مشق سخن    ( صفحہ نمبر 21 )

غیرت کہاں کھو گئی؟۔۔۔۔عمیر ارشد بٹ

مشرقی مرد اپنی ماں، بہن، بیٹی کی حفاظت کرنے میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت کو تار تار کرنے کا بھی ماہر ہے۔ لڑکی نظر آنے کی دیر ہے فورا ً ایک←  مزید پڑھیے

انسانیت کو نوچتے حیوان۔۔۔ہاشم چوہدری

زندگی کے بھنور سے چند لمحات نکال کے اردگرد وقوع پذیر ہوتے حادثات و واقعات کو اپنی نظر سے جانچنا میرا معمول بن چکا ہے۔اور اسی واسطے میں یہ لمحات کسی ویرانے یا کسی پیڑ کی چھاٶں میں گزارتا ہوں۔اکثر←  مزید پڑھیے

امت کا ایک درخشاں آفتاب ڈوب گیا۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

‎غالباً ناصر کاظمی نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔‎” جسے دیکھو دولت کمانے کی فکر میں گرفتار ہے۔ شہر میں ایک بھی دیوانہ نہ رہا”۔۔۔ ‎ایک دیوانہ موجود تھا، جو لوگوں کے پیچھے بغیر لالچ کے پھرتا تھا، جس←  مزید پڑھیے

بابا کی لاڈلی۔۔۔۔ہاشم چوہدری

کل رات چاند کی جانب دیکھا تو چاند  لالی اوڑھے،اداسی  میں ڈوبا ہوا نظر آیا ۔۔بڑی حیرت ہوئی کہ اتنے روشن چہرے پہ افسردگی۔ نہ جانے یہ کس بات کا شگون ہے خدا خیر ہی کرے۔ نہ جانے یہ کس←  مزید پڑھیے

عورت و مرد کا تعلق ۔۔۔محسن علی

اس بارے میں بات کرنا کہاں سے شروع کی جائے ۔۔اس بات کو سوچتے سوچتے خیال آیا اپنی ذات سے شروع کیا جائے ۔ بات ایسی ہے کہ میرے بچپن میں ہی اسکول کی زندگی میں سب سے پہلے جو←  مزید پڑھیے

استاد اور آج کا استاد۔۔۔۔عمیر ارشد بٹ

پڑھانے کو پیشہ پیغمبری کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنت ہے جس کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ لیکن جسے یہ سعادت نصیب ہو اس کی ذمہ دریاں عام انسانوں سے بڑھ جاتی ہیں۔ مضمون کو اس←  مزید پڑھیے

انجانی کمی۔۔۔عنبر عابر

اس دن وہ سیر سپاٹے کیلئے اپنے دوستوں کے ساتھ پہاڑوں کی طرف آیا تھا۔تب ان سرسبز پہاڑوں میں اس کی نظر قلم کاغذ تھامے اس شخص پر پڑی جو ہر شے کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔دور مغرب←  مزید پڑھیے

کچھ اہم باتیں ۔۔۔محمد فیاض حسرت

ہمیں خدا سے اور خدا کے آخری رسولؐ سے محبت ہے ، خدا اور اس کے آخری رسولؐ سے عشق ہے ۔ خدا کرے کہ ہمیں خدا اور اس کے رسولؐ کے ساتھ سچا عشق نصیب ہو ۔   خدا گواہ←  مزید پڑھیے

چاہ۔۔۔۔بتول

کیا ہوا اتنے اداس کیوں بیٹھے ہو ؟ اداس؟۔۔ اداسیاں تو اب شاید مقدر  میں ٹھہر چکیں ۔۔ تمہارے لہجے سے ناامیدی جھلکتی ہے ۔۔کچھ بتاؤ گے نہیں؟ وہ چلا گیا۔۔۔۔۔! تو بلا لو واپس۔۔ آواز دے کر دیکھو۔۔۔ پلٹ←  مزید پڑھیے

سارے پادری و مولوی ایک جیسے نہیں ہوتے۔۔۔ صفی سرحدی

فرانسیسی افسانہ نگار موپساں کو میں بہت مانتا ہوں کیوں کہ انہوں نے مجھے اپنی کہانی “was it a dream” کیا یہ کوئی خواب تھا” کے ذریعے دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کرنا سکھایا۔ موپساں کی یہ کہانی دو←  مزید پڑھیے

دو طرح کے لوگ۔۔۔راحیل طارق

ہمارے ہاں دو “گول” کی جستجو کے لیے میرے مطابق دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک وہ لوگ جو اپنے لیے “First Achieve Goal ” کا لفظ استعمال کرتے ییں ان کے نزدیک پہلے اپنا مقصد حاصل کرنا ہوتا←  مزید پڑھیے

پہلی محبت۔۔۔اسامہ ریاض

جب میں نے اُسے پہلی بار دیکھا تو مجھے اُس سے پیار ہو گیا۔ ہاں وہی پیار جس کا ذکر فلموں میں ہوتا ہے، پہلی نظر والا پیار۔ اُس کی دلکش ادائیں اور چاند کی روشنی کو ماند کر دینے←  مزید پڑھیے

محنت۔۔۔۔حسنین امام

ہم زندگی کے بارے میں بہت ہی عجیب وغریب نظریات رکھتے ہیں۔ جن میں سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی و موت، رزق، دوستی و دشمنی غرض سب قدرت کے تابع ہے اور ہمارا اس پر کوئی←  مزید پڑھیے

کچی آبادی میں بسنے والا ایک شخص ۔۔۔محمد فیاض حسرت

میرے پاس کیا تھا ؟ ایک کچا ، ٹوٹا سا گھر تھا ۔ ایسا گھر جس کے اندر سے دن میں سورج صاف دکھائی دیتا تھا اور رات میں چاند بھی ایسے دکھتا تھا جیسے وہ اس گھر کو ہی←  مزید پڑھیے

ہر فن مولا ۔۔۔ حارث خان

لیکن جو بات دلچسب اور ماننے کی ہے وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے حجام کو اس کا کام یاد دلایا وہ آج کل گنجے نظر آتے ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

بھوک۔۔۔بتول/افسانہ

باجی بھوک لگ رہی تھی کھانا مل جاۓ گا۔ دنیا جہاں کی ہمت یکجا  کر کے بھی بس اتنا ہی کہہ پائی  تھی  وہ ۔۔۔۔صبح سے کام کا کہا ہوا وہ تو تم سے ہوا نہیں ابھی تک۔۔ جب تک←  مزید پڑھیے

اس قوم کا پرسان حال کون؟۔۔۔۔۔عبدالرؤف خٹک

اب قوم کو بلا چوں و چرا ٹھنڈے پیٹوں سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا ،یہ اک آخری امید کی کرن تھی جس  پر  قوم  تکیہ کیے   بیٹھی تھی ،اب اگر یہ جماعت بھی پچھلوں کی طرح اسی ڈگر←  مزید پڑھیے

رہائی۔۔۔۔فوزیہ قریشی/افسانہ

سارہ دروازے کی کھڑ کھڑ اہٹ پر چونکی پتا نہیں کب اس کی آنکھ لگ گئی اس نےسامنے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی، رات کا آ خری پہر تھا۔ وہ آنکھیں ملتے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی تاکہ باہر کا←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی: سچا پیار ۔۔۔ عبد الحنان ارشد

وہ بس میں میرے ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھا تھا۔ وضع قطع سے ماڈرن معلوم ہوتا تھا، اور بول چال سے پڑھے لکھے ہونے  کا بھی گمان ہو رہا تھا۔ اس نے فون کانوں کو لگایا، منقطع شدہ رابطے کو آگے بڑھایا۔ کسی←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ ۔۔۔ حمزہ بن طارق جہانگیر

جدید دور میں سوشل میڈیا نے دن دگنی رات چگنی ترقی کی ہے۔ اس دور یعنی اکیسویں صدی میں جہاں رہنے کے لئے ذاتی گھر، سواری ضروری ہے اسی طرح سوشل میڈیا بھی ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ←  مزید پڑھیے