا وہاں عشائیے کے دوران قطر کے مشہور و معروف نغمہ نگار جناب جمشید شہزاد باوجوہ صاحب نے جب اپنی آواز کا جادو جگایا تو ایک بہترین ماحول کا سا سماں پیدا ہو گیا تمام محفل میں جمشید باوجوہ صاحب کی آواز میں زندگی دوڑنے لگی باجوہ صاحب ملی نغموں، ثقافتی و علاقائی نغموں سے مہمانوں کے دلوں کو گرماتے رہے۔

آخر میں مسعید کمیونٹی کے نمائندہ جناب فرقان احمد پراچہ صاحب نے مسعید کمیونٹی کی طرف سے تمام دوستوں کی آمد اور اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کے ایک خوبصورت شام ہمارے ساتھ گزارنے پہ شکریہ ادا کیا۔

قطر میں آئے دن پروگرام ہوتے رہتے ہیں مگر یہ پروگرام یادوں کی فہرست میں ایک خوبصورت یاد کے طور پہ سرفہرست رہے گا ۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *