استاد اور آج کا استاد۔۔۔۔عمیر ارشد بٹ

پڑھانے کو پیشہ پیغمبری کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنت ہے جس کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ لیکن جسے یہ سعادت نصیب ہو اس کی ذمہ دریاں عام انسانوں سے بڑھ جاتی ہیں۔ مضمون کو اس کے لوازمات کے ساتھ پڑھانا، مضمون پر   عبور ہونا، علم کے متلاشیوں کو کتابیں سکھانے کے علاوہ پیشہ ورانہ مہارتوں سے متعارف کرنا اور اس کے لئے عملی اقدام کرنا ہی صرف استاد کی ذمہ داری نہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر استاد کو ایماندار ہونا، اچھے کردار کا مالک ہونا اور معاشرے میں اچھا انسان ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ استاد کی پڑھانے سے بڑی ذمہ داری نوجوانوں کو ایک اچھا انسان بنانا ہے، یہ تب ہی ممکن ہو گا جب استاد خود اچھے کردار اور اوصاف کا مالک ہو گا۔ استاد اچھے ہو یا برے کردار کا مالک ہو لیکن اسے اپنے طالبعلموں کو کچھ چیزیں ضرور سکھانی ہوں گی۔ اگر استاد ایسا نہیں کر رہا تو صاف صاف سمجھا جاۓ گا کہ وہ اس عظیم پیشے کی عزت کو تار تار کر رہا ہے۔

ایک استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کے کردار اور اعمال پر محنت کرے، عملی زندگی کے مسائل سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ انکا حل بتاۓ گا،اپنے پیشے سے جڑی بڑی ذمہ داری پوری کرے گا یعنی کہ متوازن زندگی گزارنے کے لئے مدد کرے گا، طالب علم میں قائدانہ صلاحتیں پیدا کرے گا۔ شہریوں کو عزت کرنا سکھا، طالب علم میں قائدانہ صلاحتیں پیدا کرے گا۔ شہریوں کو عزت کرنا سکھاۓ گا۔ کیا ہمارے ہاں استاتذہ اپنی یہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں؟

کیا ساری قوم اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی ہے؟ اگر قوم ذمہ داریاں نہیں نبھا رہی تو یہ پیشہ پیغمبری سے منسلک لوگ اپنی ذمہ داریا کیوں نبھائیں؟ آدھے سے زیادہ یہ طبقہ اپنے مقصد سے عاری ہو چکا ہے۔ ان عظیم لوگوں میں “میں” اس خطرناک حد تک سرایت ہو چکی ہے، جس کا خاتمہ ناممکن سا نظر آ رہا ہے۔ جنہوں نے اپنے طالبعلموں کو پروفیشنلزم سکھانا تھا  انہوں نے کبھی خود تو میدان میں جا کر عملی کام کیا نہیں، صرف کتابیں پڑھ کر، کتابیں پڑھانے پر زور دیا ہوا ہے۔ اگر عملی چیز پوچھ لی جاۓ اور استاد کو اس کا علم نہ ہو۔ تو  اس کی  کیا اہمیت رہ جائے گی؟۔۔۔۔ آگے کیا نتائج  برآمد ہوں گے آپ لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں۔

ہمارے کئی استاتذہ اپنی قابلیت کی اس سطح پر پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ صرف اور صرف پوزیشن ہولڈرز کو پڑھانا چاہتے ہیں۔ باقی طالب علم ان کی نظر میں اپنا اور ان کا وقت برباد کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔ کبھی ان جیسی عظیم ہستیوں سے کچھ پوچھا جاۓ یا سمجھنے کے لئے حاضری دی جاۓ تو بڑے ہی شائستہ انداز میں فرماتے ہیں “بیٹا آپ کا اس سے کیا کام، میں نے جو پڑھانا تھا پڑھا چکا، اب یہ سمجھنا آپ کی ذمہ داری ہے ” کیا ایک استاد کا یہ عمل ہوتا ہے؟ جس نے قوم کو ایک عظیم قوم بنانا ہے وہ شخصیت اتنی ظالم ہو سکتی ہے؟

ہمیں کئی استاد ایسے بھی ملتے ہیں کہ انہوں نے قسم اٹھائی ہوتی ہے کہ جو پڑھائیں گے اس جیسا دینے کی بھی غلطی نہیں کریں گے۔ کیونکہ اگر اس جیسا تھوڑا سا بھی پیپر میں دے دیا تو طلب علم سمجھے گا کہ استاد کو کچھ بھی نہیں آتا۔ استاد محترم اپنی قابلیت اس وقت بھی تو جان سکتے ہیں جب مشکل پیپر دیں اور طالبعلم ان کے سیکھے ہوۓ میں سے سارا پیپر حل کرے۔ پھر استاد کی فتح ہوتی ہے، نہیں تو فضول پیپر دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معزز پیشے کی ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بھی معراج سے  مبرا شخص ہے۔

سمیسٹر کا آغاز ہو تا ہے، کلاس کے اندر استاد طالبعلموں کے سامنے اپنا پڑھانے کا انداز، کورس اور گریڈنگ کو متعارف کراتا ہے اور اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ آخر تک ایسے ہی چلیں گے۔ لیکن کیا ہوتا ہے کچھ عرصے بعد ان میں سے ایک بھی عنصر پورا نہیں ہو رہا ہوتا۔ ایک طالب علم جسے اس کے والدین نے سمجھایا ہوتا ہے کہ استاد کی عزت دل و جان سے کرنی ہے۔ وہ ایسے استاد کا عمل دیکھ کر کیا اس کی عزت کر پاۓ گا؟ کیا ایسا استاد طالبعلموں سے محبت بھرے جذبات وصول کر پاۓ گا؟ کیا ایسا استاد ایک اچھی قوم کی بنیاد رکھ سکے گا؟ کیا استاد اس عظیم پیشے کے ساتھ وفادار ہونے کا دعویٰ صدقِ دل سے کر پاۓ گا؟

استاد ہر معاشرے میں ایک اہم مقام پر فائز ہوتا ہے، ہر مذہب استاد کو عزت کے مقام پر رکھتا ہے۔ ہمارے آقاﷺ نے استادوں کو ان کی خدمت کی وجہ سے “پیشہ پیغمبری” کا خطاب دیا ہے۔ اس عظیم منصب پر فائز ہونے والی کئی شخصیات ایسی سوچ کو اپنا لیتی ہیں کہ اب دنیا میں ایسا کوئی بھی انسان نہیں جو ان کو غلط ثابت کر سکے مطلب وہ اپنے آپ کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ایسا رویہ بھی استاد کو کبھی بھی نہیں اپنانا چاہیے۔ اسے ہر نئی لیکن معیار کے مطابق ہونے والی تحقیق اور راۓ کو قبول کرنا چاہیے۔ اگر قبول کرنے کی ہمت نہ ہو تو اس عمل کو داد ضرور دینی چاہیے۔ صد افسوس کہ پاکستان کے استاتدہ سے یہ صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ہمارے نجی اداروں کے استاتذہ اپنے عمل سے ثابت کرنے پر تلے ہوۓ ہیں کہ ہٹلر تو معصوم سا بچہ ہے کسی میں ہمت ہے تو سامنے آۓ۔

ہمارے تعلیمی اداروں کے سربراہان کو چاہیے کہ اساتذہ کو یہ منصب دینے سے پہلے یہ ضرور تسلی کریں کہ یہ شخص اس عہدے ے  قابل ہے کہ نہیں، اس کے بعد ان کی باقاعدہ تربیت کی جاۓ۔ اکثر ادارے اپنے اساتذہ کی تربیت کرتے ہیں، لیکن اساتذہ بھی طالبعلموں کی طرح اسے ادھر آگ لگا کر آ جاتے ہیں۔ کیونکہ ایسے اساتذہ نسل کی بربادی کو مقصد بنا کر اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشے سے مخلص ہو کر اپنے فرائض انجام دیں۔ صلہ کی امید بھی نہ رکھیں کیونکہ فرض کا صلہ نہیں ہوتا۔ ایک اچھے استاد کو عزت ملتی، لیکن یہ عزت ہی صرف اسکا صلہ نہیں ہوتی۔ عزت تو ان استادوں کو بھی ملتی ہے جو اس عظیم رتبے کی حیثیت کو تار تار کر رہے ہیں۔ کوئی انسان، کوئی بھی قوم اپنے اچھے اساتذہ کی خدمات کو نہیں بھولتی اور نہ ہی ان کے احسان کا انکار کر سکتی ہے۔

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *