غیرت کہاں کھو گئی؟۔۔۔۔عمیر ارشد بٹ

مشرقی مرد اپنی ماں، بہن، بیٹی کی حفاظت کرنے میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت کو تار تار کرنے کا بھی ماہر ہے۔ لڑکی نظر آنے کی دیر ہے فورا ً ایک جملہ سننے  کو ملتا ہے “استاد بچی چیک کر” پھر ایک نہیں درجنوں جملے شرم و حیا کا بند توڑتے منہ سے برآمد ہوتے ہیں ۔۔”پاؤں چیک کر،کتنے صاف ہیں، بھائی پر خوب جمے گی”،”بڑا مٹک کر چل رہی ہے، میری تو جان ہی نکال دی اس نے”۔۔۔”چاچو اس کے ہونٹ چیک کر ۔ ۔ ۔ والے ہیں”۔۔۔

“اؤے اس کے گھر کا پتا کر”

“میں تو اس کی بڑی بہن کو بھی جانتا ہوں”

“گشتی ہے سالی”

“اس کی  بہن ہے”۔۔۔۔۔

“پہلے اس کے ساتھ سیٹ تھی، اب اس کو برباد کرے گی”

“یہ اس کے ساتھ بڑا پھرتی ہے بتا کیا کروں”

یہ فقرات اس معاشرے کا سپوت کَس رہا ہے  جو معاشرہ اسلام کے آنے سے پہلے بھی حیاء کا پیکر تھا۔ جہاں ہر بنتِ حوا کی عزت محفوظ تھی۔ گلی محلے کی ہر عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ ان کی حفاظت کو فرضِ عین سمجھا جاتا تھا۔ لیکن افسوس ہمارا نوجوان اخلاقیات کا جنازہ نکال چکا ہے۔ بے حیائی اور بےغیرتی کی غلیظ دلدل میں انتہائی بری طرح پھنس چکا ہے۔ اخلاقیات سے گری ہوئی سوچ کو اپنی معراج سمجھ بیٹھا ہے۔ اگر سپوت صاحب اس رویے اور عمل کے کھلاڑی ہیں تو پھر اپنے گھر کی بنتِ حوا کو بھی محفوظ کر لیں کیوں کہ اس طرح کے حیوان نما انسان اس مشرقی سرزمین پر پیدا ہو چکے ہیں۔ ان درندوں کو جب کچھ نہیں ملتا تو ان کی درندگی سے زینب جیسی معصوم زندگیاں جہانِ فانی سے کوچ کر جاتی ہیں۔ اس درندگی کا آغاز اس طرح کی محفلوں میں بیٹھنے، غلیظ ترین فقرات کَسنے اور آنکھوں کے غلط استعمال سے شروع ہوتا ہے۔ مسلمان اس گٹھیا سوچ، غلیظ زبان اور اوچھے کردار کے مالک تو نہیں تھے۔ ان کے کردار کی مثالیں غیر  مسلم دنیا بھی دیا کرتی تھی۔ آج کا نوجوان انتہائی بے غیرتی کے عالم میں اپنی اندر کی سفاکیت کو ظاہر کرتے ہوۓ بکتا ہے کہ “بس نبض چلنی چاہیے بچی کی”۔ اس قدر گِرے ہوۓ تو جانور بھی نہیں جس قدر آج کا نوجوان گِر گیا ہے۔ آج کا مشرقی نوجوان جس سطح پر کھڑا ہے،  اسے اپنے اسلاف کی، اپنے خاندان کے کردار کی بلندیوں کا اپنے سے موازنہ کرنا چاہیے۔ اگر اس میں رتّی برابر بھی حیاء ہوئی تو اپنی گٹھیا سوچ اور شرمناک کردار کو دیکھ کر ڈوب مرے گا۔

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *