عوامی لیڈران، اکابرینِ سوشل میڈیا اور اخلاقیات ۔۔۔ معاذ بن محمود

 

مشرف دور میں جن دنوں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی ان دنوں خود کش حملہ آوروں کی نسبت سے ایک سافٹ کارنر ضرور رکھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے ن لیگ ہو یا تحریک انصاف، جہاں موقع ملتا حکومت کی ضد میں یا اپنی کرسی کی ہوس میں مخالف جماعتیں دہشتگردی کی ان تاویلات میں اپنا وزن ڈال دیتیں۔ جماعت اسلامی کا تو خیر اس معاملے میں ذکر کرنا فضول ہے کہ امیر کی جانب سے قتال کا کلچر عام کرنے کی استدعا والا بیانیہ نری دہشت گردی ہی ٹھہری۔

اسے ہماری بدقسمتی کہہ لیجیے کہ اندھی تقلید ناصرف قوم کا مستقبل تباہ کرتی ہے بلکہ انفرادی سطح پر فرد کی شخصیت بھی تباہ کر ڈالتی ہے۔ سوشل میڈیا نے دانشوری اور شہرت کا جو شارٹ کٹ طریقہ فراہم کیا اس نے اس تباہی میں مزید حصہ ڈالا۔ سوشل میڈیا پر influencers کی اکثریت مقبول بیانیے کے ذریعے نام کمانے والی شخصیات ہیں جو دوہرے معیارات کے اعلی مقام پر فائز ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے ان (چار پانچ) خواتین و (لاتعداد) حضرات کی جانب سے غیر اعلانیہ آمریت کے بیانیے کو فروغ دیا گیا، اصول پرستی کو تہہ تیغ کیا گیا اور کرپشن کا مصنوعی خوف پیدا کر کے وہ ماحول پیدا کیا گیا جہاں ان کے محبوب قائد کا ہر ناجائز جائز اور ہر حرام حلال قرار دیا جانے لگا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ بالکل یہی طریقہ کار زرداری دور میں ن لیگ کی جانب سے بھی اپنایا گیا تھا تاہم اس وقت سوشل میڈیا کی طاقت کا ادراک سرعام نہ تھا لہذا اسے دباؤ ڈالنے کا ہتھیار نہیں بنایا جاسکا۔ شاید اس وقت سوشل میڈیا کے حوالے سے حالات آج والے ہوتے اور ن لیگ کو دیوار سے لگائے جانے والی سرکاری پالیسی نہ اپنائی جاتی تو آج میاں صاحب کے چیتے بھی اسی راہ پر گامزن ہوتے۔

اکابرین میڈیا و سوشل میڈیا ظاہر ہے اپنے تئیں کامل علم کے حامل ہیں۔ ان کا فرمایا ہوا مستند ہے۔ یہ لالٹین بھی ہمیشہ ٹھیک پکڑتے ہیں اور ان کا بابا بھی ہمیشہ اوپر ہی رہتا ہے لہذا ہماری اتنی اوقات نہیں کہ انہیں سمجھا سکیں۔ ہاں ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ عوام الناس کا غالب نہ سہی ایک اچھا خاصہ قابل ذکر حجم ماضی کے واقعات، آج کے حالات اور ان دونوں کے درمیان دعووں اور زمینی حقائق میں دن رات کا فرق کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کئی لوگ اندھے مقلدین کے برخلاف اپنا محاسبہ کرنے اور سرکاری یا حوالداری بیانیے سے حقائق کی بنیاد پر متنفر ہونے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری صدا ایسے ہی احباب کے لیے ہے۔

ابتدائی تمہید میں ہم نے مشرف دور میں خودکش حملہ آوروں کے لیے جواز گھڑنے والے چڈی بنیان کے بچھووں کا ذکر بد کیا تھا۔ ان توجیہات کے رد میں ہماری دلیل یہ رہی کہ خودکش حملہ ایک ایسا مجرمانہ عمل ہے جس کا بالواسطہ اثر خاندانوں کی تباہی اور بلاواسطہ اثر فرد سے لے کر معاشرے تک سبھی پر منفی پڑتا ہے۔ یوں خود ہی منصف خود ہی قاضی بن کر لڑے جانے والے مقدمی کی سزا اپنی اور کئی دوسرے لوگوں کی جان لے کر دینا کسی بھی درجے میں ناقابل جواز ہے۔ میں آزادی اظہار رائے کا قائل ضرور ہوں اور اسی لیے یہ جواز گھڑنے والوں کے معاشرتی بائیکاٹ کے خلاف ہوں تاہم انفرادی سطح پر دلائل کے ذریعے ان کو شکست دینے کے حق میں ضرور ہوں۔ خود کش حملے کے لیے کسی بھی قسم کی “اگر مگر” ناحق اور ناجائز ہے کہ ایسا کرنے سے بادی النظر میں اس جرم کی منفیت کم ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ہر “اگر” اور “مگر” اس فعل کے حق میں ایک دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر دودھ میں مینگنی ڈالنے کا یہ عمل کہیں کسی جگہ ایک نئے خود کش حملہ آور کا ذہن اس جرم کے حق میں سازگار کرنے میں مدد دیتا ہے۔

خود کش حملے کی توجیہ کے سلسلے میں اس ساری بحث کو مثال سے ہٹ کر عمومی کر کے بیان کیا جائے تو کچھ یہ ہے کہ ایک غلط کام کی مذمت کرنا ہر شخص پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت فرض جبکہ شخصی نکھار اور معاشرے کی بہتری بلکہ بقاء کے لیے ضروری ہے۔ اس معاملے میں کرائسٹ چرچ پر حملے کی مثال پرکھی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا بشمول کیوی عوام نے اس حملے کی توجیہ دینے والے آسٹریلوی ممبر پارلیمان کی اتنی ہی شدت سے مذمت کی جتنی شدت سے اس حملے کی مذمت کی گئی۔ کسی نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے جواز پر مبنی دلائل نہیں دیے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ ذہنی سطح پر کیوی عوام تک نہیں پہنچا۔ لیکن اخلاقیات کی اعلی ترین سطح پر پہنچنا ہمارا نصب العین ضرور ہونا چاہیے۔ اس مقصد کو پانے کے لیے ہمیں بھرپور کوشش ضرور کرنی ہوگی اور اس کوشش کی ایک کڑی ایسے اکابرینِ سوشل میڈیا کے کردار پر نظر ثانی ہے جو کسی بھی غلط عمل کا جواز دیا کرتے ہیں یا اسے ماضی میں کسی اور کی غلط حرکت کے ساتھ ملا کر ایک ہی سانس میں لکھ دیا کرتے ہیں۔ منطقی بنیاد پر یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے خودکش حملے کو جواز دینا۔ ایک غلط فعل کی دوسرے غلط کے ذریعے توجیہ دے کر اس کی شدت کم کرنا یا پہلے والے غلط عمل کو ٹھیک کہنے جیسا۔ یوں غلط کام کرنے والے کو جواز بھی مل جاتا ہے اور اگلی بار کے لیے شہہ بھی۔ مخالفین کی بھول چوک پر واویلا مچانے والوں کی جانب سے اپنی صفوں سے ایسی حرکت پر خاموشی اختیار رکھنے والوں یا عین اسی موقع پر کوئی نیا شوشہ چھوڑ دینے والے اکابرین کے کردار پر بھی ایک بار نظر ثانی ضرور کیجیے۔

حال ہی میں خان صاحب نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے “صاحبہ” کا لاحقہ استعمال کیا۔ خان صاحب اپنے مقلدین کی غالب اکثریت کے لیے سومنات کے بت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہا کئی لوگوں کے نزدیک حجت سمجھا جاتا ہے۔ خان صاحب کی زبان سے متعلق ماضی میں بھی لوگوں کر تحفظات رہے ہیں۔ ڈینگی برادرز، گنجے، گٹر کا کیڑا، مولانا ڈیزل، میٹر ریڈر، پٹواری، اس طرز کی تضحیک ہم خان صاحب کی زبان سے سنتے آئے ہیں۔ کنٹینر پر کھڑے ہوکر چہرے پر مفلر چڑھائے اپنے سیاسی مخالف محمود خان اچکزئی کی نقل اتار کر خان صاحب نے اپنے کارکنان کو خوش کیا یا مستقبل کی جگ ہنسائی کے لیے شہرہ آفاق تصاویر فراہم کیں یہ فیصلہ آپ لوگ خود کر لیں۔ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد ہمیں امید تھی کہ خان صاحب اخلاقیات کی کنٹینری سطح سے اتر آئیں گے مگر افسوس کہ آج ایک بار پھر انہوں نے ثابت کیا کہ بداخلاقی اور بدتہذیبی کا آکسفورڈ یا ہارورڈ کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ قول و فعل کا تضاد اس قدر شدید ہے کہ اپنی والدہ یعنی ایک خاتون کے نام پر ہسپتال بنا کر اسے اپنے انتظامی امور کی مہارت کی دلیل کے طور پر پیش کرنے والے خان صاحب آج اپنے سیاسی مخالف کو کھلے الفاظ میں عورت بطور تذلیل کہہ رہے ہیں۔ بداخلاقی کا جو استعارہ خان صاحب نے استعمال کرنے کی کوشش کی وہ مراد سعید اور زلفی بخاری کے دائیں بائیں ہوتے ویسے بھی بے اثر رہ جاتا ہے۔

شاید معاملہ “اس دی گل نہ کر اس تے جچدی وج خوب اے” والا ہے۔ ایسے میں خود تعظیمی، نرگسیت اور خود پرستش کے عادی مقبول بیانیے کا منجن بیچنے والے تین چار خواتین اور کئی حضرات ہونٹ سی لیں یا تاویلیں پیش کرنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ ان کا شمار بھی طالبان نما شدت پسند سوچ سے ہے۔ اس متشدد سوچ کو خاک چٹانے کے لیے فقط آپ کی جانب سے لب کشائی کی دیر ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *