بھوک۔۔۔بتول/افسانہ

باجی بھوک لگ رہی تھی کھانا مل جاۓ گا۔ دنیا جہاں کی ہمت یکجا  کر کے بھی بس اتنا ہی کہہ پائی  تھی  وہ ۔۔۔۔صبح سے کام کا کہا ہوا وہ تو تم سے ہوا نہیں ابھی تک۔۔ جب تک کام نہیں ختم ہوگا تب تک کھانا نہیں ملے گا۔کیا زمانہ آگیا ہے بھائی   حرام کھانے کی تو عادت پڑ گئی   ہے لوگوں کو۔ کام کاج کرنا نہیں، بس کھانا دے دو۔ پیسے دے دو۔ یہ کر دو وہ کر دو۔ ۔۔ اب جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ ۔یہ میسنا  پن کہیں اور دکھانا  ۔ مجھے اچھی طرح پتہ ہے تم جیسی عورتوں کا۔ مجھ پہ نہیں اثر ہونا تمہاری ان ڈرامے بازیوں کا۔

وہ پھر سر جھکا کے کام میں جُت  گئی ۔ یہ صفائی  تھی کہ  ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ باجی کو جانے کہاں سے کونے کھدرے میں کہیں دھول مٹی نظر آجاتی اور پھر نئے  سرے سے وہاں سے جھاڑو دینی پڑ جاتی ۔ خدا خدا کر کے آخر یہ صفائی  بھی ہو ہی گئی ۔ مگر اس کے تھکن سے چور وجود کو گھسیٹتے ہوۓ ابھی کام کرنا باقی تھا۔۔ ہاتھ دھو کر وہ کچن کی طرف بڑھی ۔۔۔

جانے کتنا عرصہ ہوا اسی بنگلے پہ کام کرتے ۔۔اب تو اسے یاد بھی نہیں تھا۔ گو باجی کام بہت لیتی تھیں ہمیشہ سے ہی مگر کام سے اسے کب تھکن ہوتی تھی، یہ تو لہجے کی کڑواہٹ تھی جو کانوں سے ہوتی ہوئی  دل پہ لگتی اور وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکاۓ سنتی رہتی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کڑواہٹ اب زہر بنتی جا رہی تھی اس کے لیے ۔ مگر یہاں کام کرنے کے علاوہ کوئی  چارہ بھی تونہیں تھا ، باجی کے قرض کے طور پہ دیے پیسے اب تک نہ چکا پائی  تھی ۔ میاں کو گزرے دو سال ہونے کو تھے مگر اس کے آپریشن کے لیے باجی نے جو لاکھوں روپے دیے  وہ شاید پوری زندگی بھی نہ چکا پاۓ گی۔ کاش وہ نہ لیتی قرض۔۔ کاش آپریشن کامیاب ہی ہوجاتا ۔ وہ زندہ رہتا توکتنا اچھا ہوتا۔ ۔۔ ہم مل کے گھر چلاتے ، قرض بھی اتار لیتے باجی کا ۔۔ کاش یہ زندگی اتنی تکلیف دہ نہ ہوتی۔۔۔ کاش ۔۔کاش۔۔

یہ کیا ہے مہمان پہنچنے والے ہیں اور تم نے ابھی تک کچن نہیں سمیٹا۔ اور یہ ناشتے کے برتن اب تک گندے پڑے ہیں کون دھوۓ گا ۔ کب سے کہا ہے برتن دھو کر  رکھ دو۔۔۔ اب جلدی کرو۔ اور ہاں یہ دھونے کے بعد کھانا لگا دینا میز پر۔ ۔۔ ابھی پانی بھی نہ پیا تھا کہ باجی نے ایک اور حکم صادر کر دیا ۔ دکھ اس کی آنکھوں سے چھلکنے کو بے تاب تھے مگر دکھوں کو جھٹک  کر  کام تو کرنا ہی تھا۔

مہمان آچکے تھے ۔ آج ہوٹل سے کھانا منگوایا گیا تھا۔ کیسے ممکن تھا کوئی  کمی رہنے دی جاتی خاطر تواضع میں۔ آخر کو بیٹی کے ہونے والے سسرالی خاندان کی دعوت تھی ۔ کھانے کا دور ختم ہوا تو باجی اسے چاۓ کا کہنے آئی  تھیں ۔۔ باجی وقت بہت ہو گیا ہے اگر کھانا دے دیتیں تو۔۔۔ وہ کیا ہے کہ بچے۔۔۔ بھئی  دیکھو میں بہت تھکی ہوئی  ہوں ابھی میرا زیادہ سر نہ کھانا ۔ کبھی کبھار زیادہ دیر روک لو تو تمہارے دکھڑے   شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔ اور کھانا تو بچا  ہی نہیں ۔ تم بس ایسا کرو جلدی سے چاۓ بنا دو مہمان چاۓ پی کے ہی جائیں گے ۔ بس چاۓ دے کر گھر چلی جاؤ ۔ وہاں جاکے کچھ کھا بھی لینا ۔ بچے بھی تمہارے انتظار میں ہونگے ۔

الفاظ اسکے خالی سینے میں پیوست ہوگئے ۔۔۔ٹک ۔۔۔ٹک۔۔ٹک۔۔۔ باجی کے واپس پلٹتے قدم اسے لگا جیسے سنگ مرمر کے فرش پر نہیں اس کے دل پہ لگ رہے ہوں۔۔۔ اماں بس ایک روٹی، ہم تینوں یہی کھائیں گے کیا ؟ اور تم اماں ۔۔ تم نے اپنے لیے نہیں بنائی  ۔ بچوں کی صبح کی آواز جانے کہاں سے گونجنے لگی ۔۔ اماں سوکھی روٹی کیسے کھائیں۔۔ گھی ہی لگا دیتیں ۔۔۔ آٹا یہی تھا ۔۔ گھی بھی نہیں بچہ تھا۔۔ رزق کی توہین نہیں کرتے ، رب کی ناشکری ہے یہ ۔۔ رب ناراض ہوجاۓ تو کھانے کو کچھ نہیں ملتا، چلو شروع کرو کھانا۔میں آج باجی کے گھر سے لے آؤں گی آتے ہوۓ کچھ کھانے کو۔۔ آوازوں کی گونج اس کے کانوں کے پردے چاک کرنے لگی ۔۔۔وہ ان بھوکی آنکھوں کا سامنا کیسے کر پاۓ گی جو صبح سے دروازے پہ لگی ہونگیں۔۔۔ اس نے ایک لمحہ کو اپنی تھکی آنکھیں بند کیں۔۔ ۔۔بھوک سے بلکتے وہ ننھے وجود اسے اپنی بند آنکھوں کے سامنے بھی امید کی ایک کرن  کے سہارے دروازے کو تکتے ہوۓ نظر آۓ۔۔۔

چاۓ لے آؤ مجیداں۔۔۔۔ باجی کی پکار پہ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ سوچوں کا تسلسل ٹوٹا   اور وہ چاۓ کی ٹرالی گھسیٹتی ہوئی  لاونج کی طرف بڑھی   مگر   باجی کی پکار پہ کاش کہ بس سوچ کا تسلسل ٹوٹا ہوتا۔۔ پر نہیں یہاں کچھ اور ٹوٹا تھا۔۔۔۔ کچھ ایسا جو ٹوٹ جاۓ تو جڑتا نہیں۔۔ انسانی جسم کا وہ حصہ جسے خدا کے گھر کا درجہ حاصل ہے، کچھ تھا جو بہت زور سے ٹوٹا تھا ۔۔۔ہاں شاید غریب کا دل۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *