fbpx

Wednesday، 22 September 2021ء

امورخارجہ بچوں کا کھیل نہیں۔آصف محمود

کیا حکومت نے طے کر لیا ہے کہ امور داخلہ کے بعد اب امور خارجہ کو بھی بازیچئہ اطفال بنا کر دم لینا ہے؟ کیا کوئی ہے جو ان سے درخواست کر سکے عالی جاہ امور خارجہ ایک سنجیدہ چیز ہے۔ اسے اپنی ترک تازیوں سے محفوظ رکھیے؟ ذرا تصور کیجیے جو بات عمران خان نے تہران میں کہی وہی بات نواز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی یا یوسف رضا گیلانی کے منہ سے ادا ہوتی تو تحریک انصاف کا رد عمل کیا ہوتا؟ تحریک انصاف کے قائدین اس ارشاد تازہ کی توجیحات بیان فرما رہے ہیں۔لیکن میرے جیسے طالب علم سوچ رہا ہے یہ کیسے ممکن ہے ایک بات نواز شریف کے اعمال میں ہو تو جرم قرار پائے اور عمران خان کے نامئہ اعمال میں ہو تو حکمت اور بصیرت قرار دی جائے؟ عمران خان کے دورہ ایران سے ایک روز قبل دفتر خارجہ نے ایرانی سفارت خانے کو خط لکھ کر احتجاج کیا کہ آپ کی سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے آپ اسے روکیں۔ امید تھی کہ عمران خان اپنے دورے کے موقع پر اس بات کو اچھے انداز سے میزبانوں کے سامنے رکھیں گے ۔لیکن عمران نے کیا کیا؟ انہوںنے یکطرفہ طور پر یہ اعتراف جرم کر لیا کہ پاکستان کی زمین ایران کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی۔اب آئندہ کے لیے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ اعتراف جرم کیا تھا۔یہ آزار جانے کب تک ایک آسیب بن کر پاکستان پر سوار رہے گا۔ صرف ایران ہی نہیں دنیا بھی اس اعتراف جرم کو بطور حوالہ پیش کیا کرے گی۔ امورخارجہ ایک سنجیدہ عمل ہے۔ یہاں ہنسنے اور مسکرانے کے بھی آداب ہوتے ہیں اور آپ بھی بدن بولی بھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔یہاں وارفتگی کے عالم میں معاملہ نہیں ہو سکتا۔عمران خان اس بات کو بہتر انداز میں بھی بیان کر سکتے تھے ۔ مثلا وہ یہ کہہ دیتے کہ جیسے پاکستان نے ایران کے خلاف دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی سرکوبی کی ایسے ہی اب ایران بھی پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔حقیقت بھی یہی ہے۔ عبد المالک ریگی کی گرفتاری میں پاکستانی کردار کا انکار کون کر سکتا ہے؟ بجائے اس بات کا کریڈٹ لینے کے عمران خان نے ایک ناکردہ جرم گلے میں ڈال کر ڈھول کی طرح بجانا شروع کر دیا۔ ہم نے تو عبد المالک ریگی ہی نہیں، بہت سے دیگر معاملات میں بھی ایران کے تحفظات کو ایڈریس کیا۔ ایران نے کیا کیا؟ لیاری گینگ کے پاس کس ملک کے پاسپورٹ تھے؟ کلبھوشن نیٹ ورک کہاں سے آپریٹ ہوتا رہا؟ کیا برادر اسلامی ملک سے یہ نہیں کہا جانا چاہیے تھا کہ جیسے ہم نے آپ کی قومی سلامتی کے تقاضوں کا احترام کیا آپ اب ہماری سلامتی کے تقاضوں کا احترام کریں۔بہت ہی گرم جوشی دکھانی تھی تو ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کروا لیا جاتا اور اس اعلامیے میں دونوں ملک کہہ دیتے کہ ہماری زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتی رہی لیکن اب ہم عہد کر رہے ہیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ یہ بات صرف عمران خان نے کیوں کہی؟ معلوم یہ ہوتا ہے کہ عمران خان ایک نفسیاتی گرہ کا شکار ہیں۔وہ ہر جگہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک کے حقیقی نجات دہندہ ہیں۔ ان سے پہلے اس ملک میں کوئی اچھا کام نہیں ہو رہا تھا اور اب جتنے بھی اچھے کام ہونے ہیںعمران خان کے دست مبارک سے ہونے ہیں۔اس رویے کے تباہ کن نتائج ہمارے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد پہلا مسئلہ معیشت تھا وہ جہاں گئے انہوں نے کہا پاکستان میں بہت کرپشن تھی ، لوٹ مار تھی ۔وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے خود کو نجات دہندہ بنانے کے لیے یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں کوئی ایک کام ڈھنگ کا نہیں ہو رہا ۔لیکن اب میں آ گیا ہوں اس لیے آپ سرمایہ کاری کریں۔اب معاملہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کا کارکن تو عمران کو ٹارزن یا سپر مین سمجھ سکتا ہے بین الاقوامی سرمایہ کار ایسا نہیں سمجھتا۔ عمران کی جانب سے خوفناک منظر پیش کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار خوفزدہ ہے اورملک میں سرمایہ کاری کرنے کو کوئی تیار نہیں۔یہ بات تو عمران کی مان لی گئی کہ ملک کی معیشت برباد ہو چکی ہے لیکن یہ ماننے کو بیرونی سرمایہ کار تیار نہیں کہ نجات دہندہ صاحب راتوں رات اسے ٹھیک کر دیں گے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ عمران کیا کرتا ہے۔لیکن اس عرصے میں ہماری معیشت نیچے جا رہی ہے۔ یہی گرہ اب امور خارجہ میں بھی بروئے کار آ رہی ہے۔وہ عالمی برادری کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کے آنے سے پہلے سب غلط تھا لیکن بس اب وہ آ گئے ہیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ان کے آنے سے پہلے سی پیک کا منصوبہ غلط انداز سے چل رہا تھا اب نجات دہندہ کی بصیرت سے وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ ان کے آنے سے پہلے پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوتی تھی اب نہیں ہو گی۔عمران اگر ایران سے یہ کہہ دیتے کہ جیسے ماضی میں ہم نے آپ سے تعاون کیا اور آپ کے دہشت گردی کرنے والوں کو کچلنے میں آپکی مدد کی ویسے ہی اب آپ ہماری مدد کریں تو یہ گویا اس بات کا اعتراف ہوتا کہ مملکت خداداد مین عمران خان کے آنے سے پہلے بھی کچھ اچھے کام ہو چکے ہیں۔ یہ تاثر وہ کیسے دیں؟ ان کا تو بیانیہ ہی یہی ہے کہ ان کی حلف برداری سے پہلے یہاں سب غلط تھا اور اب ان کی بصیرت اور حکمت نے سب کچھ ٹھیک کر دیا ہے۔ نجات دہندہ کے تصور کے تعاقب میں وارفتگی کا عالم یہ ہے کہ اس سال بارشیں اچھی ہوئیں تو ایک وزیر اسے بھی عمران خان کی بصیرت اور حکمت قرار دینے کی ضد کرتی پائی گئیں۔ اس نفسیاتی گرہ کو کھولنا ہو گا ورنہ ڈر ہے آنے والے دنوں میں مزید سنگین غلطیاں ہوں گی۔یہ عمران خان کا خیال ہو سکتا ہے کہ جدید دنیا کی تاریخ اس دن سے شروع ہو جس روز انہوں نے حلف اٹھایا ہو لیکن حقائق کی دنیا اس سے مختلف ہے۔ دنیا کے نزدیک پاکستان کی تاریخ عمران خان کی حلف برداری کے دن سے نہیں حضرت قائد اعظم ؒ کی حلف برداری کے دن سے شروع ہوتی ہے۔ ڈر یہ ہے کہ نجات دہندہ کا تاثر قائم کرنے کے چکر میں پرانے پاکستان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا یہ سلسلہ کہیں طول نہ پکڑ جائے۔
  • merkit.pk
  • merkit.pk

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply