• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ:تین سو سال پرانا ال نفور ا کیفے Nofora میں۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط33

سفر نامہ:تین سو سال پرانا ال نفور ا کیفے Nofora میں۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط33

ابورشیدی حکاوتی

پرانے دمشق میں داخل ہوتے ہی علی نے باآواز بلند حکم صادر کردیا تھا کہ اب واپسی رات کو ہی ہو گی۔دوپہر کا کھانا شیش طاؤس کباب اور بقدش آئس کریم پر ہو گا۔پھر مادھوری ڈکشٹ کی فلم دیکھی جائے گی۔رات کو پرانے دمشق کے کہانی گھر میں کہانی سُننے جائیں گے۔علی کے نام کا نعرہ لگانے کو جی چاہا اور لگا بھی دیا۔
پرانے دمشق کو کہیں رات کی جگمگاتی اور کہیں نیم روشن زرد روشنیوں میں دیکھنا دلکش نہیں ایک فسو ں خیز تجربہ تھا۔
ایک تو رات کے ان لمحات میں کہیں تنگ کہیں کشادہ گلی کوچوں کا نیم تاریکی میں ڈوبا حُسن اوپر سے بلند وبالا دیواروں میں چوبی کندہ کاری سے مزین بالکونیاں اور دریچے اس پر طُرّہ گلیاروں سے گزرنے کی اپنی خوب صورتی۔

دمشق آنے کے بعد تین چار دن تک مسلسل ایسے ہی گلی کوچوں سے گزری تھی۔ سورج کی تیز روشنی میں اور کہیں بلند وبالا دیواروں کے سایوں میں لپٹے مناظر نے بہت متاثر کیا تھا۔ مگر دن کی روشنی میں حُسن کا انداز کچھ اور نوعیت کا تھا۔گوخوبصورتی کے چھلکاؤ کی توکمی نہ تھی۔۔مگر فرق تھا۔وہی فرق جو دن اور رات میں ہوتا ہے،جو حقیقت اور خواب میں ہوتا ہے۔

تاہم رات کو اس کے خوابناک سے ماحول نے یہاں طلسم کا جو جہان وا کیا ہوا تھا اس نے تو ہوش وخرد پر بجلیاں گرا دی تھیں۔ لگتا تھا جیسے یہ رومانوی اور اساطیری ماحول کہیں ہارون الرشید کے زمانے میں لئے جا رہا ہے۔ہم چاروں کا ٹولہ دائیں بائیں اوپر نیچے دیکھتا دھیرے دھیرے آگے بڑھتا تھا۔علی ہمیں یہاں داستان سنانے لایا تھا۔یہ وہیں امیہ مسجد کے مشرقی دروازے کے قریب ہی تھا۔

ال نوفورا کیفے کے سامنے بہت دیر رکنا پڑا تھا۔ہری بیلوں والے معلق گملے جا بجا خنکی اور تازگی کا احساس بکھیرتے تھے۔ برآمدے کا فرش ، چھت ستونوں سے برآمدے کے چوبی شیڈز تک چوبی کٹاؤ میں لٹکتے آرائشی بُندے، دیواروں سے جڑی بڑی پینٹنگز، چوبی کھڑکیاں اور پھولوں بیلوں سے ڈھنپا نیم قوسی آ ہنی دروازہ جو دور دیسوں سے آنے والے مہمانوں کو دمشق کی قدامت میں لپٹی ہواؤں میں خوش آمدید کہتے ہوئے دعوت دیتا تھا۔کہتا تھا۔۔
آؤ! یہاں بیٹھو۔۔ میں تمہیں اُڑن کٹھولے پر بٹھا کر قرون وسطیٰ کے اس دور میں لے جاؤں گا جہاں تم تعمیراتی حُسن کے نادر نمونے، خیال وفن میں ڈوبے آرٹ کے شاہکار، انگلیوں کی کرشماتی مہارت کے دلآویز معجزوں کی ایک دنیا دیکھو گی۔
اور جو کہانی تم یہاں سنو گی اس میں شام اور عر ب دنیا کے آباؤ اجداد کی تہذیبی خوشبوئیں چنبیلی جیسی مہک لئے ہوئے ہوں گی۔ آج کے دمشق کی گلیوں میں کھلنے والے گلابوں کی مہک صدیوں پہلے کے گلابوں جیسی محسو س ہوگی۔

جب دائیں بائیں کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کو شیشہ پیتے اور موج مستیاں کرتے دیکھتے آگے بڑھے تو ایک بڑا کمرہ برآمدے کی ہی طرزکا، دیواریں، چھت، آرٹ اور چوبی کندہ کاری کے نمونوں سے سجا نظر آیا تھا۔ کس قدر خوابناک ماحول تھا۔ جو کہیں صدیوں پہلے اُس دور میں لے جاتا تھا جب یہ سب سٹریٹ لائف کا حصہ تھے۔ تاہم جب عثمانی دور میں کافی کاراج ہوا تب کافی ہاؤس رواج پکڑ گئے۔

ہم بمشکل وقت پر ہی پہنچے تھے۔ تاہم دروازے کھڑکیاں کھلے تھے۔ ایک چبوترہ علیحدہ سے بنا ہواتھا۔ دیواریں، تصویریں اور مجسموں سے سجی ہوئی، ماحول کو اور تاریخی بناتی تھیں۔ شیشہ، قہوہ پیتے لوگ جو دائرے کی صورت بیٹھے عنترہ بن شداد کی کہانی سنتے۔اسلام سے پہلے کے دور کی شہرہ آفاق کہانی۔ چھت کے پنکھے کی سست رفتار گردش ہنی ایپل تمباکو کی خوشبو اور پودینہ ملے قہوے کی مہک کو فضا میں بکھیررہی تھی۔

 

چبوترے کی کرسی کے دائیں بائیں دو آدمی بیٹھے شیشہ پیتے تھے اور اس کی ڈرامائی    حرکات پر سر دھنتے تھے۔یہ پیٹرن تھے۔جوکہانی کو بڑھاوادینے اور اس کی تمثیلی صورت گری میں معاونت کرنے کا کردار ادا کرتے تھے۔

کہانی سنانے والا سٹیج پر دھری ایک خوبصورت چوبی کندہ کاری سے مزین کرسی پر بیٹھا ایک ادھیڑ عمر کا سرخ وسفید مر دنظر آیا تھا۔ہاتھ میں کتاب پکڑی تھی اور تمثیلی انداز میں کہانی کابیانیہ جاری تھا۔ایک ہجوم اپنی آنکھیں اور کان حکاوتی کے چہرے اور ہونٹوں پر چسپاں کیے ماحول میں غرق نظر آتا تھا۔قصہ گوئی کی مرکزی زبان توعربی تھی تاہم بیچ بیچ میں جرمن اور فرانسیسی کے تڑکے بھی لگتے تھے۔اس کا اندازہ ہمیں وہاں بیٹھے حاضرین کے انداز سے ہوتا تھا۔

حکاوتی کاحلیہ بھی بڑی رومانیت سی لئے ہوئے تھا۔سرخ ترکی ٹوپی سر پرسجی لشکارے مارتی تھی۔بالشت بھر چوڑا ماتھا ٹوپی سے زیادہ لشکارے مار رہا تھا۔آنکھوں پر گول شیشوں والی پتلی کمانی دار عینک چڑھی تھی۔کمر میں عربی دولہوں جیسا تام جھام والاٹپکا تھا۔پتلون بھی بڑی کھلی ڈلی بیگی سٹائل کی تھی۔ پرانے دمشق کے بہت سارے نادر تحفوں کے ساتھ یہ ابورشید حکاوتی بھی ایسا ہی ایک بیش بہا تحفہ تھا۔ عربی زبان اپنے مخصوص رنگ وآہنگ میں گندھی کسی بھاری ہوا کے جھونکے کی مانند ہمارے سُروں کو چھوتی گزرتی تھی۔

بیس سال سے وہ دمشق کا ایک اہم سیاحتی کردار بنا ،لوگوں کی تفریح کا باعث تھا۔اس کیفے میں وہ صدیوں پرانے عرب جنگجوؤں،رزمیہ داستانوں اور لوک رومانی کہانیاں   سنا رہا ہے۔اٹھارویں، انیسویں اور بیسویں صدی میں یہ فن نسل درنسل چلتا رہا۔کچھ خاندانوں نے اسے چھوڑ دیا۔تاہم رشید حلاق باپ دادا کے اس فن سے جڑا اپنی منفرد پہچان بناتا رہا۔
اور جب پاکستان کے اخبار ہرروز شام کے حوالے سے جنگ کی کوئی نہ کوئی خبر شائع کررہے تھے۔اور جب دمشق کے لوگوں کی ملنے والی ای میلیں مجھے رُلاتی تھیں۔تب ایسے ہی ایک دن نفورا بھی یاد آیا تھا۔سوچا پوچھوں تو سہی وہ داستان گوئی کا مرکز کس حال میں ہے؟بہت دلگیر سی تحریر تھی احمد فاضل کی جوسکرین پر نمودار ہوئی تھی۔
جنگ نے ملک اور لوگ ہی نہیں تباہ کیے بلکہ اُن قدیم روایتوں پر بھی کاری خرب لگائی جوملک کا حسن تھیں۔

اس چھ سالہ جنگ نے اُسے بھی توڑ کررکھ دیا۔اس کا کہنا تھا کہ اسے تو ٹی وی اور الیکٹرانک میڈیا کے دیگر ذرائع نے بھی اتنا متاثر نہیں کیا تھا۔گولوگوں نے تب کہنا شروع کردیا تھا کہ لعنت بھیجواس کام پر۔اس کی ساری فینٹسی کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔ مگر اس نے جی داری اور صاف گوئی سے کہا۔
”مجھے تو اور کوئی کام ہی نہیں آتا۔بچپن سے میں نے اپنے والد کویہی توکرتے دیکھا۔میرا بچپن تو ان نایاب تیس والیوم پر مشتمل کہانیوں کو ہی پڑھنے میں گزرا۔“

دمشق کے مضافات کا مشرقی حصہ جو لڑائی میں میدان بنا جنگ ہوا تھا۔جہاں اس کا گھر تھا۔دومنزلہ گھر کا نچلا حصہ جو اس نے گروسری سٹور بنا رکھا تھا کہ اضافی آمدنی ضروری تھی۔ایک دن ایسی بمباری ہوئی کہ گھر زمین بوس ہوگیا۔سودا لینے والی ایک معصوم بچی اور ایک مرد دونوں ملبے کے نیچے آکر مر گئے۔ بیوی بچ گئی۔موت کو اتنے قریب دیکھ کروہ پاگل ساہواٹھا۔دکان میں مرنے والی معصوم بچی اور مرد نے اُسے توڑ دیا تھا۔وہ بیوی کے ساتھ لبنان بھاگ گیا۔جہاں اس کا بیٹا رہتا تھا۔

اس جنگ نے بہت کچھ گنوایا تو وہیں وہ پرانا تاریخی کردار بھی فرار ہو گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لبنان میں امن تھا۔اس کا بیٹا اس کے پاس تھا۔ مگر وہاں اس کا دمشق تو نہیں تھا۔اس کا اپنا دمشق اس کا شام جس کے شہروں پر ہر روز بمباری تباہ کن شیلنگ اُسے رُلاتی۔ وہ مضطرب اور بے قرار تھا۔
اس کی واپسی اُس وقت ہوئی جب اُسے سیرین ٹیلی ویژن پر کہانی سنانے کی پیشکش ہوئی۔وہ ہنستے ہوئے کہتا ہے۔
”جو دورانیہ ملا ہے وہ صرف پندرہ منٹ کا ہے۔لوگوں کے پاس گھنٹے بھر کا وقت نہیں تاہم میرے ملک کے پرانے شہر سلامت رہیں۔اُن کی آب و تاب جگمگاتی رہے۔سیاح آتے رہیں۔لوگ کتنے ہی ماڈرن کیوں نہ ہوجائیں۔اُن کے اندر ماضی میں جانے کی ہڑک رہتی رہے۔“

میں آگ اور خون میں نہاتی اُن فضاؤں سے واپس 2008 کی اُس خوبصورت رات کے اُن خوبصورت لمحوں میں اُترتی ہوں مجھے وہ کہانی یاد آرہی ہے جو اس رات ہم نے سُنی تھی۔
Antarah ibn Shaddad عنطرہ بن شداد وہی فلموں والے منظر پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش ہورہی تھی۔سمجھ نہ آنے کے باوجود کچھ نہ کچھ سمجھا۔کم ازکم اُس کا انداز بیان۔ جو کہیں دریا کی شوریدہ سرموجوں جیسا کہیں چودھویں کے چاند میں نہاتی سرسراتی ہواؤں کی سرگوشیوں جیسا جی میں آتا ہے تشبیوں اور استعاروں کا ڈھیر لگادوں یہ کہانی ایک شاعر ایک نوابknightاور ایک غلام جس نے اپنی ذاتی خوبیوں سے بے حد عزت اور بے حد حوصلے اور جی داری سے جنگوں میں بڑی عزت کمائی تھی۔کے گرد گھومتی تھی۔

کہانی کے خاتمے پر میں نے پوچھا تھاکہ کونسی کہانی ایسی ہے جو بہت ذوق وشوق سے سنی جاتی ہے؟ معلوم ہوا کہ یہی جو سنائی گئی ہے۔زمانہ قبل از اسلام کی انتطر ہیرو کی کہانی، جو ایک غلام عورت کا بیٹا بہادر، دلیر اور جیالا جنگجو ساتھ ہی شاعر بھی۔ جسے خوبصورت شہزادی ابلا سے محبت ہوگئی تھی۔ جسے حاصل کرنے کی دلچسپ داستان لوگوں کو بہت پسند ہے۔ایک اور بہت سنی جانے والی کہانی سلطان بیابار کی تھی۔ قرون وسطیٰ کا مصری حکمران جس نے صلیبی جنگیں لڑیں۔ ترجمان نے کہانی کا خلاصہ انگریزی میں بھی بیان کر دیا تھا۔

جنگ نے ملک اور لوگ ہی نہیں تباہ کیے۔۔ اُن قدیم روایتوں پر بھی کاری ضرب لگائی جو ملک کا حُسن تھیں۔ کیفے کے مالک محمد رباط نے گہرے افسردہ لہجے میں کہاتھا۔تین سو سال قدیم اِس کیفے میں ہمیشہ ہی کہانی سنانے والا رہا۔ بے شک ملک میں ٹی وی چینلز آئے مگر ال نفورا میں کہانی سنی جاتی رہی۔

جنگ نے تو سب کچھ تبا ہ کر دیا۔ ہلق کا گھر تبا ہ ہوگیا۔ نقاب پوشوں نے اس کے بیٹے کے اغوا کی دھمکیاں دیں۔ تاہم پھر بھی وہ ڈٹا رہا۔ کہانی سنا تا رہا۔ ہر روز نہیں۔ ہفتے میں ایک دن۔ اور پھر دمشق میں ہی فوت ہوگیا۔یقیناًاس کی لگن سچی تھی کہ وہ اپنے ملک میں مرنا چاہتا تھا۔
سلامت رہے نفورا سلامت رہیں وہ نئے کہانی گو۔اور لوٹے شام کا وہ حسن جو آنکھوں کے راستے دل میں کھلتا چلا جاتا تھا۔
بس یہی دعا لبوں سے نکلتی ہے۔مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *