ہمارا ہیرو راجہ داہر ہے۔۔مرزامدثر نواز

جس معاشرے میں اسلام کا ظہور ہوا وہ ایک نسل پرست خیالات کا حامل تھا، جس میں حسب و نسب کو تفاخر کی علامت اور قابل عزت و احترام سمجھا جاتا تھا۔ عرب شعراء آباؤ اجداد کے حسب و نسب و جنگ و جدل و بہادری کے قصے بڑے فخریہ انداز سے اپنے اشعار میں بیان فرماتے تھے۔ ابو جہل راتوں کو چھپ چھپ کر قرآن سنتا تھا اور سرداران مکہ باطنی طور پر یہ مانتے تھے کہ محمدﷺ اور ان کا لایا ہوا پیغام سچا اور برحق ہے لیکن نام نہاد قبائلی تعصب‘ چودھراہٹ اور سرداری آڑے آ جاتی تھی کہ میں فلاں ابن فلاں محمد پر ایمان لے آؤں اور معاشرے کے نچلے درجے والے غلام و غرباء کے برابر ہو جاؤں‘ ہمارے باپ دادا جو کچھ کرتے آئے ہیں‘ سب پر لکیر پھیرنی پڑتی ہے‘ نفی کرنی پڑتی ہے‘ یہ ہم سے نہیں ہو سکتا۔ چودھراہٹ و سرداری کا اتنا غلبہ تھا کہ قاتل کو یہ کہا گیا کہ گردن ذرا نیچے سے کاٹنا تا کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ یہ کٹا ہوا سر کسی سردار کا تھا۔

تورات و انجیل میں ایک آخری نبی کی بشارتیں ہیں اور اہل کتاب کو اس کا انتظار بھی تھا لیکن سب کچھ جانتے بوجھتے یہودیوں نے آپﷺ کی نبوت کا انکار کیا کہ نبوت تو ہمارا حق ہے اور آخری نبی بھی ہماری ہی نسل سے ہونا چاہیے تھا‘ یہ کیا ہوا کہ نبوت ہماری بجائے ہمارے چچا کی نسل میں منتقل ہو گئی۔

احمد شاہ ابدالی‘ سلطان محمود غزنوی‘ شہاب الدین غوری وغیرہ مسلم حملہ آور ہمارے لیے ہیرو ہیں، کشمیریوں پر ظلم و ستم کے قصے جب قبائلیوں تک پہنچے تو انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے جہاد کشمیر میں حصہ لیا اور ایک حصے کو آزاد کرا لیا،ہماری نظر میں قبائلی، مجاہد و ہیرو ہیں جبکہ ہندوؤں کی نظر میں یہ بیرونی حملہ آور،غاصب،ظالم،گھس بیٹھیے، درانداز، آتنکواد، عصمت دری کرنے والے اور لٹیرے تھے جن کا مقصد صرف اور صرف ہندوستان کے وسائل کو لوٹنا اور ان پر قبضہ کرنا تھا۔ بدقسمتی سے آج ہمارے کچھ مسلمان و پاکستانی بھائی بھی یہی نظریات رکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم سمیت تمام حملہ آور لٹیرے تھے اور ہمارا ہیرو راجہ داہر ہے جس نے دھرتی کے دفاع کی خاطر جان دے دی، حجاج بن یوسف کو کسی لڑکی نے اپنے خون سے خط نہیں لکھا،یہ سب جھوٹ ہے۔ راجہ داہر بڑا کمال کا حکمران تھا اور اس پر اپنی بہن سے علامتی شادی کرنے کا الزام بھی جھوٹا ہے،راجپوتوں کی تاریخ میں آج تک کسی نے ایسا سوچا بھی نہیں اور یہ ناممکن ہے، رنجیت سنگھ دھرتی کا بیٹا، کمال کا حکمران اور ہمارا ہیرو ہے، شاہ ولی اللہ ؒ نے کسی سلطان محمود کو خط لکھ کر مدد کے لیے نہیں بلایا، یہ سب جھوٹ ہے اور ہمیں پڑھائی جانے والی مطالعہ پاکستان سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے۔کئی صدیاں گزرنے کے بعد اس قسم کی بے بنیاد بحث سمجھ سے بالا تر ہے۔  ہماری ثقافت کئی ہزار سال پرانی ہے‘ اگر دوسری نسلی و لسانی قومیتیں یہاں آ کر آباد ہوں گی تو ہماری ثقافت و شناخت ہم سے چھن جائے گی اور ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے اور ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ عام طور پر ایسی سوچ رکھنے والے خود کو ترقی پسند‘ لبرل‘ روشن خیال یا بائیں بازو والے خیالات رکھنے والے کہتے ہیں، اگر دیکھا جائے تو ایسی سوچ کے پیچھے،شہرت کی ہوس،ذاتی مفادات، نسل و قوم پرستی یا پھر قبائلی و مسلکی تعصب کار فرماں ہوتا ہے۔

دنیا کے نقشے پر دو نظریاتی ریاستوں میں سے ایک پاکستان ہے، دنیا آج تک ششدر ہے کہ مختلف رنگ و نسل اور زبانیں بولنے والوں کو ایک کلمے نے کیسے متحد رکھا ہوا ہے۔ دشمنان تخلیق سے لے کر آج تک مختلف حیلوں سے اس ریاست کی اساس پر حملہ آور ہو رہے ہیں کہ کسی طرح اس کی وحدت کو توڑا جائے لیکن کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ پڑھی لکھی اور نوجوان نسل کو آج جس ہتھیار سے نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ قوم پرستی اور ان کے وسائل و حقوق پر غاصبانہ قبضہ والی سوچ ہے۔ لبرل و آزادانہ خیالات والا طبقہ براہ راست اسلام کو تو برا بھلا کہنے کی ہمت نہیں کر سکتا لیکن دوسرے حیلے بہانوں سے اپنی مذہب سے بیزاری والی سوچ کا اظہار کر کے تسکین حاصل کر لیتا ہے۔ اس مملکت خداداد پاکستان کی وحدت کو توڑنے والی سازشیں نہ پہلے کامیاب ہو سکی ہیں اور نہ آئندہ کبھی کامیاب ہو سکیں گی‘ انشاء اللہ۔

انسان کے اندر اختلافات کا پایا جانا لازمی ہے۔ اس دنیا میں اخلاص کے باوجود لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا ہے، اختلاف سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔ اس دنیا میں اختلاف کا موجود ہونا اتنا ہی فطری ہے جتنا خود انسان کا موجود ہونا۔ جہاں انسان ہوں گے وہاں اختلاف ہو گا، خواہ یہ انسان ایک مذہب اور کلچر کے ہوں یا کئی مذاہب اور کلچر کے۔ ایسی حالت میں انسان کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے یا تو وہ اختلاف کو برداشت کرے یا اختلاف کو برداشت نہ کر کے دوسروں سے ہمیشہ لڑتا جھگڑتا رہے۔ اختلاف رائے کو اہمیت دینی چاہیے لیکن دلائل میں وزن ہونا چاہیے،اختلاف در اختلاف کی بجائے مکالمہ کو فروغ دینا چاہیے تا کہ حقائق تک رسائی ہو۔ نسل و قوم پرستی کو بنیاد بنا کر اپنے اکابرین کی شان میں گستاخی کرنے اور انہیں برا بھلا کہنے سے پہلے اپنے مذہب کی تعلیمات کا مطالعہ ضرورکر لینا چاہیے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود رنگ، نسل،قوم، قبیلہ، زبان،ادنیٰ و اعلیٰ، طاقتوروکمزور،امیر و غریب، کے فرق کو مٹا کر تمام کلمہ گوافراد کو ایک ملت قرار دیتا ہے اور عزت کا معیار صرف تقویٰ کو قرار دیتا ہے۔جو چیزیں قابل فنا ہیں ان پر فخر و غرور کیسا۔جب نعرے لگانے کی بات آئے تو عشق و عاشق رسولﷺ کے لگائیں لیکن اپنے محبوب کی کہی ہوئی باتوں کو نہ مانیں تو پھر یہ عشق تو نہ ہوا۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *