دل کے بہت بڑے تو نہیں پر کہیں کسی چھوٹے سے گوشے میں مولانا کے لیے تھوڑی سی محبت ضرور ہے۔یقینا اس میں اُن کے انداز بیان کی نرمی، اس میں گھلی مٹھاس، لہجے کا دل کو گرفت میں لیتا← مزید پڑھیے
”مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر میں پیدا نہ ہوتی تو خدا کی اِ س وسیع کائنات میں کیا کمی رہ جاتی؟“ یہ دُھند اورکُہر میں ڈوبی ہوئی ایک صُبح تھی اور وہ سکول جا رہی تھی۔ اُ← مزید پڑھیے
ماں جی کہا کرتی تھیں قیامت کے روز سُورج سوا نیز ے پر آ جائے گا۔ پر مجھے تو یہ آج ہی سوا نیز ے پر آیا ہوا لگتا ہے۔ جُون کی چلچلاتی دوپہر میں جب زمین بھٹی میں دانوں← مزید پڑھیے
ہم پاکستانیوں کے لیے کرونا کی یہ افتاد کچھ اتنی نئی تو نہیں ہاں البتہ اس کی سنگینی بہت گھمبیر ہے۔دہشت گردی جیسے عفریت کو کِس طرح اِس قوم نے بھگتا ہے یہ کوئی ہم ماؤں سے پوچھے جن کے← مزید پڑھیے
اب ایسی بھی کوئی بات نہ تھی کہ وہ اپنی اِس گھبراہٹ اور بے چینی کو جویوں بیٹھے بٹھائے تپ ملیریا کی طرح یکدم اُس پر چڑھ دوڑی تھی کے پس منظر سے ناواقف تھا۔ ٹھنڈے پانی سے لبالب بھرے← مزید پڑھیے
اس ناول کا پس منظر متحدہ پاکستان کی سر زمین ہے جو کبھی اپنی تھی۔اس میں سابق مشرقی پاکستان کی جھلکیاں یقیناً آ پ کو محظوظ کریں گی۔ یہ نچلے متوسط طبقے کی لڑکیوں کی نا آسودہ خواہشیں، حسرتیں، خوابوں← مزید پڑھیے
تکیہ، سلیمانیہ بھی دمشق کی خاص الخاص چیزوں میں سے ایک ہے۔ ایک تو عثمانی خلیفہ کی بنوائی ہوئی۔ رنگ ڈھنگ کا تڑکا بھی اُن کے انداز کا لگا ہوا۔نہر برادہBarada کے کنارے نے خوبصورتی اور محل وقوع کو اور← مزید پڑھیے
محی الدین ابن العربی کا جبہ پہنے میں ماؤنٹ قاسم کی چوٹی سے نیچے اترتا ہوں شہر کے بچوں کے لیے آڑو،انار اور سیب کا حلوہ لیے اور عورتوں کے لیے فیروزے کے ہار اور محبت بھری نظمیں لیے میں← مزید پڑھیے
اورحان پامُک کو اس کے ناول بینم ادم قرمزی Benim Adim Kirmizi پر ملنے والا نوبل ایوارڈ کا سال وہی تھاجس سال میں استنبول گئی تھی یعنی 2006۔ کیا تکسیم میدان اور کیا استقلال سٹریٹ کی کتابوں کی شاندار دکانیں← مزید پڑھیے
بنگال کی جادوئی خوبصورتی والے کردار توڈھاکہ کے لیے روانہ ہوتے ہوئے ساتھ ہی چلے تھے۔مگر پہلے کچھ دنوں تک تو نسوانی حُسن میں مجھے وہ کچھ نظر نہیں آیا تھا جسے دیکھنے کا اضطراب بے چین کیے ہوئے تھا۔← مزید پڑھیے
ابورشیدی حکاوتی پرانے دمشق میں داخل ہوتے ہی علی نے باآواز بلند حکم صادر کردیا تھا کہ اب واپسی رات کو ہی ہو گی۔دوپہر کا کھانا شیش طاؤس کباب اور بقدش آئس کریم پر ہو گا۔پھر مادھوری ڈکشٹ کی فلم← مزید پڑھیے
پہلی گھُٹ کرجپھی تو اُس اُمنڈتے حسن نے ڈالی تھی جو نیشنل میوزیم کے بیرونی درودیوار سے پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہا تھا۔ گر می نے مت مار دی تھی۔ گو یہ وہاں تکیہ ال سلیمانیہ کے پاس ہی← مزید پڑھیے
”شاعری شام میں ہمیشہ سے بڑی اہم رہی ہے۔“ غدا العطرش جو ایک اچھی شاعرہ،کہانی کار اور ساتھ ہی مترجم بھی ہے۔ کہتی ہے۔ دراصل وقت اور حالات نے اِس کی نوعیت اور ہیت تبدیل کر دی ہے۔ وہ سکولوں← مزید پڑھیے
ہائے یہ کیسی حسرت ہے میرے دل میں کہ کوئی معجزہ ہوجاتا ۔ ہمارے پیارے جنرل صاحب اپنااستعفیٰ لکھ کر اِن سبھوں کے منہ پر مارتے اور کہتے ”لوسنبھالو اپنی یہ عنایت۔ مجھے نہیں چاہیے۔نالائق لوگو تم لوگوں نے تو← مزید پڑھیے
عباس کا شکریہ کہ اُ س نے مزریبMzcireeb جھیل دکھائی۔ شہر سے کوئی دس بارہ میل پر بڑا خوبصورت تفریحی مقام تھا۔ بڑی رونق تھی یہاں خاندان کے خاندان پکنک منانے آئے ہوئے تھے۔ ریسٹورنٹ بھی تھا۔ کچھ کھانے کو← مزید پڑھیے
اب تم نے پہلی بات تو یہی کرنی ہے کہ ذرا بتائیں تو سہی کہ کن کو میری ضرورت ہے؟سیرل ٹھہرو۔ دم لو۔ مجھے تمھاری جلد بازی پسند نہیں ۔ڈان کو چھوڑنے اور اتوار کو کالم نہ لکھنے کا کہہ← مزید پڑھیے
وقت یہی کوئی ساڑھے نو کا تھا اور ملتان روڈ بیچاری اورنج ٹرین کے پروجیکٹ میں ملوث ہونے کی سزا بھگت رہی ہے۔سزا تو اُسے بھگتنی ہی تھی کہ شہباز شریف کے ساتھ جو نتھی ہو بیٹھی تھی۔اب بھلا نیا← مزید پڑھیے