• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ:ال صلاحیہ،جبل قاسیون اور یادگار۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط35

سفر نامہ:ال صلاحیہ،جبل قاسیون اور یادگار۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط35

محی الدین ابن العربی کا جبہ پہنے
میں ماؤنٹ قاسم کی چوٹی سے نیچے اترتا ہوں
شہر کے بچوں کے لیے آڑو،انار اور سیب کا حلوہ لیے
اور عورتوں کے لیے فیروزے کے ہار اور محبت بھری نظمیں لیے
میں چڑیاؤں کی لمبی سرنگ میں داخل ہوتا ہوں
جس میں گلیGilly،ہبیکس اور یاسمین کے جھنڈ ہیں
اور میں خوشبوؤں کے سمندر میں داخل ہوتا ہوں
میرا سکول بیگ گم ہوگیا ہے
میرا تانبے کا لنچ باکس بھی
جس میں اپنا کھانا لے جاتا تھا
اور نیلے منکے بھی
جو میری ماں میرے سینے پر لٹکاتی تھی
او! شام کے لوگو
تم میں سے جو بھی کوئی مجھے پائے
اُمّ موتاز کو دے دے
خدا اُس کو اجر دے گا
اے شام کے لوگومیں تمہاری سبز چڑیا ہوں
سو جس کو بھی میں ملوں
وہ مجھے گندم کا دانہ کھلا دے
میں تمہارا دمشقی گلاب ہوں،شام کے لوگو
سو جو بھی مجھے پائے
گلدان میں سجادے
شام کے لوگومیں تمہارا دیوانہ شاعر ہوں
سو جو بھی مجھے دیکھے
میری ایک تصویر لے لے
اِس سے پہلے کہ میں اپنے دیوانے پن سے نکل آؤں
میں تمہارا بھگوڑا چاندہوں، شام کے لوگو
سو جو بھی مجھے دیکھے
مجھے ایک بستر دے دے اور ایک اونی کمبل
کیونکہ میں صد یوں سے سو نہیں سکا ہوں!!

یہ بھی پڑھیں : سفر نامہ:اُمّ ناجی:ایک پہلو یہ بھی ہے تصویر کا۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط34
ترغیب تو ہم دونو ں میں سے کسی ایک کی ہی ہوتی۔ یوں ماشاء اللہ علی مجھ سے چار ہاتھ آگے ہی تھا۔ جوان بچہ تھانا۔ شکر ہے نسرین بھی کسی نہ کسی طرح ہمارے جال میں پھنس ہی جاتی تھی۔ فاطمہ تو شوہر کا وساء(جدائی) چند لمحوں کے لئے بھی کھانے والی لڑکی ہی نہ تھی۔ میرے تینوں ساتھی شیعہ مسلک سے تھے مگر بڑے کھلے ڈلے مزے کے بڑے لبرل سے جبکہ میں سنی مسلک سے۔خیر سے میں بھی اس لبرل ازم میں اُن سے دو ہاتھ آگے ہی تھی۔یوں مزے کی گزر رہی تھی کہ جب چار دیوانے اکھٹے ہوکر چڑھیاں کرتے۔ کئی جگہ انہیں ڈنڈیاں مارنی پڑتیں۔ نسرین کہیں کنی کترانے کی کوشش کرتی جسے ہم مل جل کر ناکام بنا دیتے۔ بہرحال میری تو موجیں ہی موجیں تھیں۔

ایک دن پہلے جبل قاسیون Mount Qassyoun جانے کا پروگرام فائنل ہوا تھا۔
اسی لئے آج میں شہر کے لئیے نہیں نکلی تھی۔دوپہر کے کھانے کا انتظار تھا کہ کسی صاحب ثروت کا بڑا اہتمامی سا لنچ تھا۔
جبل قاسیون کو جب جب میں نے دمشق میں چلتے پھرتے دیکھا۔ مجھے توپہاڑ پر کہیں ٹھہرے ہوئے اورکہیں متحرک کئی منظر نظر آتے تھے۔ اب اللہ جانے یہ سراب تھے یا حقیقی۔ بہر حال ایک تو بڑا واضح ہو کر کئی بار آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔سفید عمارت، سادہ سی کھڑکیوں اور سبز چھت کے ساتھ نظر آئی تھی۔
پہلی باراس منظر کے نظر آنے پر میں نے قریب سے گزرنے والے ایک پڑھے لکھے اور سمجھداری کی کسوٹی پر پور ا اُترنے والے شخص کو بلا تکلف روک لیا تھا۔ خدا کا شکر تھا کہ قیافہ کی کسوٹی پر کھ پر پوری تھی۔ ادھیڑ عمری کے پیٹے میں مرد نے رک کر صاف ستھری انگریزی میں بتایا تھا کہ یہ محی الدین ابن عربی کا مزار مبار ک ہے۔
ایک اور نے یہ بتایا تھا کہ اسی پہاڑ پر وہ مقام بھی ہے جہاں دنیا کا پہلا جرم ہوا تھا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا۔جاتے جاتے اُس نے یہ بھی بتایا کہ وہاں کچھ اور بھی یادگاریں ہیں۔ اگر گئیں تو وہ سب دیکھ لیں۔
چکن قورمہ، چکن پلاؤ اور حلوے جیسا زور دار قسم کا کھانا کھا کر جب چلے تو دو بج رہے تھے۔
اب جب ٹیکسی کے لئے بات چیت ہونے لگی تومیں نے لڑکے سے پوچھا۔
”پہلے ہمیں بتاؤ کہ وہاں کیا کیا چیزیں دکھاؤ گے؟“
اُس نے عربی میں دوڑ لگا دی تھی۔ ہمارے پلے خاک نہ پڑا۔ ہمیں عباس کی عادت پڑ گئی تھی۔ وہ گزشتہ تین دنوں سے علیل تھا۔ تاہم لڑکا تیز اور جانکاری والا نظر آیا تھا۔تین ہزار سیرین لیرا کا مطالبہ ہوا۔میں چیخی۔میرے ساتھ نسرین اورعلی بھی چیخے۔
لڑکے نے دونوں ہاتھ فضا میں دائیں بائیں لہرائے۔ پہلے ابن عربی اص صلاحیہ As Salhiyyah،پھرقاسیون اورپھر یادگار۔اُس نے دونوں بازووں کا دائرہ سا بناتے ہوئے بہت سا سفر،پہاڑی سفر کا مفہوم کچھ بے ربط سے جملوں اور کچھ تمثیلی انداز میں واضح کرنے کی کوشش کی۔یقینا ًوہ اس میں کامیاب ہوا کہ ہم بخوبی سمجھ گئے تھے کہ اتنی جگہیں۔پیسے بہت مناسب اور کمی بالکل نہیں۔
منت تَرلوں سے 2500سیرین لیرا پر فائنل ہوا۔اس نے پھر ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا کہ پہلے وہ صلاحیہ کو اٹرجائے گا۔ میں نے ذرا خوشامدانہ انداز میں مکھن لگایا کہ جو دکھا سکتے ہو دکھا دو۔ تمہیں دعا دیں گے۔
صلاحیہ کواٹر کے بعض حصے بہت خوبصورت،ماڈرن اور شاندار تھے۔ہاں البتہ بعض قدرے ماٹھے تھے۔ یہاں صدیوں پہلے وہ لوگ آباد ہوئے جو صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کے ظلم وستم سے پناہ ڈھونڈتے یہاں آئے۔ پہاڑیوں کے دامنوں اور اس کی ڈھلانوں پر کہیں چھوٹے موٹے گھروں اور کہیں خیموں کی صورت پھیلتے اور آباد ہوتے چلے گئے۔ان کا زیادہ پھیلاؤ دریائے Toraکے ساتھ ساتھ ہوا جو دراصل دریائے برادہ کی ہی ایک شاخ تھی۔
آنے والے وقتوں کی دہائیوں میں وہ کُرد جنگجو بھی جو صلاح الدین کے ساتھ آئے تھے۔ یہی کوئی بارہویں صدی میں وہ بھی یہیں سکونت پذیر ہوگئے۔یوں اِسے کچھ لوگ کردوں کا علاقہ بھی کہتے ہیں۔المہاجرین بھی اسی کا نام ہے۔دھیرے دھیرے مسجدیں،مدرسے،اسپتال اور بہت سی شاندار عمارات بنتی چلی گئیں اور یوں یہ دمشق کا ہی ایک حصّہ شمار ہونے لگا۔
لڑکا اچھا ڈرائیور تھا۔تنگ تنگ گلیوں میں سے بھی گاڑی کو لہراتا ہوا نکال کرلے جاتا۔بعض جگہوں کے منظر نظروں پر بڑے گراں گزرتے تھے کہ بے ڈھبے سے مکان،تنگ گلیاں،ان میں بہتی نالیاں،دوڑتے بھاگتے پھرتے بچے۔گلیوں میں ہی کریانے،پنساری کی دکانیں اُن میں خریداری کرتے نچلے متوسط طبقے کے لوگ۔
گاڑی رُکی اور پتہ چلا کہ مزار تک پیدل جانا ہوگا۔من و عن وہی درباروں والا منظر تھا۔جب میں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے راستے پر آگے بڑھتی تھی۔اپنے وقت کا،اپنے بعد آنے والے وقتوں کا بہت بڑا عالم بھی میرے ساتھ ساتھ تھا۔میں اُن کی کتاب زندگی کے ورق پلٹی تھی۔
شیخ محی الدین ابن عربی کی آبائی جگہ مرسیاMursiya، سپین کا ایک علاقہ تھی۔سن پیدائش یہی کوئی 1165ء اور وفات1240ء کی ہے۔ اپنے وقت کی بہت اہم صوفی شخصیت جو اسلامی  Theology پر ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق بچپن ہی سے بہت نمایاں تھے۔
اس وقت اُندلس یورپی اثر کے تحت اندرونی مقامی سیاست میں بہت بری طرح اُلجھا ہوا تھا۔اس کے باوجود اندلس علم و ادب اور فکری تحریکوں کا مرکز تھا۔
سلطنت معاویہ کا دربار عالموں،مفکروں،فلسفیوں اور صاحب کمال و فن کے لوگوں سے بھرا رہتا تھا۔
ابتدائی تربیت تو اسی ماحول نے کی۔جوان ہوئے تو شہروں اور ملکوں ملکوں پھرنا اور صاحب علم لوگوں سے ملنا شروع کردیا۔ سینتیس37سال میں حج کیا۔پھر نہ اُندلس گئے اور نہ مراکش۔ کچھ وقت میسو پو ٹیمیا اور ایشیائے کوچک میں گزارا۔
رجعت پسند عالموں نے ان کی روشن خیالی کی بہت مذمت کی۔ قاہرہ میں بھی اُن کے نظریات وخیالات کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ نکالے جانے پر اصرار تھا۔ ساٹھ سال کی عمر میں وہ دمشق آئے اور پھر یہیں انہوں نے ڈیرے لگا لئے۔

اپنے عہد کا دانشور، فلاسفر، لکھاری، مذہبی رہنما اور سائنس دان۔ اِس وقت کی پوری اسلامی دنیا میں وہ زیر بحث تھے۔کچھ سائنس دانوں کو ان کے مابعد طبیعاتی Metaphysical نظریات سے اختلاف تھا۔کچھ حامی تھے۔کچھ کا خیال تھا کہ وہ اسلام کے عظیم ترین فلاسفر ہیں۔ کچھ کا خیال اُن کے دہریے ہونے پر تھا۔کچھ اور کا کہنا تھا کہ اُن کی فکری سوچ اور تحریر کی تحریک دراصل خدائی تحفہ ہے۔صوفی ازم اُن کے خیال میں ذہنی پریشانی کا واحد علاج ہے۔فلاسفی شک کی طرف لے جاتی ہے۔ابہام پیدا کرتی ہے۔مگر خدا سے براہ راست رابطہ ہی روح کو سکون دیتا ہے۔
انہوں نے اپنے اِس نظریئے پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں سینکڑوں
کتابیں اور مضامین اُن کی زندگی، اُن کی کتابوں، اُن کے افکارو خیالات پر لکھے گئے۔ یہ کام زیادہ عربی، انگریزی، جرمن، سپینش، فرنچ اور فارسی میں ہوا۔ بہت سے ماہر شرقیات اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ابن عربی کی تحریروں نے بہت سے فلاسفروں، دانشوروں اور صاحب علم لوگوں کو متاثر کیا جیسے ریمنڈلولیوRaymond Loleo اور دانتے۔ دانتے کی ڈیوائن کومیڈی کے بارے تو یہ تاثر بھی ہے کہ وہ اُن سے بہت متاثر ہے۔ جاپانی ماہر شرقیات Ezotsuکاکہنا ہے کہTaoism فلاسفی، صوفی ازم اور تصوف کے میدانوں میں ابن عربی سے بہت متاثرہے۔
میں نے کتاب بند کردی تھی کہ زندہ کھلی کتاب کے سامنے اُسے پڑھنے اور دیکھنے کے مقام پر تھی۔ڈرائیور کو میں نے کہتے سُنا تھا کہ قاسیون کا پہاڑی سلسلہ بس یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
زائرین کی بہتات اور وہی مخصوص ماحول جو صوفیائے کرام کے درباروں اور مزاروں کا خاصہ ہوتا ہے اپنی پوری رنگینیوں سے یہاں کار فرما تھا۔ملحقہ مسجد بہت خوبصورت، خاص طور پر مینار کی کندہ کاری نظروں کو کھینچتی تھی۔مزار سطح زمین سے نیچے ہے۔کئی پوڈے اُتر کر جانا پڑا تھا۔ جب زینہ اُترتی تھی تو سامنے دیوار میں پتھر پر کندہ شعر نے روک لیا تھا۔میں نے کاپی کھول کر اس میں درج کیا۔
فلکل واحد یسموبہ وانا الباقی العصر ذاک الواحد
اندر کا منظر بہت خوبصورت تھا۔شیشے میں مقید مزار مبارک اپنی رعنائیاں بکھیر رہا تھا۔قیمتی قالین بچھے تھے۔فانوسوں کی روشنی ماحول کو جگمگ جگمگ بناتی تھی۔نم آنکھوں سے اٹھے ہوئے بے شمار ہاتھوں میں ہمارے ہاتھ اور آنکھوں میں اُتری نمی بھی اس ماحول میں شامل ہوگئی تھی۔
آپ کے پہلو میں آپ کے دو بیٹے سعید الدین و عمادالدین کے مزار ہیں۔عقبی سمت میں کچھ قبریں ہیں۔ملحقہ دروازے دوسرے کمروں میں
کھلتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب آبادی کا پھیلاؤ ہوا تو مزار کہیں ملبے کے نیچے آگیا۔یہ ایک عجیب سی بات ہے کہ آپ کی پیشن گوئی تھی کہ جب سین شین میں داخل ہوگا تب محی الدین کی قبر ظاہر ہوگی۔روایت ہے کہ جب عثمانی سلطان سلیم نے شام فتح کیا۔یعنی سلیم کا سین شام کے شین میں داخل ہوا تو اس نے آپ کے مقبرے کے مقام پر کسی عمارت کے لئیے کھدائی کروائی تو لوح مزار نکل آئی۔
ہم نے نفل پڑھے۔ فاتحہ خوانی کی۔ مدرسہ بھی دیکھا۔پتہ نہیں کتنے لاکھوں ذہنوں کی سیرابی ہوئی۔ یہاں بھی نفل پڑھے اور باہر آگئے۔ مجاوروں نے مت مار دی تھی۔ نسرین کے پاس ٹوٹی ریز  گاری تھی۔ وہی دے کر جان چھڑائی۔
تو اب شوق اور دید کی جولانیاں پھر اپنے عروج پر تھیں کہ وہاں جارہے تھے جہاں انسانیت کا پہلا قتل ہوا۔زن بنیاد بنی تھی۔ہابیل کی قبر پر نسرین اربعین کی زیارت کی بھی بڑی خواہشمند تھی۔
جس علاقے میں داخل ہورہے تھے۔راستہ بے حد ویرانی لئے ہوئے تھا۔ چھوٹی پہاڑیاں، ٹیلے اور کہیں کہیں بھیڑ بکریاں چراتے لوگ۔ میرے اندر سے شکریے کی تہوں میں لپٹا ہوا اظہار خدا کے حضورسجدہ ریز ہوا تھاکہ مجھ جیسی آپ پھدری اکیلی ٹیکسی میں مہم جوئی کے شوق میں نہ نکل کھڑی ہوئی۔
”اللہ! کتنی اجاڑ بیابان ہے یہ جگہ۔“
لڑکے نے اپنی کمنٹری جاری رکھی تھی۔
دمیر نام کی ایک آبادی میں ایک بے حد پرانا چرچ نظر آیا تھا۔ لڑکے نے اپنے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
”یہ جو پہاڑ دیکھ رہے ہیں۔یہ شام اور اسرائیل کا باڈر ہے۔“
اب اسرائیل کا ذکر ہو اور اس کے جورو ستم یاد نہ آئیں کیسے ممکن ہے؟یاد آئے جنہوں نے رنجور کیا۔
اب منظروں میں خوبصورتی اور رعنائی ابھرنے لگی تھی۔وادیاں سبزے میں لپٹی نظر آتی تھیں۔پھل دار درختوں کی نشان دہی ہونے لگی تھی۔خوبانی اور سیبوں کے پیڑ۔زیتون کے باغات۔
ہم نے گاڑی رکوائی۔باہر نکلے۔ منظروں کے حُسن و رعنائی سے کتنی دیر لُطف اٹھاتے رہے۔میں تو یہی سوچتی رہی اللہ اِس سرزمین کو تو نے کتنے بھاگ لگائے۔ساتھ ہی ہنسی بھی آئی کہ اِن بھاگوں کے ساتھ بھوگ کاٹنے بھی اسی دھرتی کا مقدر کردئیے گئے ہیں۔تبھی سڑک کے کنارے ایک بورڈ پر بنی ہابیل اور دوسری جانب بیروت لکھا نظرآیا۔گاڑی بنی ہابیل کی سمت مڑ گئی۔
تھوڑا سا آگے جانے پر فوجی چیک پوسٹوں کے آثار شروع ہوگئے۔ایک چیک پوسٹ پر بیرئیر لگے ہوئے تھے۔گاڑی رک گئی۔ڈرائیور نے عربی میں باہر نکل کر بتایا مگر پذیرائی کے آثار نہ نظر آنے پر میں نے دروازہ کھولا۔باہر نکلی اور ملتجی سے انداز میں درخواست گزار ہوئی۔اب پاسپورٹ کا مطالبہ ہوا۔پاسپورٹ کہاں تھے؟بہرحال منت طرلوں نے ان کے دلوں میں مہرڈال دی۔اجازت مل گئی۔
شکر ہے ڈرائیور کا لائسنس انہوں نے رکھا اور اجازت دے دی۔میں نے دعائیہ جملے کہے۔واللہ انہیں سمجھ آئے یا نہیں۔ ہاں البتہ آنکھوں سے چھلکتی محبت ضرور نظر آئی ہوگی۔
جگہ جگہ فوجی،ٹینک توپیں نظرآرہی تھیں۔آبادی کے آثار تھوڑے سے نظرآئے۔چند دکانیں بھی تھیں۔علاقے کا نام بھی یہی ہے۔مقبرے کے صدر دروازے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔کمرہ مناسب تھا۔قالین بچھے ہوئے تھے۔ مگر خدا جھوٹ نہ بلوائے کوئی پندرہ فٹ لمبی قبر ہوگی۔بہرحال فاتحہ پڑھی۔نفل پڑھے اور رخصت ہوئے۔جب باہر نکلے تو کچھ اور لوگوں کو دیکھا۔
میں نے پوچھا تو ایران کا پتہ چلا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تو نری فراڈ بازی ہی لگی کہ باہر چٹان پر پام کے پیڑ بارے پتہ چلا کہ اس کے پتے ہر بیماری کا شافی علاج ہیں۔ ایک گتے پر یہ بھی لکھا نظر آیا کہ ”ازچشیدن برگ شفااست“ پتوں کی فروخت کا عمل بھی جاری تھا۔
اب دوسرا قابل ذکر مقام اُن قابل ذکر اصحاب کا تھا۔مگر ڈرائیور نے کہا کہ دس میل کا راستہ گاڑی سے اور آگے تین چار میل کی چڑھائی۔نہ نسرین اور نہ ہی میں اِس مہم جوئی پر آمادہ ہوئیں۔ ہم دونوں کے انکارنے ڈرائیور کو خوش کردیا۔اس کی جان چھٹ گئی۔رہ گئے شبیر اور سکینہ۔ شبیر بھی چپ سے ہوگئے۔
تاہم ڈرائیور نے ہمیں کچھ اور غاروں کی ضرور زیارت کروائی۔ غار جبرائیل میں لڑکے نے ایک پیغمبر ذوالکفل علیہ الصلاۃ والسلام کے مزار بار ے بتایا۔ ایک غار کے متعلق پتہ چلا کہ یہاں حضرت
مریم رضی اللہ عنہا کچھ ماہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی ولادت سے قبل رہی تھیں۔ ایک جگہ غاروں کے اوپر ایک بڑا سا منہ کھولے شگا ف ہے۔ اس پر دانتوں اور زبان کا گمان ہوتا ہے۔ زمین بھی سرخ ہے جسے خون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسے خونی غار کہتے ہیں۔
ایسی ایسی بے تکی کہانیاں تھیں۔ مجاوروں کے روّیے اور پیسے ٹھگنے کے طریقے اور زائرین کاگھیراؤ۔ بہرحال بمشکل جان چھڑا کر بھاگے۔
دو خوبصورت چیزیں ہمیں ڈرائیور نے اور دکھائیں۔

صدارتی محل کی شاندار عمارت اور اس سے آگے ایک بڑی منفرد سی محراب اور اس میں سمائے گنبد کا منظر تھا۔ نامعلوم سپاہی کی یاد میں۔ 1994ء میں اِس یادگار کی تعمیر ہوئی۔ یہ ماڈرن اسلامی طرز تعمیر کی حامل یادگاروں میں سب سے خوبصورت ہے۔ اسلامی فن تعمیر کے دو اہم ستون گنبد اور محراب ہی دراصل اس کی بنیاد اور انتہا ہیں۔گنبد دراصل علامتی نشان ہے اُس نمائندگی کا جہاں شہید کی حفاظت کی جاتی ہے۔اور محراب فتح کی علامت۔ پوری علامت اس تصور کو ابھارتی ہے جیسا کہ گویا سپاہی کا ہلمٹ ہے جو دفاع وطن کے لئے شہید ہوا۔
اس کا Dioramaہال شامی تاریخ کی پانچ اہم جنگوں کا نمائندہ ہے۔ پہلی جنگ یرموک636ء میں بازنطینیوں کے ساتھ ہوئی اور دمشق فتح ہوا۔ دوسری حطین کی جنگ کی نمائندہ ہے جو صلاح الدین نے لڑی جس میں یروشلم صلیبیوں سے آزا د ہوا۔تیسری 1921ء کی میسلونMaysaloun کی ہے جس میں شام کے وزیر دفاع یوسف اعظم فرانسیسی فوج کے دمشق پر قبضہ کے خلاف مدافعت میں شہید ہوئے۔ چوتھی لڑائی ماؤنٹ ہرمن(جبل الشیخ)1973ء میں جس میں شامی فوجوں نے ہرمن پہاڑ پر اسرائیلی آبزرویشن پوسٹ پر قبضہ کیا تھا۔ پانچویں 1982ء کی لبنان اسرائیلی فوجوں کے خلاف سلطان یعقوب نے لڑی تھی۔
واپسی میں نسرین نے بتایا کہ ایک چٹا ن سے پانی کے قطرے بھی گر رہے تھے۔ جس کے بارے میں وہاں کے مجاور کا کہنا تھاکہ وہ دراصل اسی دکھی چٹان کے آنسو ہیں جو ابھی تک ہابیل کے غم میں
بہہ رہے ہیں۔
سچی بات ہے مجھے تو سب رولا غولا ہی لگا۔ کچھ ایسی ہی رائے نسرین کی تھی۔ ہاں مگر شبیر اور سکینہ بہت متاثرتھے۔وہاں سے دمشق کے دامن یعنی جبل قاسیون پر پہنچے۔
کہہ لیجئے یہ ایک طرح اسلام آباد کے دامن کوہ کی طرح ہے۔ دمشق کا سارا شہرروشنیوں میں جگمگ جگمگ کر رہا تھا اور منظر اتنا خوبصورت تھا کہ لگتا تھا جیسے نیچے دیوں کا کھیت اُگا ہوا ہو۔
ایک خوبصورت یادگار ایک خوبصورت ماحول میں ایک خوبصورت سیرگاہ۔ اس کے سکوائر میں کھڑے ہو کر فطرت اور دمشق دونوں کو بہت اچھی طرح دیکھا اور محظوظ ہوا جا سکتاہے۔ شام کو ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے اور اُن منظروں کو بھی جو ہم نے سورج کی طلائی کرنوں کے ساتھ دیکھے تھے۔سورج جیسی کرنیں جو شہر کے درودیواروں، مسجدوں کے بلندوبالا میناروں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ رہی تھیں۔
تب آسمان کتنا نزدیک تھا اور ال غوطہ کے سرسبز وشاداب حصوں کو اس کے تما م تر حُسن سے دیکھنا بڑا مسحور کن تھا۔ کبھی اس کے انہی سرسبز وشاداب غوطوں کی وجہ سے دمشق کو جنت کا ٹکڑا کہا گیاتھا۔ جنت کے ان ٹکڑوں میں سے کچھ تو آبادیوں کے پھیلاؤ کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ تاہم بچے کچھوں نظاروں کو کیمروں کی آنکھوں اور انسانی آنکھوں میں محفوظ کرنا بھی کتنا مزے کا کام تھا۔یہی سب کچھ کرتے کرتے نئے منظر سامنے آنے لگے تھے۔
دمشق شہر کی رات کے پہلے پہر کا نظارہ کس قدر موہ لینے والا تھا۔لگتا تھا جیسے روشنی کے سمندر میں تیر رہے ہیں۔دو رنگ اتنے نمایاں ہوکر آنکھوں کے سامنے ابھرے تھے کہ لطف کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی۔مسجدوں کے بلندوبالا میناروں سے پھوٹتی سبز روشنی اور دمشق کی شاہراہوں پر جگمگاتی نارنجی، سفید، اور سبز رنگوں کی روشنیوں کا دلکش امتزاج اگر کہیں دیکھنا ہو تو وہ یہاں نظرآتا ہے۔
بچے،بوڑھوں،جوانوں،عورتوں،مردوں،لڑکیوں اور لڑکوں کے جمگٹھے ہنستے باتیں کرتے کھلکھلاتے،سرگوشیاں کرتے۔کتنے رنگ و روپ تھے ان کے۔
ریڑھیوں پر،پک اپ گاڑیوں کے پیچھے کھلے حصّوں میں پھل اور ڈرائی فروٹ بکتے تھے۔بادام لیے۔۔سیب خریدے،کافی لی،فرائڈ چپس کھائے۔
زندگی کی خوبصورت شاموں میں سے ایک۔ خدا کے عنایت کردہ تحفوں میں سے ایک مزید تحفہ۔احسان ہے اُس اوپر والے کا۔

جاری ہے

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *