آخری مقام۔۔۔قراۃ العین

جو دنیا  میں آتا ہے اسے ایک نہ ایک دن جانا ہی ہوتا ہے. اس کا آخری مقام قبر ہی ہوتا ہے. آج جب میرا اپنے نانا کے قبرستان سے گزر ہوا تو میں نے بے شمار لوگوں کو قبر میں دفن دیکھا۔ میری گاڑی قبرستان کے باہر رکی۔ دل ایک دم خاموش سا ہوگیا اتنے قبریں دیکھ کر اور یہ محسوس ہوا کہ ایک انسان کی یہی اوقات ہے۔جتنا مرضی وہ غرور کرلے یا عاجز ہوجاۓ آخر آنا اس نے یہیں ہے. جس مٹی سے خدا نے اسے پیدا کیا ہے اسی مٹی میں اس نے واپس جانا ہے۔انسان آجکل آخرت کو بھول بیٹھا ہے اور اس زندگی سے دل لگا بیٹھا ہے جس نے ایک نہ ایک دن ختم ہوجانا ہے۔
قبرستان کے باہر ایک خوف سا طاری ہوگیا تھا یہ سوچ کر کہ یہاں جتنے بھی لوگ ہیں ناجانے قبر میں ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آرہا ہے؟ میرے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوگۓ تھے میرے۔انسان کو واپس یہیں آنا ہے۔اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور پناہ مانگنی چاہیے۔ شیطان نے تو عہد کیا تھا خدا سے کہ میں تیری مخلوق کو گمراہ کروں گا لیکن اللہ نے کہا تھا میری امت ایسی نہیں ہے وہ تمھارے بہکاوے میں نہیں آۓ گی  اور آج ہر کوئی  شیطانیت میں مبتلا ہے۔ وہ تمام نشانیاں پوری ہورہی ہیں جو قیامت کی ہمیں بتائی  گئ ہیں۔فتنہ ہر جگہ پھیلا ہے، بے حیائی  بھی بہت عام ہوگئی  ہے اور لوگ آخرت کو اور اپنے آخری مقام کو بھول بیٹھے ہیں۔
انسان کی جان کبھی بھی نکل سکتی ہے کیوں کہ کسی کی بھی موت کا کسی کو بھی علم نہیں سواۓ اللہ کے۔موت کا کوئی  وقت نہیں ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ امتحان کی تیاری تو ہر کوئی  فکر سے کرتا ہے پوزیشن لینے کے لئے ماں باپ بہت توجہ دیتے ہیں بچوں پہ لیکن اصل تیاری تو آخرت کی ہے جس میں پوزیشن یا گریڈ لینا لازم ہے۔جو فیصلہ کرے گا کہ جنت ملے گی یا جہنم۔اصل امتحان تو وہ ہے ” حشر کا میدان” جہاں حساب کتاب ہو گا۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نوجوان نسل میں بھی آخرت کا شعور پیدا کریں۔
ہمیں سنت نبوی  اختیار کرنی چاہیے۔ 5 وقت کی نماز کوئی  زیادہ نمازیں تو نہیں ہیں  لیکن اپنے رب کے لیے اتنا وقت تو نکالنا چاہئے کہ اسے راضی کر سکیں اور قرآن کو زینت بنا لینا چاہیے۔ کیوں کہ یہی وہ نعمتیں ہیں جنہوں نے بخشش کرنی ہے ہماری اور گواہی دینی ہے۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔
ہمیشہ کی طرح میں نے سب پر درود پاک پڑھ کر پھونکا اور دعاۓ مغفرت کرتے ہوۓ وہاں سے چل پڑی۔

Qurat ul ain
Qurat ul ain
Journalist, writer, author, poet

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *