منگل، 16 جولائی 2019ء

یہ اختتام نہیں۔۔۔۔محمد عامر خاکوانی

سوال تازہ ترین سیاسی صورتحال سے جڑا ہوا ہے کہ کیا عمران خان سے وابستہ سیاسی رومان ختم ہوگیا؟ ان کے پاس اب کچھ کرنے کا مارجن نہیں رہا اور اب وہ کسی ایسی ٹیم کے کپتان ہیں، جس کے کھلاڑی اس کی طرف دیکھنے کے بجائے ہدایات کہیں باہر سے دیکھتے ہیں؟اسی کے ساتھ منسلک دو اور سوال بھی ہیں ۔ تحریک انصاف کے کارکن جس سوگ اور شکست خوردگی کی کیفیت میں ڈوبے ہیں، کیا وہ اس سے نکل پائیں گے اور حکومت کا کیا بنے گا؟ عمران خان کی کامیابی ، ناکامی پر کوئی حتمی رائے دینے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آپ اسے سیاسی دیوتا سمجھتے ہیں یا ایک پاکستانی سیاستدان؟ اگر اسے کرشمے دکھانے، معجزے تخلیق کرنے والا نجات دہندہ، مسیحا تصور کیا جا رہا تھا تو پھر ایسا سوچنے والے یقینی طورپر شدید مایوس ہوئے ہوں گے۔ اس کے بجائے اگر عمران خان کو ایک پاکستانی سیاستدان، میدان میں موجود دیگر آپشنز میں سے ایک، نسبتاً بہتر، نسبتاً امیدافزاآپشن سمجھا گیا تو ایسے لوگوں کو نوید ہو کہ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا۔ سیاسی ڈرامے کا پہلا ایکٹ یقینا ختم ہوگیا، مگر ڈرامہ چل رہا ہے، اس کے دیگر ایکٹ آنے والے ہیں، تھیٹر میں خاصی دیر تک یہ چلتا رہے گا، اس کے امکانات موجود ہیں کہ جو فنکار شروع میں نروس ہو کر بہتر پرفارم نہ کر پائے، بعد میں کچھ سنبھل کر متاثر کر سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعدبہت سے لوگوںکو مایوس کیا۔ خیال تھا کہ ان کے پاس کچھ نہ کچھ پلان تو ہوگا۔ کرکٹ میچز میں پلان اے اور ایک متبادل پلان بی تیار کیا جاتا ہے۔ عمران خان نے ممکن ہے کچھ سوچاہو، مگر اپنی ناتجربہ کاری اور حالات سے آگاہی نہ ہونے کے باعث وہ اس طرح اپنا تاثر جما نہیں پائے جیسا توقع تھی۔ نیا نویلا گھڑ سوار کسی سرکش گھوڑے پر سوار ہو کر اسے چلانے کی کوشش کرے تو عجب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ سوار اس بوکھلاہٹ میں کہ کہیں گر نہ پڑے،ادھرگھوڑے کا تعاون نہ کرنا،تماش بینوں کا دیکھنا اور ٹھٹھے لگانا مزید کنفیوز کر دیتا ہے۔ خان صاحب کا وہی حال ہے۔ انہیں ایڈوانٹیج یہ ہے کہ ٹرینٹر کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، گھوڑا سرکش سہی، مگر اسے یہ اجازت نہیں کہ سوا ر کو نیچے پٹخ دے ،گھڑ سوار بھی مستقل مزاجی اور ضد سے سواری کرنے ، اپنی مرضی سے دلکی چال چلانے کی کوشش کر رہا۔ اس میں مگر ابھی کچھ وقت لگے گا۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ خان صاحب سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اقتدار کی نزاکتوں، پیچیدگیوں سے انہیں پہلی بار واسطہ پڑا ہے، سیاسی بلیک میلنگ کا انہوں نے سنا ہوگا، اب دیکھ بھی لی۔ عمران خان کے ساتھ تین بڑے مسائل ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن میں رہ کر بڑے بڑے دعوے کئے۔ن کا ماننا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول سستا ہو تو ملک میں بھی سستا کر دینا چاہیے۔وہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے خواہش مند تھے، ان کا خیال تھا کہ اگر ایماندار، مضبوط وزیراعظم بیٹھا ہو اور وہ بیوروکریسی کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک رکھے تو سرکاری ملازمین خوشی سے جھوم اٹھیں گے اور وہ دل وجاں سے سیاسی حکومت کا ساتھ دیں گے۔ اقتدار میں آ کر پتہ چلا کہ ان میں سے بعض مفروضے درست نہیں تھے اور چند ایک متھ تو بری طرح پاش پاش ہوئے۔ اب تک عمران خان سمجھ چکے ہوں گے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانا آسان کام نہیں۔ جنہوں نے کرپشن کی، انہوں نے اس کا بڑا حصہ ماہرین کو دے کر اس کا م کو فول پروف اور محفوظ بنایا۔ ہمارے نظام میں اتنی خامیاں، اس قدر بڑے سوراخ ہیں کہ اربوں روپے ریڑھی والوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے والوں کو پکڑنا بھی آسان نہیں۔ ثبوت ہونے کے باوجود نیب ملزم پکڑ نہیں پاتی، بے بسی سے تماشہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ خان صاحب کو اب معلوم ہوا ہوگا کہ بیوروکریسی کا بڑا حصہ انہی سیاستدانوں سے مل کر لوٹ مار کراتا اور اپنا حصہ کھرا کرتا ہے۔ ان کرپٹ بیوروکریٹس کو ا س سے دلچسپی نہیں کہ ٹرانسفر پوسٹنگ سیاسی دبائو سے آزاد ہو ۔ ان کا تمام تر انٹرسٹ کرپشن میں ہے۔ وہ کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہی نہیں۔اچھے افسر یقینا موجود ہیں، مگر پچھلے دو تین عشروں میں کرپٹ عناصر زیادہ طاقتور اور غالب ہوچکے۔وزیراعظم عمران کو سمجھ آ گئی ہوگی کہ اگر ان جیسا شخص وزیراعظم بن جائے تب بھی اوورسیز پاکستانی نوٹوں کی بارش نہیں کر دیتے۔ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو کھینچنا ہے تو ان کے لئے نئی سکیم، کچھ پرکشش منافع، کچھ ایسا ضرور کرنا پڑے گا جس میں انہیں اپنا بھلا نظر آئے۔ صرف اپنے آبائی وطن کی بھلائی ایسی چیز نہیں جو ہر اوورسیز پاکستانی کو مجبور کر سکے۔ ان میں سے بے شمار ایسے ہیں جن کے دل پاکستان میں دھڑکتے ہیں، وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، مگر ہر ایک کی مجبوریاں بھی ہیں۔عمران خان کو اب یہ پتہ چلا ہوگا کہ اپوزیشن کے دعوے الگ چیز ہیں، حکومت میں آ کر بہت سی مشکلات سہنی پڑتی ہیں۔ انہوں نے سیکھ لیا ہوگا کہ پٹرول سستا کرنا اتنا آسان بھی نہیں کہ چند روپوں کی کمی کرنے سے مجموعی ٹیکسوں میں اچھی خاصی کمی آ جاتی ہے۔ ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی خواہش اچھی ضرور ہے ، لیکن ہمارے سرمایہ کار اور تاجر سے ٹیکس وصول کرنا جاں جوکھوں سے کم نہیں۔ ایک مجموعی کلچر ہے جو ٹیکس نہ دینے کی وکالت اور دائو لگانے کی ترغیب دیتا ہے۔ بوسیدہ نظام ، کرپٹ ٹیکس وصول کرنے والے اہلکار بھی بڑا سبب ہیں۔ لوگ ایک بار ٹیکس دے کر پھنسنا نہیں چاہتے ۔ سب سے بڑھ کر انہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ شریف خاندان ہمیشہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لئے کوشاں کیوں رہتا تھا؟ اراکین اسمبلی کی بلیک میلنگ، پارٹی کے اندر گروپس کی سرکشی اور اتحادیوں کا ہر وقت منہ کھولے رکھنا یقینا عمران خان کے لئے دل خوش کن امر نہیں ۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو شائد انہوں نے پہلے نہیں سوچی تھیں، اپوزیشن میں بیٹھ کر ان کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ تجربہ ہی یہ سبق دیتا ہے۔ میرے خیال میں عمران خان دیوتا ہیں نہ نجات دہندہ؟ وہ کرشمہ دکھا سکتے ہیں اور نہ ہی جدید سیاست میں ایسا ممکن ہے؟ ممکن ہے کسی چھوٹے جزیرے نما ملک میں ایسا ہو، مگر پاکستان جیسے پیچیدہ ملک میں جہاں معیشت تباہ حال ہو، کل آمدنی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہوتا ہو، وہاں انقلاب لانا ممکن نہیں۔ عمران خان کی پہلی ٹیم اپنی ناتجربہ کاری کے باعث ناکام رہی۔ اسد عمر نے بلند وبانگ دعوے کئے تھے، مگر انہیں معیشت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ بہت زیادہ بولتے، وقت پر فیصلہ نہ کرتے اور خواہ مخواہ کے تنازعات کو دعوت دیتے تھے۔ شروع کا سنہری وقت اسد عمر نے ضائع کر دیا۔ بزنس مین ان کے رویہ سے پریشان ہوگئے، معاشی عدم استحکام بڑھ گیا، ڈالر کو یوں کھلا چھوڑنے سے مزید کنفیوژن بڑھا۔ اسد عمر کی حالات پر گرفت بالکل نہیں تھی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ان کے جانے کے بعد تحریک انصاف کے کچھ کارکن انہیں سوشل میڈیا پر ایک ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں مختلف مافیاز اور سٹیٹس کو کی علمبردار قوتوں نے اسد عمر کو ناکام بنایا؟ گویا اسد عمر انقلاب لانا چاہتے تھے، جس سے یہ قوتیں ڈر گئیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسد عمراپنی نالائقی اور عدم تدبر کے باعث اسی انجام کے مستحق تھے۔ عمران خان نے خاصا ضبط کیا، تین چارہ ماہ پہلے ہی انہیں یہ فیصلہ کر لینا چاہیے تھا۔ مجھے اس تنقید سے اتفاق نہیں کہ حکومت میں غیر منتخب لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ ہمارے نظام کی خامی ہے کہ ہمیں ڈھنگ کا کوئی بندہ ڈھونڈنے کے لئے پارلیمنٹ سے باہر جانا پڑتا ہے۔ ہمارا سیاسی نظام ایوریج قسم کے الیکٹ ایبلز منتخب کرتا ہے، ان کے پاس کوئی صلاحیت ہوتی ہے نہ چلانے کے لئے ویژن۔ پی ٹی آئی کے پاس ویسے بھی اچھی ٹیم موجود نہیں تھی۔ عمران خان کو مجبوراً یہ سمجھوتے کرنے پڑرہے ہیں؟ اس کے علاوہ وہ اور کیا کریں؟ دو ہی آپشن ہیں، اسی سسٹم میں رہ کر خود کو مضبوط کیا جائے تاکہ اگلی بار زیادہ اکثریت مل سکے یا پھر ناکامی کا اعتراف کر کے اصغر خان کی طرح سسٹم سے باہر نکل جائے ۔ عمران خان کے ضدی اور فائٹر ہونے میں تو کسی کو شک نہیں۔ میرا خیال ہے کہ خان کے پاس ابھی گنجائش موجود ہے۔ ٹیم میں اس نے تبدیلیاں کی ہیں، اگرچہ کچھ لوگوں کو مزید بدلنا چاہیے تھا، تاہم نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ عامر کیانی کو ہٹانا اچھا فیصلہ ہے۔ وہ پرانا ساتھی ہے، مگر ڈیلیور نہیں کر پایا اور اس پرالزامات بھی لگ رہے۔ عمران خان کوتبدیلی کا عمل پنجاب تک لے جانا پڑے گا۔ وہاں صوبائی وزارتوں کے ساتھ چیف منسٹر کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختون خوا میں بھی ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے، مگر وہاں ممکن ہے چند ماہ مزید مل جائیں۔ پنجاب میں تو وقت ضائع ہو رہا ہے۔ ایک ایسا شخص یہاں چاہیے جس کے پاس ویژن ہو اور وہ مستعدی کے ساتھ ڈیلیور کر سکے۔ تحریک انصاف کے کارکن دریں اثنا اپنے رومان سے باہر آ کر نئی سیاسی حقیقتوں کو سمجھیں اور عمران خان پر ڈیلیور کرنے کے لئے دبائو برقرار رکھیں۔ عمران خان کو ایک سیاسی آپشن سمجھیں گے تو ناکام ہونے کی صورت میں دکھ بھی نہیں ہوگا۔
بشکریہ 92 نیوز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *