لاہور میں بھتہ مافیا پر کریک ڈاؤن۔۔۔۔عشاء نعیم

ایک خاتون کو کہتے سنا (جو ان پڑھ تھی اور حلال حرام کا فرق نہ سمجھتی تھی ) کہ میں اپنے بیٹے کو پولیس میں بھیجوں گی۔
وجہ پوچھنے پہ بتایا کہ پولیس کو اوپر سے بڑی کمائی ہو جاتی ہے اور خوب پیسہ کماتی ہے۔ بڑے بڑے مجرم انھیں لاکھوں روپے دیتے ہیں ۔

جی ہاں! یہی سنتے آئے ہیں بچپن سے۔ ہمیشہ ہم نے پولیس کی برائی سنی۔ بڑے بڑے امراء و وزراء کے غلام سنا۔ ہمیشہ یہ سنا کہ پولیس کی زیرنگرانی ہی سب غیر قانونی دھندے چلتے ہیں۔ لیکن آج ایک خبر آئی جس کے مطابق لاہور میں تھانہ نو لکھا کی پولیس نے بدنام زمانہ بھتہ خور اظہر گلشن کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف حسن سنٹر کے مالک نے مقدمہ درج کرایا تھا کہ اظہر گلشن نے اس سے بارہ لاکھ روپے بھتہ کی ڈیمانڈ کی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم علاقے میں خوف و ہراس کی علامت سمجھا جاتا تھا اور ہر کوئی اس کے خلاف زبان کھولنے سے ڈرتا تھا کیوں کہ موصوف کا تعلق ایک بڑی سیاسی پارٹی سے بھی بتایا جاتا ہے۔ ایس پی سٹی نے بیان دیا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔ پولیس نے ایک ایسا کارنامہ انجام دے کر جس سے علاقہ مکین اور تاجروں کو سکون حاصل ہوا ہے قابل ستائش قدم اٹھایا ہے۔

ایک بہت بڑے گروہ کے سربراہ کا پکڑے جانا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ یہ حکومت پنجاب اور نولکھا پولیس کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ لاہور میں بھتہ وصولی کی کاروائیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور اسے کراچی کی طرح بد امن بنانے کی کوشش کی جارہی تھی۔تاجر برادری جو اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہے خوف و ہراس میں مبتلا ہوتی جا رہی تھی۔لیکن سلام ہے نو لکھا پولیس کو جس نے بروقت کاروائی کر کے لاہور کو پرامن شہر بنانے میں اور لوگوں کا خوف و ہراس ختم کرنے کے لیے احسن قدم اٹھایا۔
دراصل ہماری پولیس اتنی بری نہیں جتنی بنا دی گئی ہے۔ ہر وقت ہم پولیس کا رونا روتے ہیں کہ اچھی نہیں ہے۔ لیکن حقیقت اتنی کڑوی نہیں جتنی ظاہر کی جاتی ہے۔ اگر پولیس اتنی ہی خراب اور حرام خور ہوتی تو ہم راتوں کو گھروں میں اتنے سکون سے نہ سو سکتے نہ ہی ہمارے گھروں کے مرد اتنے مطمئن ہمیں گھروں میں چھوڑ کر جا سکتے تھے۔ یہ سب ہماری پولیس کی گراں قدر خدمات اور قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ملک میں ڈاکو اور چور کھلے عام نہیں پھرتے۔ پورے ملک میں جگہ جگہ ڈاکے یا چوری کا ماحول نہیں ہے الحمداللہ ۔

محکمہ پولیس کی قربانیوں کو ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک عزیز کے ہاں عید کے موقع پہ جانا ہوا تو ان کا بیٹا جو پولیس میں ہے وہ گھر نہیں آیا حتی کہ گھر والوں کو فون بھی نہیں کیا۔ میرے پوچھنے پہ بتایا کہ فون کی اجازت نہیں ہے۔کبھی کبھار ہی آتا ہے۔۔۔۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ واقعی یہ پولیس والے بھی فوج کی طرح ہی قربانیاں دیتے ہیں۔ عید پہ گھر والوں سے دور فون تک بھی نہیں کر سکتے۔ انھیں بھی تو ماں، بہن، بیوی، بچے یاد آتے ہوں گے ؟ ان کا بھی تو دل کرتا ہوگا گھر والوں کے ساتھ خوشیاں منانے کو۔
لیکن یہ اپنے فرض کی ادائیگی اور ہمارے جان و مال کی حفاظت کی خاطر دہشتگردی کا نشانہ بھی بنتے ہیں ، چور ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے جان بھی دیتے ہیں ۔ سو ان کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے ۔

قوم ماؤں کے ان سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ اور ان ماؤں، بہنوں کو بھی جو انھیں اہل وطن کی حفاظت پر مامور کرتے ہیں۔ اور اب اس تاثر کو ختم کر دینا چاہئے کہ پولیس بس رشوت خور، اور مجرموں کی ساتھی ہے۔ یہ اکثر پڑھتے اور سنتے ہیں کہ کالی بھیڑیں ہر شعبہ میں ہوتی ہیں اس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ پورے شعبے کو گندہ قرار دے دیا جائے، تو پولیس کا بھی یہی معاملہ ہے پھر پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی برائی کا گڑھ کہنے سے باز رہنا چاہیے۔ اور اچھائی کا ذکر بھی کرنا چاہیے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *