قائد کے ایک جانب ڈبو اور دوسری جانب فواد چوہدری دو زانو بیٹھے تھے۔ مجھے فواد چوہدری سے خوف محسوس ہوا۔ قائد جہاں دیدہ گھاگ ہیں۔ بھانپ گئے۔ ڈبو کی جانب گھور کر بولے فواد اٹھو اور وہاں بیٹھ جاؤ بزدار کے ساتھ، جوتیوں کے پاس۔ فواد اٹھے اور اسد عمر کے پاس بیٹھ گئے۔ قائد بولے جوتیوں کے پاس کہا ہے۔ جیم سے جوتیاں۔ چ نہیں۔ فواد معذرت خواہانہ انداز میں اٹھے اور بزدار بھائی کے پاس بیٹھ گئے۔ واپس میری طرف مڑ کر پوچھنے لگے ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں تم؟ میں نے اپنا سوال دوہرایا۔ آپ کہتے تھے قومیں میٹرو سے ترقی نہیں کرتیں۔ پھر پشاور میٹرو کیوں؟ قائد مسکرائے۔ اسد عمر کی طرف دیکھا۔ پوچھے ہے کوئی جواب؟ اسد صاحب ٹھیک سے سن نہ پائے۔ سمجھے ڈالر کا ریٹ پوچھا سو بتا دیا۔
← مزید پڑھیے