رہائی۔۔۔۔فوزیہ قریشی/افسانہ

سارہ دروازے کی کھڑ کھڑ اہٹ پر چونکی پتا نہیں کب اس کی آنکھ لگ گئی اس نےسامنے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی، رات کا آ خری پہر تھا۔ وہ آنکھیں ملتے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی تاکہ باہر کا دروازہ کھولے۔
پانچ بیڈ روم والاایک خوبصورت اور پُر آسائش مکان۔۔۔ ہر کسی کو برطانیہ جیسے ملک میں نصیب نہیں ہوتا۔
وہ سب کی نظروں میں ایک خوش قسمت لڑکی تھی جسے ہر کوئی ملکہ ء  برطانیہ یا کسی ملک کی شہزادی سمجھتا۔ اللہ نے اس کو دو پیارے بچوں سے نوازا  تھا۔ ایک لڑکا اور دوسری بھورے بالوں والی پیاری سی گڑیا، جس کے گلابی گال کسی کشمیر کی کلی کی طرح ہوں۔ سارہ کا تعلق آ زاد کشمیر کوٹلی سے تھا اس کا بچپن اور جوانی کے ابتدائی سال وہیں گزرے۔ صوم صلوۃ کی پابند تھی، تعلیم صرف اتنی کہ  اردو لکھنا اور بولنا جانتی تھی۔ وہ سترہ سال کی تھی جب ایک شہزادہ اس کے وطن آیا اور اک جھلک پر اس کا دیوانہ ہوگیا پھر کیا تھا چٹ منگنی پٹ بیاہ والی بات ہوئی اور وہ سات سمندر پار آگئی۔
اس وقت وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ شہزادہ حسن کا دلدادہ ہے۔ اک سارہ ہی نہیں تنہا، الفت میں ان کی رسوا۔۔۔۔۔۔۔ اس شہر میں اس جیسی دیوانی ہزاروں تھیں۔

جوں ہی دروازے تک پہنچی تو اک زندہ بےجان لڑکھڑاتا  ہوا جسم اس کے نازک بازووں پر جھولنے لگا۔ یہ روز کا معمول تھا جب وہ تہجد کے لیئے اٹھتی تو پہلے اک لڑکھڑاتے خوبرو اپنے شہزادے کو آرام گاہ تک پہنچاتی تھی، جو نشے میں دھت بڑبڑاتا اس کے سہارے آرام گاہ تک پہنچتا۔ ایسے میں ہاتھوں سے زیادہ بوجھ اس کے نازک دل پر ہوتا، جو روز رات کے پچھلے پہر خون کے آنسو روتا پر اس کے اختیار میں کچھ تھا ہی نہیں، سوائے سجدے میں بہائے اُن آنسوؤں کے وہ کبھی کبھی اپنے رب سے شکوہ بھی کرتی، اپنے آپ سے باتیں کرتی اور خود کو سمجھاتی کہ  حالات ایک دن ضرور سنقر جائیں گے ۔۔ اس کی کم علمی کہیے، رب سے شکوے کی انتہا یا کوئی آزمائش۔۔۔ اُسے لفظوں کا چناؤ بھی بھول چکا تھا۔
وہ مجبور تھی، جاتی تو کہاں جاتی۔۔۔؟ کون تھا اُس کا؟ پھر وہ اپنے ناکردہ گناہوں کی بخشش طلب کرتی ہر رات۔۔۔ اور اپنے مجازی خدا کی ہدایت کی دعا مانگتی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد وہ بچوں کے کمرے میں ہی فجر تک کروٹیں بدلتی۔ سارہ کے قلب میں مدفون دکھوں کا گھر والوں کو کچھ علم نہ تھا۔

پردیس بہت بری جگہ ہے جب اپنا کوئی پاس نہ  ہو اور نہ ہی رونے کے لیے  وہ کندھا نصیب ہو جس کی خاطر سب چھوڑ کر یہاں آئی تھی۔
جو نہ جانے کہاں کس کے پہلو میں رات گزار کر آتا توکبھی مے خانوں میں۔ چند گھنٹوں کی نیند ہی نصیب ہوتی جیسے نیند کی دیوی اس سے روٹھ گئی ہو۔
دن چڑھتے ہی وہ کاموں میں مصروف ہو جاتی یہاں تک کہ سارا دن گزر جاتا۔ وقت ہاتھوں سے ریت کی طرح نکلتا جارہا تھا دن ہفتوں میں، ہفتے مہینو ں میں اور مہینے  برسوں  میں کب ڈھل گئے پتا ہی نہیں چلا۔

دن کے ایک بجے جب مجازی خدا اپنے کام پر جانے کی تیاری کرتا تو اس کی آؤبھگت میں لگ جاتی۔
شہزادے کا اپنا یک چھوٹا سا ریستوران تھا جس کی نگرانی کے لئے کچھ بھروسہ مند لوگ رکھے تھے تبھی وہ صرف اک باس کی طرح چکر لگاتا اور پھر اپنی رنگ رلیوں میں نکل جاتا۔
لکشمی دیوی اور خوبصورت تتلیاں اس پر ایسے مہربان تھیں جیسے اس نے پچھلے جنم میں کوئی پننے کمائیں ہوں اور ایک شریف گونگی بیوی جو دیکھتی تو سب پر بول نہیں سکتی تھی۔
آج وہ ریستوران سے آیا تو اگلی منزل کی تیاری کے رنگ ڈھنگ ہی الگ تھے، ہلکی گلابی رنگ کی شرٹ اور کالی پتلون زیبِ تن کر کے شہزادہ آج اور بھی حسین لگ رہا تھا۔ گلے میں چین، انگلی میں انگوٹھی اور کلائی پر سجی گھڑی نے سارہ کو بھی حیران کر دیا۔
وہ مکمل تیارتھا بس باراتی منتظر تھے کب دولہا آئے تو بارات کی روانگی عمل میں لائی جائے۔ جب اس نےپر فیوم کی شیشی اٹھائی اور پوری بوتل اپنے اوپر انڈیل لی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اچانک رات کے وقت باغ کی طرف کھلنے والی کھڑکی کھول دی ہو  اور  کمرہ بھی اُس باغ کا حصہ بن گیا ہو۔

شہزادہ اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔ ادھر سارہ کی التجائی نظریں یوں گویا تھیں ، نہ جاؤ، رک جاؤ کوئی تمھارا انتظار کرتے کرتے تھک گیا ہے۔ اب مزید برداشت کی طاقت نہیں رہی مجھ میں۔۔۔۔ مگر اس کی ان التجائی نظروں کو کون دیکھ رہا تھا۔ اچانک سارہ اپنے دونوں بازو کھول کر دروازے کے آگے کھڑی ہو گئی اور سسکتے ہوئے  بولی آج نہ جاؤ۔ یہ اتنےبرسوں میں پہلی بار تھا جب اس نے ہمت کرکے شہزادے کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ شہزادے نے سارہ کو غصے سے دیکھا اور بازو سے پکڑ کر اک طرف دھکیل دیا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ کہیں وہ پتھر کا نہ ہو جائے۔

وہ کمرے میں واپس پہنچتی ہے جہاں خوشبو ابھی پھیلی ہوئی تھی، اک دم ننھی گڑیا ماں کو جھنجھوڑتی ہوئی پوچھتی ہے ماما: پاپا اس وقت روز کہاں جاتے ہیں اور آج آپ رو کیوں رہی ہیں؟
سارہ کا وجود اب کھوکھلا ہو چکا تھا آنسوؤں سے بھرے گلابی گال اس شہزادی کے ایسے تھے جو کسی دیو کی قید میں ہو پر یہ شہزادی رہائی کے لئے کسی شہزادے کی اب منتظر نہ ہو۔ آج پہلی بار اس کو اپنا گھر قید لگا ایسی قید جس کی رہائی صرف موت تھی۔

روز کی طرح ایک سوچ میں گم کب اس کی آنکھ لگ گئی جو رات کے پچھلے پہر اپنے معمول پر کھلی۔ دروازہ کھلنے پر اسے مجازی خدا کو سنبھالنا نہیں پڑا شہزادہ کافی ہشاش بشاش تھا بس تھوڑا تھکاوٹ سے چور تھا جیسے لمبی مسافت کے بعد لوٹا ہو، اور مسافت کے کچھ نشان آج نمایاں تھے جو روز لڑکھڑاتے شہزادے کو سہارا دیتے ہوئے ان دیکھے کر دیتی تھی۔ مجازی خدا کی آواز پر چونکی جب اس نے دودھ کی فرمائش کی۔
سارہ: مجھے گرم دودھ لا دو میں بہت تھک گیا ہوں بس جلدی سے سونا چاہتا ہوں نیند آرہی ہے۔
وہ اس کی طرف دیکھتی ہے اور سر ہلا کر ایسے اشارہ کرتی ہے  جیسے  کوئی باندی مالک کے اک اشارے پر۔ باندی کا دل اور دماغ بغاوت سے بھرا ہوا تھا ، وہ  حکم تو بجا لا رہی تھی پر نہ اس میں وہ خلوص تھا اور نہ ہی محبت کی چاشنی جو ہر رات لڑکھڑاتے شہزادے کو اس کی آرام گاہ تک پہچانے والی کنیز کے دل میں ہوتی تھی۔ اب وہ نماز تہجد ادا کرنے لگی سجدے میں بھیگی آنکھیں سسکتی آواز اس قید سے آزادی کی دعا مانگ رہی تھیں۔

نئی صبح اک  نئے  عزم  کے ساتھ طلوع ہوئی ۔۔  بس اور نہیں سہنا !مالک کے گھر سے نکلتے ہی اس نے اپنی دور پار کی رشتے دار کو فون کیا کہ وہ آ رہی ہے سب چھوڑ کر پھر اس نے کچھ کپڑے صندوق میں ڈالے اور بچوں سمیت عزیزوں کے گھر جا پہنچی۔ رہائی کی طرف یہ اُس کا پہلا قدم تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *