وجدان کیا کہتا ہے؟(قسط1)۔۔۔۔ادریس آزاد

عقل نائنٹی نائن پوائنٹ نائن نائن نائن نائن اور بہت سارے نائن تک تو درست علم فراہم کرنے کی اہل ہے لیکن ہنڈرڈ پرسنٹ علم فراہم کرنے کی اہل نہیں ہے۔ یہ ایک اُصولی بات ہے۔

اس کے برعکس جب ہم اپنی ناک کو چھونا چاہتے ہیں تو ہماری جبلت (وجدان) ہمیں سوفیصد علم فراہم کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ ہماری ناک کہاں واقع ہے۔

قرآن کے بقول، شہد کی مکھی کو وحی کی جاتی ہے۔ شہد کی مکھی کو وحی کی جاتی ہے تو اس وحی کی وجہ سے وہ پھولوں پر گھومتی اور شہد بناتی پھرتی ہے۔ گویا جبلت ہی وجدان ہے۔ وجدانی علم کے کئی درجات ہیں۔ جانوروں کی جبلت ان کا وجدانی علم ہے۔ انسانوں میں یہ علم ترقی کرجاتاہے۔ اس کے ہردرجہ میں جو جو کچھ حاصل ہوتاہے وہ ہمیشہ سوفیصد درست علم ہوتاہے۔

عقل تصورات کو شناخت کرنے کا آلہ ہے۔ عقل کی عقلیت کو عقل ہی شناخت کرپاتی ہے۔ لیکن وجدان کی عقلیت کی شناخت کے وقت عقل ناکام رہتی ہے۔ دراصل وجدان عقل سے بلندترہونے کی وجہ سے عقل کی گرفت میں نہیں آتا کیونکہ وجدان کسی تصور کی صورت وجود نہیں رکھتا۔ جس طرح پارٹیکل کی اِنٹینگلمنٹ میں کوئی خفیہ متغیرات (Hidden variables) نہ ہونے کی وجہ سے پارٹیکل کا اپنے اِنٹینگلڈ پارٹیکل تک سپن کی معلومات پہچانا ایک ایسا عمل ہے جو سپیس ٹائم کا محتاج نہیں بعینہ اسی طرح وجدان کے ایک ’’احساس‘‘ کا وجدان کے دوسرے ’’احساس‘‘ تک کسی بھی قسم کا زمانی یا مکانی رشتہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اِن احساسات کی منطقی تفہیم ناممکن ہوجاتی ہے۔ بالکل وہی بات وقوع پذیر ہوتی ہے کہ جب زمانِ متسلسل یعنی سیریل ٹائم یا وہ زمانہ جو آگے پیچھے(یا ماضی حال اور مستقبل) کے تصور پر قائم ہے، کسی غیر منطقی خیال کو ایک دھاگے میں پرونے سے قاصر ہے بایں ہمہ وہ دو اِنٹینگلڈ پارٹیکلز کے درمیان معلومات کے تبادلے کی اس تفہیم سے بھی قاصر ہے جو ظاہراً موجود کائنات اور اس کے اجزا کے بارے میں ہم نے اب تک تشکیل دی۔

مصنف:ادریس آزاد

وجدان بھی ذریعۂ علم ہے اور عقل بھی۔ اس لیے وجدان کو بھی شناخت کرنے کے آلہ کے طورپر استعمال کیاجاسکتاہے۔ دونوں ذرائعِ علم یا دونوں آلات کا زیادہ درست استعمال سیکھنا پڑتاہے۔ لیکن دونوں بغیر سیکھے بھی اپنے کمال کا مظاہرہ کرسکتے اور کرتے ہیں۔

اب چونکہ دونوں میں ایک فرق ہے۔ اور وہ فرق یہ ہے کہ عقل کے ذریعے حاصل ہونے والا علم کبھی پورا سوفیصد درست نہیں ہوسکتا اور وجدان کے ذریعے حاصل ہونے والا علم کبھی سوفیصد سے کم درست نہیں ہوسکتا اس لیے وجدان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن مشکل یہ پیش آتی ہے کہ وجدان کی بابت کچھ بھی سمجھنے کی پہلی جستجُو عقل ہی انجام دیتی ہے۔ اور اپنی مخصوص کمزوری یعنی نناوے فیصد ہونا یا اس سے کم ہونا، کی وجہ سے وجدان کو بطورذریعۂ علم قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ حالانکہ ایسا کرتے ہوئے بھی بعض اوقات وجدان ہی اُس اہلِ عقل کی رہنمائی کررہاہوتا ہے، جو ایسا کرتاہے۔

ایک سائنسدان لیبارٹری میں فقط عقل کے بل بوتے پر نہیں کھڑا ہوتا بلکہ اس کا وجدان ہی دراصل اس کا رہنما ہوتاہے۔ جسے ہم سائنسدان کا ذوق شوق اور جذبہ کہتے ہیں وہ اس کی عقل کی نہیں اس کے وجدان کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ اس کا وجدان اسے علم کے اجزأ فراہم نہیں کرتا بلکہ من حیث الکل علم کو اس کے سامنے رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک لحاظ سے عقل وجدان کے اُس جونیئر یا اسسٹنٹ کا فریضہ انجام دیتی ہے جو وجدان کے اکتشافات کی انفعالی حیثیت کو پرکھنے اور ان کے خالص وہبی ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق و تطبیق کا کام کرتی ہے۔ وہبی ہوا تو وجدان تھا بایں ہمہ سوفیصد درست علم تھا، وہبی نہ ہوا تو ضرور عقل کا التباس تھا۔

یہ کائنات اور اِس کی ہرشئے کو دونوں طریقہ یا ذریعہ ہائے علم کے ذریعے سمجھاجاسکتاہے۔ عقل کے ذریعے جب ہم اس کائنات کی اشیأ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وجدان ہمارا ممد ومعاون ہوتاہےلیکن وجدان کے ذریعے جب ہم اشیائے کائنات کا (سوفیصددرست) علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عقل اس کی راہ میں روڑے اٹکاتی اور التباس پیدا کرتی ہے۔ بقول خواجہ فریدالدین عطار،

زاں کہ ایں علم لزج چوں رہ زند
پیشتر راہِ دلِ آگاہ زند

وجدان نے ہماری زندگیوں کا احاطہ کررکھاہے۔ ہمارے چاروں طرف، ہمہ وقت کارفرما رہنے والا یہ ذریعۂ علم ہمہ وقت ہماری رہنمائی کرتا رہتاہے۔ ہم جب کبھی بھی وجدان کے بتائے ہوئے سوفیصد علم پر عمل کرنا چاہتے ہیں عقل مشکلیں پیدا کرتی اور اُسے سوفیصد نہیں رہنے دیتی۔ لیکن جب کبھی بھی ہم اپنے وجدان پر ایسا بھروسہ کرلیں کہ عقل اس کے تیقن میں نقص نہ ڈال سکے تو ہمیں ہمیشہ سوفیصد علم حاصل ہوتاہے۔

اگر آپ شہر اور آبادی سے بہت دورنکل جائیں اور کسی ایسے صحرا میں جہاں ہوا کی بھی آواز نہ ہو اپنے آپ کے ساتھ سرگوشی کریں تو آپ کو جس عجیب و غریب حضوریت کا احساس ہوتاہے وہ وجدان کا اپنا سپیسٹائم ہے۔ یہ حضوریت بالکل ویسی ہے جیسی ایک ذی شعور ہستی کے دوسری ذی شعور ہستی کے ساتھ ملنے پر محسوس کی جاتی ہے۔ اگر آپ کسی روبوٹ یا مشین سے مل رہے ہوں تو ایسی حضوریت کو محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن جب آپ آئینے کے سامنے اکیلے ہوں تو اپنی ہی آنکھوں میں دیکھ کربھی یہ کیفیت جسے انگریزی میں علامہ اقبال نے اِمِّیڈی اے سی (Immediacy) کہا ہے، محسوس کی جاسکتی ہے۔ لیکن کھلے اور خاموش میدان میں تنہا اِس کیفیت کو اس قدر واضح طورپر محسوس کیا جاسکتاہے کہ بعض اذہان کے لیے تو شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ کوئی بھی شخص سرگوشی کرتے ہوئے انجانی سی احتیاط جیسی کیفیت میں جاسکتاہے، جیسے آپ کی سرگوشی کو کوئی سن رہاہو۔

اتنی تسکیں پس فریاد کہاں ملتی ہے
کوئی مائل بہ سماعت ہے یہ دل جان گیا!

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

(جاری)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *