• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ:شام کی خانہ جنگی شاعری کے نئے رنگ وآہنگ کے آئینے میں۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط31

سفر نامہ:شام کی خانہ جنگی شاعری کے نئے رنگ وآہنگ کے آئینے میں۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط31

SHOPPING

”شاعری شام میں ہمیشہ سے بڑی اہم رہی ہے۔“
غدا العطرش جو ایک اچھی شاعرہ،کہانی کار اور ساتھ ہی مترجم بھی ہے۔ کہتی ہے۔
دراصل وقت اور حالات نے اِس کی نوعیت اور ہیت تبدیل کر دی ہے۔ وہ سکولوں کے بچوں کا ترنم سے رزمیہ نظمیں پڑھنے اور پاپ سٹارز کا موسیقی کی ہم آہنگی کے ساتھ بہترین رومانی شاعری کا انتخاب اپنے سامعین کے لئے ایک خوب صورت تحفے کی سی صورت رکھتا تھا۔ ادبی بیٹھکوں میں گھنٹوں بحث مباحثوں کے عنوانات میں سرفہرست عشق وعاشقی کو ہی ترجیح حاصل تھی۔
مگراِس خانہ جنگی نے ادب کی اِس صنف کے زمانوں پر انے عنوانات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ خوف کی اُن دیواروں کو گرا دیا جن کی دہشت سائے کی طرح تعاقب میں رہتی تھی۔اُس وقت وہ باتیں کہی جا رہی ہیں جن کے کہنے کا کبھی کوئی تصور ہی نہ تھا۔ تمثیلی اور استعاری انداز کا چلن ختم ہوا۔ شام کے اندر اور باہر جو رہا ہے اس پر کھلے، واضح اور مضبوط لفظوں میں اظہار ہوا ہے۔ شام میں جس ادب کا ظہور ہوا ہے چند سال قبل اس کا کہیں گمان تک نہ تھا۔
اِس جنگ نے ایک اور کام بھی کیا کہ چشم غزال اور کاکل سیاہ کے پیچ وخم سے اٹھا کر شاعروں اور ادیبوں کو نئے منظروں جو ان کے اردگرد پھیلے تھے پر لکھنے کو اکسایا۔ خو ن میں ڈوبے لفظ نکلے جنہوں نے قبروں اور ٹوٹی ہڈیوں کی باتیں کیں۔

کیلگریCalgary یونیوری البرٹاکینیڈا میں مقیم اپنے وطن شام سے جنو ن کی حد تک پیار کرنے والی شام کی بیٹی غدا العطرش جو اس وقت اُن آوازوں کو جو ایک زمانے بعد بلند ہوئی ہیں فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعے انگریزی میں ترجمہ کر کے متعارف کروا رہی ہے۔Stripped to the Bone شامی عورتوں کی شناخت، اُن کے حوصلے، جرأت، دلیری، محبت، نفرت اور مزاحمت سے لبریز وہ خوبصورت کہانیاں ہیں جو غدا نے لکھیں۔ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کام کر رہی ہے۔

میں جولائی 2008ء میں اُس وقت یہ کب جاتنی تھی کہ اِس سہانی سی سہ پہر میں جب سویدا کے حسین منظر میرے سامنے ہیں۔ ذرا بھاگ کر، ذرا تگ ودو سے اُس ڈاکٹر نجت عبدالصمد کو کسی ہسپتال سے ڈھونڈ نکالوں وہ سویدا ہی میں تو رہتا تھااور ویہیں کام کرتا تھا۔ اس سے ملوں۔ اس سے کچھ کہوں، اس سے پوچھوں۔
”صمدتم شاعروں کو تو الہام ہوتا ہے۔ تم لوگ تو آنے والے وقت کی چاپ سن لیتے ہو۔ پھرضد کرتے ہوئے کہتی۔
مجھے کچھ سناؤ۔ شاید تمہارے ہونٹوں سے نکلے لفظوں سے رستے ہوئے احساس کے کسی ٹکڑے سے اُس آفت کا کچھ اندازہ لگا سکوں کہ تمہاری اندر کی آنکھ نے سالوں پہلے حشر کی اِس گھڑی کی کسی آہٹ کو سنا تھا۔“

اسی خوبصورت شہر، اسی سویدا کے یوسف ابو یحییٰ کا پتہ بھی تم سے پوچھتی شاعر تو ایک دوسرے کو جانتے ہوتے ہیں۔ تب میں کچھ وقت تم دونوں کے ساتھ گزارتی،باتیں کرتی، شاعری سنتی۔ میں تو سچی بات ہے کنوئیں کے پاس جا کر بھی پیاسی رہی تھی۔
سویدا حُسن ورعنائی کے اعتبار سے ہی نہیں امن و آتشی کے حوالے سے بھی جنت سے کم نہیں۔یہ بات ہمارے ٹیکسی ڈرایؤر عباس نے بڑے فخریہ انداز میں بتائی تھی۔ واقعی تبھی تو متاثرہ علاقوں کے لوگ اِس کی طرف بھاگے تھے۔ اپنے گھروں کی بستی رستی جنت سے جو دوزخ بن گئی تھی۔ امن کے لئے عافیت،کے لئے۔ اپنی جنت کوچھوڑنا کتنا بڑا المیہ ہے؟
ڈاکٹرنجت تم نے یہ سب دیکھا۔ تم نے اپنے ملک کو آگ کے شعلوں میں جلتے دیکھا۔ تمہارا کرب تمہارے ہونٹوں پر پھوٹا۔
جب کمزوری مجھ پر غالب آتی ہے
میں اپنے دل کی مرہم پٹی کرتا ہوں
اُس بچے کے قدموں کی استقامت سے
جومہاجر کیمپوں کے راستوں میں جمی برفوں پر
اپنے ایک پاؤں میں ایک چھوٹا سا کالا جوتا
دوسرے پاؤں میں بڑی سی نیلی سینڈل پہنے
اِدھر اُدھر پھرتا
چمکتے آسمانوں میں اُڑتی تتلیوں کو دیکھتا
ان کے لئے گیت گاتا
مگر
یہ تتلیاں
یہ چمکتے روشن سے آسمان
تو صرف اس کی آنکھو ں کے خواب ہیں

فیس بک نے طوفان اٹھا دیا ہے۔ عطرش کا کہنا ہے۔ سویدا کے شاعروں یُوسف ابو یحییٰ اور نجت عبد الصمد کو اس نے دریافت کیا۔ ان کی تازہ نظمیں وہ اُن سے لے کرانہیں انگریزی میں ترجمہ کرتی ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں۔یہ کام وہ ہی نہیں بہت اور لوگ بھی کر رہے ہیں۔
تا ہم یہ نئی آ زادی جو جذبات کے جوش و جنون سے بھری ہوئی ہے۔اسے خطرات لاحق ہیں۔ شاعر ابراہیم کاشوشQashoushکو پہلے اغواء کیاگیا۔زودوکوب اور شدید جسمانی تشدد ہوا اور پھر جون 2011ء میں مار دیا گیا۔ دیا ال عبد اللہ اور طلال مولوہی کے بارے میں خیا ل ہے کہ وہ ابھی بھی جیل میں ہیں۔ جہاں انہیں کسی وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں۔ لکھاری خالد خلیفہ پر مئی 2012ء میں دمشق میں حملہ ہوا۔ ترکِ وطن شامی شاعروں کو بھی بہت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ثمر یزبک کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ میرم ال مرسی جن کی نظموں کی ابھی کتاب چھپی ہے بہ عنوان ”آزادی جو عریاں ہوتی ہے“ دونوں کا کہنا ہے کہ آئے دن اُنہیں موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ شام کے کسی جیل جانا اور وہاں دن گزارنا کتنا مشکل ہے۔ثمر تو ان صعوبتوں سے بہت گزری۔
بعض لکھاریوں نے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے فرضی نام رکھ لئے ہیں۔ اب پولیس چھاپے مارتی ہے۔ کہیں بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اور کہیں پردہ رہ جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شامی لکھاری ابھی تک مہیب خطرات میں ہیں۔ مگرآفرین ہے اُن کے ہمت و حوصلے پر کہ چھوٹے موٹے ڈر ڈکُرتو چھوڑئیے موت کا خوف بھی انہیں اپنے کام سے روک نہیں سکا۔
ہم نے خوف کا بھوت بھگا دیا ہے۔ ہم نے ڈر کے آسیب کو پاش پاش کر دیا ہے۔
میرم ال مرسی کا کہنا ہے۔
یہ نئی آزادی گوابھی خطرے سے خالی نہیں۔ صورت پریشان کن ضرور ہے مگر راہ سے بھٹکانے والی ہرگز نہیں۔ ایسی انقلابی شاعری جنم بھی تو تبھی لیتی ہے۔ذرا ڈاکٹر نجت عبد الصمد کو توسنیئے۔
مصیبت پر صبر کرنے والی شامی عورت
میرے زخمی دل کے لئے مرہم کی طرح ہے
مجھے تقویت ملتی ہے اُس عورت سے
جو گہرے رشتوں کی موت، غربت اور دربدری
کے سامنے ڈٹی کھڑی ہے
جو شدید سردی میں
کھانا پکانے کے لئے
لکڑیوں کا بھاری گٹھا
یخ بستہ جنگل سے لاتی ہے
وہ درخت نہیں کاٹتی
کوئی چیز چوری نہیں کرتی
تھکاوٹ کے آگے جھکتی نہیں
کسی سے خیرات نہیں مانگتی
اور
جو اُداسی، تنہائی اور مایوسی سے خائف نہیں
میرا دل حوصلہ پکڑتا ہے
اُس جیالے لڑکے کے عزم پر
جس کے اکلوتے گردے کو برقی چھڑی سے کوٹا جاتا ہے
جس کا پیشاب خون بن جاتا ہے
پھر بھی وہ اگلے مظاہرے میں موجو د ہے
میرے زخمی دل پر پھاہا رکھتی ہے
دسمبر کی منجمد شاخیں اور تنے
جو اگلے مارچ میں کھلنے کی قسم کھاتے ہیں
دلیل سے بھر ی ہوئی ایک توانا آواز
جو شکستگی اور مایوسی سے بہت بالا ہے
میرے دل کو تقویت دیتی ہے
اس نئے خوبصورت تصور کی شبیہ
جو ہمارے شہیدوں نے مادر وطن کو دی ہے
اور
جسے غریب کی آنکھ دیکھتی ہے

یوسف ابویحییٰ کی اس نظم کو بھی غدا العطرش نے ترجمہ کیا ہے۔۔۔۔

میں ایک شامی ہوں
جلا وطن
اپنے مادر وطن سے دور
چاقو کے بلیڈوں جیسے راستے پرسوجے پاؤں سے
چلتا ہوں
میں شامی ہوں
شیعہ، دروز، کُرد، عیسائی
علوی، سنی اور سرکیشائی
میرافرقہ میرے مادر وطن کی خوشبو ہے
وہی خوشبو
جو بارش کے بعد مٹی سے نکلتی ہے
میرا شام ہی تو میرا مذہب ہے
میں اسی دھرتی کا بیٹا
زیتون کی طرح
سیبوں، اناروں، انجیروں اور انگوروں کی طرح
شام میری سرزمین
شام میری پہچان
اب تمہارے تخت و تاج کا کچھ فائدہ؟
تمہارا عرب ازم
تمہاری نظمیں
کیا تمہارے لفظ میرا گھر واپس لا سکتے ہیں
اور انہیں جو مرگئے
اور آنسو جو اِس دھرتی پر گرے
میں اُسی سبز جنت کا بیٹا ہوں
لیکن آج میں
بھوک اور پیاس سے مررہا ہوں
لبنان اور عمان میں ویرا ن خیمے
میرے مہاجر ہونے کے گوا ہ ہیں
میرے مادر وطن کی طرح کوئی ایسی سرزمین نہیں
جس کے دانے میری پرورش کر سکیں
اور نہ ہی دنیا کے بادل
میری پیاس بجھاسکیں

اور وطن سے محبت کی وہ للک اس سے چاہت کی وہ آگ جو بیرون ملک رہنے والے شامیوں نے اپنی پور پور میں جلتی محسوس کی۔اس نے اُنہیں اس مشترکہ احساس کی لڑی میں موتیوں کی طرح پرو دیا اور اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین بچانے کے لئے اکٹھا کر دیا۔ یہ شامی امریکی گلوکار عمر آفندم ہو۔خاولہ کینویہ ہو۔ امل کیسر ہو۔کسیر جو امریکن کالج جونیر کی طالبہ ہے کہتی ہے۔
”جنگ میری شاعری پر قابض ہوگئی ہے۔ ہمیں کچھ نہیں سوجھتا۔ زمین پر بکھرے خون اور اناروں کے رنگ میں کوئی فرق ہے کیا؟“
امریکن ماں اور شامی باپ کے پانچ بچوں میں سے چوتھے نمبر کی بیٹی امل کیسرڈینور میں رہائش پذیر اپنے باپ کے شامی ریسٹورنٹ میں اُس کی مددگار،کالج کی طالبہ اور امریکہ میں شامیوں کے لیے آواز اٹھانے والی مجاہدہ کا روپ دھارے ہوئے ہے۔
امل کا کہنا ہے میں نے تین سال دمشق کے مضافاتی علاقے حموریہ اپنی دادی کے فارم ہاوس پر گزارے۔ ہم شامی لوگ اپنی شناخت،اپنی پہچان کے معاملے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ہمارے خاندان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ نئی نسل کو معلوم ہونا چاہیے ہم کون ہیں۔انہوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ ہم کون تھے بلکہ اُن کی کوشش تھی کہ ہم خود جانیں اور پھر جان کر اُسے اپنائیں۔
امل کی یادوں میں شام میں اپنی دادی کا فارم ہاؤس بہت اہم ہے۔وہ وقت جب اُس نے شام کو قریب سے دیکھا۔ اس کی محبت میں ڈوبی اور بولی شام میرا گھر میرا وطن اور میری پہچان ہے۔امریکہ نے مجھے علم، چیزوں کو دیکھنے اور پر کھنے کی استعداد دی۔
اس کی یادوں میں ہمیشہ حموریہ میں گزرا ہوا وقت جھلملاتا ہے۔ جب سارے خاندان کے بچے اناروں اور آلووچوں کے درختوں تلے کھیلتے۔رات کو خاندان کھانے کی میز پر اکٹھا ہوتا۔شامی ثقافت اور کلچر کا ایک اہم حصّہ خاندان کا کھانے پر اکٹھے ہونا ہے۔اس خانہ جنگی نے ہمارے خاندان کے ستائیس (27)افراد کی جان لی۔ہمیں اچھی طرح موت کی تلخیوں کا احساس ہوا۔ ہمارے خاندان نے بہت اذیت کا سامنا کیا ہے۔ امل بڑے دُکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے۔
امریکہ آنے کے بعد معلوم ہوا تھا کہ میں اپنی دادی کا وہ فارم ہاؤس اب کبھی دیکھ نہ پاؤں گی کیونکہ حکومتی فوجیوں نے اس پر قبضہ کرلیا تھا۔انہوں نے اس خوبصورت باغ کے سارے درختوں کو کاٹ دیا تھا اور وہ اب اُن کی دادی کی ملکیت نہیں رہا تھا۔
وجہ بس اتنی سی تھی کہ اس کا شامی خاندان سیاسی طور پر بڑا نمایاں اور اپنی رائے کا ڈٹ کر اظہارکرنے والا تھا۔کہہ لیں کہ اپوزیشن میں تھا۔
وائٹ ہاؤس کے لان میں “بشار کے نام کھلے خط میں اُس کی نظم نے طوفان اٹھا دیا تھا۔اس کی ایک نظم ”گولیاں اور زمین“ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے۔
جنگ جب شروع ہوتی ہے
دریا بھی خشک ہوجاتے ہیں
فوجیوں کے ہاتھ
کبھی کسانوں کے ہاتھ بھی ہوئے ہیں
گولیوں اور دھرتی کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا تعلق
خون بھی کبھی فصلیں اُگاتے ہیں
بیس سالہ امل کسیر اپنی کتاب بیگ میں ڈالتی ہے۔حجاب پہنتی ہے اور شام کے دکھ اور المیے پر نظمیں پڑھتی ہے۔

کسیر کی ایک نظم پڑھیے۔

میری دادی شام کو ہر شامی سے زیادہ جانتی ہے
اس کے گھٹنوں میں آرتھرائٹس ہے
اُسے اپنے کھیتوں کی مٹی کے نام اور خوبیوں سے مکمل آگاہی ہے
وہ ظالموں اور آمروں کو بھی جانتی ہے
وہ کہتی ہے
غلاظت اس کے(بشار) انتظار میں ہے
وہ اپنی قبر بارے بھی جلد جان جائے گا
اور پھر
وہ اپنی چھاتی پر پورے ملک کا بوجھ محسوس کرے گا
شاعری گواہی دیتی ہے۔ موجہ کف نے کہا۔

موجہ کف شامی امریکی انعام یافتہ لکھاری آرکنساس یونیورسٹی میں پروفیسرہیں۔2011 میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا شامی ادب خوف،حکومتی سنسر شپ اور جبرو ظلم کے حصار میں تھا۔لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔انتہائے شکر اِس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا۔شام اپنی ایک نئی پہچان اور اس کا ادبی رنگ ایک نئے انداز سے سامنے آرہا ہے۔شاعری اس وقت ایک بڑا اور نمایاں کردار ادا کررہی ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں انقلابی گیتوں کو احتجاجی طور پر گایا جارہا ہے۔
عامر طایاب پیشے کے اعتبار سے وکیل انسانی حقوق کا علمبردار خانہ جنگی کے ابتدائی دنوں سے ہی اِس آگ میں ایک نعرہ مستانہ لگا کر کود پڑا تھا۔بڑی انقلابی نظموں کا خالق ہے۔۔اس کی یہ ایک نظم پڑھیے۔
را ت بہت لمبی ہو گئی ہے
اور تاریکی بڑھ گئی ہے
مجھے تو ستاروں کی روشنی بھی نظر نہیں آتی
جو راستہ ہی دکھا سکے
سفر لمبا ہوگیا ہے
اور میرے قدموں کے نشان غائب ہونے شروع ہو گئے ہیں
واپسی کا راستہ کیسے پتہ چلے گا؟
ایک خواب سا غنودگی میں جھلکتا ہے
جو میری آنکھوں کی پتلیوں کو تھپکیاں دیتا ہے
اس کے ساتھ ساتھ
میں خوف زدہ بھی ہوں
کہ دن کا طلوع مجھے دفن کر دے گا
میرے بارے کچھ مت پوچھو
مت پوچھو میں کون ہوں

اِ س جنگ کے ڈھیر سارے ستم ہیں۔لاکھوں لوگ پناہ کے لئے بھاگے۔ کہیں کشتیوں میں، کہیں پیدل، کہیں کار، کہیں گاڑی کہیں بسوں میں۔ لبنان، اردن اور ترکی کے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزین ہونے اور کہیں ترکی اور بیروت کے راستوں سے یورپ جانے کے لیے۔ اِن کیمپوں میں نوجوان تھے۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے مرد تھے۔
یہ ستم رسیدہ بے خانماں لوگ شدید خطرات میں گھرے ہوئے تھے۔ ان کا دشمن حکومت ہی نہیں بلکہ بیرونی طاقتیں بھی ہیں۔ ان کے مفادات ہیں۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے اندرسے لاوے پھوٹے۔
کیا یہ ذکر ڈاکٹر ہیثم جیفی بہلول کے بغیر مکمل ہوگا۔سائیکاٹرسٹ بہلول جو تاثیق گروپ کا بانی ہے۔جو شام کے شاعروں،موسیقاروں اور آرٹسٹوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔شام کے مرد م خیر شہر لطاکیہ میں 1983ء میں پیدا ہونے والا ہیثم جو اس وقت میسا چوسٹس یونیورسٹی کے میڈیکل سکول میں پروفیسر ہیں۔اُن کی نظموں کی دو کتابیں عربی میں ہیں جن کے انگریزی تراجم کو بے پناہ پذیرائی ملی۔
کلاؤڈ کیفے کو ذرا پڑھیے۔
چھاتی کے داخلی دروازے پر
گلے اور زبان کے درمیان
اُداس چہروں والے انسانوں کی لمبی قطاریں
جو بے چین اور بے ڈھبے لباسوں میں ملبوس
منصوبے بناتے ہیں
پر اُمید ہیں
جنگ کے خاتمے کے منتظر ہیں
لیکن
وہ خوف زدہ بھی ہیں
ڈبل روٹی اور آلوؤں کی قیمتوں کے بارے
اور لفظوں کے بارے
وہ خوش ہوتے ہیں ماحولیاتی گرمی اور
سازشوں کے بارے میں سن کر
ہاں لیکن،مہلک بیماریوں کے خوف
انہیں پریشان کرتے ہیں
تاہم وہ ہنستے ہیں
اُن کی اکلوتی چاہت
ایک سگریٹ اور راکھ ہے
وہی راکھ جو شہروں کو تباہ کر دیتی ہے
اور جب وقفہ ختم ہوتا ہے
وہ پھیپھڑوں کی دیواروں پر درمیانی انگلیوں سے
وقت کے کوئلے سے crossبناتے ہیں
اور کام کو لوٹ جاتے ہیں
جنگ کے سال گزرتے ہیں
ایک ایک کر کے
کیلنڈر کے صفحوں کی طرح پلٹتے ہوئے
اور شاندار منصوبوں کو تہس نہس کرتے ہوئے
شہیدوں کے ناموں کا اندراج کرنے والا
وہ جو مُردوں کے لئے دعا پڑھاتاہے
اور جو ایک ہاتھ سے جزلز کے میڈلز لگاتا ہے
اور دوسرے سے المیہ شاعری لکھتا ہے
کچھ نہیں بدلتا سوائے تعداد کے
اور اُن لوگوں کے اعتقاد کے
جو گلیوں میں ماتم کرتے ہیں
جبکہ کلاؤڈ کیفے میں
کوئی پل کے لئے اپنی نگاہیں اوپر اٹھاتا ہے
اور پھر
شورغل کی آوازوں میں
اپنی گرے داڑھی کو جھکاتے ہوئے
اپنے نئے آئی فون میں مہنمک ہو جاتا ہے

جاہدال احمدی کی دل کے تاروں کو چھوتی نظم ”شام کے آسمان پر چمکتے دو چاند“پڑھیئے۔شاعر کا اپنے ملک کو کرب اور دکھ کے سمندر میں گرتے دیکھنا کس قدر غم زدہ المیہ ہے۔اس کا ذرا نوحہ سنیئے۔
یہ ہم ہیں
دل کے دریا پر معلق پل کی
کس ورید سے خون بہہ رہا ہے
اور فاصلے کم نہیں ہورہے
فرات کے لبوں سے چاہت کے دو بولے گئے ہیں
اور تیسرا ماتم زدہ ملک کے لئے ہے
تکلیف بھرے دوسال اور اب تیسرا بھی
اُس لکھے ہوئے کوٹال رہا ہے جو
تقدیر کے قلم سے لکھا گیا
چنبیلی کے پھولوں جیسے شام
تمہارے خوبصورت نخلستان
جنہیں
آنکھوں کے دامن کی ہریالی چھوتی ہے
جو اُفق کی نیلاہٹ پر بھی ختم نہیں ہوتی
ہماری سڑکیں میجانااور اتابا سے کتنا گونجتی ہیں
اور ہم تھکن زدہ لوگوں کے لئے کتنی شراب
بہاتے ہیں!
خداراہمارے خواب نہ نوچو
خدارا! اپنے دروازے ہمارے محبوبوں کے لئے نہ بند کرو
ہمیں ہچکچاہٹوں سے نکال لو
ہمیں گناہوں میں نہ پھنساؤ
جو ہم نے نہیں کئے
ہمیں اپنے وطن کے سہارے اونچا اُڑنے دو
تاکہ ہم دہرے موسموں کے عذابوں سے بچ سکیں
دمشق کے آسمانوں پر چھائے بادل ختم ہورہے ہیں
آہستہ آہستہ مچھلیوں کی طرح
کائنات کے اُفق پر ایک نئی پیدائش ہورہی ہے
آنے والے کل میں
تم مشرق کی اس ماں کو دیکھو گے
شاعری گوا ہی دیتی ہے۔ موجہ کف نے کہا۔

شامی شاعرہ اور ایکٹویسٹ خاولہ کیونیہKhawla Quniaاور فنکارہ مدوہ سلیمان جس نے اسد کے خلاف مظاہروں میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔گم شدہ لوگوں کے لئے آواز اٹھائی۔موجہ ان کی بہت بڑی مداح ہے۔
خاولہ دنیائے شام کی انقلابی شاعرہ، ایک جوشیلی ”ایکٹویسٹ“ کی شاعری جسے بے حد سراہا گیا۔
”نہ ختم ہونے والا انقلاب“ اِس کی روز مرہ یادوں کا مجموعہ ہے۔ “Sinper” خفیہ گولی چلانے والا ایک گہری اور دل میں طوفان اٹھانے والی اُس کی نظم جسے موجہ نے ترجمہ کیا، فیس بک پر چڑھایا اور پوری دنیا میں یہ نشر ہوئی۔
“Sniper” کو ذرا دیکھیے۔
انگلی جو رکتی نہیں
عضو جو تقدیر کے آگے جھکتا ہے
وہ تقدیر جیسے خاموش رائفل لکھتی ہے
اور تم
کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟
کس نے تمہیں یہ سکھایا؟
جو تم میرے ساتھ کر رہے ہو
کس نے تمہیں اس سنگین لمحے میں منجمد کیا
یہ لمحہ جو
مجھے،تمہاری آنکھ اور گولی
کو اکٹھا کر دیتا ہے
اور یہی وہ لمحہ ہے جو
مجھ سے میرا خواب چھینتا ہے
اور تمہیں ناموری دیتا ہے
لیکن
ہم بہت عرصے تک خاموش نہیں رہیں گے

صمد اپنی ایک میل میں لکھتا ہے العطرش آج مجھے اپنے ملک میں دنیا کے ساتوں براعظموں سے آتی آوازوں کی خوشبو ضرور محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم خود کو یتیم محسوس کرتے ہیں۔ عمر آفندم کو کتنے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم پھر بھی اس نے اپنا گیت ریلیز کروایا۔ اب وہ کہتے ہیں۔
اوراب جب کہا جاتا ہے
شام تذبذب میں ہے کہ

کس کا ساتھ دیا جائے
لیکن ایک سوچ ایک خیال ضرورہے
ہم سب شکست کا شکار ہیں
خانہ جنگی جنگ ہی تو ہے
جہاں بچے موت کا شکار ہوئے ہیں
اور
مائیں باورچی خانوں کے فرش پر پڑ ی ہوئی ہیں!

SHOPPING

جاری ہے!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *