• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ:دمشق نیشنل میوزیم۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط32

سفر نامہ:دمشق نیشنل میوزیم۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط32

SHOPPING

پہلی گھُٹ کرجپھی تو اُس اُمنڈتے حسن نے ڈالی تھی جو نیشنل میوزیم کے بیرونی درودیوار سے پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہا تھا۔ گر می نے مت مار دی تھی۔ گو یہ وہاں تکیہ ال سلیمانیہ کے پاس ہی تھا۔ مگر آج موسم کے تیور کچھ برہم تھے۔ صبح سے ہی چمک چمک کر گویا اعلان کرتا جا رہا تھاکہ مشتری ہوشیار باش!
ایک میرے اس دس کلو عبایے کا سیاپا۔ ویسے مجھے کچھ زیادہ ہی برلا پڑا ہوا تھا۔ شامی عورتیں کس مزے سے کولہے مٹکاتی اور سینے اُچھالتی پھرتی تھیں۔ پر اب میری بھی تو بڑی مجبوری تھی کہ جن کے ساتھ آئی تھی اور جہاں ٹھہری تھی وہاں تو اس بڑی عیاشی کو چھوڑ کوئی چھوٹی سی عیاشی بھی ممکن نہ تھی کہ اِس ماسی مصیبتے کو گولی مارتی اور سکون سے ڈوپٹہ گلے میں ڈالتی اور لگی پھرتی۔ چلو چھوڑو میرے رنڈی رونے۔
یوں آج صبح جانے کس بد بخت کا منہ دیکھا تھا۔پہلی نحوست فاطمہ نے پھیلائی کہ طبیعت کی خرابی کا کہتے ہوئے ساتھ جانے سے منکر ہوئی۔نسرین کا بھی کچھ موڈ نہیں تھا۔رہ گیا علی تو ظاہر ہے وہ کیسے جاسکتا تھا۔اکٹھے ہونے سے خرچہ کتنا کم ہوتا تھا۔
ٹیکسی کی تلاش میں جب اِدھر اُدھر نگاہیں بھٹکتی پھرتی تھیں۔ ایک نوجوان لڑکے نے جو میرے سامنے ہی اس میں بیٹھا تھا۔ کھڑکی سے سر نکال کر انگریزی میں کہا۔
”آپ کو کہاں جانا ہے؟“
میں نے نیشنل میوزیم کا بتایا۔
”مجھے بھی وہیں قریب ہی جانا ہے۔ آپ بیٹھ سکتی ہیں۔ اگر آدھا کرایہ دیں۔“
اگر وہ مجھے مفت لفٹ کی پیش کش کرتا تو شاید میں چند لمحے تذبذب میں پڑتی کہ یہ آج کے زمانے میں خود پیشکش کرنے والابڑا حاتم طائی ہے۔
مگر اِس کا روباری سودے نے مجھے”فوراً ٹھیک ہے” کہنے کے ساتھ دروازہ کھولنے کا بھی کہہ دیا تھا۔ لڑکے کا یہاں زینبیہ میں جنرل سٹور تھا۔ انگریزی اچھی تھی تو باتیں ہونے لگیں۔ ملکی حالات بابت پوچھا تو لڑکے کا لہجہ بڑا دوٹوک تھا۔


”ارے بھئی ہم تو بڑے خوش ہیں۔ میرے باپ کا کہنا تھا کہ حافظ کا زمانہ اچھا تھا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ بیٹے کا بھی کچھ کم نہیں۔ شام نے ترقی بھی تو خوب کی ہے۔ جانتی ہیں ہمارے ملک کافی کس جی ڈی پی پانچ ہزار سے کم نہیں۔ شام اپنے وسائل کے اعتبار سے بھی کوئی بہت خوش قسمت ملک نہیں۔ پھر بھی یہ اسد فیملی کا کمال ہے۔“
وہ 2008 کا زمانہ تھا۔ پیسے میں کھیلنے والا وہ نوجوان دکان دار نہیں جانتا تھا کہ صرف دو سال بعد ہی خشک سالی جیسا ظالم دیواس کی اتنی ڈینگوں کا گلا گھوٹنے والا ہے اور سو ل وار جیسا عفریت اِس خوبصورت ملک کو تباہی کے کنارے پہنچانے والا ہے۔
سیاہ آ ہنی گیٹ سے میں نے دیکھا تھا کہ لڑکا جہاں اُترا وہ بڑا بارونق علاقہ تھا۔
”یہ الفرات سٹریٹ ہے۔یہاں سے میوزیم قریب ہی ہے۔“
لڑکے نے باہر نکل کر میری توجہ اس شاہراہ کی جانب کروائی جہاں کھڑا وہ ٹیکسی ڈرائیور کو پیسے دے رہا تھا۔
میں نے دو سو لیرا اُسے دینے چاہے، مگر مختصر سے سفر اور بات چیت نے تھوڑی سی دید شرم پیدا کردی تھی۔منہ پھاڑ کر جس منہ سے اُس نے آدھے کرایے کی بات کی تھی اسی سے وہ اب رہنے دیجیے کہتا تھا۔
”مجھے تو یہاں تک آنا ہی آنا تھا۔آپ اسے بس پچاس لیرا دے دیں۔“
یہ تکیہ ال سلیمانیہ کے پاس ہی تھا۔خوبصورت علاقہ ہریالیوں میں ڈوبا خوبصورت منظروں کا عکاس تھا۔ میوزیم بڑے بارونق اور مصروف علاقے میں تھا۔ ٹیکسی سے اُتر کر درخت کی چھاؤں تلے کھڑے ہو کر میں نے سیاہ آ ہنی گیٹ سے دیکھا۔اندرونی مناظر کے نظاروں نے رگ رگ میں ٹھنڈک اور لطافت کا احساس دوڑا دیا۔
مرکزی عمارت کا چہر ہ مہرہ بڑا ہی دل کش نظر آیا تھا۔ گول نصف قوسی صورت والے ستون اوراُن سے اُبھرتا تاثر توپ کپی سرائے میوزیم کے مرکزی گیٹ کے سے رنگ ڈھنگ سے مشابہ نظر آتا تھا۔وقار صورت سے چھلکتا تھا۔بلندی تو ایسی تھی کہ گویا آسمان کو ہاتھ لگانے کا مقابلہ درپیش ہو۔ عظمت حال کانظارہ بہرحال متاثر کن تھا۔ فوارے کے کنارے پر درختوں کی قطاریں، سبزہ، پودے، بوٹے اور اطرا ف کے لان سب خوشی سے نہال کرتے تھے۔ کیفے ٹیریا نے بھی خوشی دو چند کی تھی۔
یہاں سکون سے بیٹھ کر سنیکس اور چائے کافی یاڈرنک پینے کا بھی اپنا مزہ ہے۔
ہر ملک کا میوزیم ہمیشہ کمزوری رہا۔ ہابڑوں کی طرح بھاگی جاتی تھی۔ اب تھوڑی سی رج پج گئی ہوں۔ مگر ہر ملک اسے نک سک سے سجاتا اور اس کی نمائش کے لئے مرا بھی جاتا ہے۔ یقیناً سیاحوں کو متاثر کرنا بھی تو مقصد ہوتا ہے کہ اے آنے والو ہمیں ننگے بھوکے مت سمجھنا۔ بڑا کچھ ہے ہمارے پاس۔تو یہی کچھ یہاں تھا۔ گو میں نے تو داخل ہوتے ہی فوراً کہہ دیا تھا کہ ”بھئی اب تم لاکھ کہو مگر ابھی چھوٹے ہواور مختصر بھی۔“
تاہم یہ پورے پانچ حصوں میں بانٹا ہوا تھا۔ ایک حصہ تو وہی مخصوص قبل از تاریخ کا۔ دوسرا ونگ قدیم ترین شامی نوادرات سے متعلق تھا۔ اسلام سے قبل عرب اور اسلامی دور تھا۔ ماڈرن حصہ بھی تھا۔
پہلے تو تھوڑی سی معلومات لیں۔ بائیں ہاتھ کا پورا ونگ یونانی، رومن اور بازنطینی ادوار کے artifacts سے سجا کوئی 300 قبل مسیح سے لے کر تقریباً دس صدیوں تک کا نمائندہ تھا۔ سکندر اعظم کی فوجوں کا اِن علاقوں میں آنا اور یہاں جھاڑو پھیر دینا۔ یہ بھی عیاں تھا۔ بقیہ حصّے سب اپنے اپنے ہونے کاثبوت دیتے تھے۔پھر جیسے وقت کی گردش کچھ شہروں کو ملیامیٹ اور کچھ کو وجود میں لانے کا باعث بنتی ہے۔ ابرسا پلمیرا Palmyra، شابا اور اسی جیسے کئی دوسرے تاریخ ساز شہر وجود میں آئے۔
پورا ہال پلمیراPalmyra کا نمائند ہ تھا۔ اِس ہال کی پوری دیوار موزیقMosaic کے کام سے سجی ہوئی تاریخ سناتی تھی۔ پردھان تو وہی Cassiopeia ہی لگی۔ اپنی خوبصورتی پر نازاں دنیا کی حسین ترین جل پری۔ کیا بات تھی۔ بہت دیر کھڑے رہ کر اس کا نظارہ کیا۔
پاسی ڈونPoseidon (سمندر کا دیوتا) پر نظر پڑتے ہی مشہور زمانہ اساطیری کہانی بھی یاد آگئی تھی۔ Cassiopeia بھی کیسی چالاک تھی۔ ڈورے ڈالتی تھی پاسی ڈون پر۔وہ بھی کیسا کائیاں تھا۔ مجبور کر رہا تھا تھااُسے کہ اپنی ماں کو اس کے ملک بھیجے اور اس کی ماں کو مجبور کرے کہ وہ اپنی بیٹی اینڈرومیڈAndromedd کو اس پر قربان کرے۔
انسانی فطرت کی تیزیاں اور چالاکیاں ازلوں سے کیسے کیسے قصے کہانیوں کو جنم دیتی ہیں۔اسی طرح یہاں رصافہ Rasafa کی بھی دو محرابی ستونوں کی فنکاری بڑی موہ لینے والی تھی۔
ایک اور چیز بھی خاصی حیران کرنے والی تھی اور وہ تدفینی بستر تھے۔یہ عام طور پر حصّوں میں بنائے جاتے تھے۔نچلا حصّہ فیملی ممبران کے لئے اور اوپری حصّہ مرنے والے کے مجسمے سے سجا   ہوا،بیٹھا ہوا یا لیٹا ہوا۔اس کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی کہ تب تو خدائی زمین کا بھی کوئی قحط نہ تھا۔ڈھیروں ڈھیر پڑی تھی۔تو پھرمردوں کو ہمہ وقت چھاتی پر مونگ دلنے کے لئیے سجانے کی کوئی تک تھی بھلا۔
ملحقہ بڑے ہال نے مجھے حیرت زدہ کیا تھا کہ میں پلمیرین آرٹ کی گھمبیرتا کو دیکھتی اور خود سے کہتی تھی کہ چہروں پر بکھرے تاثرات کی کِس درجہ خوبصورت عکاسی ہے۔ایک جیسے قدوقامت کے مجسموں میں سے ہرایک کے تاثرات کتنے مختلف اور جداگانہ تھے۔ملبوسات،زیورات،کڑھائی اُن کی بناوٹ سب بتاتے تھے کہ زمانہ اُس وقت بھی ثقافتی سطح پربڑا امیراور مالا مال تھا۔
ملحقہ ہالوں میں بہت کچھ تھا۔دُرا Dura شہر سے متعلق اس کے میناروں، دیواروں اور اس کے دیوتاؤں کے مجسموں کے۔
اگلے کچھ ہال میں نے چھوڑ دئیے تھے۔جسٹن اول،دوم اس کی بیوی صوفیہ اور بازنطینی عہد کے نمونے۔دراصل بہتیرے دیکھے بیٹھی تھی۔
رومن حصّہ خاصہ مزے کا تھا۔ایک تو رومن عورتوں کا حُسن بڑا قاتلانہ تھا۔افسوس کچھ کے سر کٹے ہوئے تھے۔کیا بات تھی جی چاہتا تھا کہ وہ مجسمہ ساز سامنے ہوں تو جھک جاؤں ان کے چرنوں میں۔ہاتھ چوم لوں اُن کے جنہوں نے انہیں تراشا۔تاثرات سے گندھے ہوئے۔بڑی ہی پیچیدہ گھتیاں تھیں مذہب اور اس کے فلسفے کی جن کی یہ داستانیں سناتے تھے۔ایک دو بار تو نگرانوں سے مدد چاہی اور انہوں نے کی بھی۔پھر سوچا کہتے ہوں گے کتنی نکمی عورت ہے۔کچھ پتہ ہی نہیں اسے تاریخ کا۔
اوپر کی منزل میں بازنطینی دور کے جیولری ہال تھے۔یہاں زیورات تھے۔کیا بات تھی بھئی اُن کی بھی۔گو مجھے زیورات کا کچھ شوق نہیں۔ سونے کی ذرا طمع نہیں۔پاس رتی تولہ نہیں مگر کیا ہوا؟ حسین نہیں تو حُسن کو پسند کرنے والے تو ہیں نا۔کانوں کو پہننے والی بالیوں اور بالوں کے ڈیزائنوں کا ہی حساب نہ تھا۔ایسے شاندار کہ جی چاہے اٹھا کر سب کچھ لے جاؤں۔
انسانی چہروں کی قیمتی پتھروں پر جتنی خوبصورت کندہ کاری مجھے یہاں نظر آئی تھی وہ بھی کیاکمال کی تھی۔ سب سے خوبصوت اپالو کا مجسمہ تھا۔ روبی کے پتھروں سے سجا دائیں ہاتھ میں کمان اور بائیں میں تیر کے ساتھ۔ آرٹسٹ کے باکمال ہاتھوں نے طاقت اور تاثرات کابھر پور اظہار اس کی صورت میں مجسم کر دیا تھا۔ یہاں پتھروں کی بھرمار تھی۔
فسٹ فلور کی لابی میں سے گزرتے ہوئے میں نے کچھ تانکا جھانکی نہیں کی۔ گو وہاں دھرے ماربل کے دیوی دیوتاؤں کے مجسموں نے مجھے آوازیں دیں کہ ہمیں دیکھے بغیر ہی جار ہی ہو؟
تاہم کان منہ لپیٹ آگے بڑھ گئی۔ ہائے اِن میں پھنس گئی تو بس گئی۔ سِکوں سے بھی کبھی کوئی دلچسپی رہی نہیں تھی۔ سکہ رائج وقت سے ضرور تھوڑا سا تعلق رکھتی ہوں۔ عرب اسلامک ونگ کو بھی دیکھا۔ سب سے زیادہ شوق سے برتنوں کو دیکھا۔ کندہ کاری سے محظوظ ہوئی۔
دو چیزوں نے بہت متاثر کیا۔ خوبصورت ہال جو دمشق ہال تھا۔ لکڑی اور ماربل سے سجا ہوا۔ دروازوں کے پٹ، کھڑکیاں، الماریاں، چوب کاری کے اتنے رنگ ڈھنگ، اتنے انوکھے ڈیزائن اور نقش ونگاری کا منفرد کام۔ یہاں تصویریں بنانا ممنوع تھا۔ کمرے میں بیٹھے نگران سے ملتجی لہجے میں درخواست کی۔ اُس نے پذیرائی دیتے ہوئے کہا تھا۔
”میں باہر نکل کر کھڑا ہو جاتا ہوں۔ آپ بنا لیجیئے۔“
گو شام کی قدیم ترین تہذیبوں کے نمائندہ تو کئی ہال تھے۔ تاہم میوزیم کے عملے کی راہنمائی کرنے پر اُس ہال میں گھسنا پڑا۔ جہاں 11سے 14قبل مسیح کے زگورت زبان کے حروف ابجد دیکھنے کو ملے۔ تیس(30)حروف پر مشتمل۔ ہر علامت ایک حرف کو ظاہر کرتی۔ اسی طرح ماری ہال کا بھی دیکھنے سے تعلق تھا۔ ماری کے فنکاروں نے اپنے بادشاہوں، ملکاؤں اور دوسری مقتدر شخصیات کے مجسمے بنائے۔ ان میں دیوی اشطر اور اس کا شاہی محل جو کہ دنیا کا خوبصورت ترین محل تھا۔ ان کے مجسموں کی ایک خصوصیت کہیں ان کے ہنستے مسکراتے چہرے ہیں یا پھر خاموش اور سنجیدہ سے۔
اور جب میں میوزیم کے ہال میں اص سلامAs-Salam سکول کے بڑے بچوں کو پینٹنگ اور سکچینگ کرتے اور چھوٹے چھوٹے معصوم صحت مند گورے چٹے بچوں کو کہیں رنگین پینسلوں اور کاغذوں پر ڈرائنگ کرتے اور رنگ بھرتے دیکھتی تھی تو یہ جانی تھی کہ سکولو ں کے بچے اکثر وبیشتر یہاں آکر یہ کام کرتے ہیں۔
میں نے ادھیڑ عمر کی خاتون استاد سے تعلیمی معاملات پر بات چیت کی تو جانی تھی کہ حکمران تعلیم کے معاملے میں بہت سرگرم ہیں۔ اس میدان میں وہ کسی طرح بھی اپنے ہم عصر ملکوں ایران اور سعودی عرب سے کم نہیں کہ نوّے فی صد بچے سیکنڈری لیول تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اور ہر دس میں سے8 نو لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ ہر طرح کی فنی اور طبّی تعلیم کے لئے حکومت پورے وسائل مہیا کرتی اور نئی نسل پر پیسہ خر چ کرتی ہے۔
اللہ میری آنکھوں میں نمی اُتر آئی ہی۔ بغداد یونیورسٹی کے وہ اُستاد یا د آئے تھے جنہیں اقتصادی پابندیوں پر غصہ تھا۔ جنہیں اپنے ملک کافی کس جی این پی تین ہزار ڈالر سے پانچ سو ڈالر تک آجانے کا دکھ تھا۔ انہیں اپنے ملک کے نظام صحت، نظام تعلیم، اپنے سکول، کالج، یونیورسٹیاں، اپنے اسپتال پور ے مشرق وسطیٰ میں بہترین ہونے پر فخر تھا۔
اور اب یہی حال اِس ملک کا بھی ہو رہا ہے۔ کہاں کی تعلیم اور کہاں کی صحت؟ لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایلا ن کردی کی ترکی کے ساحل پر پڑی لاش نے کتنا رلایا ہے۔ معصوم بچہ اپنے والدین کے ساتھ بحر روم کے راستے یونان میں داخل ہونے کے لئے اپنے اُن لاکھوں ہم وطنوں کی طرح امن کی تلاش میں کسی کشتی میں بیٹھا تھا۔ بے رحم موجوں نے پہلے ڈبویا پھر ساحل پر پھینکا۔ سرخ ٹی شرٹ نیوی بلیو نیکر اور بوٹ پہنے ایلا ن کردی جیسے سو رہا تھا۔ کتنا واویلا مچا تھا مگر کچھ ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔
کافی شاپ سے کافی پیتے اور بسکٹ کھاتے ہوئے میں نے گردوپیش کو دیکھا تھا۔دراصل میوزیم کے سامنے بڑے دلفریب منظروں کا سلسلہ آگے پیچھے سے سامنے آیا تھا۔ بلند و بالا عمارات کے سلسلے بڑے دلفریب تھے۔ زردی پہاڑوں پر بکھرا شہر جس کی مسجدوں کے بلندو بالا مینار چمکتے اور آنکھوں میں کھُبے جاتے تھے۔ہوا میں تمازت ضرور تھی مگر کجھور کے درختوں سے ٹکرا ٹکرا کر چلتے ہوئے اسمیں ایک نغمگی سی بھی گُھل جاتی تھی۔گلاب اور چنبیلی کی مہک میں فسوں سا مسحور کرتا تھا۔پودوں اور بوٹوں کا ہرا کچور رنگ آنکھوں میں طمانیت بھری ٹھنڈک اُتار رہا تھا۔
مجھے بہت دیر بعد احساس ہوا تھا کہ اب مجھے اٹھ جانا چاہیے۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *