عوامی لیڈران، اکابرینِ سوشل میڈیا اور اخلاقیات ۔۔۔ معاذ بن محمود
مشرف دور میں جن دنوں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی ان دنوں خود کش حملہ آوروں کی نسبت سے ایک سافٹ کارنر ضرور رکھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے ن لیگ ہو یا تحریک انصاف، جہاں موقع ملتا حکومت کی ضد میں یا اپنی کرسی کی ہوس میں مخالف جماعتیں دہشتگردی کی ان تاویلات میں اپنا وزن ڈال دیتیں۔ جماعت اسلامی کا تو خیر اس معاملے میں ذکر کرنا فضول ہے کہ امیر کی جانب سے قتال کا کلچر عام کرنے کی استدعا والا بیانیہ نری دہشت گردی ہی ٹھہری۔ ← مزید پڑھیے
