• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/دوسرا ،آخری حصہ

کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/دوسرا ،آخری حصہ

آج کی دنیا میں خام تیل اور اُس کی ذیلی مصنوعات کو ملکی ترقی میں اہم ترین عنصر کے طور پر مانا جاتا ہے۔ مگر تمام تر وسائل کا مالک ہونے کے باوجود پاکستان اس وقت توانائی کے سنگین ترین بحران کا شکار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پٹرولیم کی درآمد پر ہرسال 10 ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کرتی ہے اور پچھلے دنوں عالمی سطح پر اس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کے پاس نرخ بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

او۔جی۔ڈی۔سی۔ایل کے سربراہ نعیم ملک کا کہنا ہے کہ اگر بیرونی سرمایہ کاروں کی شراکت ہو تو اندرون ملک میں موجود تیل و گیس کے ذخائر سے ہی سو فیصد ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ ’’پاکستان تیل اور گیس کے ذخائر کا جو علاقہ ہے اس کے صرف ایک تہائی حصے پر اس وقت تلاش ہو رہی ہے جب کہ باقی دو تہائی پر تلاش کے لیے ہم بیرونی سرمایہ کاری لانا چاہتے ہیں‘‘۔ نعیم ملک نے یہ بھی واضح کیا کہ تیل اور گیس کی تلاش سمیت دیگر منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے نتائج فوری طور پر برآمد نہیں ہوتے بلکہ اس کے فوائد بتدریج حاصل ہوتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو خاص طور پر تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش موقعوں سے متعلق مکمل آگہی دی جائے گی اور اس ضمن میں غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔ تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لئے بیرونی سرمایہ آنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ اندرون ملک توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ مقامی طور پر تیل اور گیس کی پیداوار بڑھنے سے پاکستانی عوام کو بھی ریلیف حاصل ہو گا جو پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔

کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/حصہ اوّل

ّشیل گیس کے ساتھ ساتھ شیل آئل کے حوالے سے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا تخمینہ یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے خطے میں 314 ارب بیرل شیل آئل کے ذخائر موجود ہیں، ان میں سے 87 ارب بیرل کی مقدار انڈیا میں جبکہ 227 ارب بیرل کی مقدار پاکستان میں موجود ہے۔انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ ان ذخائر میں سے ٹیکنیکلی طور پر وہ مقدار جس کی پیدوار ممکن ہوسکتی ہے، اس کا تخمینہ ان دونوں ملکوں میں بارہ اعشاریہ نو ارب بیرل لگایا گیا ہے۔ جس میں سے انڈیا کے علاقے میں اس کی قابل پیدوار مقدار تین اعشاریہ آٹھ ارب بیرل جبکہ پاکستان میں نو اعشاریہ ایک ارب بیرل ہے۔

سنہ2017ء کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان میں گیس اور تیل کے 5 نئے ذخائر دریافت ہوئے۔ یہ نئے ذخائر صوبہ سندھ میں دریافت ہوئے اور ان سے یومیہ 600 بیرل سے زائد تیل اور 7 کروڑ کیوبک فٹ گیس حاصل ہونا شروع ہوئی۔ مشرقی بلوچستان کے ضلع کچھی بولان کے علاقے مچھ میں بھی 2018ء کے دوران ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے جوائنٹ وینچر نے تیل کا بڑا ذخیرہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدائی طور پر سائٹ پر 2 ٹیوب ویل لگائے گئے تھے جن میں سے ایک سے 810 بیرل اور دوسرے سے 690 بیرل تیل نکل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 1500 بیرل تیل کی یومیہ پیداوار ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں زیرِ زمین تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ابتداء میں جو تیل نکل رہا ہے وہ تھوڑا گاڑھا (Thick) ہے جسے کراچی میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو بھیجا جاتا ہے جہاں سے پیٹرول اور پیٹرو کیمیکلز بھی نکل رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کچھی میں یہ کنوئیں رواں سال مئی میں کھودے گئے تھے اور تقریباً 1500 فٹ زیرِ زمین کھدائی کے بعد یہ ذخائر دریافت ہوئے۔ تیل کا یہ ذخیر ہ زمین کی اُس تہہ میں دریافت ہوا ہے جسے ‘مورو مغل کوٹ اینڈ چلتن فارمیشن’ کہتے ہیں۔ اس علاقے میں پہلے زمین کی اس تہہ سے کبھی کوئی تیل وغیرہ در یافت نہیں ہوا اور حالیہ دریافت کے بعد یہ اُمید پیدا ہو چلی ہے کہ مستقبل میں بھی زمین کی اسی تہہ سے کسی دوسری جگہ تیل کے مزید ذخائر بھی مل سکتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے خوست میں بھی کچھ عرصہ پہلے خام تیل کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کیا گیا تھا لیکن وہاں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاحال خام تیل کی سپلائی شروع نہیں ہوسکی۔ ماڑی کمپنی کوئٹہ کے قریب زرغون کے علاقے سے گیس بھی دریافت کرچکی ہے جہاں سے کوئٹہ شہر کو گیس فراہم کی جارہی ہے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے تیل و گیس تلاش کرنے والی تقریباً ایک درجن سے زائد کمپنیوں کو صوبے میں کھدائی کے لائسینس جاری کئے ہیں جو صوبے کے مختلف علاقوں میں تیل و گیس تلاش کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ سنہ 2018ء میں پاکستان کے سابق نگران وفاقی وزیر عبداللہ حسین ہارون نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ تیل و گیس تلاش کرنے والی امریکہ کی ایک بڑی کمپنی پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے ایک علاقے میں تیل کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کرنے کے قریب ہے۔ ان کے بقول اگر یہ دریافت کامیاب رہی تو تو یہ ذخیرہ خلیجی ملک کویت میں موجود تیل کے ذخائر سے بھی بڑا ہوگا۔

سنہ 2012ء سے 2016ء کے دوران 4 سالوں میں گیس اور تیل کے 98 ذخائر دریافت ہوئے جن کی وجہ سے 94 کروڑ 40 لاکھ کیوبک فٹ گیس سسٹم میں شامل کی گئی۔ سنہ 2017ء تک پاکستان میں روزانہ 60 کروڑ کیوبک فٹ گیس ملک میں درآمد کی جارہی تھی جو ملک میں گیس سے چلنے والے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس میں استعمال کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ درآمد شدہ گیس سی این جی اسٹیشن اور کھاد بنانے کے کارخانوں اور دیگر صنعتی شعبوں کو بھی فراہم کی جا رہی تھی۔

لکھاری کی دیگر تحریریں پڑھنے کے لیے نام پر کلک کیجئے ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (او جی ڈی سی ایل) نے بلوچستان کے خاران، کوہلو، بارکھان، شیرانی اور پشین کے علاقوں میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کئے ہیں۔ قدرتی وسائل کی دریافت کا کام مشکل ہوا کرتا ہے، جب کہ اسے محفوظ بنانا، ترسیل اور دستیابی کے مراحل پر بے تحاشا لاگت آتی ہے۔ اگر 100 کنویں کھودے جائیں تو بمشکل ایک یا دو میں سے گیس دریافت ہوتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بلوچستان تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہے، اور بہت جلد مزید ذخائر دریافت ہوں گے، جس کے نتیجے میں صارفین کی ضروریات پوری ہوں گی اور ملک خوش حال ہوگا۔

اپریل 2017ء تک بلوچستان کے 3 اضلاع خاران، ژوب، شیرانی، کوہلو، بارکھان پشین میں زیر زمین گیس کے بڑے ذخائر کو تلاش کیا گیا جسے اب تک بروئے کار لانے کے لئے اقدامات مکمل نہیں کئے جا سکے۔ اس کے علاوہ ضلع لسبیلہ میں بھی گیس کے ذخائر تلاش کئے جائیں گے۔ خاران میں بہت مثبت پیش رفت ہوئی اور تلاش کے بعد پی پی ایل کو بہت بڑے گیس کے ذخائر ملے۔ کوہلو بارکھان میں بڑے ذخائر کی تصدیق ہوئی۔ بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے زرغون سے بھی گیس نکالی جا رہی ہے۔ ضلع جھل مگسی میں زیر زمین گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے بعد اب وہاں گیس کو صاف کرنے کا پلانٹ لگا دیا گیا ہے۔ جیسے ہی سوئی سدرن کمپنی پائپ لائن بچھا لے گی، وہاں سے گیس قومی پائپ لائن میں شامل ہو جائے گی۔ حکام کے مطابق ضلع پشین کے علاقے بوستان میں یہ کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ صوبے کے جن علاقوں سے گیس نکالی جا رہی ہے، وہاں سُپریم کورٹ کے حکم کے مطابق صوبے کے 26 اضلاع میں او جی ڈی سی سماجی بہبود کے مختلف منصوبوں کے لئے فنڈز فراہم کر رہی ہے جس سے مقامی لوگوں کو کافی فائدہ ہو گا۔ یہ بھی واضح رہے کہ تیل و گیس ذخائر کی دریافت کے لئے ملک کے 41 فیصد حصّہ پر واقع مختلف بلاکس ایوارڈ کئے گئے جن میں اب تک صرف 4 فیصد پر کام کیا گیا ہے اور باقی تمام ہماری توجہ کے منتظر ہیں۔

تیل اور گیس نکالنے والی کمپنیوں کے لئے سکیورٹی مسائل:

قدرتی وسائل سے مالامال صوبے بلوچستان میں 42 قسم کی معدنیات کے بڑ ے بڑے ذخائر موجود ہیں جن میں سونے، تانبے، تیل وگیس کے ذخائر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین زراعت اس صوبے کے شمالی اضلاع کو فروٹ باسکٹ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر سر مایہ کار چیریز، سیب، خوبانی، پستہ اور بادام کے لیے جدید گودام اور کارخانے قائم کریں تو اس سے ملک اور صوبے کی آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ بیروزگاری ختم کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جاری شورش وہاں تیل و گیس اور دوسری معدنیات کے ذخائر سے استفادہ کرنے کی کوششوں میں ہمیشہ ایک رکاوٹ بنی رہی ہے لیکن حالیہ سالوں میں پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں اضافے نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ علیحدگی پسند بلوچ جہاں صوبے میں تعینات سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں وہیں بجلی کے کھمبوں اور قدرتی گیس کی پائپ لائنوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنا کر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں خلل ڈالنے کے واقعات بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ بد امنی کی اس صورت حال کے تناظر میں بلوچستان میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام بھی متاثر ہو رہا ہے، اور حال ہی میں ایک نجی کمپنی ’ماری گیس‘ نے ضلع ہرنائی میں ایسے ہی ایک منصوبے پر سلامتی کے خدشات کے باعث کام بند کر دیا ہے۔

تیل اور گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کو سکیورٹی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لئے فوری طور پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ خصوصاًًً  صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا  میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی مدد سے تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کو مکمل سیکیورٹی مہیا کرنا بہت ضروری ہے تاکہ وہاں سے تیل اور گیس کے ذخائر پر کام تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *