ابلیس کی مجلسِ شوریٰ(دوسری ،آخری قسط) ۔۔۔تشریح: محمد عماد عاشق

پانچواں مشیر

(ابلیس کو مخاطب کرکے)

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار
تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار
آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابد تک سرنگوں و شرمسار
گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کابروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہیں و چرغ
کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روز گار
چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار
فتنہء فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پرمدار

ابلیس کی مجلسِ شوریٰ(حصہ اوّل) ۔۔۔تشریح: محمد عماد عاشق
تشریح:
اس موقع پر ابلیس کاپانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے میرے آقا، تیرے ہی دم سے دنیا کا نظام چل رہا ہے، اور وہ تو ہی ہے جس نے جب چاہا ہر چھپے ہوئے راز کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔ پوشیدہ کے ظاہر ہونے سے مراد یہ ہے کہ پہلے دنیا کے مکار لوگ چھپی ہوئی سازشیں کرتے ہیں اور پھر وقت آنے پر وہ تمام سازشیں دنیا کے سامنے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ابلیس کا مشیر اسے کہتا ہے کہ اس بوسیدہ اور پژمردہ دنیا میں تیرے دم سے ہی حرارت ہے۔ یہ قتل و غارت کی صورت میں جو آتش گیری دنیا میں موجود ہے، یہ سب تیری ہی عطا کردہ ہے۔ وہ آدم جو سکون سے جنت میں رہا تھا، وہ تیری ہی بات سے دنیا میں آیا اور دنیا کے راز و نیاز سے واقف ہوا۔ اے میرے آقا، انسان کے مسائل اورکمزوریوں کا جو ادراک تجھے ہے، وہ تو اس ذات کو بھی نہیں جسے سادہ دل بندے اپنا پروردگار مانتے ہیں۔ وہ فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، وہ آج بھی تیرے سامنے شرمندہ ہیں، کیونکہ وہ تو یہ سن کر خاموش ہو گئے کہ تم جانتے نہیں ہو، مگر وہ تو تُو تھا جس نے رب کے سامنے بغاوت کی اور خدا کی ناراضگی مول لے لی۔ میرے آقا، گو کہ تمام یورپی امراء تیرے ہی مرید ہیں، مگر مجھے اب ان کی عقل و دانش پر ذرا اعتبار نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ میں جو اشتراکیت کی ہوا چلی ہے، اس کو سنبھالنا یورپ کے امراء کے بس کی بات نہیں۔ اس یہودی نے جو فتنہ کھڑا کیا ہے، وہ ان سے سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ وہ شخص جس میں حکیم مزدک کی روح ہے، اس کی تعلیمات نے دنیا میں انقلاب بپا کر دیا ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ مزدور و کسان (زاغِ دشتی) بڑے بڑے صنعت کاروں اور جاگیرداروں (شاہین و چرغ) کے مدِ مقابل آ گئے ہیں۔ ہم تو اس تحریک کو ایک معمولی سی تحریک سمجھ رہے تھے، مگر یہ تو آن کی آن میں ایک عالمگیر تحریک بن گئی ہے اور آج ہر ملک میں مارکس کے نام لیوا موجود ہیں، اور آج بڑے بڑے جاگیردار اور امرا اس تحریک سے تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ اگر یہ تحریک ان تک بھی پہنچ گئی تو ان کی قائم کی گئی راجدھانی کاکیا بنے گا۔ میرے آقا، میں آپ کا پر خلوص خادم ہونے کے ناطے آپ کو بتا رہا ہوں کہ وہ سارا ابلیسی نظام جو آپ نے قائم کیا ہوا ہے، اب تباہی کے درپے ہے۔
ابلیس
(اپنے مشیروں سے)

ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماں ِ تو بتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو!
کار گاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو
دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ ہو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر آگاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنہء فردا نہیں، اسلام ہے

(2)
جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندہء مومن کا دیں
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے
نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اورکیا فکر و عمل کا انقلاب!
بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں
چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں!
ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں?الجھا رہے

(3)
توڑ ڈالیں جس کی تکبریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات!
ابنِ مریم مر گیا یا زندہء جاوید ہے؟
ہیں صفاتِ ذاتِ حق سے جدا یا عین ذات؟
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات!
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!
مست رکھو ذکر و فکرِ صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے
ابلیس اپنے تمام مشیران کی بات نہایت تحمل سے سنتا ہے۔ جب اس کے دو مشیران اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اشتراکیت ابلیسی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے تو ابلیس اپنی بات ایک بار پھر سے شروع کرتا ہے۔ اسی تقریر پر اس نظم کا اختتام ہوتا ہے۔
ابلیس کہتا ہےکہ میرے قبضہِ قدرت میں سورج، چاند، ستارے الغرض سب کچھ ہے۔ میرے ایک اشارے کی بات ہے کہ دنیا میری پھیلائی گئی تباہی کا تماشا  دیکھ لے گی۔ تمہیں میری طاقت کا شاید اندازہ نہیں، میں اپنے ایک اشارے سے ہر کس و ناکس سے وہ کام لے سکتا ہوں جو میں چاہوں گا۔ چاہے کوئی سیاست کا طرم خاں ہو یا مذہب کا ماننے والا، ہر کوئی میرے قبضہِ قدرت میں داخل ہے۔ اور رہی یہ بات اشتراکیت کی، تو اگر اشتراکیت یہ سمجھتی ہے کہ وہ میرے نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی، تو وہ اپنا یہ شوق پورا کر دیکھے۔ اس میں ایسی جرات کہاں کہ مجھے نقصان پہنچائے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں جو تقسیم فطرتاَموجود ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ تقسیم رنگ و نسل، ذات برادری، دولت و حشم کی ہے۔یہ سوچنا ہی غیر فطری ہے کہ دنیا کے تمام انسان مقام و مرتبہ میں ایک ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکی نظام آج تک کہیں بھی لاگو نہیں ہو سکا، کیونکہ یہ صرف اور صرف کتابی باتوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے تم اشتراکیت کے بارے میں ہرگز فکر مند مت ہو۔ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔۔ ہاں، اگر مجھے کسی نظام، کسی قوم، کسی نظریہ سے خطرہ ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس کے دل میں اب بھی عشقِ رسول ﷺ کی آگ سلگ رہی ہے۔ اب بھی اس قو م میں ایسے کچھ لوگ موجود ہیں جن کی صبح کا آغاز بیڈ ٹی اور اخبار سے نہیں، بلکہ اللہ کے حضور آہ و زاری اور گریہ سے ہوتا ہے۔ یہ اسلام ہی کا نظام ہے جس کے سامنے چھپی ہوئی اشیاء کی حقیقت ہے۔تم کہتے ہو کہ اشتراکیت ہمارے لیے آنے والے دن کی مصیبت ہے۔ نہیں، ہرگز ایسا نہیں۔ ہمارے لیے اگر کوئی نظام خطرہ ہے، تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے!
ابلیس اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے اس بات کا پورا پوراادراک ہے کہ آج مسلمانوں نے قرآن کی تعلیمات کو ترک کر رکھا ہے۔ میرے علم میں یہ بات بھی ہے کہ آج مسلمان بھی پیسے کے پجاری ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس ملت کے راہنما اب قوتِ یلغار سے عاری ہیں۔ اور کسی مذہبی و سیاسی راہنما کے پاس ایسا کوئی گر نہیں جو اس امت کے مسائل حل کر سکے۔ الغرض یہ امت مسائل میں گھری ہوئی ہے۔۔۔مگر، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان مشکلات کے نیتجے میں کہیں آئینِ پیغمبر ﷺ ایک بار پھر سے زندہ ہو جائے۔ میں اس بات سے خوف زدہ ہوں کہ کہیں مسلمان اپنے مسائل کا حل قرآن و سنت میں تلاش نہ کرے اور یوں وہ اپنے دین کو اپنی عملی، اجتماعی و ذاتی، زندگی میں نافذ نہ کردے، کیونکہ اس کا ایسا کرنا ہمارے نظام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ میرے مشیران، میں تم لوگوں کو خبردار کرتا ہوں، آئینِ رسول اللہ ﷺ سے خوف کھاؤ۔ یہ ہمارے نظام کی تباہی کا سامان ہے۔ یہ نظام عورت کی عزت کا محافظ ہے۔ یہ مردوں کو نہ صرف امتحانات سے گزار کر ان کی مضبوطی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ یہ بہادروں، سالاروں اور عظیم انسانوں کی پرورش بھی کرتا ہے۔

اسلام کا نظام وہ نظام ہے جو ہر قسم کی غلامی اور تفریقِ رنگ و نسل سے پاک ہے، کہ یہاں معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ اس نظام نے آ کر آقا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے نوکر کو وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے۔ وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے۔ اور میرے مشیران، ہمارا نظام تو شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان کو غلام کر دیا جائے، اس کی خواہشات کا غلام، مال و زر کا غلام۔۔۔اور رفتہ رفتہ انسان کو انسان کا غلام بنایا جائے، مادی طور پر نہ سہی، ذہنی طور پر ہی سہی۔ اس کے برعکس اسلام انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے فقط ایک خدا کا غلام کرتا ہے۔

اس لیے یہ بات سمجھ لو، کہ اسلام انسانوں کو ہر قسم کی مادی زنجیروں سے آزاد کرتا ہے۔ اسلام کسی آمر، کسی ملک، کسی بادشاہ کو مطلق العنان نہیں مانتا۔ یہ کسی کو گداگری پر مجبور نہیں کرتا۔ یہ عظمتِ انسانی کا شاہکار نظام ہے۔ یہ فقط عبادات و رسوم کا نام نہیں، یہ ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے، جو مسلمانوں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ اپنے مال کو پاک کریں۔مسلمان کے مال پر اس کا کوئی کلی حق نہیں، بلکہ اس پر اس کے ساتھی انسانوں کا بھی حق ہے۔ اسی لیے اسلام نے زکوۃٰ، صدقہ اور فطر کا نظام دیا،، جبکہ ہمارا ابلیسی نظام تو منحصر ہی اس بات پر ہے کہ سرمایہ دار کی دولت پر صرف اور صرف اسی کاحق ہے، اور وہ جس طور چاہے اپنی دولت میں اضافہ کرے۔ اس سے بڑھ کر اور اسلام کی خطرناک تعلیم کیا ہوگی، کہ اسلام تمام مال اسباب کا مالک اللہ تعالیٰ کوبتاتا ہے۔ یوں وہ دنیا کے ملوک سے زمین کے وسائل کی حقیقی ملکیت چھین لیتا ہے، بلکہ یہ کہتا ہے کہ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ فقط اللہ کا ہے، وہی اللہ جو ناداروں کا بھی رب ہے اور بادشاہوں کا بھی۔ یہی پیغام تو ہر نوعِ غلامی کے لیے موت ہے۔ اس لیے اس بات کی مکمل یقین دہانی کرو کہ یہ نظام دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہے۔ اور یہ بات تو ہمارے حق میں بہت ہی اچھی ہے کہ یہ نظام آج خود مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ مسلمانوں کا اپنا یقین ہی اس نظام سے اٹھ چکا ہے۔ اور یہ بات ہمار یحق میں بہت بہتر ہے۔ تم اسی بات کی کوشش کرو کہ یہ الہیات اور علم الکلام جیسی اشیاء میں بحث و مناظرہ میں اپنا وقت ضائع کرتا رہے، اور ایک دوسرے کے ساتھ قرآن کی شرح پر جھگڑتا رہے، کیونکہ اسی میں ہمارا بھلا ہے۔ انہیں بے کار بحثوں میں الجھائے رکھو تاکہ یہ عمل سے بیگانہ رہیاور ہمارا ابلیسی نظام پھلتا پھولتا رہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان کا دین ساری دنیا کی ظلمت کو ختم کر دیں، ہمارے ابلیسی نظام کے طلسم کو ختم کریں۔ اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ تم انہیں مناظرے میں ہی الجھا کر رکھو، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب کر دیے گئے یا نہیں؟ کیا وہ زندہ ہیں یا وفات پا چکے؟ جو مسیح علیہ السلام کے واپس آنے کا ذکر ہے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے یا کوئی امتی ہوگا جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی صفات ہوں گی؟خدا کی ذات اور اس کی صفات میں کیا تعلق ہے؟ کیا قرآن کے الفاظ حادث ہیں یا قدیم؟ امت کی نجات آخر ان سب بحثوں میں کس عقیدے میں ہے؟؟ تم مسلمان کو اس بات سے بیگانہ رکھو کہ اس کی نجات نظام کو لاگو کرنے میں ہے، نا کہ ان بحثوں میں پڑے رہنے سے۔ اسی سے وہ زندگی کی ہر بازی میں شکست کھائے گا۔ تم اسے غیر اسلامی تصوف میں غرق رکھو، تاکہ یہ اسلام کی اصل روح سے بیگانہ رہے۔ یہ کبھی اس بات کا احساس نہ کر سکے کہ اس کی فلاح اسلام کی معاشی و سیاسی نظام پر عمل کرنے میں ہے۔ مجھے ہر لمحہ اس بات کا خوف رہتا ہے کہ یہ امت اگر بیدار ہو گئی تو یہ میرینظام کے لیے موت ہے، کیونکہ یہ نظام پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ کا غلام بناتا ہے، اور جواس غلامی سے روگردانی کرے، اس کی سخت باز پرس بھی ہوتی ہے۔ اس لیے میرے مشیران، تم اسے مزاج خانقاہی یعنی بے عملی کی ریاضت و چلہ کشی میں مزید پکا کر دو، تاکہ یہ عملی زندگی میں بے عمل رہے اور جہاد سے بیگانہ رہے۔ یہ اس قابل نہ رہے کہ باطل کے سامنے کھڑا ہو سکے، بلکہ یہ اپنی خواہشات کے زیرِ اثر باطل کا غلام رہے۔۔۔۔ یاد رکھو، مسلمان کی ذہنی و فکری غلامی میں ہی ہماری ابدی کامیابی ہے، کیونکہ انسان کی غلامی سے آزادی ہماری ناکامی کی معراج ہے۔

نظم کے ان آخری تین بند میں علامہؒ نے حقیقی معنی میں قلم توڑ کر رکھ دیا ہے۔ درج بالا تشریح کے بعد یہ گنجائش نہیں کہ مزید کچھ کہا جائے، تاہم اختصار کے ساتھ چند نکات نذرِ قرطاس کیے جاتے ہیں۔ ابلیس غرور و تکبر کے نشے میں دھت اپنے آپ کو مالک و مختار بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ چونکہ اشتراکیت کا نظام غیر فطری ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے، اس لیے مجھے اس نظام سے ہرگز کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں، ڈر ہے تو فقط اسلام سے۔ کیونکہ اسلام کا نظام عظمتِ انسانی کے فلسفہ پر کاربند ہے۔ یہ انسان کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کی پرورش و نشونما بھی۔ یہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے اللہ کا غلام بناتا ہے۔ مگر یہ ابلیس کے لیے شکر کا مقام ہے کہ مسلمان خود اس بات سے بیگانہ ہو کر لایعنی بحثوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کو ایک زندہ جیتے جاگتے نظام کے بجائے رسوم و رواج کا ایک مرکب سمجھتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لیے جب تک وہ اسی فکری غلامی و ذہنی جبر میں رہیگا، ابلیسیت کا سورج پوری آب و تاب سے چمکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *